بس ایک جبر ہے یہ اختیار اگر ہے بھی


mirza mujhaidشدت پسندی اجتماعی تو ہوتی ہی نہیں اور نہ مستقل۔ کہنے والے لاکھ کہہ لیں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنوں کے رویے کو کیا اجتماعی نہیں کہیں گے؟ پہلی بات تو یہ کہ ایسا بالکل نہیں تھا۔ جیتنے والی قوموں کے پرچار کا اثر باقی رہ جایا کرتا ہے، ہارنے والی قوموں کا پرچار ہوتا ہی کمزور ہے، اس لیے نہ صرف وہ ہارتی ہیں بلکہ ان کا پرچار بھی ہار جاتا ہے اور بالآخر معدوم ہو جاتا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ ان کا شدت پسند رویہ بہت حد تک اجتماعی تھا مگر ایک آسکر شنڈلر جو صنعت کار بھی تھا، جاسوس بھی اور نازی پارٹی کا رکن بھی اس کی انسان دوستی ہی شدت پسندی کی اس سیاہ دیوار میں سوراخ کرکے روشنی پھیلانے کے لیے کافی دکھائی دیتی ہے۔

تیرہویں صدی میں رومن کیتھولک عیسائیوں میں ایک شدت پسند تحریک چلی تھی جس کے اراکین شہروں شہروں، بستیوں بستیوں ماتمی جلوسوں کی شکل میں خود کو کوڑوں سے پیٹتے تھے۔ خود اذیتی اور اذیت پسندی بظاہر ایک دکھائی دیتی ہیں لیکن ہوتی مختلف ہیں البتہ ادل بدل ہو سکتا ہے یعنی شدت پسند اذیت پسند ہو سکتا ہے اور اذیت پسند خود اذیتی کی جانب راغب ہو سکتا ہے۔ پشاور پبلک سکول، چارسدہ میں باچہ خان یونیورسٹی میں دہشت گردی کرنے والے اور دیگر خود کش حملوں میں ملوث لوگ اذیت پسند بھی ہیں اور خود اذیتی کا شکار بھی۔

ہٹلر کا استبداد تمام ہو گیا تھا اور “کوڑے باز” تحریک بھی نہ صرف تمام ہو گئی تھی بلکہ خود رومن کیتھولک کلیسا نے اس کو مذموم عمل قرار دے دیا تھا۔ شدت پسندی، خود اذیتی اور اذیت پسندی کی جو لہر گذشتہ چند عشروں سے قہر بنی ہوئی ہے وہ ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ ہٹلر یا دوسرے فسطائی رہنماو¿ں نے قوم پرستی کے نام پر لوگوں کو اپنے سے مختلف لوگوں کے خلاف کیا تھا اور “فلیجی لنٹس” یعنی کوڑے بازوں نے مذہب کے نام پر خود کو خود کے خلاف کیا تھا۔ فسطائی سمجھتے تھے کہ وہ اپنی قوم کا بھلا کر رہے ہیں باقی جائیں بھاڑ میں اور کوڑے بازوں کا خیال تھا کہ وہ خود کو کوڑوں سے پیٹ کر اپنے گناہ دھو رہے ہیں چنانچہ باقی لوگ بھی گناہ دھونے کے خاطر ان کے ساتھ مل جائیں گے مگر نہ تو جنگ سے جرمن قوم کا وقار بلند ہو سکا تھا اور نہ کوڑے مارنے سے کوڑے بازوں کے ساتھ لوگ شامل ہوئے تھے۔

دو ایک روز سے ایک وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں پشاور و درہ آدم خیل طالبان کا امیر ملا عمر منصور چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والوں اور دو داڑھیاں اور سر کے بال بڑھائے ہوئے بندوق برداروں کے ساتھ کھڑا پشتو زبان میں تعلیمی اداروں پر حملے جاری رکھنے اور نظام کی بنیاد ہلا دینے کا اعلان کر رہا ہے کیونکہ اس کے خیال میں نظام کی بنیاد یہی تعلیمی ادارے ہیں۔ اس ذات شریف کے علم بارے کیا کہا جائے، رہی بات ان کی جو حملہ کرنے آئے تھے جنہوں نے لوگوں کو مارا بھی اور خود بھی مارے گئے ظاہر ہے وہ منطق و دلیل کی بنیاد پر مقصد سمجھ کر نہیں آئے تھے بلکہ جذبات کی بنیاد پر ہیجان میں مبتلا ہو کر اس مذموم عمل میں شریک ہوئے تھے کیونکہ ان کے خیال میں وہ جنت میں جائیں گے۔

یہ وڈیو بذات خود کتنے لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے؟ چارہ کاٹنے والی مشین سے ہاتھ کاٹ لینے والے نابالغ دیہاتی بچے جیسے کتنے لوگ اس سے متاثر ہونگے، سینکڑوں نہیں چلو ہزاروں سہی۔ ان سب کو تربیت کہاں دی جائے گی؟ ان سب کو مسلح کیونکر کیا جائے گا؟ یہ سب کہنے کو آسان مگر کرنے کو بہت مشکل کام ہیں۔ فوج کی شکل میں البتہ داعش ایسے لوگوں کو اکٹھا کر سکتی ہے جو زبردستی مذہب کو عام زندگی کے اعمال پر لاگو کرنے کے حق میں ہوں لیکن اس کو بھی اس کے لیے جگہ چاہیے جو اسے عراق اور شام میں اس لیے میسر آ گئی کہ وہاں پہلے سے یا تو حکومت کمزور تھی یا اس کے خلاف جدوجہد ہو رہی تھی۔

تاریخ میں نہیں دیکھا گیا کہ کوئی شدت پسند تنظیم کسی ملک پر غالب آ جائے جب تک اس کو عوام یا بیرونی قوتوں کی جانب سے مدد حاصل نہ ہو۔ امریکہ کو شدت پسندی یا اس کی انتہائی شکل دہشت گردی سے لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ سمندر پار ہونے کی وجہ سے نہ تو اسے جنگ عظیم نے متاثر کیا تھا اور نہ ہی کوئی علاقائی تحریک متاثر کر سکتی ہے۔ دوسرے مغربی ملک خاص طور پر یورپ نہیں چاہے گا کہ شدت پسندی ان کے ملکوں میں پھیلے۔ وہ اس کے خلاف لڑنے میں سنجیدہ ہونے کے باوجود کوئی زیادہ سرگرمی اس لیے نہیں کر سکے گا کیونکہ وہ نیٹو کا حصہ ہے اور نیٹو کا سرخیل امریکہ۔

ایران بھی اسی طرح شدت پسندوں کی اعانت کرتا ہے جس طرح سعودی عرب انتہا پسند تنظیموں کی چنانچہ تین ملکوں کو زیادہ خدشہ ہے کہ شدت پسندی ان کے ملکوں تک نہ پھیل جائے جن میں چین، ہندوستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کا ہمسایہ ملک اور یورپ میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کی حیثیت سے روس شامل ہیں۔ چین کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہیں، روس تعلقات بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ روس اور چین دونوں چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان شنگھائی تنظیم تعاون میں شامل ہو جائیں تاکہ وہ کسی علاقائی تنظیم کے نظم و ضبط میں آ جائیں۔ ہندوستان کے ساتھ اگر کشمیر کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو جاتا ہے تو ہندوستان پاکستان کے لیے ویسا ہی ہوگا جیسے چین یا روس۔ افغانستان گلے میں پھنسی ہڈی ہے جو ان چاروں بلکہ ایران سمیت پانچوں ملکوں کو مل کر نکالنی ہوگی۔ ظاہر ہے کسی ملک کو نقشے سے محو نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہاں ایسے حالات پیدا کرنے ہونگے کہ وہ شدت پسندوں کی آماجگاہ نہ بن سکے۔ ایسے ہی حالات پاکستان کو اپنے قبائلی علاقوں کے لیے پیدا کرنے ہوں گے یعنی انسانوں کی طرح زندگی گذارنے کے قابل سہولیات پیدا کرنی ہونگی۔

شدت پسند کہتے رہیں کہ وہ تعلیمی ادارے تباہ کریں گے، حکومتوں کو چاہیے کہ پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو بہتر بنائے اور تعلیم کو فروغ دینے کی جانب زیادہ توجہ دے اور زیادہ وسائل خرچ کرے۔ اگر چارہ کاٹنے والی مشین میں ہاتھ دینے والے بچے کو یہ علم ہوتا کہ مولوی کے سوال پر اس کا ہاتھ غلط طور پر اٹھنے میں اس کے ہاتھ کا قصور بالکل نہیں تھا بلکہ اس کی سوچ یا بے توجہی کا قصور تھا جو بذات خود ذہن کے عارضی طور پر سن ہونے سے ہوتی ہے تو وہ مشین میں اپنا ہاتھ شاید نہ دیتا یا پھر ممکن ہے عمر منصور کے ساتھ جا ملتا لیکن اگر اسے یہ پتہ ہوتا کہ دماغ میں سوچ کا عمل کیونکر ہوتا ہے تو وہ مذہبی حوالے سے توبہ تو ضرور کہتا لیکن خود اذیتی کا شکار نہ ہوتا۔

شدت پسندی ایک لہر ہے جو عوام پر حتیٰ کہ خود شدت پسندوں پر ایک قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے لیکن ہے یہ بہر طور لہر جو کسی بھی طرح بہت تیزی سے ترقی کرتی ہوئی انسانی سوچ پر حاوی نہیں ہو سکے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بس ایک جبر ہے یہ اختیار اگر ہے بھی

Comments are closed.