برہان وانی: شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

بھارتی حکومت کے دعوے کے مطابق جمعے کی شام کو بھارتی فوج اور پولیس نے حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے مشہور کشمیری حریت پسند برہان وانی کو ایک مقابلے میں شہید کر دیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالحمید لون نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ برہان وانی حراست میں لیے جا چکے تھے اور ان کو بہیمانہ تشدد کرنے کے بعد شہید کر دیا گیا۔ عدالحمید لون صاحب کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس بھارتی ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتی ہے اور ایسی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ سے کشمیریوں کو ڈرا دھمکا کر ان کو حق آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اکیس سالہ برہان وانی کشمیر کی حالیہ عسکریت پسندی کی تحریک میں سب سے نمایاں چہرہ بن کر ابھرے تھے۔ سوشل میڈیا کے موثر استعمال سے انہوں نے لاتعداد کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کیا۔ خود ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود اس وقت ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے جب ان کے پر امن بھائی کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شہید کر دیا۔

\"burhan4\"

ان کی شہادت پر مقبوضہ کشمیر جل اٹھا۔ جگہ جگہ بھارتی سیکیورٹی فورسز سے عوام کا تصادم ہوا۔ اہم کشمیری لیڈروں کو نظر بند کر دیا گیا اور کرفیو لگا دیا گیا۔ لوگوں کو برہان وانی کے جنازے میں شرکت سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور سڑکیں اور راستے بند کر دیے گئے۔ لیکن جمعے کی شام کو یہ خبر پھیلتے ہی کشمیریوں نے پگڈنڈیوں اور کچے راستوں سے برہان وانی کے آبائی قصبے ترال کی طرف پیدل مارچ شروع کر دیا تاکہ جنازے میں شرکت کی جا سکے۔

حکومت نے کرفیو کے نفاذ کے علاوہ ریل سروس معطل کر دی، سڑکیں بند کر دیں، انٹرنیٹ ختم کر دیا، لیکن لوگوں کے جذبات ایسے تھے کہ جگہ جگہ سیکیورٹی فورسز سے ان کا تصادم دیکھنے میں آیا۔ کئی پولیس سٹیشن جلا دیے گئے۔ اس کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو دفاتر بھی نذر آتش کر دیے گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر کے پولیس افسران نے فون اٹھانا بند کر دیا ہے اور قتل و غارت کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکاری ہیں۔ فسادات میں پندرہ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ سری نگر کے صرف ایک ہسپتال میں ستر کے قریب زخمی لائے گئے جن میں سے بیشتر کو گولی لگی تھی۔ ریاست کے انٹیلی جنس چیف ایس ایم سہائے کے مطابق تین پولیس والے غائب ہیں جبکہ چھیانوے سیکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہیں۔

\"burhan-jinaza\"

رابطوں کی بندش اور کرفیو کے باوجود برہان وانی کے جنازے کو مبصرین کشمیر کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا جنازہ قرار دے رہے ہیں۔ عبدالحمید لون صاحب کے مطابق اس میں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی اور اگر ریاست کی طرف سے جبر کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو روکنے کی بھرپور کوشش نہ کی جاتی تو یہ شیخ عبداللہ کے جنازے سے بھی بڑا جنازہ ہوتا۔ جنازے پر کشمیری حریت پسند بھِی موجود تھے اور انہوں نے برہان وانی کی میت کو اکیس بندوقوں کی سلامی دی۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں چالیس سے زائد مقامات پر برہان وانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

برہان وانی، حزب المجاہدین کے نوعمر ترین ڈویژنل کمانڈر تھے۔ وہ اس وقت کشمیری عسکریت پسندی کا چہرہ بن کر ابھرے جب بھارتی حکومت کے خیال میں کشمیر پرسکون ہو چکا تھا۔ ان کو دیکھ کر کشمیری نوجوانوں نے عسکری تنظیموں میں شرکت اختیار کرنا شروع کر دی۔ حتی کہ اہم لیڈروں اور افسران کے پرسنل سیکیورٹی آفیسر بھی اپنے ہتھیاروں سمیت عسکریت پسندوں سے جا ملے۔ بھارت کا مین اسٹریم میڈیا بھی یہ بات کہہ رہا ہے کہ اب عسکریت پسند تنظیموں میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد، ’غیر ملکی‘ لڑاکوں سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

لیکن برہان وانی کو اس طرح شہید کر کے بھی ب\"burhan\"ھارت جس طرح کشمیر کی جد و جہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے، اس کو دیکھنے کے لیے سابق کشمیری وزیر اعلی عمر عبداللہ کے بیانات ایک واضح تصویر دکھا رہے ہیں۔

عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ ’میرے الفاظ سن لو، برہان کی عسکریت پسندوں کے لیے قبر کے اندر سے بھرتی کرنے کی صلاحیت، اس کی سوشل میڈیا سے بھرتی کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہو گی‘۔ ’کئی سال کے بعد میں سری نگر کی مساجد سے آزادی کے نعرے گونجتے ہوئے سن رہا ہوں۔ کشمیر کے غیر مطمئن لوگوں کو ایک نئی علامت مل چکی ہے‘۔ ’افسوس کہ برہان وہ پہلا شخص نہیں تھا جس نے ہتھیار اٹھائے اور وہ آخری بھی نہیں ہو گا۔ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ایک سیاسی مسئلے کو سیاسی حل ہی چاہیے ہوتا ہے‘۔

سینئر کشمیری صحافی ارشاد محمود نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ جب بھی کشمیر میں سکون کا شائبہ دکھائی دینے لگتا ہے تو بھارتی بھس میں چنگاری ڈال کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دیتے ہیں۔ کبھی کشمیر کا بھارتی آئین میں سپیشل سٹیٹس کم کرنے کی بات کر کے آگ لگا دیتے ہیں، تو کبھی وہاں اردو کی بجائے ہندی زبان کو بزور رائج کر کے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیتے ہیں، اور کبھی قتل و غارت کر کے عام شہریوں میں یہ احساس پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ غلام ہیں۔

\"burhan3\"

لیکن اس مسئلے کو پاکستانی حکومت، اورکشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والے اصحاب تحریر اور کارکنان حریت کو خوب غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر سے آنے والے چند صحافیوں سے بات ہو رہی تھی۔ ایک بات کی طرف انہوں نے توجہ دلائی کہ جب بھی مقبوضہ کشمیر میں کوئی ظلم وتشدد کا واقع ہوتا ہے، تو بجائے اس کہ کشمیر کے قوانین کے اندر رہتے ہوئے منطقی اور قانونی انداز میں بھارتی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے مجرم اہلکاروں کو کٹہرے میں لایا جائے، ان کے خلاف ایک جذباتی مہم شروع کر دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ عدالت سے بری ہو جاتے ہیں۔ ان صحافیوں کی بات کو مقامی تناظر میں سمجھنے کے لیے ہم مثال دے سکتے ہیں کہ جیسے پنجاب میں کسی مقدمے میں حریف کے چند ماہ کے بچے کو بھی قتل کے مجرمان کی فہرست میں شامل کر کے لوگ اپنا کیس خود ہی کمزور کر لیتے ہیں، ویسے ہی مقبوضہ کشمیر میں بھی ہو رہا ہے۔ جہاں قانونی راستہ ہو، وہاں مجرم کو قانونی راستے سے سزا دلوانے کی کوشش کرنا مناسب ہے۔

دوسری طرف بھارتی حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی ہو گی کہ کشمیر ان کے لیے ہمیشہ ایک رستا ہوا ناسور ہی رہے گا۔ کشمیر کا سیاسی حل ان کو کرنا ہی پڑے گا۔ آخر کیا وجہ ہے پرامن جد و جہد آزادی کا راستہ چھوڑ کر کشمیری نوجوان عسکریت پسندی کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں؟ عسکریت پسندی کی حالیہ لہر کے بعد تو وہ پاکستان پر یہ الزام لگانے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے ہیں کہ ’یہ غیر ملکی جنگجو ہیں جو دہشت گردی کر رہے ہیں اور انہیں روکا جائے‘۔ اب تو ان کا مین اسٹریم میڈیا بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہی ہیں جو بھارتی تسلط سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طاقت کا بے محابہ استعمال ہر جگہ درست نہیں ہوتا ہے۔ عوام کا دل جیت کر ہی مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ عوام کو حقوق نہ دیے جائیں، تو بعض چھوٹے واقعات بھی بڑی آگ لگا سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 692 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar