ایدھی صاحب آپ مر نہیں سکتے


عبدالستار ایدھی طویل علالت کے بعد آج رات اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں گردوں کا عارضہ لاحق تھا اور وہ گزشتہ چند ماہ سے ایک \"edit\"مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ انہیں جمعہ کی شام کو حالت بگڑنے کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا اور امید کی جارہی تھی کہ ان کی حالت سنبھل جائے گی۔ لیکن پوری قوم کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کے باوصف وہ تھوڑی دیر پہلے رحلت کرگئے۔ گزشتہ 65 برس کے دوران ایدھی صاحب نے انسانیت کی خدمت کرنے کی بے مثال روایت قائم کی ہے۔ انہوں بے لوث خدمت اور پوری زندگی انسانوں کی بھلائی پر صرف کرنے کی لازوال اور روشن مثال قائم کی ۔ وہ ہمیشہ ہر پاکستانی کی دھڑکن میں زندہ رہیں گے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی اور عقیدہ ، رنگ و نسل کی تمیز کئے بغیر لاکھوں انسانوں کی جان بچانے کی جد و جہد کرنے والے اس عظیم انسان کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے بتایا ہے کہ انہیں ایدھی ویلیج میں دفن کیا جائے گا۔ عظیم انسان دوست کی وصیت کے مطابق انہیں ان کپڑوں میں ہی دفنایاجائے گا جو انتقال کے وقت انہوں نے زیب تن کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی سادگی میں بسر کی۔ ان کی رہائش اپنی ابتدائی ڈسپنسری کے اوپر دو کمروں کے ایک فلیٹ میں تھی۔ انہوں نے کسی پر آسائش گھر میں منتقل ہونے یا زندگی کی دیگر آسائشیں حاصل کرنے کی کبھی خواہش نہیں کی۔ ان کی ضروریات محدود لیکن دوسروں کے کام آنے کا جذبہ بے پایاں اور لامحدود تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی ذات پر غیر ضروری رقم صرف نہیں کی۔ ان کے پاس دو سادہ جوڑے ہوتے تھے جو وہ باری باری پہنتے تھے۔ لیکن اپنی لگن اور انسان دوستی کی وجہ سے وہ کئی ہزار ایمبولنسز ، متعدد ہیلی کاپٹروں ، اسپتالوں، یتیم خانوں ، بیواؤں اور لاوارث بچوں کے کئی مراکز قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ملک میں غربت اور احتیاج عام ہونے کی وجہ سے انہوں نے ملک کے ہر بڑے شہر میں ایدھی دسترخوان کا اہتمام بھی کیا تھا جہاں لاکھوں لوگ روزانہ پیٹ بھرتے ہیں۔

علالت کے دوران ملک کے تمام اہم سیاست دانوں اور لوگوں نے ان کی عیادت کی اور انہیں بیرون ملک علاج کی پیشکش بھی کی گئی۔ لیکن انہوں نے پاکستان کے اندر ایک سرکاری اسپتال میں ہی علاج کروانے کو ترجیح دی۔ وہ 1928 میں بھارت کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے لیکن قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ کراچی منتقل ہوگئے۔ گیارہ سال کی عمر میں ان کی والدہ شدید علیل ہو گئیں اور انہوں نے دل و جان سے ان کی خدمت کی۔ وہ 19 برس کے تھے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بیماری اور تکلیف کے اسی تجربہ کی وجہ سے ان کے دل میں انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا ہؤا۔ کراچی کی کلاتھ مارکیٹ میں معمولی نوکری چھوڑ کر وہ اپنے اہل خاندان اور دوستوں کی مدد سے 1951 میں ایک ڈسپنسری قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس کے بعد انہوں نے ساری زندگی انسانوں کی خدمت کرنے پر صرف کردی۔ وہ کسی بھی سانحہ کی صورت میں خود ایمبولنس لے کرجائے حادثہ پر پہنچتے اور کوئی سوال کئے بغیر زخمیوں کی مدد اور مرنے والوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرتے۔

ایدھی کی بے لوث خدمت اور سادہ طرز زندگی کی وجہ سے پاکستان کے لوگ ان پر بھروسہ کرنے لگے۔ انہیں کبھی چندہ مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اسی کی دہائی میں کراچی میں ایدھی سنٹر میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سڑک پر جارہے ہوں تو انجان لوگ ہزاروں روپے اور خواتین زیورات ان کے حوالے کر جاتی ہیں۔ انہوں نے کبھی اس قسم کی امداد میں ایک پیسہ کی خیانت نہیں کی اور اپنے عمل اور جذبہ سے اس ملک کے لوگوں کے دل جیت لئے۔ پاکستان کا بچہ بچہ عبدالستار ایدھی کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے۔

انہیں متعدد قومی اعزازات اور نیشنل اور انٹر نیشنل ایواردز سے نوازا گیا لیکن ان کے لئے اس قسم کے کسی اعزاز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ پوری دل جمعی اور لگن سے دکھی انسانوں کی خدمت میں راحت اور سکون پاتے تھے۔ حتی کہ 1965 میں اپنی شادی کے روز جب وہ اپنی دلہن بلقیس کو رخصت کروا رہے تھے تو بالکونی سے ایک بچی گر کر زخمی ہوگئی۔ وہ دلہن کو چھوڑ کر اس بچی کو لے کر اسپتال روانہ ہو گئے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ان کا نام نوبل امن انعام کے لئے تجویز ہو رہا تھا لیکن انہوں نے کبھی اس قسم کے کسی ایوارڈ کی کوئی خواہش نہیں کی۔ ان کے کردار نے یہ واضح کردیا کہ نوبل انعام سمیت ہر ایوارڈ ایدھی صاحب کی قد آور شخصیت کے سامنے ہیچ تھا۔

الوداع ایدھی صاحب ۔ آپ نے اس قوم کے لئے وہ کچھ کیا جو کئی حکومتیں مل کر بھی کرنے میں ناکام رہیں۔ آپ چلے گئے لیکن آپ کے قائم کئے ہوئے فلاحی ادارے مسلسل لوگوں کی خدمت کرنے ، ان کا علاج کرنے، انہیں تحفظ دینے اور ان کے لئے سہولتیں فراہم کرنے میں مشغول ہیں۔ آپ کا نام پاکستانیوں کی کئی نسلوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ خود تاریخ کے اوراق میں روشن باب بن کر جگمگاتے رہیں گے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali