سیکولرازم کیا ہے (تیسرا حصہ)


 

wajahat سیکولر ریاست کا اولین مقصد شہریوں کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا اور اُن کا معیارِ زندگی بہتربنانا ہے۔

سیکولر ریاست میں تمام قوانین ، پالیسیوں، سیاسی عمل اور فکری مساعی کا مقصد تمام شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔ تاہم بنیادی ضروریات کا تعلق محض خوراک کی فراہمی ، علاج معالجے کی سہولتوں ، خواندگی اور سڑکوں کی تعمیرسے نہیں ہے۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی کا مقصد دراصل ان ڈھانچوں کی تعمیر ہے جن سے معیار زندگی میں مسلسل بہتری کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ تاہم سیکولر ریاست اس سے ارفع مقاصد کی حامل ہے ۔

معیارِ زندگی محض گارے چونے کی عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں۔ انسانی ترقی ایک پیچیدہ ، نازک اور پہلودار تصور ہے جو اپنی بلند ترین شکل میں اعلیٰ ترین انسانی امکانات کی کھوج اور بہترین انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا نام ہے۔ اس میں علم کا فروغ، ہنر مندی، پیداواری صلاحیت ، فکری آزادی ،بلند نگاہی ،تخلیقی رجحان اور جمالیاتی لطف سب شامل ہیں۔ یہ ایک سیّال اور باہم مربوط عمل ہے ۔ تخلیق و ایجاد کی پر پیچ راہیں فکر وتحقیق کے نامانوس سرچشموں سے نکلتی ہیں۔ ان کے لیے پہلے سے طے شدہ نقشے اور حدود قائم نہیں کی جاسکتی۔

معیار زندگی میں بہتری کا کم از کم پیمانہ تمام شہریوں کے لئے بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے اور بلند ترین درجہ شہریوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی امکانات کی دریافت میں حصہ ڈال سکیں۔

اس مقصد کے حصول کے لیے سیکولر ریاست نے چند اصول وضع کئے ہیں۔

(الف)      سیکولر ریاست میں تمام سیاسی سرگرمیاں کا محور معاشی ترقی ہوتا ہے۔ یعنی سیکولر سیاست کی بنیاد اقتصادیات ہے۔

(ب)         سیکولر ریاست ضابطے اور طے شدہ طریقہ کار کی پابندی پر زور دیتی ہے ۔ سیکولر ریاست میں ارفع مقاصد کی آڑ میں قانون کی خلاف ورزی یا انسانی حقوق کی پامالی کی اجازت نہیں ہوتی۔تمام شہریوں ، حکومتی اداروں اور گروہوںکو اپنے مقاصد کے حصول کی غرض سے صرف وہی ذرائع استعمال کرنے کئے جا سکتے ہیں جو قانون اور طے شدہ قواعد وضوابط کی کے مطابق ہوں۔ سیکولر ریاست کو کسی شخص ، ادارے یا گروہ کی نیت یا مقاصد سے سروکار نہیں۔ سیکولر ریاست کا منصب یہ دیکھنا ہے کہ آیا قانون اور ضوابط کی پابندی کی گئی یا نہیں۔ اگر کوئی قانون یا ضابطہ غیر مفید ہے یا غیر موثر ہے یا شہریوں کے مفاد کے منافی ہے تو کسی شخص یا ادارے کو من مانے طور پر اس ضابطے کی یا قانون کی خلاف ورزی کا اختیار نہیں۔ ایسے ضوابط اور قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے سیکولر ریاست طے شدہ طریقہ کار وضع کرتی ہے ۔ نافذالعمل قوانین اور ضوابط کی پابندی کئے بغیر قانون کی بالادستی قائم نہیں رہ سکتی۔

(ج)          سیکولر نظام میں ریاست کا واحد جائز وظیفہ اپنے تمام شہریوں کو جسمانی ، اخلاقی اور فکری سطح پر ترقی کے اعلیٰ ترین مواقع فراہم کرنا ہے۔ سیکولر ریاست اس مقصد کے حصول کے لیے مادی ذرائع بروئے کار لاتی ہے۔ کسی بھی ریاستی بندوبست میں کچھ افراد اور گروہوں کے لیے معاشی ترقی کی دوڑ میں دوسرے افراد یا گروہوں سے پیچھے رہ جانا ممکن ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پہ کسی ملک میں سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کے مراکز سے فاصلہ کسی علاقے یا گروہ کی ترقی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ بندرگاہ کے قریب رہنے والے شہریوں کو ترقی اور روزگار کے زیادہ مواقع میسر آئیں اور دشوار گزار پہاڑی یا صحرائی علاقوں میں رہنے والے افراد یا گروہوں کو ترقی کے کم مواقع میسر ہوں۔ اسی طرح کسی ریاست میں نسلی یا مذہبی یا ثقافتی یا لسانی شناخت کے اعتبار سے کچھ گروہ اقلیت اورکچھ اکثریت میں ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تاریخی عوامل کی بنیاد پہ کچھ گروہ ترقی کی دوڑ میں پچھڑ سکتے ہیں۔ کئی دفعہ حادثات ، قدرتی آفات یا بیماریوں کے باعث کچھ شہری دوسرے شہریوںکی نسبت زیادہ سخت حالات زندگی کا سامنا کرتے ہیں۔ سیکولرریاست مختلف پالیسیوں ، مادی تدابیر اور مددگار منصوبوں کی مدد سے کوشش کرتی ہے کہ ریاست کے تمام شہریوں اور تمام خطوں اور تمام گروہوں کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ دشوار حالات زندگی کا سامنا کرنے والے مثلًا بے روزگاریا ضعیف شہریوں کو سوشل سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ اگر بندرگاہ کے قریب معاشی سرگرمیاں زیادہ ہوں توتعلیمی سرگرمیوں کا رُخ ریاست کے دور دراز خطوں کی طرف کیا جا سکتا ہے۔ تاریخی طور پر ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے خطوں یا گروہوں کے جغرافیائی ، سماجی حالات کے مطابق ایسے منصوبے تیار کئے جاتے ہیں جن سے اُن علاقوں اور گروہوں سے تعلق رکھنے والے شہری بھی ترقی کے یکساں مواقع حاصل کر سکیں ۔ ایسے اقدامات کو اصطلاحی طور پر مثبت امتیاز کہا جاتا ہے ۔

(د)           سیکولر ریاست نظریاتی انتہا پسندی ، عدم برداشت ، تشدد اور رجعت پسندانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ کیونکہ یہ رویے ریاست میں سماجی اور سیاسی ہم آہنگی پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ ان سے امن و امان کی صورت حال خراب ہوتی اور معاشی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ سیکولر ریاست کسی نظریے کے پیروکاروں کی یرغمال نہیں بن سکتی۔ کیونکہ اس صورت میں کچھ شہری اور گروہ ناجائز سیاسی اور معاشی فوائد کے لئے ہموار معاشی ترقی کی راہ کھوٹی کرتے ہیں ۔ اسی طرح سیکولر ریاست میں تمام شہریوں کو اپنے خیالات کے پرامن اظہار کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن آزادی اظہار کی آڑ میں منافرت پھیلانے یا تشدد کی ترغیب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سیکولر ریاست کا فرض ہے کہ جملہ علوم کی ترقی سے باخبر رہے بلکہ علم کا فروغ سیکولر ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ معاشی ترقی کا بڑا انحصار علوم پر ہے۔نئے علوم اور ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے ریاست میں کچھ افراد اور گروہوںکا سیاسی اورمعاشی مفاد خطرے میں پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر چھاپہ خانے کا اجرا کاتبوںکی روزی پر اثر انداز ہوا۔ فوٹو کاپی مشین کی آمد سے نقل نویسی کا شعبہ ختم ہو گیا ۔ سیکولر ریاست میں کچھ گروہوں کے معاشی اور سماجی مفاد کی بنا پہ علوم کا ارتقا ، جدید پیداواری ذرائع اور نئے سماجی رجحانات کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے بالآخر معاشرے کی مجموعی ترقی متاثرہوتی ہے۔ اگر ایک معاشرے میں عورتیں معاشی سرگرمی کا حصہ نہیں ہے اور دوسرے معاشرے میں عورتیں جملہ علوم ، فنون اور معاشی سرگرمیوں میں شامل ہیں تو اول الذکر معاشرہ ترقی کی دوڑ میں بالآخر پیچھے رہ جائے گا۔ سیکولر ریاست کوشش کرتی ہے کہ نئے نظریات ، علمی افکار اور سائنسی ایجادات کو معاشرے میں اس طرح کھپایا جائے کہ نا صرف شہری نئی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں بلکہ ریاست کا اجتماعی انسانی امکان بھی مجروح نہ ہونے پائے۔ سیکولر ریاست قدیم اور جدید معاشی مفاد میں توازن کی ایک مسلسل اور پیچیدہ مشق ہے۔ کسی گروہ کو اپنے مفروضہ معاشی اور سماجی نظریات کی بنا پر معاشرے کے اجتماعی امکان کو یرغمالی بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ریاست کے اندر شہریوں میں ہم آہنگی کا یہی رویہ سیکولر ریاست کے بین الاقوامی رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ریاست ایک غیر نامیاتی ادارہ ہے اور تاریخی ارتقا میں ریاستوں کی حدود کے تعین میں ان گنت عوامل کارفرما رہے ہیں چنانچہ معاشی ، سیاسی اور سماجی حوالوں سے ریاستوں میں مختلف تنازعات اور کشمکش کی فضا بنتی اور بگڑتی رہتی ہے۔ سیکولر ریاست کسی دوسری ریاست کے ساتھ مستقل دشمنی یا عناد اختیار نہیں کرتی بلکہ مکالمے اور مذاکرات کی مدد سے کوشش کی جاتی ہے کہ تنازعات کا ایسا حل تلاش کیا جائے جس میں جملہ فریقین کے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ کیا جاسکے چنانچہ سیکولر ریاست جارحیت کی بجائے دفاع اور جنگ کی بجائے مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔

   سیکولر ریاست کے فکری مفروضات

عقل و خرد اور قابل تصدیق شواہد پر انحصار ۔ افادی اور عملی نقطہ نگاہ ۔ استحقاق ۔ انسان دوستی ۔ تکثیریت یا تنوع ۔ انسانی انفرادیت کا تحفظ

٭             عقل و خرد اور قابل تصدیق شواہد پر انحصار :

تمام انسان سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیکولر ریاست اجتماعی اور انفرادی فیصلہ سازی میں انسانی عقل و خرد اور عمل درآمد میں مادی ذرائع کو بروئے کار لاتی ہے۔ عقلی منہاج میں درج ذیل نکات قابل غور ہیں۔

۔     معاملے میں یقین ، عدم یقین یا تشکیک کے لیے دستیاب قابل تصدیق شواہد اور عقلی دلائل کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔

۔     تصدیق کی مدد سے ان شواہد میں تسلسل کی جانچ کی جاتی ہے ۔

۔     بیانات اور ترکیبی مفروضات میں تمیز کی جاتی ہے ۔ تجزیاتی بیانات میں یقین اور ترکیبی مفروضات میں اغلب گمان کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

۔    کردہ مفروضات کے نتائج پر غور کیا جاتا ہے ۔

۔    منہاج میں تمام آراء اور نظریات مشروط طور پر قائم کئے جاتے ہیں اور اُنہیں مسلسل تجربے اور تنقید کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے ۔

انسانی خرد اور شعور پر بھروسہ سیکولر فکر میں سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعقل کی نوعیت انفرادی ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے انسان کے لیے سوچ بچار نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی سوچ بچارکی بنیاد دوسروں کے افکار پر رکھ سکتے ہیں لیکن ہر نیا خیال ، ایجادیا دریافت یعنی معلوم سے ماورا ہر تخلیقی قدم بنیادی طور پر فرد کا کارنامہ ہوتا ہے۔ چنانچہ سیکولر نظام فکر کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ سب انسان عقل و خرد سے ممیز ہیں اور عقل بنیادی طور پر انفرادی صفت ہے۔ انسان کسی بھی معاملے میں اجتماعی طور پر اپنی عقل و شعور کے ثمرات کی سانجھ کر سکتے ہیں لیکن سوچ بچار کی صلاحیت کسی دوسرے کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔ سیکولر ریاست کے اس نقطہ نظر کا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست میں فرد اور اجتماع کی سطح پر فیصلہ سازی کا اجارہ کسی فرد واحد یا کسی مخصوص گروہ کو نہیں سونپا جا سکتا۔

٭      افادی اور عملی نقطہ نگاہ

سیکولر ازم بنیادی طور پر فہم عامہ کا نام ہے۔ یعنی موجودہ علوم ، سابقہ تجربات، دستیاب وسائل ، زمینی حقائق اور ماہرانہ رائے کی روشنی میں ایسے ذرائع اختیار کرنا جو انسانی ترقی اور بہبود کے لئے موثر اور بہتر ہوں۔ سیکولر ریاست کسی گھڑے گھڑائے نظریے یا جامد نکتہ نظر کی پابند نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں تمام نظریات اور پالیسیوں کا عملی نتائج کے اعتبار سے جائزہ لیا جاتا ہے اور جو نظریات یا پالیسیاں نتائج کے اعتبار سے اپنے امکان پرپوری نہ اتریں یا نقصان دہ ثابت ہوں انہیں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ سیکولر ازم افادیت پسند ہے۔ یعنی صرف وہی چیز درست ہے جو فائدہ مند ہو اور فائدہ صرف ذاتی نہیں بلکہ افادیت کا تعین © © © © ©”زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ ” کے اصول سے کیا جاتا ہے ۔

٭     استحقاق

سیکولر ریاست شہریوں کی فلاح اور اجتماعی بہبود کے لیے انفرادی یا گروہی نیکی ، خیرات یا خیرخواہی پر انحصار نہیں کرتی بلکہ یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے استحقاق کے اصول کی بنیاد پر اداراتی بندوبست کیا جاتاہے ۔ کوئی شہری اپنی صحت ، خوراک یا دوسری بنیادی ضروریات کے لیے کسی مالدار کی خیرات کا منتظر نہیں ہوتا اور نہ کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کی قربانی کا محتاج ہوتا ہے۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی ، جان و مال کا تحفظ اور معیارِ زندگی میں بہتری سیکولرریاست کے شہریوں کا استحقاق ہے ۔ سیکولر ریاست کے ہر شہری کی عزت نفس دوسرے شہریوں کے برابر سمجھی جاتی ہے اور وہ اپنی ضروریات کے لیے بھیک نہیں مانگتا بلکہ ریاست سے اپنا استحقاق طلب کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے قانونی ادارے اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔ شہری اپنا استحقاق پارلیمنٹ کے ذریعے مانگ سکتے ہیں ، سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے اپنے مطالبات پیش کرسکتے ہیں ۔ یونین سازی کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہیں یا عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استحقاق کے بنیادی اصول کو استحکام بخشنے کے لیے سیکولر ریاست میں آزادی اظہار ، نیز اجتماع و تنظیم سازی کے حقوق کو بنیادی آزادیاں قرار دیا جاتا ہے۔

٭       انسان دوستی

سیکولر ریاست شہریوں کے تحفظ اور ترقی کے لئے مادی ذرائع بروئے کار لاتی ہے لیکن اس کے نتیجے میںحاصل ہونے والی مادی ترقی اور احساس تحفظ کا ایک اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ شہری لالچ اور استحصال کے فروتر جذبات سے آگے بڑھ کے اجتماعی بہتری کے ارفع مقاصد پر توجہ دینے کے قابل ہوتے ہیں۔ سماجی ہم آہنگی کے نتیجے میں اخوت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ علم کے فروغ سے دانش پر اجارہ ختم ہوتا ہے اور علم و دانش کی شراکت کے فوائد سامنے آتے ہیں۔

سیکولر ریاست میں شہری کی انفرادی ترقی کے لیے بھی باہم تعاون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم یہ تعاون رضاکارانہ ہوتا ہے۔ ہم سیاسی جماعتوں ، علمی تحریکوں ، ثقافتی تنظیموں اور سماجی اداروں میں رضاکارانہ طور پر شریک ہوتے ہیں۔ سیکولر ریاست شہریوں کے پُرامن باہمی تعاون کو ممکن بنانے کے لیے قواعد و ضوابط تشکیل دیتی ہے۔ ایسا رضاکارانہ تعاون صرف ایسی ریاست ہی میں ممکن ہے جہاں شہریوں کے مختلف گروہوں اور طبقات میں ہم آہنگی اورامن و امان کی فضا پائی جائے جسے قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

سیکولر نظام میں فرد کا اپنی زندگی پر اختیار اور استحقاق مقدم ترین ہے اور کسی بھی معاملے میں فرد کی شرکت اُس کی رضاکارانہ مرضی ہی سے ممکن ہے۔ سیکولر ریاست میں رضاکارانہ کا مفہوم یہی ہے کہ تمام انسان اپنے جملہ امور ، معاملات اورمعاہدے اپنے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے ، کرنے میں آزاد ہیں۔آزاد تجارت کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ فریقین کو باہمی فائدہ ممکن نظر آئے ورنہ لین دین ممکن نہیں ہے۔ شہریوں کے ایسے تعلقات میں سیکولر ریاست کا فرض صرف یہ دیکھنا ہے کہ کوئی شہری کسی دوسرے شہری پر یا کوئی گروہ دوسرے گروہ پر جبر ، تشدد یا استحصال سے کام نہ لے۔

٭      تکثیریت یا تنوع 

انسانی زندگی کے بہت سے رنگ ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے جغرافیائی اور سماجی حالات پائے جاتے ہیں۔ کہیں برف پوش پہاڑ ہیں تو کہیں صحراﺅںمیں میلوں تک ریت اڑتی ہے ۔ کہیں لوگ چاول شوق سے کھاتے ہیں تو کہیں انہیں گندم سے رغبت ہے۔ کہیں آم ، مالٹے اورامرود اُگتے ہیں تو کہیں چلغوزے ، بادام اور خوبانی۔ کہیں ساحلوں کے ناریل کے پیڑ نظر آتے ہیں تو کہیں تا حد نظر پہاڑیوں پر انگور کے باغات لہلہاتے ہیں۔ پھر اس رنگا رنگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسانی معاشرہ مسلسل تبدیلیوںسے گزرتا رہتا ہے۔ لباس ، رسم و رواج ، علوم و فنون ، تجارت کے ڈھنگ اورمعیشت کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح افراد میں نصب العین ، مفادات اور اقدار کے حوالے سے بھی تنوع پایا جاتا ہے۔ سیکولر ریاست انسانی طبع ، فکر نیز روایت و اقدار کے ان ممکنہ اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے کوشش کرتی ہے کہ ان سب کا ایک اجتماعی نظام میں اس طرح رہنا ممکن بنایا جا سکے کہ کسی فرد یا گروہ کے تحفظ ، حقوق اورمفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ اسے انگریزی میں Paluralismاور اردو میں تکثیریت کہتے ہیں۔ تکثیریت کی اصطلاح کثرت سے مشتق ہے۔

کسی فرد یا گروہ کے مفادات ، اقدار یا ترجیحات ہم سے مختلف ہو سکتی ہے ۔ ہمارے لیے لازم نہیں کہ ہم اُن مفادات ، اقدار یا ترجیحات کو اپنا لیں۔ تاہم بنیادی انسانی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم سب کے لیے یہ سمجھ لینا ممکن ہے کہ تمام انسانوں کے حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ حالات ہی انسانوں کی اقدار ، طور طریقوں یا مفادات کی صورت گری کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی خاص مذہب کے ماننے والے ایک ریاست میں اقلیت ہو سکتے ہیں اورکسی دوسری ریاست میں اکثریت ہو سکتے ہیں۔ ہماری اقدار اور مفادات جن حالات اور شناختوںکے تابع ہیں ضروری نہیں کہ وہ ہماری شعوری کوشش کا نتیجہ ہوں یامستقل بالذات ہوں۔ سیکولر ریاست کا کام اپنے شہریوں کو یہی سکھانا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے نقطہ نگاہ کو سمجھنے کی تربیت پائیں۔

سیکولر ریاست میں شہریوں کی بنیادی حیثیت یکساں رتبے ، حقوق اور عقل و شعور سے ممیز انسانوںکی ہے۔ انسان کی حیثیت سے ہم میں بہت سے مشترک نکات بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سے اختلافات بھی۔ مشترک انسانی اقدار کی عدم موجودگی میں ہمارا انسان ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر انسانوں میں تھوڑا بہت فرق نہ پایا جائے تو انسانی تنوع اور انفرادیت مخدوش ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کے طور طریقوں اور اقدار سے اختلاف رکھ سکتے ہیں ، ان کی مخالفت کر سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کوئی انسان غلطی سے مبرا نہیں ۔ ہو سکتا ہے ہمیں جن لوگوں سے اختلاف ہے اُن کی معلومات اور علم ناقص ہوں۔ لیکن ہماری رائے اور ہمارا علم بھی ناقص ہو سکتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیتے ہیں تو ہم مختلف طور طریقوں اور اقدار رکھنے کے باوجود دوسروں کے حق رائے اور حق انتخاب کا احترام کرنا شروع کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرے میں رواداری اور روشن خیالی شروع ہوتی ہے۔

تکثیریت کا بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ انفرادی اوراجتماعی معاملات ، سوالات اور مسائل کے ایک سے زیادہ جواب ممکن ہیں بشرطیکہ ہم کسی ایک نقطہ نظر کو حتمی اور حقیقت واحد قرار دے کر اسے زبردستی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی قومی ، لسانی یا مذہبی شناخت سے وابستگی انسانوں کا حق ہے لیکن اپنے سے مختلف شناختوں پربالادستی کی خواہش نے انسانی تاریخ کو خون کے چھینٹے بخشے ہیں۔ ایسی انتہا پسندی غیر صحت مند اور تکثیریت کے اصول سے متناقض ہے۔

سیکولر ریاست فردِ انسانی کو تحفظ دیتے ہوئے اجتماعی زندگی کی اہمیت سے انکار نہیںکرتی اور نہ اجتماعی اقدار سے گریزاں ہوتی ہے۔ تاہم سیکولر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ ُاسے صرف ان اقدار کے نفاذ پر اختیار ہے جنہیں عقلی دلائل اور قابل تصدیق شواہد کی روشنی میں ریاست کے تمام شہریوں کے لئے قابل قبول اور قابل عمل اجتماعی زندگی کے لئے لازمی سمجھا جائے ۔ مثلًا انسانی مساوات، قانون کی بالا دستی ، آزادی اظہار اورعبادت کی آزادی وغیرہ۔

سیکولر ریاست تکثیریت یا تنوع میںقابل عمل ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ادارے ، قوانین اورپالیسیاں تشکیل دیتی ہے۔ سیکولر ریاست میں عقیدے کی آزادی قابل نفاذ قدر ہے اور ریاست کے ہر شہری کا استحقاق ہے لیکن سیکولر ریاست شہری کو یہ نہیں بتاسکتی کہ وہ کن عقائد کی پیروی کرے ۔ اسی طرح سیکولر ریاست شہریوں کے لئے ذرائع معاش کی فراہمی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن شہریوں کے لئے کسی خاص پیشے کے انتخاب کی مکلف نہیں ۔ سیکولر ریاست کا نصب العین شہریوں کو لباس فراہم کرنا ہے، لباس کی وضع قطع، اونچائی لمبائی طے کرنا نہیں۔ سیکولر ریاست کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ اقدار اور روایات کے نام پر دوسرے شہریوں کی انفرادیت ،ذہانت ، علمی صلاحیت ، سماجی امکانات اور معاشی مفادات کچل دیں ۔

٭      انسانی انفرادیت کا تحفظ

سیکولر ریاست شہریوں کی انفرادی کوشش ، توانائی، ذہانت ، مشاہدے اور تجربے پر بھروسہ کرتی ہے۔ سیکولر ریاست اس خیال کو تسلیم نہیں کرتی کہ معاشرے کوئی فرد یا گروہ دوسرے شہریوں کے لیے فیصلہ سازی یا شعوری انتخاب کرنے کی بہتر صلاحیت اور استحقاق رکھتاہے ۔

سیکولر نظام فکر میں انفرادیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان حقیقت کی بنیادی اکائی کا حامل ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے اور شعوری انتخاب پر قادر ہے۔ سیکولر ریاست میں شخصی انفرادیت اجتماعی معاشرت کوجھٹلاتی نہیں اور نہ اجتماعی معاشرت کے فوائد سے انکار کر تی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاشرت دراصل منفرد انسانوں کے مجموعے کا نام ہے۔ اجتماعی زندگی انسانوںکی انفرادیت کے مجموعے سے ماورا مظہرنہیں ہے۔ گویا اجتماع فرد کی شناخت طے نہیں کرتا بلکہ فردِ انسانی کی گوناگوں شناختیں مل کر ہیئت اجتماعی تشکیل دیتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر فہم و فکر، مشاہدے اور صلاحیت کی ایک دنیا لیے پھرتا ہے اوراس کی اس انفرادیت کو دوسروںکی سمجھ بوجھ یا مفادات پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔

سیکولر انفرادیت میں فرد تکمیلی کام کی اکائی ہے۔ اگرچہ تخلیق کے عمل میں دوسرے انسانوں کی کارکردگی مساعی اور مدد سے کام لیا جا سکتا ہے لیکن تخلیقی کارگزاری کی حتمی ذمہ داری تخلیق کار پر انفرادی حیثیت سے عائدہوتی ہے۔

سیکولر انفرادیت کا مطلب اجتماعی زندگی سے بیگانگی نہیں اورنہ فرد کی تنہائی سیکولر ازم کا مقصد ہے بلکہ یہ بھی کہنا درست ہو گا کہ دوسرے انسانوں سے کٹ کے انفرادیت کا کوئی مفہوم نہیں۔ انفرادیت کا پھول تو مختلف شناختوں کے گلدستے ہی میں اپنی بہار ہوتا ہے۔ تاہم سیکولرریاست سمجھتی ہے کہ حقوق استحقاق اور رتبے کے اعتبار سے فرد انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ انفرادیت پسندی انسانوں کے باہمی تعاون سے متناقض نہیں ہے۔ منفرد ہونے کا مطلب بند ذہنیت اور خودغرضی نہیں ہے۔ سیکولر ریاست کا شہری اپنی ذات کی نفی کیے بغیر اجتماعی بہبود کا خواہاں ہوتا ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

انفرادیت پسند اپنے تنقیدی شعور اور رضاکارانہ انتخاب کی سچائی کو اہل حکم کی تقلید اور اطاعت پر ترجیح دیتے ہیں۔ سیکولر ریاست کی انفرادیت پسندی کا اصل مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں فرد اور اجتماع باہم رضامندی سے ایک دوسرے کو فائدہ بہم پہنچا سکیں۔ سیکولر ریاست میں انفرادیت کا اصل مفہوم انفرادی ذمہ داری قبول کرنا ہے یعنی ہر شخص شعوری سطح پر احتیاط سے کئے گئے انتخابات اور فیصلوں کے لیے ذمہ دار ہے۔

انسانوں کو فطری طور پر میسر آنے والے حالات ہماری انفرادی اور اجتماعی بقا کے لیے کافی اور مفید نہیں ہیں ۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے محنت کے ذریعے انسانی زندگی کا ماحول تبدیل کیا جاتا اوراشیا کی قدر میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ اسے پیداواری عمل کہتے ہیں ۔ سیکولر ریاست میں پیداوار ایک قدرِ خیر ہے اور ہر شہری پیداوار کے عمل کے لیے ذمہ دار ہے ۔ ہر شہری پیداواری عمل میں جس تناسب سے حصہ ڈالتا ہے اسے اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ سیکولر ریاست شہریوں سے قربانی کا تقاضا نہیں کرتی۔ ہر فرد اپنی زندگی اورخوشیوں کی ذمہ داری اٹھاتا ہے ۔

سیکولر نظام میں صرف وہی اقدار مستحسن قرار پاتی ہیں جن کے لیے کسی کو اپنا مفاد قربان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اورجن سے انفرادی اوراجتماعی سطح پر انسانی زندگی کا معیار بلند ہوتا ہے مثلًا دوستی، محبت، خیر سگالی، رواداری ، دیانتداری ، رحم دلی اور دریا دلی وغیرہ ۔ انفرادیت پسندی کا مطلب خودغرضی، رعونت، بددیانتی ، لاقانونیت اور استحصال نہیں کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو حتمی تجزئیے میں انفرادی اور اجتماعی زندگی پر نقصان دہ نتائج پیدا کرتی ہیں۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسرے شہریوں کے استحصال یا کسی سے زیادتی کئے بغیر محنت کے ذریعے اپنی خوشیوں کا بندوبست کریں ۔

(جاری ہے (


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “سیکولرازم کیا ہے (تیسرا حصہ)

  • 23-01-2016 at 3:12 pm
    Permalink

    سیکولرازم اور لبرل ازم

    سیکولرازم اور لبرل ازم دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔ لبرل ازم ایک رویہ ہے، سیکولرازم ایک نظام ہے۔

    سیکولرازم کا مطلب ہے کہ دنیا کے معاملات انسان چلائے گا، اس کے لیے کسی خدائی ہدایت نامے کی ضرورت نہیں۔

    لبرل ازم کا مطلب ہے کہ کفر بھی ٹھیک ہے، ایمان بھی ٹھیک ہے، آدمی کو کافر ہونے کا بھی کھلا موقع ملنا چاہیے، مومن ہونے کا راستہ بھی صاف رہے۔ یہ رویہ ہے کہ کافر سے اس کے کفر کی بنیاد پر دوری نہ محسوس کرنا اورمومن سے اس کے ایمان کی بنیاد پرخصوصی محبت محسوس نہ کرنا، یہ لبرل ازم ہے۔

    کوئی مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولر ہونے کا مطلب ہے دنیا میں خدا کے اختیارات سلب کر لینا، خدا کو غیر متعلق کر دینا۔۔۔۔ تو سیکولر ازم مذہب، خاص کر اسلام کی نفی ہے۔ عیسائیت نے تو اس پوزیشن کو قبول کر لیا کہ چلو دین انفرادی معاملہ ہے، لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہی اس بات پر ہے کہ انسان، اس کی انفرادیت، اجتماعیت سب کی سب اسلام کے دائرے میں ہونی چاہیے، یعنی اسلام کو انسان کی انفرادی، اجتماعی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے۔ سیکولرازم اس کو مانتا ہی نہیں، کہتا ہے مرکز انسان خود ہے‘‘۔
    احمد جاوید

  • 23-01-2016 at 3:14 pm
    Permalink

    جزاک اللہ جناب۔ اس فقرے نے تو مضمون پانی کر دیا ہے کہ “کوئی مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا”۔

    اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند مذہبی ادارہ نہیں ہے، اور جمعیت علمائے ہند کا اسلام سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنا ہے کہ کم از کم بھی تیس چالیس کی دہائی سے وہ سیکولر ہیں۔

  • 23-01-2016 at 4:05 pm
    Permalink

    عدنان بھائی ، اتفاق کرتا ہوں۔ حسین احمد مدنی مسلمان نہیں تھے۔ حسرت موہانی مسلمان نہیں تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین مسلمان نہیں تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہ زندگی بھر فرانس میں رہے، مسلمان نہیں تھے۔ امریکا میں بسنے والے چالیس لاکھ مسلمانوں کے ایمان پر سوالیہ نشان ہیں۔ یورپ مین بسنے والے ستر لاکھ مسلمان سیکولر نطام کو تسلیم کرنے کی بنا پر ڈاکٹر ذاکر حسین مسلمان نہیں ہیں۔ بیس کروڑ ہندوستامن مین بستے ہیں۔ ارے بھائی، باتیں سنا کریں ان کی۔۔۔

  • 23-01-2016 at 8:21 pm
    Permalink

    افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ نہ ہی ہم دلیل سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے بوسیدہ نظریات پر نظرثانی کیلئے تیار ہیں۔ جو بات بچپن سے طوطے کی طرح رٹا دی گئی ہے اس سے باہر نکل کر دیکھنا گوارہ نہیں۔ بدقسمتی سے ہم میں سے اکثریت کا آج یہی حال ہے،شاید میں بھی انہی میں سے ایک ہوں!

  • 24-01-2016 at 2:45 am
    Permalink

    السلام علیکم.
    میرا سوال یہ ھے کہ آپ سیکولر ریاست کے مدمقابل کس کو لارھے ھیں…مطلب سیکولر ریاست کی اپوزٹ سائیڈ کیا ھے…؟؟؟
    جو یہ تمام امور انجام نہیں دے سکتی جن کا آپ نے تذکرہ فرمایا ھے…کہ ھم اس اور سیکولر ریاست کو اختیار کریں…

Comments are closed.