ڈاک ٹکٹ سے آگے کا سفر


\"husnainگئے دنوں کی بات ہے، ٹی وی اور کمپیوٹر ہماری زندگی میں اتنا زیادہ داخل نہیں ہوا تھا۔ بچے گلیوں میں کھیلتے کودتے تھے۔ جیسے اب لائٹ جانے یا وائی فائی بند ہونے پر سب اکٹھے بیٹھتے ہیں ویسے ہر روز ہی دوپہر یا شام کو رونق لگتی تھی۔ امی، ابو، بہن، بھائی، پھوپھی، تایا، چچا جو بھی آس پاس ہوتے سب مل کر بیٹھ جاتے اور دنیا بھر کی باتیں ہو جایا کرتی تھیں۔ بچے اس وقت بھی اپنی دھن میں لگے کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے تھے۔ کبھی سٹاپو کھیل لیا، کبھی کرکٹ کی باری آ گئی، کہیں دو اینٹیں رکھ کر گول بنایا اور فٹ بال شروع ہو گئی، اندھیرا ہوا تو چھپن چھپائی زندہ باد، کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں مصروف رہنے کا بہانہ تلاش کر لیا جاتا اور وقت ہنسی خوشی ایک دوسرے کے ساتھ گزرتا رہتا تھا۔

وہی بچے جب کچھ بڑے ہوتے تو یہ کھیل نسبتاً بچگانہ معلوم ہونے شروع ہو جاتے۔ تب وقت گزاری کے لیے مشغلے اپنانے کا سوچا جاتا۔ مختلف ممالک کے ڈاک ٹکٹ جمع کرنا، سکے جمع کرنا، کرنسی نوٹ جمع کرنا، ماچس کی ڈبیا جمع کرنا، پوسٹ کارڈ جمع کرنا، کی چین جمع کرنا اور نہ جانے کیا کیا شوق ہوا کرتے تھے۔ یہ شوق بچوں کو مختلف ممالک کی تہذیب کا تو بتاتے ہی تھے، ساتھ ساتھ ان میں تاریخ اور آرٹ سے دلچسپی پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے تھے۔ ایسے ہی بچوں میں ایک بچہ وہ بھی تھا جو آج یہ سب کچھ لکھ رہا ہے۔

\"hus05\"

ایک روپے میں نکڑ والے عاشق بھائی کی دکان سے ایک پیکٹ ملا کرتا تھا، اس میں دو سے لے کر پانچ ٹکٹ ہوا کرتے تھے۔ ٹکٹ جمع کرنا اور فروخت کرنا اس زمانے میں باقاعدہ ایک صنعت ہوا کرتا تھا۔ صرف ہمارے علاقے میں ہی تین چار ایسے لوگ تھے کہ جن کے پاس ٹکٹس کا ذخیرہ لاکھوں میں تھا۔ وہ لوگ ایک جیسے دو ٹکٹ یا اپنے نزدیک غیر اہم ٹکٹ اسی طرح چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنا کر فروخت کر دیا کرتے تھے، حاصل ہونے والی رقم سے مزید ٹکٹ خرید لیے جاتے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ اس زمانے میں ٹکٹ لگانے والی البم ڈھونڈنا اور خریدنا بہت مشکل کام ہوا کرتا تھا۔ ہمارا شہر چھوٹا سا تھا، وہاں دو تین بڑی دکانیں ہوتی تھیں اور ان پر بہت کم ہی کبھی اچھا سٹیمپ البم نظر آتا تھا، تو جس نے بھی خریدنا ہوتا وہ کسی بڑے شہر کا رخ کرتا اور پاس موجود رقم کے مطابق اکٹھے دو یا تین البم خرید لاتا۔ پھر اس میں بھی بہت سی باریکیاں ہوتی تھیں، سفید صفحات والا البم عام تھا، کالے صفحات والا ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ جس کے پاس کالا سٹیمپ البم ہوتا اس کے ٹکٹوں کی شان دوبالا ہو جاتی تھی۔ کالے بیک گراونڈ کی وجہ سے پرانے سنگل کلر ٹکٹ بھی خوب صورت لگتے اور توجہ ان کی طرف خود بہ خود مرتکز ہوتی تھی۔

وہ ٹکٹ ایک نئی دنیا کی سیر کراتے تھے۔ کئی ایسے ملک جن کا ہمیں نام تک نہ معلوم ہوتا ان ٹکٹس کے ذریعے ہمارے دماغوں میں اپنی \"hus04\"جگہ پیدا کر جاتے۔ چلی، آسٹریا، چیکوسلواکیہ، رومانیہ، یوگنڈا، زمبابوے اور کئی ایسی جگہوں سے پہلا پہلا تعارف انہی ٹکٹس کے ذریعے ہوا تھا۔ پھر ہر ملک ٹکٹ پر اپنے کسی مشہور آدمی، مقام یا واقعے کی تصویر دیتا تھا، اس کے متعلق جاننے کے لیے خواہ مہ خواہ بچہ کئی کتابیں چھاننے پر مجبور ہو جاتا اور یوں ٹکٹوں کا ذخیرہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ معلومات اور مطالعے کا دائرہ بھی پھیلتا چلا جاتا۔

اس شوق کی نزاکتیں بھی اپنی تھیں۔ ٹکٹ کے چاروں طرف جو کنگریاں سی بنی ہوتی ہیں اگر ان میں سے ایک بھی پھٹی ہوتی تو ٹکٹ ڈیمیج سمجھا جاتا۔ پھر اگر لفافے سے اتارتے ہوئے پھٹ گیا تو جانیے بالکل ردی ہو گیا۔ اسے لفافے سے اتارنے کے لیے کسی بڑے سے برتن میں پانی بھر کر پورا لفافہ ڈبو دیتے تھے اور تین چار گھنٹے بعد جب اٹھاتے تو گیلا ہونے اور گوند پانی میں حل ہونے کی وجہ سے نیا نکور ٹکٹ ہاتھ میں آ جاتا۔ اب مرضی ہوتی کہ اس کے اوپر کاغذ یا کپڑا رکھ کر استری کریں اور سکھا لیں یا ویسے ہی کسی کتاب میں دبا کر سکھا لیا جائے۔

برطانیہ اپنے ٹکٹوں پر کبھی نام نہیں لکھتا تھا، صرف کونے میں ملکہ کی ایک شبیہہ سی بنی ہوتی اور وہی شبیہہ اس بات کی پہچان ہوتی کہ یہ برطانیہ کا ٹکٹ ہے۔ ایران اور سعودیہ کے ٹکٹوں پر اکثر ان کے قومی نشان ضرور بنے ہوتے تھے۔ جس زمانے میں بہاول پور، حیدر آباد، جونا گڑھ، جے پور وغیرہ ریاست تھے، تب کے ٹکٹ بھی اکثر نظروں کے سامنے آتے اور ایک حیرت میں مبتلا کر جاتے کہ ریاستیں نہ رہیں ٹکٹ موجود رہ گئے۔ ایسے ہی کچھ ٹکٹ غیر معمولی سائز کے ہوتے، وہ عموما یادگاری ٹکٹ ہوتے تھے۔ پاکستان نے بھی قرار داد پاکستان کے متن پر مشتمل ایک لمبا سا ٹکٹ شائع کیا تھا اور ایک شیر شاہ سوری کی یاد میں شائع کی گیا تھا جو تقریبا ساڑھے تین انچ سے بھی زیادہ لمبائی اور چوڑائی کا ٹکٹ تھا۔\"hus01\"

زیادہ پرانے یا اہم ٹکٹوں کی قیمت سٹیمپ کیٹالوگ سے دیکھ کر جانی جاتی تھی، لیکن اپنا قیمتی ٹکٹ بیچتا کوئی بھی نہ تھا بس دیکھ دیکھ کر دل خوش کر لیا کرتے تھے۔ جس طرح اپنی زمین بیچنا گاوں دیہات میں بہت برا سمجھا جاتا ہے ایسے ہی اپنی کلیکشن فروخت کرنے والے کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ پانچ چھ البم تو فقیر اب تک سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔

یہی معاملہ سکے جمع کرنے کے ساتھ تھا، یہ نسبتاً مہنگا شوق تھا اس لیے کم لوگ اسے پورا کر پاتے۔ دل خوش کرنے کو سائیڈ پروگرام کے طور پر سکے اور کرنسی نوٹ بھی جمع کر لیے جاتے، شاید اس لیے کہ صاحب ذوق سمجھے جائیں۔ یوں سمجھ لیجیے جیسے انگریزی دان طبقہ فرنچ سیکھتا ہے اور بولتا ہے کیوں کہ اس طرح وہ مزید بورژوا سمجھا جاتا ہے تو ایسے ہی ڈاک ٹکٹ جمع کرنے والے سکوں اور کرنسی کا شوق بھی پال لیتے تھے۔ اس میدان میں بھی ایک سے ایک شاہ سوار موجود تھا۔ غلط نمبروں والے کرنسی نوٹ، مس پرنٹنگ والے نوٹ، بہت قدیمی نوٹ یا سکے، قبل مسیح اور بدھا کے زمانے کے سکے، الغرض ایک عجیب دنیا ہوتی تھی۔ اپنے ابا چوں کہ اچھےخاصے سیاح تھے اس وجہ سے یہ شوق گھر بیٹھے پورا کر دیا کرتے تھے۔

ماچس کی ڈبیا ہر ملک کی الگ ہوتی ہے، کئی لوگ وہ بھی جمع کرتے ہیں، فقیر عام آدمی تھا تو اس نے صرف پاکستان کی ماچسیں جمع کی\"hus02\" تھیں، کئی تھیں، غتر بود ہو گئیں، کیا کیا کاٹھ کباڑ سنبھال سکتا ہے بنجارہ! اس فن کی بھی کئی نزاکتیں تھیں مگر اب اس کی باریکی میں کیا جانا۔

پوسٹ کارڈ والا معاملہ کمال کا تھا، چین، جاپان، روس، امریکہ، فرانس، اٹلی، جرمنی وغیرہ اس معاملے میں بہت تیز ہوا کرتے تھے۔ خوب صورت سے خوب صورت پوسٹ کارڈ نہایت سستے ملا کرتے چوں کہ مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہوتا تھا۔ ابا کسی ایمبیسی کو خط لکھتے کہ بھئی ہم آپ کے یہاں آنا چاہتے ہیں تو وہ لوگ جواب میں سیاحتی معلومات کا پورا بستہ بھیج دیا کرتے تھے۔ اس میں خوب صورت رنگ دار نقشے، معلوماتی کتابیں، رنگین پوسٹ کارڈ اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہوا کرتا تھا۔ بعد میں آہستہ آہستہ اس خزانے پر بھی بچوں کا قبضہ ہو گیا اور سرحدیں ذرا زیادہ ابھر گئیں تو آنا جانا کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گیا۔ وہ پوسٹ کارڈ آج بھی ان کے کئی خوب صورت سفروں کی یاد سموئے محفوظ ہیں۔

یہ سب یاد ایسے آیا کہ دو تین دن پہلے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان سے دوستی انٹرنیٹ پر ہوئی تھی، وجہ کیکٹس تھے۔ تو وہ کیکٹس \"hus03\"جمع کرنے والے ایک بہت شفیق انسان لگے اور ان سے دوستی ہو گئی۔ اب پہلی سطر پڑھیے، یہ تحریر شروع اسی رونے سے ہوئی تھی کہ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ہماری زندگی میں بہت زیادہ دخیل ہو گیا ہے۔ مگر، اسی انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک فائدہ بہ بھی ہے کہ قلمی دوستی کی جگہ فیس بک دوستی لے چکی ہے اور کیا کیا عمدہ انسان اس دنیا میں مل جاتے ہیں۔ تو وہ بھی ایسے ہی دوست بن گئے۔ ملتان جانے سے پہلے ملاقات کے لیے درخواست کی اور چار پانچ دن بعد ان کی چھت پر ہم دونوں موجود تھے۔ جب گپ شپ لگی تو معلوم ہوا کہ وہ بھی ڈاک ٹکٹ جمع کیا کرتے تھے اور بعد میں پودوں کا شوق ہو گیا، وہاں سے ہمیں نوسٹیلجیا نے گھیر لیا اور یہ تحریر وجود میں آگئی۔ اور تو اور وہ پرندوں کو روح افزا اور الائچی والا شربت پلانے کے بھی شوقین ہیں۔ ہیمنگ برڈز باقاعدہ شربت پینے آتے ہیں اور یہ ویڈیو بناتے رہتے ہیں۔

مظفر محمود صاحب کی چھت کیکٹس کی جنت ہے، انہیں باضابطہ طور پر کیکٹس کاشتکار کہا جا سکتا ہے۔ وہ ان پودوں سے بیج بھی حاصل کرتے ہیں، نئے پودے بھی اگاتے ہیں، گرافٹنگ بھی کرتے ہیں اور نئی ورائیٹیاں بھی خریدتے ہیں۔ ایسٹروفائٹم (astrophytum) کیکٹس کی ایک بہت خوب صورت قسم ہے جس میں صد ہا ڈیزائن کے کیکٹس پائے جاتے ہیں، وہ اس قسم کے شوقین ہیں۔ یہ شوق بھی پتنگ بازی اور کبوتر بازی کی طرح چھت پر کیا جاتا ہے اور وجہ یہ کہ دھوپ تمام دن موجود ہوتی ہے۔ آپ ہلکا سا شیڈ بنا کر اپنی مرضی کی روشنی میں ان پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔ تو ان کی چھت پر دو گھنٹے گزار کر فقیر جہان ہائے کیکٹس کا بادشاہ ہو چکا تھا۔ ایسٹروفائٹم کی تقریباً تمام اقسام، \"hus0200\"بہت سے یوفوربیا، ڈوریسٹینیا، اگاوے، ڈائیکیا اور نہ جانے کس کس پودے کی زیارت ان آنکھوں سے ہو چکی تھی اور ملتان کی کڑکتی دھوپ میں ایک ٹھنڈک سی دل میں اتری ہوئی تھی۔ ایسی ہی چھت لاہور میں مبشر احمد صاحب کی تھی، وہ کہانی پھر سہی۔

اب معاملہ یہ ہوا کہ گھر آ کر کافی غوروخوض کے بعد ایک نتیجہ سامنے آتا ہے۔ جو لوگ بچپن میں ڈاک ٹکٹ، سکے، نوٹ، یا کچھ بھی ایسا جمع کرتے تھے، بڑے ہو کر وہ انٹیکس، کتابوں، پودوں، مصوری، فوٹوگرافی، پتھروں، فوسلز یا صحرائی جانوروں کے شوقین نکل آتے ہیں، یہ سب نہ بھی ہو تو کوئی نہ کوئی انوکھا شوق ان کی جان کا روگ ہوتا ہے اور وہ باقاعدگی سے اسے وقت دیتے ہیں۔ ویسے یہ سب بڑے مزے کے کام ہیں، کبھی کر کے دیکھیے، اور جو کر چکے ہیں وہ ضرور اپنے تجربات سے ہم سب کو نوازیں کہ اس مار دھاڑ والے دور میں اچھی باتیں کم کم ہی سننے کو ملتی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 286 posts and counting.See all posts by husnain