کشمیر میں خوں ریزی


\"mujahid

گزشتہ دو روز کے دوران مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے جبر کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش میں فوج نے پندرہ سے زائد لوگوں کو ہلاک کردیا ہے۔ ان میں سے آٹھ افراد ہفتہ کو اور 7 افراد اتوار کے روز فوج کے جبر کا نشانہ بنے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں نوجوان مظاہرین کی بڑی تعداد نے کرفیوکے باوجود احتجاج جاری رکھا اور فوج و سیکورٹی فورسز نے جلوس منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کی تو مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ شروع کردیا۔ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر فوج نے فائرنگ کردی۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ کرنے اور کثیر تعداد میں لوگوں کو مارنے پر احتجاج کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا موجودہ سلسلہ جمعہ کے روز اس وقت شروع ہؤا تھا جب سیکورٹی فورسز نے کوکر ناگ کے جنگل میں چھپے ہوئے حز ب المجاہدین کے نوجوان اور مقبول لیڈر برہان وانی کو اس کے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کردیا تھا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ان ہلاکتوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بندوق اور فوجی قوت سے کشمیریوں کی آزادی کے لئے جد و جہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اس مسئلہ کو مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے عید کے موقع پر کشمیری قیادت کو نظر بند کرنے پر بھی احتجاج کیا ہے۔ برہان کی ہلاکت اور مظاہرین پر فوجی تشدد کے بعد مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ برہان کشمیر میں ہتھیار اٹھانے والا نہ تو پہلا نوجوان تھا اور نہ ہی وہ آخری ثابت ہو گا۔ بھارت سرکار کو اس مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔

برہان وانی مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال کے ہیڈ ماسٹر کا بیٹا تھا لیکن وہ 2010 میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاج کے بعد گھر سے روپوش ہو گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر پندرہ سولہ برس تھی۔ اس نے حزب المجاہدین میں شرکت کرکے مسلح جد و جہد کا اعلان کیا اور اس گروپ کا عسکری کمانڈر بن گیا۔ برہان نے سوشل میڈیا پر پیغامات اور تصویریں عام کرکے نوجوان کشمیریوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ وہ فوجی یونیفارم میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی تصویریں پوسٹ کرتا اور واضح کرتا تھا کہ ان کی جنگ کشمیر پر قابض بھارتی فوج کے ساتھ ہے۔ برہان وانی کا اعلان تھا کہ وہ صرف فوجی تنصیبات پر حملے کریں گے اور شہریوں پر حملے نہیں کریں گے۔ اسی لئے اس نے تھوڑے عرصے پہلے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ امرناتھ گپھا میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں آنے والے ہندو زائرین سے ان کی کوئی لڑائی نہیں ہے اور وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ تاہم پولیس نے برہان وانی کی ہلاکت \"burhan3\"اور احتجاج کے بعد اس سالانہ مذہبی تقریب کو معطل کردیا ہے۔

جمعہ کو برہان وانی کی میت جب ترال پہنچی تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اس کے گاؤں میں آئے تھے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق لوگوں کی تعداد 40 ہزار سے زائد تھی۔ اس کے علاوہ سری نگر، کولگام ، انت نگر اور دوسرے کئی قصبوں اور شہروں میں وانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اگرچہ فوج نے وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن غم و غصہ سے بھرے لوگوں نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھارتی فوج نے طاقت کے روائیتی طریقہ کو اختیار کرکے صورت حال کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔

بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی دنیا میں ایک بڑے اور ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر اپنی شناخت کروانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔ لیکن کوئی جمہوری حکومت اپنے ایک علاقے میں آزادی کی جد و جہد کرنے والے لوگوں پر گولیاں نہیں برساتی اور نہ ہی ان کے ساتھ بات چیت کے ساتھ معاملات طے کرنے سے انکار کرتی ہے۔ بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں سے لاکھوں کی تعداد میں فوج مقبوضہ کشمیر میں متعین کی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے متعدد ادارے بھارتی فوج کے غیر انسانی سلوک، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور مظاہرین پر غیر ضروری طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والی غیر انسانی صورت حال پر احتجاج کر چکے ہیں۔ بھارت اس قسم کی کسی تنقید کو سننے اور اپنے ملک میں آباد سوا کروڑ انسانوں کے حقوق بحال کرنے پر آمادہ نہیں ہو تا۔

بھارتی حکومت اور اس کا ہمنوا میڈیا کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر ان مظالم کو جائز سمجھنے پر اصرار کرتا ہے۔ حالانکہ کسی جمہوری ملک میں طاقت کا ایسا استعمال ناجائز اور عالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جمہوری ملک لوگوں کی رائے سے فیصلے کرتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں 2014 میں علیحدگی کے لئے ریفرنڈم ہو چکا ہے اور حال ہی میں یورپئین یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم بریکسٹ کے بعد اسکاٹ لینڈ میں دوبارہ برطانوی اتحاد میں رہنے کے سوال پر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود کشمیریوں کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کی بجائے پاکستان پر مداخلت کا الزام لگا کر کشمیریوں کو مسلسل جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کو بہر صورت اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ جو فوجی قوت کئی دہائیوں میں مسئلہ حل نہیں کر سکی، اس کے ذریعے آئندہ بھی کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے لئے کشمیری قیادت کو مسترد کرنے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے بچنے کی بجائے ، مسئلہ کے قابل قبول اور باعزت حل کے لئے اسی راستہ کو چننا پڑے گا۔ بھارت یہ فیصلہ کرنے میں جتنی دیر کرے گا عالمی سطح پر اپنے حجم، وسیع منڈیوں اور دیگر سیاسی و اسٹریٹجک ضرورتوں کے باوجود اسے وہ مقام نہیں مل سکتا جو اتنی بڑی آبادی کے ایک جمہوری ملک کا حق ہے۔ جمہوریت پر عمل دعوؤں اور ایک خاص طرح سے اسے نافذ کرکے نہیں ہوتا بلکہ ملک کے ہر شہری کو بلا تخصیص رائے کا حق دینا ہی جمہوریت ہے۔ بھارت جس قدر جلد یہ سبق سیکھ لے گا، اسی میں اس کا فائدہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 701 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali