ایدھی – ایک فرشتہ جنت کو واپس ہوا


\"Edhi-PPI-640x480\"

ہم پاکستانیوں سے موجودہ دور کے محسن انسانیت کا پوچھا جائے تو کیا کسی کے ذہن میں عبدالستار ایدھی کے علاوہ کسی کا نام آئے گا؟ وہ منحنی سا شخص جب جھولی پھیلا کر کسی چوک پر کھڑا ہوتا تھا تو اس کے کچھ کہے بغیر ہی لوگ دور دور سے کھنچے چلے آتے تھے اور اپنے بٹوے خالی کر کے ہی جاتے تھے۔  چند گھنٹوں میں ہی لاکھوں کروڑوں روپے انسانیت کی خدمت کے لیے اس کی نذر کر دیتے تھے۔ اس کی ذات پر جو اعتبار تھا، وہ قوم نے کسی دوسرے کو نہ بخشا۔

عبدالستار ایدھی 1928 کو بھارتی گجرات کے قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان سمیت کراچی منتقل ہو گئے۔ وہ محض گیارہ برس کے تھے کہ ان کی والدہ پر فالج کا حملہ ہوا۔ انہوں نے آٹھ سال تک ان کی خدمت کی اور جب وہ انیس سال کے تھے تو ان کی والدہ رخصت ہوئیں۔ ان کی شخصیت پر والدہ کی اس بیماری اور ان کے مزاج کا جو اثر ہوا، اس کے لیے انسانیت ان کی والدہ کو ہمیشہ دعائیں دے گی۔ وہ ہستی ان کو روز ایک پیسہ ان کو کھانا کھانے کے لیے دیتی تھیں، اور ایک اور پیسہ کسی دوسرے شخص کی مدد کے لیے۔ یہ خدمت اور تربیت لے کر وہ عملی زندگی میں داخل \"edhi5\"ہوئے۔

ایدھی صاحب نے اپنا باقاعدہ فلاحی کام میمن کمیونٹی کی مدد سے بنائی گئی مفت علاج فراہم کرنے والی ایدھی ڈسپنسری سے شروع کیا۔ وہیں ان کی ملاقات ایک نرس بلقیس سے ہوئی جن سے انہوں نے 1965 میں شادی کر لی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نےایدھی ٹرسٹ قائم کیا اور فلاحی کاموں کا دائرہ پھیلایا۔

اس ٹرسٹ نے بیس ہزار سے زیادہ لاوارت نومولود بچوں کی زندگی بچائی، پچاس ہزار سے زیادہ یتیموں کی کفالت کی اور چالیس ہزار سے زیادہ نرسوں کو ٹریننگ دی۔ ملک کے چپے چپے میں ایدھی ٹرسٹ کے کلینک، پناہ گاہیں، بزرگوں اور عورتوں کے لیے گھر اور ایسے ہی بے شمار منصوبے ملیں گے۔ یہ نجی ٹرسٹ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینسوں کا بیڑہ چلاتا ہے۔ ملک میں 1122 کی سروس متعارف ہونے سے پہلے حادثے کی صورت میں صرف ایدھی کا نام ہی سامنے آتا تھا۔ ان کو دیکھ کر دوسرے مخیر حضرات بھی اس کام کی طرف متوجہ ہونے لگے۔

اسی بارے میں: ۔  ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت

\"edhi-23-980x560\"انسانیت کے اس عظیم محسن نے ان گلی سڑی لاوارث لاشوں کو بھی اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر دفن کیا جن کو ان کے وارثان بھی چھونے کو تیار نہ تھے۔ ان بچوں کو اس نے نئی زندگی دی جن کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے پھینک دیا جاتا تھا۔ بے شمار یتیم اور بے سہارا ان کے صدقے ایک نئی زندگی پا گئے۔

وہ کہتے تھے کہ انسانیت ہی میرا مذہب ہے۔ خدمت انسانیت سے بڑھ کر وہ کسی چیز کو نہیں سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے ان پر بعض تکفیری مولوی حضرات نے کفر کے فتوے بھی لگائے۔ ان کو سیاسی معاملات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکام ہونے پر ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کو کچھ عرصے پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا۔

\"edhi-d\"

مگر اس عظیم محسن پاکستان نے پاکستانیوں کی خدمت کو نہ چھوڑا۔ کسی برے جذبے نے ان کے دل میں جگہ نہ پائی۔ 2013 میں ان کے گردے فیل ہو گئے۔ ان کو گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی، بصورت دیگر ان کو ساری زندگی ہفتے میں دو مرتبہ ڈائیلسس کروانا پڑتا، جو کہ وہ کرواتے رہے۔

ان کو چند دن قبل علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی ایک سیاسی راہنما نے پیشکش کی۔ جو شخص لاکھوں لوگوں کا خود علاج کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیشکش کتنی مضحکہ خیز ہو گی، مگر ایدھی صاحب نے متانت سے انکار کیا اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں ہی علاج کروانے کو ترجیح دی۔

اسی بارے میں: ۔  سوشل میڈیا اور صوبائی عصبیت

\"Edhi-with-his-wife-\"

وہ غریب اور لاچار شخص جو شروع زندگی میں ایک غریب مزدور سے بڑھ کر کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا، اس نے خدمت سے عوام کے دلوں میں ایسا مقام بنایا کہ کروڑوں کی رقم اس کے لیے کچھ حیثیت نہ رکھتی تھی۔ مگر آخر دم تک اس نے ایک غریب مزدور ہی کی سی زندگی بسر کی اور لوگوں سپرد کردہ کی امانت کو اس کے حق داروں تک ایمانداری سے پہنچایا۔ ایک غریب شخص وہ کر گزرا جو کہ ملک کی حکومت کے بس کی بات بھی نہ تھی۔

ملالہ یوسفزئی نے عبدالستار ایدھی کے لیے نوبل انعام کی مہم چلائی تھی۔ ماضی میں نوبل کمیٹی کو اس بات پر ندامت رہی ہے کہ اس نے گاندھی کو یہ انعام نہ دے کر اپنے ساتھ ظلم کیا تھا۔ اب نوبل کمیٹی کی پشیمانی کا ایک موقع اور پیدا ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے ساتھ ظلم کیا ہے کہ عبدالستار ایدھی کو نوبل انعام دے کر اپنی عزت بڑھانے کا موقعہ گنوا دیا ہے۔

اپنے وطن کی مٹی میں ہزاروں لاوارثوں کو دفنانے والا آج خود بھی اس مٹی میں مل گیا۔ وہ ایک فرشتہ تھا جو خدا نے پاکستان کے غریبوں اور مجبوروں کی خدمت کے لیے بھیجا تھا، وہ فرشتہ آج واپس جنت کی طرف کوچ کر گیا۔

ایدھی صاحب تو رخصت ہوئے، لیکن ان کا نام پاکستان میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ سڑک پر چلتی ہوئی ہر ایدھی ایمبولینس ہمیں ان کی یاد دلاتی رہے گی، اور ہمارے دلوں سے ان کے لیے دعائیں نکلتی رہیں گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar