دھند کا راج اورٹرک کی بتی


 

 

razi uddin raziچند رو ز سے پنجاب سمیت ملک کے بیشترعلاقوں میں دھند کا راج ہے۔ جذبے تو ہمارے پہلے ہی سرد تھے اب ہوائیں بھی سرد ہو گئیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔  ہم نے سارا دسمبر سردی کے انتظار میں گزاردیا۔ سب ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ کیا اس مرتبہ سردی اپنا جوبن نہیں دکھائے گی اور ہم اسی انتظار میں مارچ اپریل کی گرمی میں پہنچ جائیں گے ۔  لیکن اب جو سردی آئی اور دھند نے سارے مناظر کولپیٹ میں لیا تو ہرطرف شور مچ گیا ۔ دوست گھروں میں دبک گئے اور گیس اوربجلی کے بغیر سردی کا مقابلہ کرنے لگے۔ اب انتظارہورہا ہے کہ دھند کب چھٹے گی اور یخ ہوائیں کب معتدل ہوں گی۔ ہم نے دوستوں سے کہا کہ بھائیو، اگر آمریت میں جمہوریت کے مختصر وقفوں کی طرح چند روز کے لیے سردی آ ہی گئی ہے تومسکرا کر اس سے لطف اٹھائیے۔  یوں بھی ہمیں دھند کچھ نہیں کہتی کہ ہم دھندلائے ہوئے موسموں کے ازل سے عادی ہیں۔ دھند میں راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ کچھ خبرنہیں ہوتی کہ کہاں کب اچانک کوئی موڑ آجائے۔ سو ہم دھند بھرے موسموں میں چیونٹی کی رفتار کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور یہ سفر برسوں سے جاری ہے ۔  دھند بھرے راستے میںاگر کوئی ٹرک نظر آ جائے تو ہم جمہوریت کی گاڑی اس کی سرخ بتی کے پیچھے لگا لیتے ہیں کہ جہاں جہاں یہ جائے گا اس کے پیچھے ہم بھی حفاظت کے ساتھ کسی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہر مرتبہ ہوا یوں کہ ہم نے جب بھی کسی سرخ بتی کے پیچھے جمہوریت کی گاڑی لگائی تو منزل پرپہنچ کرمعلوم ہوا کہ ہم تو کسی فوجی ٹرک کی بتی کے پیچھے خود کو محفوظ جان کر سفر کرتے رہے۔ راستوں کی تو بات ہی کیا اب تو رویوں اور جذبوں پر بھی دھند کی دبیز چادر آچکی ہے۔ ہمیں تو دھند میں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ قاتل کون ہے اورمقتول کون؟ اور بعض اوقات تو ہمیں مجرم بھی منصف دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ہم روشن خیالی کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹتے ہیں لیکن اس بات کا ادراک نہیں کرتے کہ جب دھند نے ہم سے روشنی ہی چھین لی تو روشن خیال کہاں سے آئے گی۔ پٹھان کوٹ حملے سے لیکر باچاخان یونیورسٹی پر حملے تک ہماری ٹامک ٹوئیا ں تو ملاحظہ کیجئے ۔  وہی روایتی بیانات اور الزام تراشیاں ۔  ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے دعوے۔  برس ہا برس سے جنہیں ہم بے گناہ سمجھ کر اپنا دفاعی اثاثہ قراردے رہے ہیں ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہی ہمارے مسائل کی جڑ ہیں۔ سو جناب دھندلائے ہوئے منظر میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ سفر اسی ڈھب سے جاری رہتا ہے ۔ جذبے اسی طرح سرد ہوتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے قتل پر ماتم کرتے ہیں اور دشمن کے ان بچوں کو تعلیم دینے کا عزم ظاہر کرتے ہیں جو ہمارے بچوں کے قاتل ہیں۔ سو ہمیں عمران خان، مولوی عبدالعزیز، سراج الحق سمیت اسی قبیل کی شخصیات کے رویوں اور بیانات پر حیرت کااظہارنہیں کرنا چاہیے جنہیں بچوں کے قتل کا دکھ نہیں ہوتااورجن کے نزدیک ممتازقادری جیسے قاتلوں کو معاف کردینا بھی ضروری ہے۔ دھند شاید سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں پربھی پردہ ڈال دیتی ہے۔

 

 


Comments

FB Login Required - comments