آنے کی باتیں جانے دو


\"asifآرمی چیف کی تصویر کے ساتھ آویزاں بینرز کے اخلاقی اور آئینی جواز پر دوستوں نے سیر حاصل گفتگو کر لی ہے۔ تاہم اس کا ایک اور پہلو ہنوز تشنہ ہے۔

اسلام آباد جیسے شہر کی مرکزی شاہراہ پر جو ایئر پورٹ سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی طرف جاتی ہے یہ بینرز قطار اندر قطار آویزاں ہیں اور آج انہیں چوتھا دن ہے۔

یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔

1۔ دارلحکومت میں کوئی بینر سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر آویزاں نہیں ہو سکتے ۔ یہ بینرز کس طرح آویزاں ہو گئے؟

2 ۔ سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر کوئی بینر آویزاں ہو جائے تو سی ڈی اے کے ملازمیں جو فوج در فوج اسلام آباد میں پھرتے ہیں اسے فورا اتار دیتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ بینر چوتھا روز ہے مرکزی شاہراہ پر آویزاں ہیں لیکن سی ڈی اے نے انہیں اتارنے کی کوشش نہیں کی ؟ یاد رہے کہ نہ صرف وزیر برائے کیڈ اور میئر اسلام آباد اسی سڑک سے گزر کر گھروں کو جاتے ہیں بلکہ اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت یہاں سے گزر کر پارلیمان کو تشریف لے جاتی ہے۔

یہ بینر ابھی تک کیوں نہیں اتارے گئے؟\"raheelbanner\"

ہیں ایسا تو نہیں کہ سی ڈی اے کے اہلکار یہ سوچ کر سہم گئے ہوں کہ جانے والے نے واقعی جانے کی باتیں جانے دیں تو ان کا انجام کیا ہو گا۔

اور یہی خیال میئر اسلام آباد اور وزیروں کے قافلے کو بھی یہاں سے آنکھیں میچ کر گزرنے پر مجبور کر دیتا ہو۔

اسی بارے میں: ۔  آہ فاطمہ ثریا بجیا نہ رہیں !

اگر یہ درست ہے تو آپ جان سکتے ہیں ریاست کی عملداری کا عالم کیا ہے ؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔