زندگی بھر کچھ نہ کمایا سوائے محبت کے


\"mubashi-zaidi\"

کوئی شخص سوال کرے کہ زندگی میں کیا کمایا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
ممکن ہے آپ کہیں، پیسے کمائے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں، نام کمایا ہے۔ شاید بتائیں کہ ڈگریاں کمائی ہیں۔
میں آج سوچنے بیٹھا ہوں کہ زندگی میں کیا کمایا ہے؟

ابوبکر بھائی جنگ کے سینئر صحافی ہیں۔ میری کہانیاں پڑھ کر کبھی کبھار شاباشی دیتے رہتے ہیں۔ ایک رات میں دفتر سے گھر کے لیے نکل رہا تھا۔ وہ اسی وقت دفتر پہنچے تھے۔ سیڑھیوں پر ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری کہانی ’’مہربانی‘‘ کی بہت تعریف کی۔ اتنی زیادہ تعریف کہ مجھے مبالغہ لگنے لگا۔
میں نے اس کہانی میں لکھا تھا کہ میں سخت گرمی میں شہر میں گھومتا رہا، سب شہری گرمی اور پسینے سے بے حال تھے لیکن مجھے گرمی محسوس نہیں ہوئی۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ میرا بیٹا ایک فقیر کو ٹھنڈا پانی پلا رہا تھا۔
ابوبکر بھائی نے بتایا کہ انھوں نے میری کہانی پڑھنے کے بعد اپنے گھر کے باہر راہگیروں کے پینے کے لیے پانی کا مستقل انتظام کردیا ہے۔ میں کبھی نہ مانتا، اگر ان کی آنکھوں میں پانی نہ دیکھ لیتا۔ اس کہانی نے واقعی ان کے دل پر اثر کیا تھا۔

احمد حسین صاحب سے حال ہی میں رابطہ ہوا ہے۔ وہ میرے دوست واحد کے بچپن کے دوست ہیں۔
میں نے کربلا کی ڈائری میں ایک دن لکھا تھا کہ زیادہ نہیں، روزانہ قرآن پاک کا ایک صفحہ پڑھ لیتا ہوں۔ بس دیکھ لیتا ہوں۔ اسی وجہ سے میری آنکھوں کی روشنی برقرار ہے۔
احمد حسین صاحب نے بتایا کہ میری تحریر پڑھنے کے بعد سے ہر روز وہ بھی قرآن پاک کھول کر ایک صفحہ پڑھ لیتے ہیں۔
وہ بہت نیک آدمی ہیں۔ قرآن پاک پہلے بھی باقاعدگی سے پڑھتے ہوں گے۔ لیکن میری تحریر کو سراہنے کے لیے انھوں نے مجھے ایسے کریڈٹ دیا کہ میں جذباتی ہوگیا۔

اشفاق احمد صاحب سے پیر کو پہلی ملاقات ہوئی۔ میں ان کے بارے میں تفصیل سے نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن تھوڑا تعارف کرانا ضروری ہے۔
اشفاق صاحب کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں کہ ٹھیک سے بول نہیں پاتے۔ ایک ہاتھ سے کام نہیں کرپاتے۔ اس حال میں بھی گھر نہیں بیٹھے۔
جو ہاتھ کام کرسکتا ہے، اس سے کمپوزنگ سیکھ لی ہے۔ پہلے ایک اخبار میں کام کرتے تھے۔ اب ایک ٹی وی چینل میں لگے ہوئے ہیں۔ مجھ سے تمام گفتگو موبائل فون کی اسکرین پر لکھ لکھ کر کی۔
میں نے ان سے پوچھا کہ مجھ سے ملنے میرے دفتر کیوں چلے آئے۔ انھوں نے میری کتاب سامنے رکھ دی۔ میں نے اس پر ان کی خواہش کے مطابق دستخط کردیے۔ پھر ان کی خواہش کے مطابق ایک تصویر بھی بنوالی۔
اشفاق صاحب نے فیس بک پر میری تصویر کے ساتھ لکھا ہے، ’’اپنے حقیقی زندگی کے ہیرو کے ساتھ۔‘‘ انھوں نے مجھے بتایا کہ میری چھوٹی چھوٹی کہانیاں ان کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھر دیتی ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اپنی زندگی میں کیا کمایا ہے، کتنا کمایا ہے۔
میں نے صرف محبت کمائی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi