ایدھی صاحب کے نفسیاتی تجزیے کی ضرورت !


\"waqarنیک کام کر نے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے (حضرت علیؓ)

آج تمام فکری مدرسے اداس ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ فکر دایاں رجحان رکھتی ہو یا بایاں سب مغموم ہیں۔

بابا ایدھی کی وفات ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ انسان کہیں بنیادی طور پر نیکی کا میلان رکھتا ہے۔

 بابا ایدھی کی نیکی کا قد اتنا بڑا تھا کہ ان کا سوشلسٹ رجحان، فیض صاحب کے بعد دوسرے پاکستانی جنہیں لینن امن انعام سے نوازا گیا، مولویوں کے ان کے بارے میں فتوے وغیرہ جیسی باتیں جس طبقے کے لیے اہمیت رکھتی تھیں ان کو بھی یہ باتیں ہیچ دکھائی دیں۔

پاکستان جیسے تقسیم در تقسیم معاشرے میں غیر متنازع رہنا بذات خود ایک بہت غیر معمولی کارنامہ ہے۔

\"02\" مذہب اور ذات پات سے بلند ہو کر ایک ایسے منارے پر چڑھ جانا جہاں انسان صرف انسان دکھائی دے بہت بڑی کامیابی ہے۔

مارک ٹوین نے کہا کہ ہمیشہ صحیح کام کرو اس سے کچھ لوگ احسان مند اور باقی حیران ہوں گے۔

لیکن صحیح کام ہے کیا؟

البرٹ شیوٹزر نے وضاحت کی، صحیح کام زندگی کا احترام ہے۔ زندگی کو پھلنے پھولنے میں جہاں ہماری مدد درکار ہے اور ہم اس قابل ہیں کہ مدد کر سکیں نیکی ہے اورہم اپنے آپ کو اتنا سکیٹر لیں کہ زندگی کے پھلنے پھولنے میں کم سے کم رکاوٹ بنیں۔

پھر سوال پیدا ہوا کیا ہمارے اندر کہیں پیدائش کے ساتھ ہی کوئی ایسا میکنیزم آ رہا ہے ؟

اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت اٹلی کے سائنس دانوں نے کی جب انہوں نے عکسی نیورانز کی دریافت کی۔ اس سے ہم دلی، اپنے آپ پر کنٹرول اور دوسروں کے لیے نیک احساسات رکھنے کو سمجھنے میں مدد ملی۔ پھر کچھ ایسے سائنس دان جو جذبات پر تحقیق کر رہے تھے انہوں نے شرم اور احساس جرم کو بہت اہم اور حیرت انگیز جانا۔ یہ دو ایسے جذبے ہیں جن کا ماخذ انسان سے باہر کسی اور کا جذبہ ہیں۔ \"01\"جیسے احساس جرم کسی اور کو دکھی یا غصے میں دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔

کیا عکسی نیورنز کو تعلیم سے متحرک کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم دلی تعلیم سے سکھائی جا سکتی ہے؟ کیا انسان کو غیر عقلی خوفوں سے نجات دلائی جا سکتی ہے؟

ڈھیر سارے سوالات ہیں اور ان کے ان گنت جوابات۔

تجربات سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہے کہ تعلیم کا عمومی اثر ضرور ہے۔ موضوعاتی مطالعہ ایک اور بات ہے۔

مجھے ایدھی صاحب کی شخصیت نے پریشان کر رکھا ہے۔ ایک الجھاﺅ ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ آپ ہی راہنمائی فرمائیں

علم کی انتہا کیا ہے۔۔۔ ؟\"03\"

1۔ عاجزی: علم کی انتہا عجز میں ہے۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جتنا آپ کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس قدر اپنے وجود کے بیرونی کائنات سے تقابلی معلومات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ایدھی صاحب کی عاجزی سے سب واقف ہیں۔ ان کے عجز پر کوئی کیا لکھے؟

2۔ ہم دلی: تجربات میں اضافہ دماغ کے سب سے نوزائیدہ حصے کو طاقتور کرتا ہے۔ انہی تجربات کا تنوع ہمیں اپنے اوپر کنٹرول اور دوسرے کے احساسات اور تکلیفوں کا احترام سکھاتا ہے۔ ہم دلی ہی اچھے اخلاق کی جنم بھومی ہے۔ ہم دلی کی انتہا یہ ہے کہ ایک واجبی سی چھت ہو، دو جوڑے کپڑوں کے ہوں اور انسان ساری زندگی دوسرے انسانوں کے دکھ چننے میں گزار دے۔ موجودہ تاریخ میں ہم دلی کی انتہا پر صرف عبدالستار ایدھی نظر آتے ہیں۔

3۔ خوف پر قابو: ارتقا میں کچھ غیر عقلی خوف ہمارے دماغ کا حصہ بن گئے۔ ان پر عقلی کنٹرول فی الحال مشکل ہے۔ کچھ خوف ہم بچپن میں اپنے رہن سہن، قومیت پرستوں،مذہبی دکانداروں سے زبردستی وصول کرتے ہیں۔ خوف، کسی چیز سے منسلک ایسے منفی خیال کا نام ہے جو زندگی کی نمو کے لیے خطرے کا باعث ہو۔ ایسے خوفوں کی جڑیں بھی بہت گہری ہوتی ہیں۔ بعض اوقات آپ پی ایچ ڈی کر لیتے ہیں لیکن ان خوفوں پر قابو نہیں پا پاتے۔ قرآن میں بھوک اور خوف کو بڑے عذاب کہا گیا ہے۔ خوف اور ڈر کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ ایدھی صاحب ان تمام خوفوں سے بالا تھے۔ دو مثالیں نوٹ کریں

”ایک انٹرویو میں پوچھا گیا۔۔ مولوی کہتے ہیں کہ آپ بے دین ہیں اور اللہ بے دینوں کو جنت عطا نہیں کرتا۔ ایدھی صاحب نے جواب دیا: میں ایسی جنت میں جاﺅں گا ہی نہیں جہا ں ایسے (مولوی) لوگ جائیں گے“

ایک اور جگہ فرماتے ہیں\"05\"

”یہ ٹھیک ہے کہ مولوی مجھے \’بے دین بولتا ہے تو بولنے دو

مجھے تو ویسے بھی جہنم میں جانا ہے، جنت میں تو سارے خوشحال لوگ ہوں گے. میں جہنم میں جاؤں گا اور دکھی لوگوں کی خدمت کروں گا“

اس کے علاوہ ان گنت مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خوف کوایدھی صاحب نے روند ڈالا تھا۔

4۔ ذات پات، مذہبی تعارف، رنگ نام نسب کو صرف تعارف سمجھنا: علم کی انتہا یہ بھی ہے کہ تفریق ختم ہو جاتی ہے۔ کالے گورے، عربی عجمی کی تفریق ختم ہو جاتی ہے۔ ایدھی صاحب نے بھارتی لڑکی گیتا کو یہاں رکھا تو اس کے کمرے میں مورتیاں اور بت رکھوائے تا کہ وہ اپنے عقیدے اور مذہب کے مطابق عبادت کر کے شانتی حاصل کرے۔ ایدھی صاحب صرف انسان کو جانتے تھے۔ باقی باتیں ثانوی تعارف تھیں جن کو انہوں نے پوری زندگی اہمیت نہیں دی۔

\"[epa02912892

5۔ ترقی کے اصل مفہوم سے آشنائی: ہمارے ہاں سکائی سکریپرز اور بڑی شاہراﺅں اور چمکتی گاڑیوں کو ترقی کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جن ممالک کی نقل میں یہ کام کیے جاتے ہیں ان ممالک نے پہلے سوشل سیکیورٹی کے نظام کو مضبوط کیا۔ بھوکے بچے کے خالی فیڈر کی موجودگی میں یہ مصنوعی ترقی کبھی خوشحالی نہیں لا سکتی۔ یہ عجیب خیال ہے کہ ترقی کا سفر اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ سوشل سیکیورٹی یا بنیادی ضروریات کے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد حکومتیں ترقی کے لیے جیسے مرضی اقدامات اٹھاتی رہیں معاشرے میں اعتراضات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ ایدھی صاحب خاموشی سے اٹھے اور صفر سے شروعات کیں۔ اگر بالفرض وہ صرف دس لوگوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب ہو جاتے تو بھی اسی قدر عظیم ہوتے کہ عظمت کا پیمانہ وہ صحیح خیال اور راستہ ہے جو انہوں نے چن لیا تھا۔

دوسری طرف اگر صحیح خیال اور راستہ نہ ہو تو آپ ایک پورے صوبے خیبر پختونخواہ کے حکمران ہو کر بھی تبدیلی نہیں لاسکتے اور سمجھتے ہیں کہ جب تک پورے پاکستان کی حکمرانی ہاتھ نہیں آتی حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

مزید تیسری طرف آپ پاکستان کے حکمران ہیں لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ اصل اقتدار اور خارجہ پالیسی کسی اور کے ہاتھ میں ہے جب تک یہ ’اور‘ بیرکوں میں واپس نہیں جاتا پاکستان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔\"04\"

6۔ Temptation پر کنٹرول: اس کا کچھ حصہ تو پیدائش کے ساتھ آتا ہے لیکن بیشتر حصہ سیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آج دنیا میں غربت کی ایک بڑی وجہ Temptation پر کنٹرول نہ ہونا بھی ہے۔ آپ ایک میگا سٹور میں ٹوتھ برش اور صابن لینے کے لیے گھستے ہیں اور ٹرالی بھر کر واپس نکلتے ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے خوش معاشروں کی رینکنگ میں سر فہرست آنے والوں کی سب سے نمایا ں خصوصیت یہی ہے کہ وہ Temptation پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ایدھی صاحب کے ارد گرد پر تعیش اور پر کشش اشیا کا انبار لگا ہوا تھا، خریدنے کی سکت بھی رکھتے تھے لیکن دو جوڑے کپڑوں میں زندگی گزار دی۔۔

ایدھی صاحب کے نفسیاتی تجزیے کی ضرورت ہے۔ کیسے ایک ان پڑھ آدمی ان خصوصیات کا حامل ہو گیا جو علم کے انتہا کا حاصل سمجھی جاتی ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 110 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “ایدھی صاحب کے نفسیاتی تجزیے کی ضرورت !

  • 11-07-2016 at 10:19 pm
    Permalink

    Mukaram wa Mohtaram maulana Abdus Sattar Edhi sahib marhoom asmane insaniyat ke chamakte chand they. Mulla nam to islam ka laite hain per inke kartoot . Edhi sahib Zindabad. kuffar wale hain. Kon si burai hai jo in main nahein

Comments are closed.