آئیے سب کملے بن جائیں!


\"mujahid

پہلی نگاہ میں وہ چہر ہ ایسے ویران صحرا کی مانند محسوس ہوا جہاں صدیوں سے کسی انسان کے قدم نہ پڑے ہوں بلکہ فقط ریت کے بگولے ہی اڑتے رہے ہوں۔ اس کا نام کسی کو معلوم نہیں تھا، سب اسے کملا کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ ایک ایسا مجذوب دکھائی دیتا جس کی تاریں کسی اور دنیا سے ملی ہوئی ہوں۔ بظاہر اس کی آنکھیں شعور سے عاری لگتیں لیکن بہت غور سے دیکھنے پر دور کہیں ایک طوفان ہلکورے لیتا نظر آ جاتا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیروزگاری کا دور دورہ تھا۔ وقت گزارنے کے دو ہی مشغلے تھے۔ تنہائی میسر ہو تو کتب پڑھنا ورنہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا۔ ایک قریبی دوست دیہات میں رہتا تھا، جب شہرکی روشنیاں اور بھاگ دوڑ میری تنہائیوں پر یورش کرتیں تو میں بھاگ کر اس کے ڈیرے پر چلا جاتا اور اگلے کئی دن وہیں بسر ہوتے۔ پہلی بار کملا کو بھینسوں کی دیکھ بھال کرتے دیکھا۔ معلوم ہوا کہیں سے گھومتے گھامتے وہاں پہنچا اور پھر کسی وجدانی حکم کے زیر اثر اس ڈیرے پر خود بخود کام میں لگ گیا۔

میں نے کملا کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھا جو کہ سراسر سماعت ہو اور جس کے ہونٹ کسی ان دیکھے دھاگے سے سلے ہوئے ہوں۔ اسے کوئی کام بتایا جاتا تو اس کا سپاٹ چہرہ کسی قسم کا رد عمل نہیں دیتا تھا۔ بس ایک مشینی انداز میں وہ کام پر لگ جاتا۔ تاہم مہینوں بعد ایک ایسا لمحہ آ جاتا جب اس بے حس چہرے کے سب نقوش ٹوٹنے اور بکھرنے لگتے۔ اس کا سانس تیز تیز چلنے لگتا جیسے میلوں دور سے بھاگتا آیا ہو اور آنکھیں اندرونی کرب سے ابلتے لاوے کی طرح دہکنے لگتیں۔ اس وقت وہ جس کام میں بھی مصروف ہوتا، اسے یکسر ترک کر دیتا۔ اس کا بھاری جسم جھرجھری لیتا، اس کے حلق سے بھاری سی آہ نکلتی اور درد سے بھرپور فقرہ برآمد ہوتا

’نکی میکوں مار گھتی‘ (نکی تم نے مجھے مار ڈالا)

اس پر یہ کیفیت کبھی چند لمحوں کے لئے طاری رہتی تو کبھی گھنٹوں پر محیط ہو جاتی۔ اس دوران وہ ایک مختلف شخص بن جاتا۔ اس کی آنکھیں فضاؤں میں کسی چہرے کو ڈھونڈنے لگتیں، اس کے دہن سے لعاب بہنے لگتا اور جب یہ دورہ ختم ہوتا تو وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگ جاتا۔ اس بستی کے مکینوں نے جب کئی دفعہ یہ حالت دیکھی تو انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ نکی نامی کسی لڑکی کے عشق میں اس کی یہ حالت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  جینے والو! تمہیں ہوا کیا ہے

کبھی کبھار ہم لوگ اسے چھیڑنے کے لئے نکی کا نام لیتے تو کام کرتے ہوئے اس کے ہاتھ رک جاتے تھے، ایک لمحے کے لئے شکایت کی پری اس کی ویران آنکھوں سے جھانک کر ہمیں تکتی اور پھر دوبارہ سے اس وسیع صحرا میں چھپ جاتی۔ گاؤں کے بچے البتہ اس کی تاڑ میں رہتے۔ جونہی بڑے بزرگ ادھر ادھر ہوتے، وہ فوراً اسے گھیر لیتے اور نکی کے نام سے چھیڑنے لگتے۔ بچوں کے معاملے میں اس کا رد عمل یکسر مختلف تھا، اس کے ہاتھ میں جو بھی چیز آتی وہ ان پر پھینکتا اور ان کے تعاقب میں بھاگ پڑتا۔ ایک طرح کی خود اذیتی اس کے چہرے پر رقم ہو جاتی جیسے وہ شرارتی بچوں کی بجائے خود کو سزا دے رہا ہو۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ کبھی بھی اس کا نشانہ صحیح نہیں بیٹھا اور جتنے پتھر اور مٹی کے ڈھیلے وہ بچوں پر پھینکتا وہ سب ان سے دور جا گرتے۔ اس کے علاوہ اس نے بھاگ دوڑ کی کچھ حدود طے کی ہوئی تھیں۔ چاروں اور چند مخصوص پگڈنڈیاں تھیں جنہیں اس نے کبھی عبور نہیں کیا تھا۔ ان شرارتی لڑکوں نے بھی اس بات کو بھانپ لیا تھا اس لئے وہ نکی کا نام لیتے ہی انہی پگڈنڈیوں کی طرف بھاگتے تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے ذہن میں کیا پیمانہ تھا جس نے ان پگڈنڈیوں کو سودائی پن کی آخری حد بنا دیا تھا۔

ان حدود تک پہنچے ہی اس کا سارا غصہ کافور ہو جاتا، چہرے پر پھر سے کھردری سی ویرانی چھا جاتی اور وہ خاموشی سے واپس پلٹ آتا۔ اس کے بعد اسے جتنا بھی انگیخت کیا جاتا، وہ سر جھکائے اپنے کام میں مگن رہتا۔ ہم سب یہ تماشا دیکھتے اور ہنستے رہتے تھے۔ بے فکری کا دور تھا، ہر بات سے مزاح دریافت کر لیتے۔ وقت گزرتا گیا اور پتا ہی نہ چلا کہ عملی زندگی اپنے تلخ اسباق کا بستہ تھامے خامشی سے ہمارے گھر مہمان ہو گئی۔

کسی ہموار رستے پر چلتے چلتے ایک دم سے نشیب و فراز سے بھری پگڈنڈی پر چلنا پڑ جائے تو شروع میں انسان پھسلتا ہے، گرتا اور سنبھلتا ہے، راستے میں اگے کانٹے بھی دامن گیر ہوتے ہیں اور راہ میں پڑے پتھر بھی زخم دیتے ہیں۔ جن پھولوں کی مہک نے زاد رہ کا کام دینا ہوتا ہے وہی کانٹوں کی شکل اختیار کر کے بدن پر لہو کی لکیریں کھینچنے لگتے ہیں۔ اوپر سے اگر دکھوں کی مسلسل بارش نازل ہو جائے تو اس میں بھیگتے مردم گزیدہ فرد کے اندر ایک اور آنکھ اگ آتی ہے جس کے ذریعے وہ اردگرد کے حقائق کو ایک مختلف نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایساہی ہوا۔ ماضی کے تمام حوالے ایک نئے مفہوم میں سامنے آنے لگے۔ آخرکار ایک دن کملا بھی نئے روپ میں میرے تخیل کی دنیا میں آن وارد ہوا۔ اس کے نئے روپ کا جب اپنے اردگرد موجود باشعور اور عقلمند لوگوں سے موازنہ کیا تو کملا بہت بڑا آدمی نکلا۔

اسی بارے میں: ۔  جہاد سے فساد تک۔ کہانی ”قربانی کے بکرے“ کی

میں نے دیکھا کہ ہر طرف اس جیسے جنونی بھاگ رہے ہیں، ہوس زر میں مبتلا، اقلیم شہرت پر حکمرانی کے شیدا، محبتوں کے متلاشی، تعریف کے تمنائی، یہ سب لوگ ہاتھوں میں آرزوؤں کی عرضداشت لئے دوڑ رہے ہیں مگر ان کا جنوں کسی حد کو نہیں مانتا۔ کوئی پگڈنڈی ان کے قدم نہیں تھام سکتی، وہ ہانپتے کانپتے گرتے ہیں، گر کر پھر اٹھتے ہیں مگر ایک عجب سودائی پن ہےجو زندگی کے طویل صحرا میں انہیں بس دوڑائے ہی پھرتا ہے، جس کے پاس دولت کے انبار ہیں وہ ہل من مزید کا ورد کررہا ہے جبکہ جس کا دامن شہرت کے موتیوں سے بھرا ہے، اس کی ندیدہ نگاہیں ان کی طرف لگی ہیں جن کا دامن اس سے بھی وسیع ہے۔ کوئی ایسی پگڈنڈی نہیں جہاں پہنچتے ہی ان کے اضطراب کو سکون مل جائے۔ ایک بے حد و حساب عالم دیوانگی ہے جو ان کے پاؤں کو مسلسل متحرک رکھے ہوئے ہے۔

جب میں اس مریضانہ بھاگم دوڑ کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا مجذوب یاد آ جاتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر کملے بن جائیں تو یہ معاشرہ کیسا حسین ہو جائے گا۔ جب بھی یہ بات سنتا ہوں کہ پاکستانی بہت ذہین قوم ہیں تو دل میں ایک ہوک اٹھتی ہے کہ کاش کہیں سے یہ آواز بھی آئے کہ پاکستانی ایک با کردار قوم ہے، جو حدود کا خیال رکھتی ہے، اور اخلاقیات کو سب سے بڑا درجہ دیتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔