ڈیجیٹل زندگی اور موت


\"aasem

شاید کم و بیش چھے ماہ  قبل برادرِ کبیر عثمان قاضی کے کتب خانے پر بیٹھا تھا کہ قبلہ احمد جاوید صاحب کی فون کال آئی۔ رابطہ ملتے ہی انہوں نے فوراً کہا کہ کوئی طویل بات نہیں، صرف اتنی اطلاع پہنچانی تھی میرے وہ لندن والے دوست جو آپ کو ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھتے تھے اور بہت محبت سے ذکر کرتے تھے کل انتقال فرما گئے۔ آپ کو اس لئے بتانا ضروری تھا تاکہ آپ بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کر لیں۔ لائن کے دوسری طرف احمد جاوید صاحب ابھی تک کلام فرما رہے تھے لیکن میرے قلب و ذہن کی کیفیت کچھ عجیب و غریب سی تھی۔ وہ لمحہ تو خیر گزر گیا لیکن واپس گھر ڈرائیو کے دوران ذہن میں یہی سوال گونج رہے تھے جو اس نئی ڈیجیٹل زندگی کے رشتوں، ان کے تسلسل، تبدیلوں اور انقطاع سے متعلق تھے۔

ان لندن والے اہل علم بزرگ کا نام عدیل عدنان تھا۔ میری عادت ہے کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے مختلف مضامین کا مطالعہ تقریباً روز مرہ کی بنیاد پر جاری رکھتا ہوں اور ان میں سے کچھ دلچسپ مضامین کو یہاں موجود حلقۂ احباب سے اس لئے شئیر کرتا رہتا ہوں کہ متنوع خیالات کی ترسیل جاری رہے۔ یہ مضامین رسمی و غیر رسمی تحقیق اور تبصروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ضروری نہیں ہوتا کہ ان سے اختلاف یا اتفاق پر کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایسے کسی مضمون پر یہاں موجود کسی اہلِ علم کے تبصرے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور فکر کے نئے زاویوں کی جانب راہنمائی ہوتی ہے۔ کم وبیش ڈھائی سے تین سال قبل عدیل عدنان صاحب سے پہلی ملاقات اسی طرح کسی مضمون پر تبصرے کے ذریعے ہوئی۔ مکالمہ ذرا طویل ہوا اور یوں آن لائن تعلق کا آغاز ہو گیا۔ مجھے ہرگز شاعری کا دعوی نہیں لیکن اس حد تک شوق ضرور ہے کہ دو چار ماہ بعد کچھ تُک بندی کرنے کو دل شدید آمادہ ہوتا ہے۔

لیکن وہ ایک سال تُک بندی کا یہ دورانیہ غیرمعمولی طور پر طویل تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی تخلیقی نل سا کھل گیا ہو اور طبیعت رواں ہو۔ میں اس کیفیت کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا اور میرے لئے یہ ذرا پریشان کن صورت حال تھی کیوں کہ اس سے نہ صرف طبعیت میں ایک بھونچال سا محسوس ہوتا تھا بلکہ روزمرہ کے معمولات، یعنی سائنس و انجینئرنگ کے مطالعے، تحقیق اور متعلقہ تدریسی مصروفیات میں بھی خلل آ رہا تھا۔ یوں جہاں ایک تخلیقی سرشاری مسرت کا باعث تھی وہیں ایک ملی جلی سی خوف اور پریشانی کی کیفیت بھی تھی۔ شاعر دوست جانتے ہیں کہ شعری تکنیک سے بالکل نابلد ہوتے ہوئے شعر کی نوک پلک صرف موزوں طبعیت اور غیر رسمی مطالعے کی بنیاد پر سنوارنا امرِ محال ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ ایک شخص جو اچھے یا برے تصویری یا ادبی فن پارے میں وجدانی طور پر فرق کر سکتا ہو خود مصوری یا کسی ادبی تخلیقی سرگرمی کے لئے ہاتھ پیر مارنا شروع کر دے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ فیس بک پر اس قسم کی طبع آزمائی بے خوف و خطر ممکن ہے کیوں کہ یہاں ہر شخص ہی کسی نہ کسی حیثیت میں تخلیق کار بھی ہے اور بے دھڑک نقاد بھی۔

کسی ایسے ہی غیرمحتاط بے خوف لمحے میں ایک دفعہ کچھ بالکل مہمل قسم کی تک بندی شئیر کی تو عدیل صاحب جو ہمیشہ شفقت کا معاملہ فرماتے تھے ان باکس میں آئے اور ذرا سخت تنقید فرمائی لیکن لہجہ بہت شگفتہ و عاجزانہ تھا۔ تبصروں سے معلوم ہوتا تھا کہ کلاسیکی اور جدید دونوں قسم کے ادب میں گہری نظر ہے لہٰذا میں نے التجا کی کہ اسی طرح بے لاگ تنقیدی آراء عطا کرتے رہا کیجئے۔ کبھی کھلم کھلا اور کبھی ان باکس میں یہی معاملہ تقریباً ایک سال چلتا رہا۔ عدیل صاحب کے تبصرے ایک مخصوص پیشہ ورانہ سنجیدگی لئے ہوتے لہٰذا اس دوران کسی قسم کی کوئی بے تکلف ذاتی علیک سلیک نہ ہوئی اور ان کی وال کے جائزے سے یہی گمان پختہ ہوتا رہا کہ عدیل صاحب میرے ہم عمر ہی ہیں۔ اس ایک سال کی نیم اصلاحی سرگرمی کے بعد آخر ایک دن عدیل صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ وہ لندن سے لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں اور ملاقات کے متمنی ہیں۔ میں یا تو ملک سے باہر تھا یا کسی مصروفیت کے باعث لاہور پہنچنے کی سبیل ناممکن تھی لہٰذا شدید تمنا کے باوجود یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی اور وہ واپس لوٹ گئے۔

پھر ایک دن میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کا شعبہ فلسفہ و ادب ہی تھا لیکن بعد میں کاروبار سے منسلک ہو کر بیرونِ ملک آباد ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کچھ غیررسمی شغل اب بھی جاری ہے یا نہیں تو ان کا جواب آیا کہ اب ریٹائرمنٹ کے بعد ادب اور فلموں وغیرہ سے شغل کرتے ہیں یا اپنے پوتے پوتیوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ یوں یہ انکشاف ہوا کہ عدیل عدنان صاحب ہمارے ہم عمر نہیں بلکہ بزرگ ہیں۔ ان کی لندن واپسی کے بعد لاہور کا چکر لگا تو احمد جاوید صاحب کے ہاں حاضری دی۔ وہاں باتوں باتوں میں احمد جاوید صاحب نے ذکر کیا کہ عدیل عدنان صاحب ان کے بچپن کے دوست ہیں اور اب لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ اسی اثناء میں عدیل عدنان صاحب نے فیس بک پر ایک مختصر سا پوسٹ کیا کہ ان کو بینائی کا ایک عارضہ لاحق ہے اور ڈاکٹروں نے کمپیوٹر کے استعمال سے بالکل منع کر دیا ہے۔ ان باکس میں مجھے خاص طور پر الوداع کہا اور ایک رسمی سی افسردہ بات چیت ہوئی جس میں مستقبل میں ملاقات کے امکانات پر کچھ قیاس آرائیاں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ شاید اسد محمد خان نے کسی جگہ لکھا ہے کہ انسان بہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی کرنا چاہتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا۔

عدیل صاحب کی طویل بیماری کے بارے میں بعد میں احمد جاوید صاحب سے معلوم ہوا۔ میں نے عدیل صاحب سے اپنی کتاب چھپوانے کے بچگانہ ارادے کا ذکر کیا تو خیال تھا کہ وہ کسی بھی منجھے ہوئے اہلِ نظر نقاد کی طرح مجھ طالبعلم کو اس ارادے سے باز رکھیں گے لیکن انہوں نے ذرا مخالفت نہیں کی۔ مجھے بھی ان کے ذریعے ہی اپنی مخصوص نیم شاعرانہ کیفیت کی جزوقتی ماہیت کا ادراک ہوا۔ میں تو خیر یہ ماننے کو ہی تیار نہ تھا کہ یہ تجریدی قسم کا موزوں فکری ملغوبہ جو مجھ سے سرزد ہو رہا ہے شاعری ہے۔ لیکن ان کا خیال اس کے برعکس تھا جو میرے خیال میں ان کی تنقیدی تواضع اور شفقت تھی۔ بہرحال یہ حقیقت مجھے ان کے ذریعے ہی معلوم ہوئی کہ تخلیقی سرشاری کا دور باالآخر کتنا بھی طویل ہو گزر جاتا ہے لیکن پیچھے نشان اور خوبصورت یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ ان کی وفات سے دو چار ماہ قبل احمد جاوید صاحب راولپنڈی تشریف لائے تو انہوں نے ذکر کیا کہ عدیل صاحب نے لندن سے خاص طور پر فون کر کے میری کتاب ارسال کرنے کا کہا ہے اور سلام اور دعائیں بھیجی ہیں۔ میں نے کتاب تو احمد جاوید صاحب کو دے دی تھی لیکن گمان یہی ہے کہ عدیل صاحب کی نظر سے نہ گزری ہو گی کیوں کہ ان کی طبیعت اس وقت بھی کافی خراب تھی۔

تخلیقی سرشاری کا دور گزرے تو خیر عرصہ ہوا، اور اب تو کبھی ایک مصرع ہی موزوں ہو جائے تو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کیسے ہو گیا۔ آج کل دیارِ غیر میں فراغت کے کچھ لمحے میسر ہوئے تو کمپیوٹر میں پڑی کچھ پرانی دستاویزات کھنگالنے لگا۔ طبع آزمائی پر مشتمل ایک فائل میں عدیل عدنان صاحب کا ایک مختصر تبصرہ نظر آیا تو دل مائل ہوا کہ ان کی فیس بک وال پر جا کر سودا اور مصحفی (ان کے پسندیدہ شعراء) کے شعر دیکھے جائیں، کچھ پرانے پوسٹوں پر ان کی رائے دیکھی جائے اور ان باکس میں موجود مکالمے دوبارہ دیکھے جائیں۔ ڈیجیٹل عصرِ حاضر میں نہ صرف حیات بلکہ حیات بعد الموت کی بھی اپنی ہی عجیب و غریب کیفیات ہیں جن سے منسلک پیچیدہ جذبات بھی اپنی ایک نادر جہت رکھتے ہیں۔ بالمشافہ ملاقات کی قربت، لمس کی حرارت، لہجہ و صوت سے جڑی حسی کیفیات غرض یہ کہ تعلق کی نہ جانے کتنی جہتیں ہیں جو برقی رشتے میں متن تک محدود ہو کر ایک عجیب سی قلبِ ماہیت سے گزرتی ہیں۔ اسی طرح برقی رشتوں سے جڑی محبتوں، نفرتوں، مسرت اور غم کی کیفیات بھی مختلف ہیں۔ یہ بھی دیکھا کہ ایک پرانے برقی رشتے کو صرف ایک ملاقات نے ایسی پختگی عطا کی کہ یوں لگا جیسے تعلق پھیل کر اپنی ان تمام ناگزیر وسعتوں تک پہنچ گیا اور انسان رشتوں کی کامل معنی خیزی کے ساتھ پوری طرح دوسرے انسان سے جڑ گیا۔

اسی وجہ سے شدید حسرت ہی رہ گئی کہ عدیل عدنان صاحب سے ایک ملاقات بھی قسمت میں نہیں تھی اور رشتہ محض اپنی بے جان برقی کیفیات کے ساتھ کچھ ان مٹ غیرمرئی نقوش چھوڑ گیا۔ ان کی وفات کی خبر ملی تو کوشش کے باوجود غم کی شدت اتنی نہ تھی کہ دل نم ہو جائے لیکن اس کے باوجود بہرحال غم تو تھا۔ تعزیتی نوٹ لکھ کر مرحوم کو یاد کرنے کا بھی سوچا لیکن کیا لکھتا، دل میں کچھ ہوتا تو باہر آتا۔ بس ان کی مغفرت کے لئے دعا ہی کر سکا۔ خیر آج جب ان کی وال پر جانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہ اب اس جہانِ تصویر و متن کا حصہ بھی نہیں۔ یقیناً ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان کا پروفائل ڈلیٹ کر دیا۔ سچ پوچھیئے تو آج اصل میں احساس ہوا کہ مرحوم عدیل عدنان صاحب سے ہر تعلق مٹ گیا۔ ان کا لکھا ایک ایک لفظ، ان سے جڑی ہر ڈیجیٹل یاداشت ناقابلِ حصول ٹھہری۔

میں تمام دوپہر یہی سوچتا رہا کہ پوسٹ ہیومن دور میں ہم میں سے ہر ایک کی ذات پر کسی دوسری ذات کے کون سے ایسے برقی نقوش ہیں جن کی بظاہر تو کوئی وقعت نہیں لیکن پھر بھی وہ پوسٹ ہیومن تعلقات اور ان رشتوں سے جڑے جذبات کا اہم حصہ ہیں۔ ہر چیز نہ صرف بامعنی ہے بلکہ ایک قدرے مختلف جہت میں بامعنی ہے۔ وقت ایک تسلسل کے ساتھ اپنے دھارے میں ہمارے زندگیوں کو یوں بہائے لئے جا رہا ہے کہ بہت سے لمحات مشترکہ ہیں اور ان سے جڑی یاداشتیں نہ صرف اہم ہیں بلکہ ان کی ماہیت بھی گزرتے زمانوں کے ساتھ ایک ناگزیر تبدیلی اور ارتقاء سے گزرتی رہتی ہے۔ زندگی اور موت سے جڑی خوشی اور غمی کی رسومات بھی کئی غیر محسوس طریقوں سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ آج کسی قریبی عزیز یا دوست کی موت کی خبر ایک دل ہلا دینے والی فون کی گھنٹی سے نہیں بلکہ کسی دوسرے دوست کی ای میل یا فیس بک اسٹیٹس سے بھی معلوم ہوتی ہے۔

تصویری یاداشتیں تعزیتی پیغامات کا ایک ناگزیر حصہ ہیں۔ کھلکھلاتی مسکراہٹیں بھی برقی ہیں اور فلک شگاف قہقہے بھی، ہر آنسو نہ تو نمکین ہے اور نہ ہی رخسار پر بہتا محسوس ہوتا ہے۔ سب کچھ بہت خشک سا ہے لیکن اپنی اسی خشکی میں ایک جذباتی کیفیت بھی رکھتا ہے۔ کوچ کر جانے والوں کے تمام قریبی رشتہ داروں سے درخواست ہے کہ جانے والا تو چلا گیا لیکن اس کی ڈیجیٹل یاداشتوں کو محو کرنے سے پہلے ذرا ایک لحظے کے لئے یہ سوچ لیجئے کہ آپ اس کے برقی حلقے کی وسعت اور اس کے تعلقات کے پھیلاؤ کے بارے میں پوری طرح اندازہ نہیں کر سکتے۔ اس کا فیس بک پروفائل ڈلیٹ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیجئے کہ آپ دراصل اس کی ڈیجیٹل حیات بعد الموت میں مخل ہو رہے ہیں جس سے دوسرے لوگوں کی ڈیجیٹل حیات اب بھی وابستہ ہے۔ فیس بک نے اسی لئے ہر زندہ شخص کو انتخاب کا حق دیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر لے کے مرنے کے بعد اس کے اکاؤنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اپنی وصیت کرنے میں دیر نہ کیجئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 61 posts and counting.See all posts by aasembakhshi