میں نے ایدھی سے کیا سیکھا


\"shakoorاپنی دنیا آپ پیدا کر!

ایدھی نے قیام پاکستان کے بعد یہاں آکرفلاحی مملکت کی تشکیل کے دکھ دیکھے تو الاٹمنٹ، ملازمت، جائیداد اور کاروبار کے روایتی بکھیڑوں کے بجائے کراہتے لوگوں کو سنبھالنے لگا۔ کسی فرد کی جانب سے بلا تخصیص مذہب انسان دوستی کا یہ پہلا عملی مظاہرہ تھا کہ جس کا دوٹوک اظہار جناح صاحب پارلیمان  میں کر چکے تھے۔ سوحیات ایدھی کا پہلا سبق یہی ہے کہ طے شدہ عزت و مرتبہ کے معیارات کے بجائے نئے اہداف بناؤ اور ہمت ، محنت اور استقامت سے منزل کی طرف بڑھو۔ آواز سگاں کم ہوتے ہوتے دم ہلانے لگے گی۔

(2)  معاشی این آر او مت لو۔

حکومتی امداد اور بیرونی فنڈنگ کے لیے جہاں لوگ ڈیڈی بدل لیتے ہوں ، وہاں ایدھی نے ببانگ دہل ملکی و غیرملکی ریاستی اداروں کی مشروط امداد کے بجائے ’بھیک دوجوں واسطے ‘ جیسے کلچر کو جنم دے کر’پاکستانیت و انسانیت‘ کاشعور بھی دیا اور مقدس مگرمچھوں کا ترنوالہ بننے سے بھی خود کو بچائے رکھا۔

(3) مصلحت اور منافقت سے وقتی شہرت ملتی ہے، سچی عقیدت کبھی نہیں!

روایتی مذہبی اخلاقیات پر قائم پاکستانی معاشرے میں ایک فرد اسی مقدس نظام کے برگ و بار یعنی صدقہ، خیرات، عطیات، فطرانہ ، ذکواة کا طلبگار ہو مگر اس اخلاقی نظام کے پہرے داروں پربھی شدید تنقید کرے۔۔۔ ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا مگر ایدھی نے ایسا کر دکھایا۔ قربانی، نکاح، مولوی، صلواة وغیرہ پر ان کے عقائد سے ہزار اختلاف سہی، لیکن مصلحتی سمجھوتہ و وقتی منفعت کے بجائے ایدھی نے اپنا اور اپنے کام کا امیج ایسا شاندار بنا لیا کہ نظریاتی حریف پہلے لاجواب ہوئے ، بعد میں اس کے مداح !

(4)ظاہری نمود ونمائش سے زیادہ قوت اور اثر سادگی میں ہے!

 دو کھدر کے گھسے جوڑے اور ایک بیس سالہ پھٹے جوتے کے ساتھ زرق برق معاشرے کی پگڈنڈیوں پر ہاتھ پھیلانے والے اس صوفی کو ہاتھ ملنے والی غریب اکثریت کا دست بیعت تو ملتا ہی تھا، رائل روایات کی نمائندہ اشرافیہ بھی ان سے ہاتھ ملانے کوبے چین رہتی تھی۔

(5) کامیابی کی سند کے لیے حقیقت پسندی ضروری ہے۔ خواب و خیال میں رہنے یا لے جانے والوں سے دور رہا جائے۔

جنرل ضیا کا دست شورائی ہو یا جنرل مشرف کا دست روشنائی ہو! ایدھی نے فرشتوں کی گھر لائی گئی اقتداری کرسی کو جھٹک دیا اور صرف خود انحصاریت کے ساتھ اپنی دلچسپی اور مہارت کے شعبے کو وسیع و کشادہ کرنے پر توجہ دی۔ ہمارے دوسرے ہیروز کہ جن کے ابتدائی فلاحی کاموں نے انہیں ہردلعزیز بنا دیا تھا،کاش وہ بھی بادشاہ گروں کے سیاسی فانوس خیال کے ایسے اندھیرے زاویے دیکھ پاتے تو قحط الرجال میں روتی قوم آج خود کو یتیم نہ کہتی!

(6) دعویٰ کرو تو گفتاروکردار سے اسے نبھاؤ بھی!

یہ دعویٰ بظاہر پرکشش ہے کہ ’میرا مذہب انسانیت ہے‘ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لینن پرائز کے حصول سے جماعت احمدیہ کے ’مسلم امن ایوارڈ‘ تک کسی لڑکھڑاہٹ کے بغیر انسان دوستی کاایسا عملی اظہار مشکل کام تھا۔ ایدھی نے نہ صرف ایسا کیا بلکہ کراچی جیسے شہر میں علی الاعلان ’متنازعہ افکار‘ کے باوجود کسی سیکیورٹی کے بغیر چوکوں چوراہوں پر بیٹھے رہنا اسی انسان دوستی کا جرات مندانہ عملی اظہار ہے۔

\"edhi2\" مجھے ایدھی کی زندگی سے اور بھی بہت سے سبق ملے ۔

٭          مثلا یہی کہ وہ ان پڑھ تھا مگر جدید سیاسیات اور عمرانیات میں دلچسپی، غور اور مطالعہ نے اس کی فکر کو بالغ ،حقیقی اور ترقی پسند بنا ڈالا تھا۔

٭          وہ مہاجر تھا مگر ساری زندگی میں کبھی لسانی یا علاقائی حوالہ نہیں دیا۔

 ٭         وہ باشرع اور شعائر شناس تھا لیکن انتہاپسندانہ و رجعت پسندانہ افکار کا شدید ترمخالف تھا۔

 ٭         وہ مذہب فروشوں کا سخت مخالف تو تھا مگر عالم اسلام میں، ایتھوپیا ہو،ڈھاکہ ہو، برما ہو یا بوسنیا ہو، خون مسلم کو بچانے سب سے پہلے پہنچتا تھا۔

٭          وہ جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت کے کرنے کے سب کام کرتا تھا مگر حکومت سے امداد نہیں لیتا تھا۔

٭          اسے کراچی سے خیبر تک کے کھرب پتی مخیر چندہ دیتے تھے مگر وہ ہمیشہ سیٹھوں ، وڈیروں اور سرمایہ داری کے خلاف ہی بولتا تھا۔

 ٭         وہ سیاستدانوں کو چور کہتا تھا مگر ہر آمر بالخصوص جنرل ضیاالحق کی امداد اور اعزاز واپس کردینے کا حوصلہ بھی رکھتا تھا۔

 ٭         وہ پاکستانی ریاست کے قاعدہ نظام کا شدید ناقد تھا مگراپنی انٹرنیشنل سروس کے ذریعے پاکستان سے باہر اسی ریاست کا واحد مثبت حوالہ تھا۔

 ٭         وہ شان و شوکت کے وسائل اور جواز رکھتا تھا مگر لباس، اطوار اور کردار سب میں انتہائی سادگی کا عملی نمونہ پیش کرتا تھا۔

 ٭         گیننز بک آف دی ورلڈریکارڈ سے لینن امن پرائز تک اور پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے ’احمدیہ مسلم امن ایوارڈ‘ تک وہ متنوع بلکہ مخالف شعبوں میں اپنی اسی انسان دوستی کے سبب واحد مشترک زنجیر تھا!

وہ چلا گیا ہے۔ اب سوشلستان میں اس آدمی کے جنت میں جانے کی دعا ضرور کیجیے کہ جس نے جاہل ملا کی آئیڈیل جنت میں ہی جانے سے انکار کیا تھا۔ اس کی بخشش کی دعا بھی ضرورکیجیے مگر اسے خود بھی تو بخش دیجیے کہ مقبول ترین مذہبی ویب سائیٹس پرکفروزندیق کے جو فتوے ارزاں کئے جا رہے  ہیں، انہیں ہٹا لیا جانا چاہیے کہ خدا اس کے نامہ اعمال میں یہی ایک شعر دیکھتا ہے

داورمحشر مجھے تیری قسم! عمر بھر میں نے عبادت کی ہے

تُو میرا نامہ اعمال تو دیکھ! میں نے انسان سے محبت کی ہے

میں نے کم از کم ایدھی سے انسان سے محبت کی یہی معراج سیکھی ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔