میرا کردار دھوکہ دے گیا


\"mubashir\"

کہانیاں لکھنے والوں کو روز ایک نئے کردار کی تلاش ہوتی ہے۔ مجھے سو لفظوں کی کہانی میں ہر دوسرے دن ایک ایسے کردار کی ضرورت پڑتی تھی، جس سے میں مکالمہ کرسکوں۔ میں نے سوچا کہ اس کردار کا کیا نام رکھوں؟ کوئی مستقل نام ہونا چاہیے جو ہر کہانی میں استعمال کیا جاسکے۔

میں نے واحد نام کے بارے میں سوچا اور سوچتے سوچتے اس لفظ واحد ہی کو کردار کا مستقل نام بنالیا۔ اس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ ایک سچ مچ کے دوست کا نام سید واحد اشرف ہے۔

دو چار کہانیاں چھپ گئیں اور کسی جاننے والے نے کہا کہ آج تو واحد سے اچھی گفتگو ہوئی یا اس کے خوب لتے لیے تو میں چونکا۔
ایک دن میں نے واحد سے کہا کہ فلم کے دو ٹکٹ لیے ہیں اس لیے رات کو فلاں سینما آجاؤ۔ ہم نے کچھ کھایا پیا، فلم دیکھی اور دو ڈھائی بجے گھر کو نکلے۔ صبح جو کہانی چھپی اس میں واحد نام کا کردار میرا بن بلایا خواہ مخواہ کا مہمان تھا۔ واحد اشرف نے فون کرکے بے نقط سنائیں۔ میں نے لاکھ کہا کہ یہ پرانی کہانی ہے۔ ڈھائی بجے رات تک تمھارے ساتھ تھا، گھر جاکر کہانی لکھتا بھی تو صبح کو اخبار میں کیسے چھپتی۔ لیکن واحد نہ مانا۔ الٹا یہ کہا کہ مجھے بدنام کرنے کو کہانی پہلے لکھی اور سینما بعد میں بلایا۔

یہ جو واحد صاحب ہیں، انھیں کوئی عام آدمی نہ جانیے۔ دنیا ٹی وی میں کامران خان شو کے پروڈیوسر ہیں۔ بلکہ یوں کہیں تو بہتر ہوگا کہ کئی پروڈیوسرز میں سے ایک ہیں۔ کئی ٹی وی چینلوں میں کام کرچکے ہیں اور اتفاق سے ہمارے بہت سے دوست مشترک ہیں۔ ہماری دوستی تب شروع ہوئی جب یہ جیونیوز میں اسائنمنٹ ڈیسک پر کام کرتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  بسم اللہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر۔۔۔ قربان کوئٹہ تور زنان

واحد کی کہانی تھوڑی سی باقی ہے لیکن بات آگے بڑھانی ہے۔ واحد صاحب نے کچھ دن پہلے اپنے ایک دوست احمد حسین سے ملاقات کروائی۔ احمد حسین صاحب نہ جانے کیا کام کرتے ہیں، انھوں نے بتایا نہیں یا بتایا تو مجھے یاد نہیں، لیکن وہ گفتگو دلچسپ کرتے ہیں۔
یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ میں کسی بھی مخاطب کی ہر بات سے اتفاق کرلیتا ہوں۔ لیکن کچھ واقعی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر بات ایسی کرتے ہیں کہ میرے مزاج اور خیالات کے مطابق ہوتی ہے۔ احمد حسین ایسے ہی دوست ہیں۔ ان سے ملاقات کرکے خوشی ہوتی ہے۔

گزشتہ ہفتے انھوں نے مجھے اور واحد کو ناشتے پر گالف کلب مدعو کیا۔ مجھے کھانے پینے کا کوئی شوق نہیں لیکن دوستوں سے ملاقات کرنے کا موقع مل رہا تھا اس لیے صبح صبح کلب پہنچ گیا۔ واحد کو کچھ دیر ہوگئی۔ احمد حسین نے کہا، ’’آئیں، میں آپ کو گالف کھیلنا سکھاؤں۔ ‘‘

میری عملی صحافت کا آغاز اسپورٹس سے ہوا تھا بلکہ میری پہلی کتاب بھی ایک اسپورٹس ریکارڈ بک تھی۔ جیو جوائن کرنے سے پہلے میں تیس سے زیادہ کھیلوں پر ڈھائی تین سو مضامین لکھ چکا تھا۔ لیکن ان تیس بتیس کھیلوں میں گالف شامل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بہت کم لوگ گالف میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ کھیل صرف پیسے والے ہی کھیل سکتے ہیں۔

احمد حسین نے مجھے ایک کلب دے کر کہا، ’’گیند کو ہٹ کریں۔‘‘ میری پہلی کوشش میں کلب گیند کے اوپر سے گزرگئی۔ اندازہ ہوا کہ مجھے درست اندازہ نہیں ہوا۔ پھر میں نے بہت زور لگا کر ہٹ لگائی اور وہ زیادہ دور نہیں گئی۔ ایک مختلف کلب سے ہلکی ہٹ لگائی اور وہ بہت دور گئی۔

اسی بارے میں: ۔  قندیل بلوچ میں ایسا کیا ہے؟

احمد حسین نے بتایا کہ گالف کی کلب بارہ تیرہ طرح کی ہوتی ہے۔ پورا سیٹ لاکھ روپے سے زیادہ کا آتا ہے۔ ماہر گالفر جانتا ہے کہ کون سی کلب سے لگائی ہوئی ہٹ کتنی دور جائے گی۔ ہٹ لگاتے ہوئے کتنا زور لگانا ہے اور زاویہ کیا بنانا ہے۔ گالفر ہوا کا رخ دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ گیند کو کس جانب اچھالے گا تو منزل پر پہنچے گی۔

احمد حسین نے یہ سب بتاکر مجھ سے پوچھا، ’’کیا آپ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر کہانی لکھتے ہیں؟ کیا آپ کو بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قلم کا اسٹروک کتنی دور تک جائے گا اور کسے ہٹ کرے گا؟ کیا آپ کو بھی اچھی ہٹ کے بعد تالیاں اور بری ہٹ کے بعد ہوٹنگ سننے کو ملتی ہے؟ ‘‘
میں نے کہا، ’’آج رات کہانی لکھنے سے پہلے یہ سب باتیں سوچوں گا۔‘‘

احمد حسین کا فون بجا۔ انھوں نے کہا، ’’کاشف! کہاں رہ گئے؟‘‘ پھر وہ راستہ سمجھانے لگے۔ کال ختم ہوئی تو میں نے پوچھا، ’’واحد کہاں رہ گیا اور یہ کاشف کون ہے؟‘‘ احمد حسین نے کہا، ’’آپ نہیں جانتے؟ واحد تو صرف کاغذات میں لکھا ہے۔ رشتے دار اور بچپن کے دوست، سب اسے کاشف کہتے ہیں۔‘‘

میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

حضرت کی صورت نظر آئی تو میں نے کہا، ’’کاشف! آئندہ واحد کی کسی کہانی میں کردار بننے کی کوشش کی تو کیفر کردار کو پہنچادوں گا۔ سمجھے!‘‘

نومبر 2015


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 80 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi