شری گیان چند ٹھاکرے سے ایک انٹرویو


adnan Kakar

پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی طرف سے ایک سال کے اندر اندر پاکستان کو سبق سکھانے کا بیان جب باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد ہمارے مستند محب وطن مصنفین کی مہربانی کی وجہ سے ہمارے سامنے آیا، تو ہمیں پتہ چلا کہ سرحد کے اس پار حالات اچھے نہیں ہیں۔ سو ہم نے مہان بھارت کے انتہائی دائیں بازو کے نمائندہ لیڈر شری گیان چند ٹھاکرے جی سے ایک انٹرویو کرنا مناسب جانا۔

ہم: گڈ مارننگ گیان چند جی۔
گیان چند: جے بھارت ماتا کی۔
ہم: گیان چند ٹھاکرے جی، سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ کو گیان چند کیوں کہا جاتا ہے؟ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کے پتا جی نے تو آپ کا نام بولو رام رکھا تھا۔
گیان چند: بالکے جب ہم نے مہاسبھا کے سیوک کی جماداری سنبھالی تو پھر ہمارے گن سب پر کھلے۔ منٹوں میں آئی ایس آئی کی ساجش پکڑ لیتا ہوں۔ جمین پر دھیلے کا ثبوت نہیں ہوتا، لیکن ہمارے ہردے (دل) میں بھگوان خود ہی ڈال دیتا ہے کہ یہ آئی ایس آئی کی ساجش ہے اور ہمیں گیان ہو جاتا ہے۔ اسی کارن سبھی سیوک ہمیں گیان چند کہنے لگے۔
ہم: گیان چند جی، آپ تو پھر ودیا ساگر ہوئے۔ یہ بتائیں کہ پٹھان کوٹ کا کیا معاملہ چل رہا ہے؟ پاکستان نے تو بہت تعاون کیا ہے بھارت سے۔
گیان چند: یہ سارا چھل فریب ہے پاکستانی سرکار کا۔ مہینہ ہونے کو ہے، نہ تو مجرموں کو ابھی تک پھانسی دی ہے، اور نہ ہی ہمارے حوالے کیا ہے۔ حالانکہ ہم یہ مدعا پاکستانی سرکار سے کئی بار اٹھا چکے ہیں۔
ہم: گیان چند جی، سرکار کو قانون پر چلنا پڑتا ہے۔
گیان چند: پرنتو امریکہ کو گوانتانامو کے لئے منش دیتے ہوئے تو ایسی کوئی چنتا ہم نے نہیں دیکھی تھی۔
ہم: وہ تو امریکہ بہادر ہے جناب۔ اور اس کی توپوں کا رخ اس وقت ہماری جانب تھا۔
گیان چند: ہماری توپوں کا رخ بھی آپ ہی کی اور ہے مہاشے۔
ہم: آپ نے بھی تو سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ دکھا دی تھی۔ کتنے پاکستانی مرے تھے۔ اور اس میں آپ کے ایک کرنل صاحب، اور ایک سوامی جی پکڑے گئے تھے۔ آپ انہیں تو ہمارے حوالے نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے سے ملزم مانگتے ہیں۔
گیان چند: ان کا معاملہ کورٹ میں ہے۔ ہماری سرکار کورٹ کچہری کے معاملے میں نہیں بولتی ہے۔ آپ کسی دوسرے مدعے پر بات کریں۔
ہم: خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ سکھ، مسلمان، مسیحی، سب ہی انتہا پسند ہندوؤں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
گیان چند: یہ ساری افواہیں آئی ایس آئی اڑا رہی ہے۔ ہمارا مہان بھارت تو جیو ہتھیا کو مہا پاپ سمجھتا ہے۔ بلکہ جینی تو کیڑے مکوڑے بھی مارنے کو گھور پاپ جانتے ہیں۔
ہم: اچھا یہ گودھرا کی ٹرین کا کیا معاملہ ہوا تھا؟
گیان چند: وہاں چند ملیچھ مسلمانوں نے پوتر برہمن یاتریوں سے بھری ہوئی ایک ٹرین روک کر ان کو جلا دیا تھا۔ سادھوؤں سنتوں کو جلا کر بڑے بلوان بن رہے تھے۔ پھر جب ہمارے دل کے سینکوں نے ان راکشسوں کو گھیر گھیر کر مارا اور آدھا شہر جلا دیا تو پھر ان پاکھنڈیوں کو پتہ چلا کہ بلوان کون ہے۔ اب وہاں امن ہے۔
gayan_chandہم: لیکن سنا تھا کہ یہ الزام ثابت نہیں ہوا تھا۔
گیان چند: ہمارے من نے بتلا دیا تھا کہ یہی ستیہ ہے۔ وہ ٹرین انہی پاپیوں نے جلائی تھی۔
ہم: اچھا یہ سکھ اور مسیحی بھی بہت شور مچا رہے ہیں کہ ان پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔
گیان چند: سچ بولتے ہیں۔
ہم: واقعی؟ کون کرتا ہے ان پر حملے؟
گیان چند: معصوم مت بنو مہاشے۔ یہ آئی ایس آئی کرتی ہے۔ ہمارے بھارت کی دشمن ہے۔ کبھی ہمیں بدنام کرنے کو چرچ جلا دیتی ہے، اور کبھی گردوارہ۔ اور چالاک ایسے ہیں کہ سارے ثبوت اور ویڈیو وغیرہ ایسے بنا ڈالتے ہیں یہ جالم کہ اس میں ہمارے مہا سبھائی لونڈے یہ سب کچھ کرتے نجر آتے ہیں۔
ہم: گائے کا گوشت فریج میں رکھنے کا الزام لگا کر ایک مسلمان مار دیا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس کے فرج میں بکرے کا گوشت تھا۔ چند دوسرے مسلمان اس الزام کے تحت مار دئیے گئے کہ وہ ٹرک میں گائے کو ذبح کرنے کے لئے لے کر جا رہے تھے۔ آپ کچھ پوچھ پریت کئے بغیر ہی مار ڈالتے ہیں۔ آپ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ یہ گاؤ ہتیا کا معاملہ ہے؟
گیان چند: بالکے یہ گیان ہمیں بھگوان کی اور سے مل جاتا ہے۔ ہم نے تو کبھی نہیں پوچھا کہ تم کیسے پوچھ پریت کئے بغیر صرف شبے پر کیوں بندے مار دیتے ہو؟ جیسے تمہیں گیان ہوتا ہے، ویسے ہی ہمیں گیان ہوتا ہے۔
ہم: آپ کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد بیان دیا تھا کہ ایک سال کے اندر ہی ساری دنیا دیکھ لے گی کہ پاکستان میں کیا ہوتا ہے۔ اور چند ہفتے بعد ہی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہو گیا۔ کیا یہ ایک اتفاق ہے؟
گیان چند: دیکھو بالک۔ ہمارے رکھشا منتری بڑے بلوان ہیں۔ ہماری سہایتا سے وہ کابل تک ترنگا لہرائیں گے۔ مہان بھارت ورش کی ریکھا مجار شریف اور قندھار تک ہے۔ جے پال جی ادھر تک راج کرتے تھے۔
ہم: اوہو۔ اچھا یہ بتائیں کہ بھارت کی معیشت پر اس جنگ کا کوئی اثر تو نہیں پڑے گا؟
گیان چند: پڑے گا، اوش پڑے گا۔ یہی تو آئی ایس آئی چاہتی ہے کہ ہم بھوکوں مر جائیں۔ ابھی پچھلے مہینے آلو کا ریٹ پچاس روپے سیر ہو گیا تھا۔ ہمارے لونڈوں نے کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ بجلی دن میں آٹھ آٹھ گھنٹے جاتی ہے۔ آئی ایس آئی نے ایسا منتر پڑھا ہے کہ برکھا ہی نہیں برس رہی ہے۔ الٹا بن برکھا باڑھ پر باڑھ آ رہی ہے۔ ادھر چار پانچ سال پہلے ادھر ہری دوار کے تیرتھ پر ایسی باڑھ آئی تھی کہ سارا شہر ڈوب گیا اور پوتر تیرتھ برباد ہو گیا۔ کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ اوپر ہمالہ کی برف پر آتنک وادیوں نے آئی ایس آئی کے حکم پر ایٹم بم پھوڑ دیا تھا۔ اس سے ایسی باڑھ آئی کہ کبھی دیکھی نہ سنی۔
ہم: یہ سیلاب تو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشئر پگھلنے کی وجہ سے نہیں آ رہے ہیں؟ برصغیر تو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شمار ہوتا ہے۔
گیان چند: گلوبل وارمنگ نہیں ہے جی۔ ہم بھولے نہیں ہیں۔ یہ آئی ایس آئی کے بم ہیں جن سے ہمالہ پگھل رہا ہے۔ ہم بھی پاکستان پر ایٹم بم پھوڑیں گے تو پھر امن ہووے گا۔ مر جائیں گے سارے پاپی۔
ہم: لیکن گیان چند جی، پاکستان کے پاس بھی تو ایٹم بم ہے۔ وہ بم کھائے گا تو بم مارے گا بھی۔ آپ بھی کہاں زندہ بچیں گے؟
گیان چند: ہم اوش جندہ بچیں گے۔ ہمارے وشنو جی ہمیں بچا لیں گے اور کالی دیوی پاکستان کو برباد کر دے گی۔ ہمارے سینک سیدھا لاہور کے قلعے پر ہم اپنا ترنگا لہرائیں گے تو پاکستان کو سکون ہو گا۔
ہم: جھنڈے تو زندہ لوگ لہراتے ہیں گیان چند جی۔ ایٹمی جنگ کے بعد یہاں کس نے زندہ بچنا ہے؟
گیان چند: تم مورکھ ہو بالک۔ ہماری پوتر ویدوں میں یہی لکھا ہے کہ اوش ہم سپھل ہوں گے اور ہمارے دشمن ہمارے گلام بنیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar