خدا کے لئے کہیں آ ہی نہ جانا


\"wisi ملک کے کئی شہروں میں سڑکوں پر پوسٹر لگا دئیے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی تصویر ہے۔ اس پر مطالبہ درج ہے کہ جانے کی بات اب ہوئی پرانی۔۔۔ خدا کے لئے اب آ جاؤ۔ کس نے لگائے، کیوں لگائے؟ یہ بات ہی غیر ضروری ہے۔ رائے کے اظہار کی ضمانت آئین دیتا ہے۔ تب بھی جب وہ آئین ہی کے خلاف ہو۔

سب سے پہلے تو جنرل راحیل شریف کے عاشقوں سے مودبانہ عرض ہے۔ آج کل جب سابق آرمی چیف کو جس کا جی چاہتا ہے میڈیا میں دھونا شروع کر دیتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ راحیل شریف جنرل کیانی سے بہت مختلف ہیں یہ حقیقت ہے۔ ایسی ہی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ کیانی ہی کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں۔

جنرل کیانی نے آرمی ڈاکٹرائن کو ایک دستاویزی شکل دی تھی۔ تب ہی طے ہو گیا تھا کہ پاکستان کو بڑا خطرہ اندرونی ہے۔ سوات سے لیکر کرم ایجنسی تک دہشت گردوں کا صفایا انہی کے دور میں ہوا تھا۔ راحیل شریف نے جنرل کیانی کا ہی ادھورا چھوڑا ہوا کام بہت جذبے اور ہمت سے مکمل کرنا شروع کیا۔ آج کا پاکستان کہیں زیادہ پر امن ہے۔

یہ موازنے کرنے چھوڑیں۔ فوج میں سسٹم اپنا کام کرتا ہے۔ ہمیں اچھا لگے یا برا ( ویسے برا کیوں لگے ) فوج میں ترقی تعیناتی کا نظام میرٹ پر ہی چلتا ہے۔ جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے سب لوگ ایک کم از کم مطلوبہ معیار کے حامل ہوتے ہیں۔ جتنا انسان ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے، ان میں وہی فرق ہوتا ہے۔ اپنے پروفیشن میں وہ طے شدہ سٹینڈرڈ پر پورے ہوتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ سول ملٹری تعلقات ہیں۔ اگر مزید کھل کر بات کرنی ہے تو اس وقت واحد مسئلہ نوازشریف کے ساتھ ملٹری مائینڈ کا ایک تصادم ہے۔ فوج میں طے شدہ پالیسی چلتی ہے۔ نوازشریف فوج کی ہر پالیسی پر اپنی ایک رائے رکھتے ہیں۔ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔

سیاستدان کے پاس بس ایک اخلاقی طاقت ہی ہوتی ہے۔ جب اسے ووٹ ملتا ہے تو وہ اپنی اخلاقی طاقت کے زور پر فیصلے کرتا چلا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ نوازشریف کے ساتھ بہت کچھ ایسا ہے کہ انکی اخلاقی ساکھ پر بہت سے سوالات اٹھا دئیے گئے ہیں۔ اتنی دھول اڑ چکی ہے کہ وہ اب صرف قانونی جواز کے تحت حکومت کرنے سے عاجز دکھائی دے رہے ہیں۔ انہیں اپنی پبلک سپورٹ پھر ایک بار ثابت کرنی ہے۔

پبلک سپورٹ ثابت کرنے کے لئے پھر لوگوں کے پاس جانا ہو گا۔ اپنے اقتدار کی آدھی مدت گزارنے کے بعد جب کارکردگی دکھانے کو کچھا ایسا پاس نہیں ہے۔ جو دکھتا ہو جو بکتا ہو۔ الیکشن میں جانے کا رسک کوئی بھی سایستدان نہیں لے گا۔ یہ مشکل تو نوازشریف کی ہے۔ انہیں جو ہٹانا چاہتے ہیں وہ بھی بس مائینس نوازشریف چاہتے ہیں۔ باقی سب کچھ چلتا رہے اس سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔

ان دونوں پارٹیوں کا آپسی مسئلہ کیا ہے۔ یہ مسئلے بہت سے ہیں۔ سی پیک پراجیکٹ ایک مسئلہ ہے۔ جس پر فوج نے کئی سال پالیسی لیول پر کام کیا۔ اس کا سارا کریڈٹ نوازشریف لے گئے ہیں۔ اس کو اپنی مرضی کے رخ پر تعمیر کر رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ جاری پالیسیاں بھی ایک مسئلہ ہیں۔ نوازشریف کھلے راستوں کے شدت سے حامی ہیں۔ جب کہ ادارے اس حوالے سے کسی جلدی میں نہیں ہیں۔

یہ معمولی بات نہیں ہے۔ نوازشریف راستے کھول کر پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کو تیز رفتاری سے فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یہ ترقی ان کی اصل پاور بیس سرمایہ داروں کے لئے منافع لائے گی۔ منافع دکھائی دیتا ہو اور حصول ممکن نہ ہو تو فرسٹریشن بڑھتی ہے۔

سیاستدان کی اگر اخلاقی ساکھ ہی برقرار رہنے دی جائے۔ اسے چیلنج نہ کیا جائے تو وہ اتنا دال دلیہ کر لیا کرتا ہے کہ اپنے منصوبوں پر عمل کر گزرے۔

سعودیہ میں ہونے والے ایک افسوسناک سانحے نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ پاکستان سعودیہ فوج بھیجنے کے لئے جس شرط کو بنیاد بنا رہا تھا وہ پوری ہو گئی ہے۔ مکہ مدینہ کو براہ راست خظرہ ہونے کی صورت ہم فوج بھیجیں گے۔ یہی کہا گیا تھا اب مدینہ میں سانحہ ہوا۔ کرنے والوں نے یقینا یہ کرتے ہوئے ہماری مشکلات اور شرط سامنے رکھی ہو گی۔

سعودیہ فوج بھیجنے کی صورت میں پاکستان تین سو ارب ڈالر کے اس پول سے فائیدہ اٹھا سکے گا۔ جو سعودی حکومت نے اپنے اتحادیوں کے لئے قائم کیا ہے۔ پاکستان کو بہت سارے علاقائی خطرات ہیں۔ اسلحے کے  حصول کے حوالے سے ہمیں بہت مشکلات ہیں۔ فنڈز کی آسان دستیابی فوجی انوینٹری میں نئے آلات ہتھیاروں کا بروقت اضافہ اور شمولیت یقینی بنائے گی۔

شاید ہی کوئی پاکستانی سیاستدان کسی نئی فوجی مہم جوئی کے حق میں ہو۔ نوازشریف بھی نہیں ہیں۔ وہ بس اتنا ٹائم چاہتے ہیں کہ نیا آرمی چیف آ جائے اس کو سیٹ ہونے میں جتنا وقت درکار ہو گا۔ نوازشریف کو اتنا ہی وقت درکار ہے معاملات پر اپنا کنٹرول بہتر کرنے کے لئے۔

نوازشریف پر مائینس ون فارمولا اپلائی کرنا ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے لیڈر کو اس کی سپورٹ سے محروم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ الطاف حسین اپنے گناہوں کی ایک بڑی گٹھری کے بوجھ تلے بھی ایسا سوچنے والوں کا منہ ہی چڑا رہے ہیں۔ پی پی آج بھی آصف زرداری کے گرد گھومتی ہے ان کے بغیر اس پارٹی میں اب کوئی دم نہیں۔ پی ٹی آئی صرف عمران خان کا ہی نام ہے وہ جدھر کھڑے ہو جائیں ان کے مداح ادھر ہی ہوں گے۔

جب کوئی طریقہ موجود نہیں ہے تو پھر مائینس ون کی کوئی بھی کوشش ناکام ہی رہے گی۔ ایک تصادم کی کیفیت میں ڈھلے گی۔ اس انتہا تک جانا نہیں چاہئیے۔ جہاں اتنی ساری خبریں آ رہی ہیں وہیں یہ بھی کہا جا رہا کہ وزارت قانون میں جرنیلوں کی تقرری کے حوالے سے سمری پر غور ہو رہا۔ توسیع مل جائے گی۔ ایسا نہ بھی ہوا تو اس خبر سے یہی ظاہر ہوتا کہ معاملے کو سنبھالنے کی خواہش بہرحال موجود ہے۔

ہمارا نظام چلتا رہے وہ اس قابل ہو کہ موجود مسئلے حل کر سکے تو امید برقرار رہے گی۔ اس لئے یہی کہا جا سکتا کہ خدا کے لئے ان باتوں پر نہ جانا، کہیں آ ہی نہ جانا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi