ایدھی، ایسا کہاں سے لاؤں!


الفاظ کی کمی کا احساس آج تک نہیں ہوا تھا، عظیم کا مطلب عظیم تھا، سخی کا مطلب سخی تھا، بہت بڑے آدمی کو بہت بڑا لکھ کر مطلب ادا ہو \"edhi6\"جاتا تھا، غریب پرور کہہ دیا تو سمجھ آ گئی کہ مطلب کیا ہے، مگر ایدھی صاحب کے لیے یہی الفاظ استعمال کر کے بھی مطلب ادا نہیں ہو رہا، نئی لغت، نئے لفظ تراشنے کو دل چاہ رہا ہے، ان تمام الفاظ کی جگہ بس ایک ہی لفظ، ایدھی لکھا جائے اور مطلب ادا ہو جائے۔ ایدھی صاحب تو بس ایدھی صاحب تھے!

نہیں رہے، رخصت ہو گئے، چلے گئے۔ یہ تمام الفاظ ایدھی صاحب کے لیے بھی استعمال ہوں گے۔ ایسا درد مند اور بے سہاروں کا سہارا غریب پرور انسان، وہ بھی چلا جائے گا، موت سے فرار کسی کو نہیں، سب ہی جائیں گے، مگر ایدھی صاحب کا جانا ایک فرد کا جانا نہیں ہے۔ ایک پورا ادارہ رخصت ہوا ہے۔ ایدھی صاحب تمام عمر غریبوں، لاوارثوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے جیے اور انہی کی خدمت کرتے کرتے اٹھ گئے۔

وہ 1928ء میں گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کپڑے کی صنعت سے وابستہ تھے اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کئی جگہوں پر پڑھا کہ جب ان کی ماں انہیں سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے رکھ لیتے۔ گیارہ برس کی عمر میں انہیں اپنی ماں کی مستقل تیمار داری کرنا پڑتی تھی جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ اسی عمر سے وہ خود کے بجائے دوسروں کی مدد کرنا جان گئے اور تمام عمر بس یہی کام کرتے کرتے گزار دی۔

سن سینتالیس کے بعد خاندان سمیت وہ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں آباد ہوئے۔ 1951ءمیں انہوں نے وہاں مفت علاج معالجے کے لیے ایک بالکل چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، ایک ڈاکٹر رکھا، وہاں کام کرتے کرتے انہیں ابتدائی طبی امداد کی تربیت بھی میسر آ گئی۔ 1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس میں انہوں نے فوری طور پر لوگوں کی مدد کی ٹھانی۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگواۓ اور مفت دوائیاں فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی ملک سے بھی بہت امداد ملی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں زچگی کے لیے ایک ہسپتال اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا، یہی ایدھی فاونڈیشن کا نقطہ آغاز تھا۔

اس آغاز کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے بھی یہ بے لوث خدمت دیکھ کر دامے، درمے، قدمے، سخنے ان کی مدد کی اور وہ آہستہ آہستہ اپنے فلاحی کام کو ملک گیر سطح تک وسعت دینے میں کامیاب ہو گئے اور ایسی سروس کہ ایک فون کال پر کسی بھی میڈیکل ایمرجینسی کی صورت میں ایمبولینس دیگر تمام مددگار اداروں سے پہلے آپ کے دروازے تک پہنچتی ہے۔ ایدھی صاحب کا خواب تھا کہ پاکستان میں ہر چند سو کلومیٹر بعد ان کا ایک ہسپتال ہو، اگر وہ دس بیس برس اور صحت مند رہتے تو شاید یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جاتا۔

انہیں احتراماً مولانا بھی کہا جاتا تھا لیکن ذاتی طور پر انہیں اس خطاب سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔ فرقے، ذات پات، مذہب اور رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایدھی صاحب نے جو کام کیے وہ اگلے دو سو سال تک کوئی پرائویٹ ادارہ شاید ہی کر پائے۔ لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور ان پر اعتبار کرتے تھے۔ پاکستان کا سرکاری اعزاز نشان امتیاز بھی ان کو دیا گیا جس سے بلاشک و شبہ اس اعزاز کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز پیش کیے گئے۔ پاکستانی فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر پیش کی جبکہ 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی نینٹ کا اعزاز دیا۔ بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے Ramon Magsaysay Award دیا۔ 1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا۔ 1988 میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔

یہ چند بے ربط سے الفاظ لکھنے کا مقصد اور کچھ نہیں بس ایک عظیم انسان کو یاد کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ انسان جو لاکھوں لوگوں میں کپڑے تقسیم کرے اور خود دو کپڑوں میں رہتا ہو، کتنے ہی یتیموں اور لاوارثوں کے لیے رہنے کا بندوبست کرے اور خود اپنے بچوں کے لیے ایک مکان بھی نہ بنائے، ایک ہزار سے زائد ایمبولینسیں ملک بھر میں چلاتا ہو، سالانہ دس لاکھ سے زیادہ مریض اس سروس کی وجہ سے ہسپتال بروقت پہنچتے ہوں اور وہ اپنی ذاتی سواری تک نہ رکھے، ہزار ہا لوگوں کو کھانا کھلائے اور خود روکھی سوکھی پر گزارا کرے، ایسا انسان، دوبارہ اس سرزمین پر اترنا شاید ممکن نہ ہو۔

ایدھی اب ہم سب میں نہیں لیکن ان کا قائم کردہ ادارہ ان کے صاحب زادے فیصل ایدھی کی سربراہی میں آج بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی اس عمر میں بھی حتی الامکان فعال ہیں، اب بھی اگر ہم سے ہر شخص اپنے ذاتی عطیات ماہانہ یا سالانہ اس ادارے کو دیتا رہے تو یہ اس بات کا یقین دلانے کے لیے کافی ہو گا کہ ہم کچھ نہ کچھ زندہ ہیں اور ایدھی صاحب جیسے محسنوں کو نہیں بھولے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 320 posts and counting.See all posts by husnain