شہد جیسی میٹھی آواز والی بی بی


\"mubashir\"

شہد جیسی میٹھی آواز والی ایک لڑکی نے فون کرکے کہا، ’’میں اقرا یونیورسٹی سے بات کررہی ہوں۔ میڈیا سائنسز ڈپارٹمنٹ سے۔ ہم اپنے شارٹ فلم فیسٹول کے لیے آپ کو جیوری میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کچھ وقت نکال سکیں گے؟‘‘

میں چکراگیا۔ میں نے تو کبھی فلموں میں کام نہیں کیا۔ میں نے تو کبھی کوئی فلم نہیں بنائی۔ میں نے تو کبھی فلموں پر تبصرے تک نہیں لکھے۔
البتہ مختصر دورانیے کی فلمیں بنانے والے کئی نوجوان فلم پروڈیوسر مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔ انھیں اپنی فلموں کے لیے کہانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کوئی نوجوان میری کہانی پڑھ کر رابطہ کرتا ہے۔ کبھی کوئی رابطہ کرکے کہانی مانگتا ہے۔ راؤ یاسر عابد میری ایک کہانی پر مختصر فلم بناچکے ہیں۔ دو ہفتے پہلے ایک خاتون نے اسمارٹ فون فلم فیسٹول کے لیے کہانی منتخب کی تھی۔
مجھے فلمیں دیکھنے کا شوق ہے۔ میں اپنے دوستوں صہیب اور عمیر علوی، جہانزیب وارثی، احسان احمد، عقیل رانا اور عارف شاہ کی طرح فلموں کا دھنی تو نہیں ہوں لیکن اچھی فلم ضرور دیکھتا ہوں اور وقت نکال کر، جو میرے پاس کچھ کم ہی ہوتا ہے، سینما جاکر ہی دیکھتا ہوں۔
میں ہچکچایا لیکن اس لڑکی کی آواز خوب صورت تھی۔ میں نے وعدہ کرلیا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کا تعلق میڈم تہمینہ لودھی کے ڈپارٹمنٹ سے ہے۔ میں نے کہا، بی بی آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے میرا سوال دہرایا اور کچھ بھلا سا نام بتایا لیکن مجھے یاد نہیں رہا۔
میں خوب صورت نام اکثر بھول جاتا ہوں۔ خوب صورت چہرے اکثر بھول جاتا ہوں۔ خوب صورت آوازیں کبھی نہیں بھولتا۔
اس کے بعد ریشمی آواز نے کئی بار فون کیا۔ ’’سر، فیسٹول 17 دسمبر کو ہے۔‘‘ ’’سر، ہمارے اسٹوڈنٹس نے 10 فلمیں بنائی ہیں۔‘‘ ’’سر، آُپ کو فلمیں کہاں پہنچائی جائیں؟‘‘
میرا خیال تھا کہ اقرا یونیورسٹی والوں کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ میرا فلموں سے کیا تعلق؟ غلط فہمی رفع ہوگی تو کالز آنا بند ہوجائیں گی۔ لیکن کالز بند نہیں ہوئیں۔ میں نے معذرت کرنے کے لیے مناسب الفاظ ڈھونڈنا چاہے لیکن اتفاق سے کام یابی نہ ہوئی۔ کہانی کے لیے سو الفاظ روزانہ مل جاتے ہیں۔ معذرت کے موقع پر اکثر کھو جاتے ہیں۔
ایک دن میں نے بہانہ بنایا کہ ایک پروفیسر صاحبہ نے میری کہانیاں شارٹ فلموں کے لیے استعمال کرنے کی بات کی تھی۔ میں بھول گیا تھا۔ اب پتا چلا کہ وہ اقرا یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان فلموں میں کوئی فلم میری کہانی پر بنائی گئی ہو۔ میرا جیوری میں شامل ہونا ٹھیک نہیں۔
کھنکتی مسکراتی آواز نے کہا، ’’سر! کہانی، عکس بندی، ایڈیٹنگ، پوسٹ کا کام، سب ہمارے طالب علموں کا ہے۔ آپ فلمیں دیکھ لیں۔ اگر آپ کو کسی کہانی پر شک ہو تو بے شک جیوری میں نہ بیٹھیں۔‘‘
میں نے رضامندی ظاہر کردی۔ دفتر کا پتا بتاکر کہا، فلمیں بھجوادیجیے۔ پھر معذرت کی، ’’میں آپ کا نام بھول گیا ہوں۔‘‘ وہ لڑکی شاید گاڑی میں تھی۔ ممکن ہے کہ ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہو۔ مجھے کچھ پی پی، بی بی، سی سی جیسی آوازیں آئیں اور فون بند ہوگیا۔
اگلے دن میں دفتر میں مصروف تھا کہ کسی نے آکر بتایا، ’’آپ کے مہمان بورڈ روم میں بیٹھے ہیں۔‘‘ میں وہاں پہنچا تو اقرا یونیورسٹی کے تین نمائندے موجود تھے۔ دو لڑکیاں، ایک لڑکا۔ میں نے اپنا تعارف کروایا تو ایک لڑکی نے سنہری آواز میں کہا، ’’سر! میں فلمیں لے آئی ہوں۔ اپنا لیپ ٹاپ لائیں، میں ان میں کاپی کردیتی ہوں۔‘‘
’’اچھا تو فون پر آپ سے بات ہوئی تھی!‘‘ میرے پاس لیپ ٹاپ نہیں تھا۔ فلمیں کاپی کرنے کے لیے میں اسے نیوزروم میں لے آیا۔
وہ لڑکی باتیں کرنے کی شوقین نکلی۔ فلمیں کاپی ہونے میں دس منٹ لگے اور اس دوران وہ مسلسل باتیں کرتی رہی۔ کبھی سوال کرتی رہی، کبھی ان سوالوں کے، جو میں نے نہیں کیے، جواب دیتی رہی۔ میں نے کبھی فون خراب ہونے کا بہانہ کیا، کبھی کان کو جھنجوڑا اور باتوں باتوں میں پوچھا، ’’بی بی، آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
لڑکی نے مجھے اپنا نام بتایا لیکن اسی وقت میرے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے آکر کہا کہ بی بی سی پر کوئی اہم خبر آئی ہے۔ میری توجہ ادھر ہوگئی۔ ایک کان نے بی بی سی سنا، دوسرے نے نہ جانے کیا سنا۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔
فلمیں کاپی کرنے کے بعد میں نے اپنی نئی کتاب کی ایک کاپی اس لڑکی کو پیش کی۔ میں کسی کو اپنی کتاب کا تحفہ دیتا ہوں تو اس کا نام لکھ کر دستخط کردیتا ہوں۔ لیکن اس وقت میں نے سوچا، ’اس لڑکی کا نام ایک بار پھر پوچھا تو کہیں خفا نہ ہوجائے۔‘
بلیٹن ختم کرنے کے بعد میں نے کمپیوٹر کو کھنگالا۔ دس فلمیں، اوسطاً ہر فلم دس منٹ کی۔ ’اللہ میاں! تین گھنٹوں کی ضرورت ہے۔ آج کا دن ستائیس گھنٹے کا نہیں ہوسکتا؟‘
اس رات میں نے نیند کو دھکا مار کے کمرے سے نکالا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔ جانے کتنا وقت گزرا، جانے کتنی فلمیں دیکھیں، یاد نہیں۔ یہ یاد ہے کہ پھر سویا تو خواب میں کسی فلم کی ایکسٹینشن چل رہی تھی۔
صبح اٹھ کر دفتر جانے سے پہلے میں نے ذرا سنجیدگی سے تمام فلمیں دیکھیں۔ ان کی خوبیوں پر نظر ڈالی۔ ان کی خامیوں کو نوٹ کیا۔ ان کے دورانیے کا بھی حساب رکھا۔ پھر تمام فلموں کے مختلف شعبوں کو سوچ سوچ کر نمبر دیے۔ اگلی صبح ایک بار پھر فلمیں دیکھیں اور سوچا کہ کون سی فلم کا مجموعی تاثر زیادہ بہتر ہے اور کیوں۔
آخر وہ دن آیا جب اقرا یونیورسٹی کا فلمی میلہ نیوپلیکس میں لگا۔ میں وہاں اکثر جاتا رہتا ہوں۔ وہاں پانچ سنیما ہیں اور ایک میں پاکستان کی سب سے بڑی اسکرین نصب ہے۔ وہاں فلم دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اس سینما کی افتتاحی تقریب تو وی آئی پیز کے لیے تھی۔ لیکن عوامی افتتاح کے پہلے ہی دن میں نے وہاں فلم دیکھی تھی۔
جمعرات کو فلمی میلے میں جاتے ہوئے میں کافی پریشان تھا۔ میرے سر کے بال قابو میں نہیں آرہے تھے۔ کبھی دائیں طرف سے کھڑے ہوجاتے تھے، کبھی بائیں طرف سے۔ کبھی اکڑ جاتے اور کبھی پھیل جاتے۔ میں نے سوچا، آج تو سب فلم میکر میرے بال دیکھ کر ہنسیں گے۔
میں سینما پہنچا تو پوری لابی اساتذہ، طلبہ اور ان کے والدین سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر پھیر کر انھیں برابر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن دو چار طلبہ کو دیکھنے کے بعد یہ کوشش ترک کردی۔ کسی کے بال کھڑے تھے۔ کسی کے بال ہپیوں جیسے تھے۔ کسی نے پونی باندھی ہوئی تھی۔ بہرحال کسی کے بال میری طرح سفید نہیں تھے۔ یہ امتیاز بس مجھے ہی حاصل رہا۔
سینما میں وہ لڑکی، مجھے جس کا نام معلوم نہیں تھا، سب سے زیادہ متحرک تھی۔ کبھی مہمانوں کا استقبال کررہی تھی۔ کبھی ڈائریکٹرز پر حکم جمارہی تھی۔ کبھی جیوری کے ارکان کو کافی لاکر پلارہی تھی۔ میں نے اس شام سریلی آواز کو طلبہ پر کڑکتے برستے دیکھا۔ سینما میں جب کچھ لڑکے ایک فلم میں گڑبڑ کی وجہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تو اسی نے ڈپٹ کر انھیں بٹھایا۔
مجھے معلوم ہوا کہ جیوری چار ارکان پر مشتمل ہے۔ اب سنیں، باقی تین کون تھے۔ اسد الحق جنھوں نے اس سال فلم دیکھ مگر پیار سے بنائی ہے۔ وجاہت رؤف، جنھوں نے اسی سال فلم کراچی سے لاہور بنائی ہے۔ اور فلم دختر کا پروڈکشن ڈیزائن کرنے والے نعمان کاشف۔ کوئی شبہ نہیں کہ میں ان تینوں کے ساتھ بالکل مِس فٹ تھا۔
ہمیں سینما کی درمیانی قطار میں بٹھایا گیا اور باری باری وہ دس فلمیں پیش کی گئیں جو دراصل ہم پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ ان فلموں کے نام تھے غبارہ، اثرِ آب، مصور، معمار، ثانی، صدائے دل، فرشتہ، مفتہ، دل مسلم اور پناہ۔
یہ فلمیں دیکھ کر میں جان چکا تھا کہ پانچ سال بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری کیسی ہوگی۔ اقرا یونیورسٹی نے مستقبل کے فلم میکرز تیار کردیے ہیں۔ ان فلموں کی عکس بندی، ایڈیٹنگ اور پوسٹ کا کام بے حد شان دار ہے۔ جیوری سے اداکاری کے بارے میں رائے طلب نہیں کی گئی لیکن بعض اداکاروں نے غضب کی اداکاری کی۔
صدائے دل میں باپ، معمار میں ماں، اثرِ آب میں بچے، دلِ مسلم میں ہندو اور پناہ میں فالج زدہ بوڑھے کا کردار ادا کرنے والوں نے کمال کردیا۔ اثر آب کے ہیرو کا کردار اور مکالمے بہترین تھے۔ ثانی کا ہیرو ایک منظر میں بالکل شاہ رخ خان بننے کی کوشش کررہا تھا۔
ہاں، کہانیوں اور اسکرپٹ میں کچھ کم زوریاں تھیں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کام ان بچوں نے کیا ہے جن کے پاس زندگی کا تجربہ کم اور امیجی نیشن زیادہ ہے۔ غبارہ میں کچی آبادی کا مزدور خاندان آپ جناب سے بات کرتا ہے جو غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ مصور کا آرٹسٹ اپنی تصویر سڑک پر پھینک دیتا ہے۔ وہ تصویر دیکھ کر اسے کسی ادارے سے فون آجاتا ہے۔ کیا مصور اپنی پینٹنگز پر اپنے موبائل فون نمبر لکھتے ہیں؟ صدائے دل کو زیادہ سے زیادہ ڈراما کہا جاسکتا ہے، اس میں فلموں والی کوئی بات نہیں تھی۔ مفتہ میں بات سمجھ میں آگئی لیکن کیمرا کوئی ایک منظر شوٹ کرنا بھول گیا۔ کہانی سنانے والا پوری بات نہیں سمجھاسکا۔
مجھے دلِ مسلم کی کہانی دوسری فلموں سے زیادہ اچھی لگی کیونکہ اس میں معاشرے کی منافقت پر چوٹ کی گئی ہے۔ پی کے اور خدا کے لیے جیسی فلمیں بنانے کے لیے جس جرات کی ضرورت ہے، وہ اس فلم کے ڈائریکٹر میں نظر آتی ہے۔
کچھ اور باتیں بھی توجہ طلب ہیں۔ اثر آب کے ہیرو کے پاس دو ٹائیاں ہیں لیکن ایک سیکوئنس میں ٹائی بدل جاتی ہے۔ پتا نہیں ڈائریکٹر نے بعد میں اس پر غور کیا یا نہیں۔ معمار کے وکیل کے پاس بہت زیادہ مہنگی گاڑی ہے۔ غریبوں کے مقدمے لڑنے والے نوجوان وکیل کے پاس اتنی مہنگی گاڑی کہاں سے آگئی جبکہ اس کا بچپن خود غربت میں گزرا۔ غبارہ میں ایک مزدور کے گھر میں وہ سامان دکھائی دیتا ہے جو عام طور پر ٹھیکے دار کے ہاں ہوتا ہے۔ فرشتہ کا آرٹسٹ مسجد اور جیل جیسے مقامات پر اپنا کینوس اور برش لے کر پہنچ جاتا ہے۔ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ دلِ مسلم پر اسد الحق صاحب نے بالکل جائز اعتراض کیا کہ اس کے ایک منظر سے اندازہ ہوگیا کہ فلم کراچی پورٹ کے قریب فلمائی گئی ہے۔ پیچھے کنٹینرز کی قطار نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ سے فلم کا تاثر کچھ خراب ہوا۔
پناہ پر اعتراض کرنے کے سب سے کم جواز تھے۔ اس میں کہانی موجود تھی۔ لوکیشن شان دار تھی۔ تمام اداکاروں نے اچھی اداکاری کی۔ عکس بندی بہترین تھی اور ایک منظر ایسا تھا جس میں تین کیمرا مین استعمال ہوئے لیکن سیکوئنس نہیں ٹوٹا۔ ظاہر ہے کہ اسے بہترین فلم قرار دیا گیا۔ بلکہ اسے دوسرے شعبوں میں بھی اتنے ایوارڈ ملے کہ اسد الحق نے کہا، ٹائی ٹینک کے بعد یہ سب سے زیادہ ایوارڈ لینے والی فلم بن گئی ہے۔
ایوارڈز سے قطع نظر، پناہ کی ٹیم نے اتنا اچھا کام کیا ہے کہ یونیورسٹی کے بعد ان کی پہلی کمرشل فلم کے لیے میں کہانی لکھنے کو تیار ہوں۔
میں مجمع میں تقریر کرنے سے بھاگتا ہوں لیکن وہاں دوسرے ججز کی طرح مجھے اسٹیج پر جانا پڑا اور کچھ گفتگو کرنا پڑی۔ میں ایک سوال گھر سے سوچ کر آیا تھا۔ میں نے کہا، آپ سب یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ نوجوان ہیں۔ کیا آپ محبتیں نہیں کرتے؟ آپ لوگوں نے کرائم اسٹوری بنائی ہے، اسپورٹس مووی بنائی ہے، فن کاروں کی کہانی بیان کی ہے لیکن محبت کی کہانی کیوں نہیں فلمائی؟
اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے جواب مانگا بھی نہیں تھا۔ جب وہ پروفیشنل کریئر کا آغاز کریں گے اور کبھی اپنی فلم بنائیں گے تو انھیں میری بات ضرور یاد آٗئے گی۔ پھر کیا پتا، ان میں سے کوئی دل والے دلہنیا لے جائیں گے جیسی فلم بناڈالے۔
تقریب کے اختتام پر وہ لڑکی مجھے پھر نظر آئی۔ میں اسے کڑکتے اور طلبہ کو ڈانٹتے دیکھ چکا تھا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کی آواز حقیقت میں سریلی ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے شاید اس لیے خوب صورت لگی کہ اس نے مجھ سے ہر مرتبہ بہت ادب، بہت احترام سے بات کی۔ اگر طالب علم میری بات سن رہے ہیں تو سمجھ جائیں کہ میں کیا بتارہا ہوں۔ ادب اور احترام آپ کی آواز کو، آپ کی صورت کو خوب صورت بنادیتا ہے۔
سینما سے نکلتے نکلتے میں نے آخری بار اس لڑکی سے کہا، ’’گجنی فلم والے عامر خان کی طرح میری یادداشت بھی کم زور ہے۔ کیا آخری بار اپنا نام بتادو گی بی بی؟‘‘
کھلکھلاتی ہوئی آواز نے کہا، ’’سر! ہر بار آپ خود میرا نام لیتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ میرا نام بی بی ہے۔ نصرت بی بی!‘‘۔

اسی بارے میں: ۔  اکیسویں صدی کی اسلامی سائنس محمد عبداللہ کے انتظار میں تھی

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 80 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi