یوسف زئی لہجہ ، واجپائی اور دہشت گردی کی وجہ


wisi 2 babaدہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد لوگ مرتے ہیں، مرنے والے جو امید ہوتے ہیں، جو اپنے گھروں کے واحد کفیل ہوتے ہیں، کبھی تو وہ صرف بچے ہوتے ہیں جو کچھ برا سوچنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ یہ سب سکولوں میں، راستوں میں اور مسجدوں میں مر جاتے ہیں۔ ہم انہیں شہید بنا دیتے ہیں جب کہ ان مرنے والوں کو ان کی ماو¿ں نے محاذ پر تو نہیں بھیجا ہوتا۔ یہ تو راہوں میں مارے گئے ہوتے ہیں۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا کام نہیں کر سکتا۔ یہ بتانے والوں کے دل میں چبھن تب ختم ہوتی ہے جب وہ کسی نہ کسی پر الزام رکھ لیں۔ جن کا روزگار مدتوں سے جعلی جہاد کے گیت گاتے رہنا ہے، وہ اس تباہی کے اپنے گھر آنے پر ہمیں بتاتے ہیں کہ اس میں افغانستان کا ہاتھ ہے، یہ بھارت نے کرایا ہے ، اس کے پیچھے یہودی ہیں اور یہ امریکہ کرا رہا ہے۔

ہم ان تاویلوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی کا واقعہ دیکھ لیں۔ دہشت گردوں کو بھیجنے والا سامنے آ کر تسلیم کر رہا ہے۔ اپنے لڑاکوں کی تصویریں فراہم کر رہا جو سب کے سب مقامی ہیں۔ پھر بھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے تو مذمت کر دی ہے۔ کیا اس مذمت کو کافی مان لیا جائے ۔ ایسا کر کے تحریک طالبان پاکستان دودھ سے نہا کر پاک ہو گئی۔ اب سوال اٹھائے جا رہے ہیں صاف محسوس ہوتا ہے کہ سوال کرنے والوں کے دل پھٹے جا رہے ہیں کہ کیا تحریک طالبان تقسیم ہو گئی ہے۔ ہائے عمر منصور نرئے کیوں الگ ہو گیا ملا فضل اللہ سے۔

عمر منصور کے لہجے پر شک کیا جا رہا ہے کہ وہ آفریدی ہو کر یوسف زئی لہجے میں پشتو کیسے بول رہا تھا۔ جناب کسی نے آپ کو بتایا کہ وہ اسلام آباد کے سکول میں پڑھتا رہا۔ کراچی میں مزدوری کرتا رہا۔ کسی کو کبھی مولانا بجلی گھر کا لہجہ غیر یوسف زئی لگا جو تیراہ کے آفریدی تھے اور یوسف زئی لہجے میں بولا کرتے تھے۔ پشاور کے نزدیک رہنے والے آفریدی اسی لہجے میں بولتے ہیں جو پشاور والوں کا ہے۔

عمر منصور تحریک طالبان سے الگ ہو گیا ہو گا یا ساتھ ہو گا، ہمارے پاس اس بارے میں درست معلومات نہیں ہیں لیکن ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ بھارت کا ہاتھ تلاش کرتے رہئے لیکن ابھی ایک بھارتی نمایاں چہرے سے ملئے۔ اٹل بہاری واجپائی سابق بھارتی وزیراعظم جس نے امن کے لئے ایک کوشش کی تھی۔ فروری 1999ءمیں چل کر پاکستان آیا تھا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ واجپائٰ کی دہشت گردی کے اس مسئلے پر کیا رائے ہے۔ دل تھام کر سنیئے۔ اس کا کہنا ہے کہ سورہ المائدہ میں موجود قتال کی آیات جب تک ہیں یہ مسئلہ رہے گا۔ اب اس کا مطلب سمجھیں۔ قتال کی یہ آیات ان حالات کا بیان کرتی ہیں جن میں جہاد و قتال فرض ہو جاتا ہے۔
قرآن تو قیامت تک کے لئے ہے اور اس میں سے ایک زیر زبر نکالنے کا تصور بھی ایمان ساقط کر دیتا ہے۔ واجپائی کیا کہہ رہا ہے۔ وہ اس تعبیر کی طرف توجہ دلوا رہا ہے جس پر افغان جہاد سے پہلے علما کی اکثریت کا اتفاق تھا۔ دیوبند تو چھوڑیں، مولانا مودودی کشمیر کو جہاد قرار دینے سے انکاری تھے۔

جب ہم افغان جنگ میں شامل ہوئے تو ہمارے علما کی ایک بڑی اکثریت ان آیات کی جس تشریح پر متفق تھی اس کے مطابق یہ ریاستی اختیار ہے۔ افغانستان کے لئے پھر کشمیر کے لئے مجاہدین کو یہ پڑھایا گیا کہ قران کے براہ راست احکامات موجود ہونے کی وجہ سے ریاست کے سرگرم ہونے کا انتظار کئے بغیر پڑ جاو¿۔ اب علما کی ایک بڑی تعداد اس تشریح کو مانتی ہے یہی علما طالبان کو بھی اور ہر قسم کے شدت پسندوں کو فکری مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ صرف علما نہیں ہیں، ان کی بھاری تعداد یونیورسٹیوں میں بھی موجود ہے۔

سوال ہے تو اب بس اتنا کہ کیا ہم افغان جنگ سے پہلے ان آیات کی جو تعبیر کی جاتی تھی، اس کی طرف پلٹ سکتے ہیں؟

جب بھی کوئی کمانڈر اپنے امیر سے الگ ہوتا ہے تو وہ انہی قرانی حوالوں کو جواز بناتا ہے۔ یہ سلسلہ چل رہا ہے، چلتا رہے گا۔ اب ہمیں ضرورت ہے کہ علما کے پیروں کو ہاتھ لگائیں ان کے قدموں میں بیٹھ جائیں کہ وہ اٹھیں اور اس صورتحال کو سنبھالیں۔ ریاست کی رٹ بحال کریں۔ ان سرگرمیوں کو فساد قرار دیں۔ یاد رہے کہ بہت سے علما شدت پسندی کی مخالفت کرتے ہیں، وہ نیک نام بھی ہیں لیکن وہ کام نہ آ سکیں گے صرف وہی کام آ سکیں گے جن کا طالبان کے اپنے حلقوں میں احترام ہے۔

جب تک نظریاتی محاذ پر کام نہیں ہو گا فوجی شکست دے کر بھی مسئلہ جڑ سے مکایا نہیں جا سکے گا۔ ادھر ادھر ہاتھ تلاش کرنے والوں کو داعش کے خراسان امیر حافظ سعید خان کے تازہ انٹرویو پر دھیان دینا چاہئے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھارتی ایجنٹ کہنے والو! ہم بھارت کا بھی حشر کرنے کو تیار ہیں کہ بہت سے کشمیری اب ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے….


Comments

FB Login Required - comments