بڑی امی


\"sajjad-ahmed-2b\"خاندان کے سب بچے انہیں بڑی امی کہتے تھے۔ وہ تھیں بھی بڑی سوچ رکھنے والی اور نبض شناس۔ چہرے سے لوگوں کی سوچ اور فکر کا اندازہ لگانے والی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی زندگی کے بارے میں بات کا آغاز کہاں سے کروں۔ جب میں زندگی کے آخری ایام میں ان کے نہایت قریب رہا، اس وقت سے یا اس وقت سے جب زندگی کے ابتدائی دور میں جب وہ میرے بہت قریب رہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ایک عظیم ماں ثابت ہوئیں۔ تعلیم سے نابلد، مگر تعلیم کی دلدادہ۔ نہ جانے تعلیم اُن کی زندگی میں اس قدر اہم کیوں تھی، کہ اس کے لیے انہوں نے کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ کلرکوں کی بستی میں رہنے والی اس غیرتعلیم یافتہ عورت کو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا جنون کی حد تک شوق تھااور اس شوق کی تکمیل میں وہ سماجی اور معاشی طورپر جن مسائل سے دوچار رہیں، میں ان کا چشم دید گواہ ہوں۔

ہم کیماڑی کے جس محلے میں رہتے تھے وہ غریبوں کی ایک پس ماندہ بستی تھی۔ یہاں رہنے والوں کی اولین ترجیح دو وقت کی روٹی تھی۔ ایسے محلوں میں سماجی اقدار نہ جانے کیوں اتنی مضبوط ہوتی تھیں کہ بھوک اور افلاس ان میں دراڑ نہیں ڈال سکتے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بڑی امی کس طرح بچوں کے تعلیم کے لیے پیسے جمع کرتی تھیں۔ بیسی یا مٹی کی لاٹری ڈالی جاتی تھی، گُلّک میں ایک پائی، دس پیسے، پانچ پیسے، 25 پیسے اور 50 پیسے کے سکّے وقتاً فوقتاً ڈال دیے جاتے تھے اور بیسی کی ادائیگی کے وقت مٹی کے گلک کو توڑ کر پیسے نکال کر گنے جاتے تھے۔ کبھی کبھار ضرورت پڑنے پرسکہ ڈالنے والے سوراخ کو کسی جھاڑو کی تیلی کی مدد سے پیسے نکلنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

ہم دس بہن بھائی تھے اور کیماڑی کے دو کمروں پر مشتمل کوارٹر میں رہتے تھے جس کے صحن میں ایک بیٹھک تھی۔ یہ بیٹھک ہماری تعلیم گاہ تھی، گھر کے تمام مسائل سے علیحدہ کمرہ جہاں تمام بہن بھائی صرف پڑھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ امی کی ڈانٹ ہر ایک کو خوش دلی یا زبردستی سے اس کمرے میں رہنے پرمجبور کیے رکھتی تھی۔ اسکول سے واپسی پر کھانے اور دوپہر کو کچھ دیر آرام کے بعد ہم سب کو اس بیٹھک میں ٹھونس دیا جاتا تھا۔ ہر نالائق اورپڑھنے سے بھاگنے والے پر ہم ہی میں سے کسی ایک کونگراں مقررکیا جاتا جو امی کو تمام ماحول کی رپورٹ دینے کا پابند ہوتا تھا۔ جرم کی نوعیت کے مطابق سزا اورجزا امی طے کرتی تھیں۔

میں نے اپنی زندگی میں اپنی ماں سے زیادہ بہادر اور جفاکش خاتون نہیں دیکھی۔ رات سب سے آخر میں سونا اور صبح فجر سے پہلے اٹھ جانا، ان کی زندگی کا معمول تھا۔ میں آج تک اس حساب کو نہیں سمجھ سکا کہ وہ کس طرح تمام افراد کے ناشتے مقررہ وقت پر تیار کر لیتی تھیں۔ ہمارے یونیفارم اور اسکول بیگ تیار کرتیں، ابا جی کو صبح سویرے ان کی پسند کا ناشتہ بنا کر دیتیں، ہم سب بہن بھائیوں کو وقت پراسکول بھیجتیں، دوپہر گھر واپس لوٹنے پر تمام افراد کے لیے کھانا تیار ہوتا، گھر کے تمام کپڑوں کی دھلائی، ان کی استری اور پھر رات کے کھانے کی تیاری اور برتنوں کی دھلائی۔ دن میں اس چھوٹے سے گھرکی ترتیب آنے جانے والے مہمانوں کے حساب سے ہوتی تھی، رات کو ان ہی دوکمروں میں اضافی چارپائی اور بستر لگا کر سب کے سونے کا بندوبست کرلیا جاتا۔

مجھے یاد ہے ہمارے گھر کے بڑے کمرے میں ایک پلنگ اور صوفہ، شوکیس اورسنگھار میز ہوتی تھی، مہمان عموماً اسی کمرے میں بٹھائے جاتے تھے۔ رات گئے یہ کمرہ اضافی چارپائیوں اور بستروں سے خواب گاہ بن جاتا۔ یہ تبدیلی میرے لیے اس وقت جادو کی چھڑی سے ہونے والے چمتکار کی طرح تھی۔ اس کے بارے میں آج بھی سوچتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنے نانا، نانی اور ماموں کو گھر میں ساتھ پایا۔ یہ تمام لوگ مرتے دم تک ہمارے ساتھ رہے۔ ان دو کمروں میں ایک کمرہ ہم سب بہن، بھائیوں کے لیے مخصوص تھا جب کہ دوسرا کمرہ نانا، نانی اور ماموں کے لیے تھا۔ آج بھی یہ سوچ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ امی اور ابا نے کس طرح ان سب لوگوں کو نہ صرف سنبھالے رکھا، ان کے رشتوں کی محبتوں میں کبھی کمی نہ آنے دی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مٹھاس میں اضافہ ہی ہوا۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا، میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے رہا۔ معاشی حالات نے زندگی کے تمام نشیب و فراز کو نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ ہماری روزمرہ زندگی کی ضروریات کا کھاتا ماہانہ بنیاد پر محلے کی دوکان سے بندھا ہوا تھا، امی ہم بہن بھائیوں کے ذریعے روزمرہ کی اشیا اسی دوکاندار سے ادھار پر منگوا لیتی تھیں۔ شرافت اور انسانیت کی بہترین مثال میں نے اس دور کے کاروبار میں دیکھی جس کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ عبدالقدیر دوکاندار کے ادھار رجسٹر میں ہمارے گھرسمیت تقریباً تمام محلے والوں کے نام کے کھاتے موجود تھے اور بلاتفریق تمام محلے والوں کو اُدھار پر روزمرہ کی ضروریات کا سامان دیا جاتا تھا۔ مہینے کے آخر میں تنخواہ ملنے پر امی سب سے پہلے عبدالقدیر کے کھاتے کے پیسے ادا کرتیں، بسااوقات کچھ پیسے ادا نہیں ہو پاتے تھے اور بقایا اگلے مہینے کے کھاتے میں لکھ دیا جاتا تھا۔ قدیر صاحب نے کبھی اس بات پر بھی اعتراض نہیں کیا بلکہ یہ کہتے کہ اگر اس ماہ ہاتھ تنگ ہے تو کوئی بات نہیں تمام رقم اگلے مہینے ادا کردیجیے گا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے آنے اور دو آنے جیسے معمولی رقم کا کھاتہ بھی ادھار کے رجسٹر میں لکھوایا تھا۔

زندگی بڑی بے رحم ہے، وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا، آج اس قدیر دوکاندار کی اولاد اسی کیماڑی کے علاقے میں نہایت مفلسی کا شکار ہے۔ قدرت کے کھیل بھی نہایت عجیب ہوتے ہیں۔ اب بھی جب کبھی میں ان میں سے کسی سے ملتا ہوں تو باادب کھڑا ہوجاتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ کس طرح ان کے بزرگوں نے ہماری مدد کی تھی۔ ہماری غربت کو ان بزرگوں نے کس طرح باعزت طریقے سے ڈھانپے رکھا اورہمارے لیے تعلیم کا حصول ممکن بنایا۔

امی نے اپنی زندگی میں خیر، صبر اور شکر کے ساتھ ہم تمام بہن بھائیوں کی تعلیم کو ترجیح دی اور تمام مخالفت اور دبائو کے باوجود اپنی بیٹیوں کوبھی علم کے راستے پر گامزن رکھا۔ مجھے یاد ہے جب رفعت باجی کا بی ایڈ میں داخلہ ہوا تو پڑھنے کے لیے انہیں فیڈرل بی ایریا جانا پڑتا تھا۔ ستّر اسّی کی دھائی میں کیماڑی سے فیڈرل بی ایریا آنا جانا بہت مشکل کام تھا، خصوصاً ہمارے محلے کے لوگ اور خود ہمارے والد صاحب اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ اکیلی لڑکی روزانہ اتنی دور کا سفر اکیلے پبلک ٹرانسپورٹ میں کرے۔ امی نے اس موقع پر بھی تمام لوگوں کا منہ بند کردیا۔ وہ کیماڑی سے چلنے والی واحد وین کے پہلے اسٹاپ تک پیدل جاتیں اور خواتین کے لیے مختص اگلی دو نشستیں محفوظ کرا لیتیں، ان کا کرایہ جو کہ 8 آنے فی سواری تھا پیشگی ادا کردیا جاتا۔ جب وین ہماری گلی کے سامنے آجاتی تو امی رفعت باجی کواپنے ساتھ بٹھا کر خود فیڈرل بی ایریا کے اسکول تک لے جاتیں اور کلاس کے ختم ہونے پر اپنے ساتھ واپس لے کر آتیں۔ بظاہر یہ کام اتنا مشکل نہیں لگتا، لیکن میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات انہیں اس کام کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔ لیکن کچھ لوگ اپنی دُھن کے اتنے پکے اور سچے ہوتے ہیں کہ وقت، حالات، ماحول اور معاشرتی دبائوان کے ارادوں کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں اور فتح ان کے قدموں میں آگرتی ہے۔

امی کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا، وہ ساری زندگی اپنے اردے کی پختگی اور سچائی کے ساتھ مشکل ترین حالات سے نبرد آزما رہیں۔ تعلیم کے ساتھ ان کا دوسرا شوق یہ تھا کہ ان کا اپنا گھر ہو اور ان کے گھر میں ضرورت کی چیزیں موجود رہیں۔ ہمارے گھر میں ہماری ضرورت کا ہر سامان موجود تھا۔ وہ گھر کے عام استعمال کے برتن اور مہمانوں کی تواضع کے برتنوں کو ہمیشہ جدا رکھتی تھیں۔ مجھے یاد ہے انہوں نے خاص مہمانوں کے لیے چائنا کا ایک نہایت خوبصورت ٹی سیٹ خریدا جس کی مالیت اس وقت 12 روپے تھی۔ یہ بارہ روپے انہوں نے کئی مہینوں کی بچت کے بعد جمع کیے اور ایک دن اپنی ماں یعنی ہماری نانی کے ساتھ جا کر خرید کر لے آئیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس ٹی سیٹ کو ابا جان کی نظروں سے کس طرح اوجھل رکھا جائے کیوں کہ ابا جی نہایت مشکل حالات میں گھر کے اخراجات چلا رہے تھے، اگر انہیں یہ علم ہوجاتا کہ 12 روپے کے اضافی خرچ سے یہ ٹی سیٹ خریدا گیا ہے تو قیامت آجاتی۔ لہٰذا امی اور نانی نے اس ٹی سیٹ کو خاصی مدت تک چھپائے رکھا۔ بعد میں یہ ٹی سیٹ خاص خاص مہمانوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اب بھی یہ سیٹ ہمارے گھر میں موجود ہے اوراس سے منسلک کہانی تو شاید ہی کسی کو یاد ہو مگر جب بھی اس سیٹ کی پیالیاں دیکھتا ہوں، امی کے ذوق اور حسن نظر کا قائل ہوجاتا ہوں اور میری آنکھوں میں آنسو چھلک آتے ہیں۔

ہم لوگ کے پی ٹی کے کوارٹر میں رہتے تھے۔ سیمنٹ کی چادروں کی چھت کے دو کمروں اور صحن پر مشتمل چھوٹا سا گھر ہماری ضروریات کے لیے ناکافی تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں ہم گلی میں چارپائی بچھا کر سوتے جبکہ خواتین اوربچے گھروں میں رہتے تھے۔ یہ کیماڑی کے تمام گھروں کے رہنے والوں کا معمول تھا۔ اس زمانے میں کوئی سیکورٹی رسک نہیں ہوتا تھا اور لوگ انسانیت پر یقین رکھتے تھے۔ غربت کے باوجود انسانی اقدار زندہ تھیں، بلکہ میں کہوں گا کہ شاید غربت ہی کی وجہ تھی کہ اس دور کے مکین، مکانوں سے زیادہ مکینوں سے محبت کرتے تھے۔ ہر ایک کے دُکھ درد، غمی، خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔

فہمیدہ باجی کی شادی 1970ء میں ہوئی، میں بہت چھوٹا تھا ٹھیک سے ساری باتیں تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اٹک سے آنے والے باراتیوں کے لیے محلے والوں نے اپنے دو کمروں میں سے ایک کمرہ ہمارے مہمانوں کے لیے خالی کر دیا تھا اور شادی کے دنوں میں پندرہ بیس مرد اور خواتین باراتی دو دو اور چار چار کی ٹولیوں میں اڑوس پڑوس کے گھروں میں رہے۔ ان کی مہمان داری غریب اورمفلس لوگ اپنے خاص مہمانوں کی طرح کرتے تھے، یہ اقدار نہ صرف ناپید ہو گئیں ہیں بلکہ ان کی جگہ بغض، حسد اورلالچ نے کچھ اس طرح ہمارے معاشرے پر قبضہ کر لیا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ چند دہائیوں میں ہم اخلاقی طورپر اس تیزی سے تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں۔

میں ذکر کررہا تھا ذاتی گھر کے لیے امی کی سوچ کا، ہمارے سب سے بڑے بھائی جان (نثار) نے ہوش سنبھالا اور معاشی حالات کی وجہ سے بہت جلد معاش کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ابا جی کے لیے ان کی آمدنی بہت بڑا سہارا ثابت ہوئی بلکہ میں کہوں گا ہماری تعلیم اور ترقی شاید ان کی ہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ میٹرک، انٹر تک کی تعلیم کا بوجھ تو جیسے تیسے امی جان نے برداشت کر لیا لیکن اب میڈیکل اورانجینئرنگ کی تعلیم کے اخراجات امی ابا کے بس کی بات نہیں تھے۔ ایسے وقت میں سب سے بڑے بیٹے کی حیثیت سے جو کردار نثار بھائی جان نے ادا کیا اُس کی نظیر ملنا بہت مشکل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بحری جہاز پر ان کی پہلی ملازمت سی مین کی تھی۔ سفینہ عرب پر اس ملازمت کی ایک سال کی آمدنی 25 ہزار روپے تھی۔ جب اس رقم کا ابا جی کو پتا چلا تو ان کے الفاظ مجھے یاد ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’خوشی سے مجھے ساری رات نیند نہیں آئی، نثار نے میرے کمر کا بوجھ ختم کر دیا، مجھے بہت بڑا سہارا ملا ہے۔ ‘‘ ان کا خیال تھا اب ہمیں نثار کی شادی کردینی چاہیے۔ دوسری جانب میری امی کی پلاننگ مختلف تھی، انہوں نے نہایت سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی اوریہ دلیل دی کہ جب تک ہم اپنا ذاتی گھر نہیں بنا لیتے، میں کیماڑی کے اس چھوٹے سے گھر میں بچوں کی شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ نثار بھائی جان نے بھی امی کی رائے سے اتفاق کیا اور امی اورنثار بھائی جان نے مل کر مکان کی تلاش شروع کر دی۔

یہ 1975ء کا دور تھا۔ اس رقم سے کیماڑی میں اچھا بڑا مکان مل سکتا تھا مگر میری امی چاہتی تھیں کہ کلفٹن کے علاقے میں مکان ملے، بڑی کوششوں کے باوجود اس رقم میں کلفٹن کے علاقے میں مکان نہ مل سکا۔ البتہ امی اورنثار بھائی جان کی کوششوں سے کلفٹن کے نئے بلاک 1 میں ایک پلاٹ کی راہ نکل آئی۔ اس علاقے میں 240 گز کے پلاٹ کی قیمت 25 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس مکان کا بیعانہ دس ہزار روپے ادا کیا گیا، بقایا رقم کاغذات مکمل ہونے پر ادا کرنی تھی۔ ابا جان کو جب اس کا پتا چلا تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھی وہ جگہ دکھلائو جہاں یہ پلاٹ خریدا جا رہا ہے۔ نثار بھائی اورامی انہیں لے کر کلفٹن کے بلاک نمبر1 لے گئے جہاں ابھی صرف پلاٹنگ ہوئی تھی اور تعمیرات شروع نہیں کی گئی تھیں۔ ریت کے اس میدان کودیکھ کر والد صاحب بہت ناراض ہوئے اورحکم جاری کردیا کہ کوئی ضرورت نہیں اس ریگستان میں پلاٹ خریدنے کی۔ جب انہیں بتایا گیا کہ بیعانہ کی رقم ادا کی جا چکی ہے تو انہوں نے کہا دس ہزار ضائع کر دو مگربقایا پندرہ ہزار مت ادا کرو یہ رقم ضائع ہوجائے گی، لیکن امی اپنے فیصلے پر جمی رہیں۔ تمام تر مخالفت کے باوجود یہ پلاٹ خریدلیا گیا۔ آج بھی جب کبھی امی کے اس فیصلے کو سوچتا ہوں تو ان کی نظر کی وسعت اور کمال فیصلہ سازی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

چند ہی برسوں میں یہ علاقہ نہایت عمدہ سوسائٹی میں تبدیل ہوگیا اور 25 ہزار میں خریے گئے پلاٹ کی قیمت لاکھوں میں پہنچ گئی۔ چار سال بعد 1979ء میں اس پلاٹ پر تعمیر کا آغاز کیا گیا جودو سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیرمیں تعاون کے لیے رب نواز بھائی جان نے جو کردار ادا کیا اس پرایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔ مختصراً یہ کہ اگر رب نواز بھائی جان نہ ہوتے توشاید اتنا عمدہ مکان اس کم رقم میں ہم کبھی بنا ہی نہیں پاتے۔ 1981ء میں ہم لوگ کیماڑی کے دو کمروں کے کوارٹر سے کلفٹن کے سات کمروں کے دو منزلہ مکان میں منتقل ہوگئے۔ اب ہمارے ابا جان اس گھر کو جنت کہنے لگے اورمیری امی کی فیصلہ سازی اور بالغ نظرری کے قصیدے پڑھنے لگے۔ وہ واقعی اس سے کئی گنا داد کی حقدار تھیں۔

1981ء میں اس گھر میں آنے کے بعد نثار بھائی جان کی شادی کی گئی اورباعزت طریقے سے دلہن کو اس خوبصورت گھر میں بسایا گیا، یہ تمام سوچ اور فیصلہ سازی اس عورت کی مرہون منت ہے جس کی تعلیم اور تربیت وقت کے بے رحم ہاتھوں نے کی، جو زمانے کے نشیب وفراز سے نہ جانے کس وقت روشناس ہوئی کہ اس نے ہم تمام گھروالوں کی زندگی کے لیے نہایت دور رس اور درست فیصلے تن تنہا کیے اور نہ صرف فیصلے کیے بلکہ ان پر نہایت دل جمعی کے ساتھ عمل درآمد بھی کیا۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں، ایک مثال میری ذات اور میرے کیریئر سے متعلق ہے۔

انٹر کا رزلٹ آیا تو میرے 68 فیصد نمبر تھے۔ میں چند نمبروں سے میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم رہا، جس کا دکھ مجھ سے زیادہ امی کو ہوا۔ میرے نمبروں پر انہیں کوئی دکھ نہیں تھا کیوں کہ دو سال پہلے تنویر بھائی کا 63 فیصد نمبروں پر میڈیکل کالج میں داخلہ ہوچکا تھا۔ میں نے بی ڈی ایس کے لیے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں بھی فارم جمع کرایا ہوا تھا، اس کے داخلے لسٹ میںمیرا میرٹ پر نام آ گیا اور میں نہایت خوش ہوا۔ امی کو بتایا کہ میرا بی ڈی ایس میں داخلہ ہو گیا ہے اور میں جامشورو میں پڑھوں گا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا ہوتا ہے میں نے اور تنویر بھائی نے انہیں سمجھایا کہ یہ بھی ڈاکٹر ہی کا کورس ہے اوراس کی تعلیم کے بعد میں دانتوں کا ڈاکٹر بن جائوں گا۔ یہ سنتے ہی امی نے اپنا منہ پیٹنا شروع کردیا اور چلّا چلّا کر کہنے لگیں ’بھلا کہ دانتوں کا ڈاکٹر بھی کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے؟ دانتوں کے ڈاکٹروں کو تو میں ڈاکٹر ہی تسلیم نہیں کرتی‘۔ میں نے اور تنویر بھائی نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس فیلڈ کی تمام دنیا میں بہت قدر ہے اور بی ڈی ایس بھی اتنا ہی باعزت ڈاکٹر ہے جتنا کہ ایم بی بی ایس۔ اس پر انہوں نے فیصلہ سنادیا کہ مجھے سمجھانے کی کوشش نہ کریں۔ سجاد کو دوبارہ انٹر کا امتحان دینا ہو گا، مجھے سجاد کو ایم بی بی ایس والا ڈاکٹر بنانا ہے، دانتوں کا ڈاکٹر نہیں۔ اس کے لیے ان کی منطق بڑی عجیب تھی اوروہ یہ کہ ڈاکٹر صرف وہ ہوتا ہے جس کے گلے میں ٹوٹیاں (Stetheoscop) ہوتی ہیں۔ میں نے اس بات پر امی سے شدید احتجاج کیااور اپنا آخری فیصلہ سنادیا کہ میں ہرگز انٹرکا امتحان دوبارہ نہیں دوں گا۔ 68 فیصد پر رِپیٹ کرکے میں کیا تیر چلالوں گا اور یہ کہ میں دوبارہ اس سے زیادہ محنت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے میرا تمام شور شرابہ اس طرح اطمینان سے سنا، میرے احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں دی اور اپنے موقف پر قائم رہیں سجاد کو امتحان دوبارہ دینا ہوگا۔ دوبارہ امتحان دینے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ میرے تمام شور شرابے کے جواب میں وہ کچھ نہیں کہتی تھیں۔ ایک دن جب میں بہت چلّا چلّا کر بی ڈی ایس کے داخلے پر اپنا مقدمہ لڑرہا تھا تو انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور رونے لگیں، اتنا روئیں کہ میری برداشت سے باہر ہو گیا۔ کہنے لگی بیٹا تمہاری محنت پر کوئی گلہ نہیں، تمہارے نمبروں پر کوئی شکوہ نہیں، میں سمجھ سکتی ہوں کہ تم اس وقت کس تکلیف میں ہو، مگر میں تمہیں اپنی ممتا کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ انٹر کا امتحان دوبارہ دے دو۔ چاہے تم دوبارہ کتاب کھول کے بھی نہ پڑھو مجھے یقین ہے کہ تم میری دعائوں سے ضرور ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کر لو گے۔ میرے پاس سوائے رضامندی کے اورکوئی راستہ نہیں تھا۔

انٹر کے دوبارہ امتحان کے لیے فیس بھری جا چکی تھی۔ اس بات کا انکشاف ماں جی نے میرے راضی ہونے کے بعد کیا اور بتایا ایک ہفتہ پہلے امی اور تنویر بھائی نے میری فیس جمع کروادی تھی۔ انٹر کے دوبارہ امتحان میں تین ماہ اور کچھ ہی دن رہ گئے تھے، میں نے بے دلی کے ساتھ دوبارہ نوٹس پڑھنا شروع کردیے، اُدھر امی ساری رات مصلّے پر میرے لیے دُعائوں میں مصروف ہو گئیں۔ عموماً میں رات کو دیر تک پڑھتے ہوئے جب کبھی امی کے کمرے کی طرف جاتا تو انہیں مصلّے پر پاتا، مصلّے کے دونوں کناروں پر ماچس کی تیلیاں رکھی ہوتی تھیں، جس کے بارے میں میں نے کبھی ان سے سوال نہیں کیا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ یہ تیلیاں انگنت نفلوں کوشمار کرنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ تین ماہ کس تیزی سے گزرگئے اور میں نے انٹر کے پیپر دوبارہ دینے شروع کردیے۔ ہر پرچے کے دن امی مجھ سے زیادہ پریشان رہتیں۔ پرچہ دینے جانے سے میرے واپس آنے تک نہ جانے وہ کس کس طرح اپنے رب کو اپنی ممتا کا واسطہ دے کر میرے لیے گڑگڑاتی رہیں، اس کا اثر مجھے اپنے ہر پرچے میں محسوس ہوا۔ جس اطمینانِ قلب کے ساتھ میں نے انٹر کے وہ پرچے دیے، مجھے یاد نہیں کہ پہلے یا بعد میں، میں نے کبھی اس طرح امتحان دیا ہو۔ پھر وہ دن بھی آگیا جب میرا نتیجہ آیا اورمیرٹ لسٹ کے حساب سے میرا میڈیکل کالج میں داخل ہوگیا۔ وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا، جب میرٹ لسٹ کے مطابق داخلہ پانے والوں کے گھروں پرخط بھیجے گئے تھے کہ آپ کا میرٹ لسٹ میں فلاں نمبر ہے، اورنام کی جگہ ڈاکٹر سجاد احمد لکھا ہوا تھا۔ اس کاغذ کے ٹکڑے کو میری ماں نے اس طرح چومنا شروع کیا جیسے وہ کسی مقدس کتاب کا صفحہ ہو۔ ان کے چہرے کی وہ کیفیت اور خوشی میری زندگی بھر کا حاصل تھی۔ قلم ان کے چہرے کی خوشی کے تاثرات کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ اس تمتماتے چہرے کو دیکھنے کے لیے مجھے اگر سوبار بھی رپِیٹ کرنا پڑے تو میں تیار ہوں۔ میں آج بھی وہ دن، وہ چہرا، وہ آنکھیں، وہ خوشی، وہ کامیابی محسوس کرسکتا ہوں۔ یہ تھی وہ ماں جس نے اپنی پسند اور اپنی سوچ کو تمام تر تکلیف کے باوجود پروان چڑھایا اور اپنی اولاد کے لیے وہ سب کچھ کیا جو کسی بھی انسان سے ممکن ہوسکتا ہے۔ میں اپنی زندگی کی تمام تر توانائیوں اور صلاحیتوں کو ان کی ایک رات کی دُعائوں اور التجائوں کو ہزاربار قربان کر کے بھی اس مقدس ماں کے احسانوں کا بدلہ چکانے سے قاصر ہوں۔

آج جب میں عملی زندگی میں بحیثیت ڈاکٹر پریکٹس کررہا ہوں ہر روزان کی باتوں کو یاد کرتا رہتا ہوں۔ میرے کلینک پر مریض دوردراز علاقوں سے سفر کرکے آتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں ماہر پروفیسر کے نسخے ہوتے ہیں اوروہ تمام رپورٹ اور نسخے میری میز پر رکھے مجھ سے کہتے ہیں کہ اس مریض کی دوا تجویز کریں۔ میں حیرت سے انہیں دیکھتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ اس مریض کو تو بہت اچھے اور قابل ڈاکٹر صاحب نے دیکھا ہے، ا ور تمام دوائیں بھی میرے حساب سے درست تجویز کی ہیں۔ میں تو ایک معمولی سا ڈاکٹر ہوں۔ اس پروفیسر صاحب کے مقابلے میں میری رائے اور تجویز کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ لیکن میرے مریض کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب آپ کے ہاتھوں میں شفا ہے جب تک آپ دوا نہیں لکھیں گے، ہمیں تسلی نہیں ہوگی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا لکھوں، لیکن مریض تو مریض ہوتا ہے اس کی تسلی اور تشفی کے لیے بہرحال نسخہ لکھنا ہی پڑتا ہے۔ اورسچ تو یہ ہے کہ میرا نسخہ بھی تقریباً وہی ہوتا ہے جو کہ پروفیسر صاحب لکھ چکے ہوتے یں۔ چند دنوں بعد وہی مریض تندرست ہوکر آتے ہیں اور میرے ہاتھوں کی شفا کی کہانی دوہراتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں ایسا کیوں ہے تو اکثر اوقات مجھے وہ راتیں یاد آجاتی ہیں جب امی جان کی طبیعت بہت بگڑجاتی تو میں راتوں کو ان کے کمرے میں ہی ان کے پاس سوجاتا تاکہ انہیں رات کے پچھلے پہر کی دوا اور انجکشن وقت پر دے سکوں، درمیانی شب یا شب کے آخری حصے میں میں جب کبھی انہیں انجکشن لگاتا تو وہ میرا ہاتھ چوم لیتیں اور کہتیں بیٹا تمہارے ہاتھوں پر نور کی بارش ہو۔ تم انجکشن لگاتے ہو تو مجھے ذرا برابر تکلیف نہیں ہوتی ہے۔ یہ سب ان کی دعائوں کا نتیجہ ہے کہ مجھ جیسے ایک عام ڈاکٹر کے ہاتھوں میں مریضوں کو شفا محسوس ہوتی ہے ورنہ مجھ جیسے ہزاروں ڈاکٹر اس شہر میں کام کررہے ہیں۔ میں اپنی تمام کامیابیوں کوصرف اور صرف اپنی ماں کی دعائوں کا نتیجہ سمجھتا ہوں اور اس پر اس حد تک یقین رکھتا ہوں کہ ان دعائوں کے اثر کو محسوس کرتا ہوں۔

تنویر بھائی اور میری ہمیشہ سے بڑی دوستی رہی۔ ہم دونوں کی عمرمیں بھی تقریباً دوسال کا فرق ہے، شاید اس وجہ سے بھی ہم ایک دوسرے سے کافی قریبی رہے۔ بچپن میں تنویر بھائی کو کہانیاں پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق رہا۔ قصہ گل بکائولی سے لے کر حاتم طائی تک کی تمام کہانیوں کی سینکڑوں کتابیں انہوں نے پڑھ ڈالی تھیں، کوئی ڈائجسٹ ہو وہ کہیں نہ کہیں سے تنویر بھائی حاصل کرکے پڑھ لیتے تھے۔ امی جان چوں کہ پڑھی لکھی نہیں تھیں اس لیے وہ سمجھتی تھیں کہ بیٹا بہت خوش دلی سے پڑھائی کر رہا ہے۔ ایک دن جب کسی بات پر میری تنویر بھائی سے لڑائی ہوئی تو میں نے امی جان کو بتایا کہ یہ حضرت جو دن رات پڑھتے رہتے ہیں یہ اسکول کا نصاب نہیں بلکہ کہانی کی کتابیں اور ڈائجسٹ ہیں جس کا یہ مطالعہ فرماتے ہیں، بس پھر کیا تھا ایک قیامت تھی جو تنویر بھائی پر ٹوٹ پڑی۔ مجھے یاد ہے اس دن تنویر بھائی کے اسکول بیگ سے تمام کہانیوں کی کتابوں کو تندور کی نذر کر دیا گیا اور تنویر بھائی کی جس طرح دھلائی کی گئی وہ ناقابل بیان ہے۔ اس عمل سے میں امی کا خفیہ ایجنٹ بن گیا اور میری یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ اسکول اور گھر میں جب کبھی یہ موصوف کوئی غیرنصابی کتاب حاصل کریں امی کو اس کی اطلاع دوں۔ تنویر بھائی اس کہانیوں کی کتابوں کی لت میں اس طرح پڑ چکے تھے کہ ان سے چھٹکارا پانا ناممکن نظر آتا تھا چنانچہ روزانہ کی بنیاد پر کہانی کی کتابیں جلائی جاتیں اور اگلے روز پھر کوئی نئی کتاب ان کے بیگ سے برآمد ہو جاتی۔ تنویر بھائی یہ کتابیں کہاں سے حاصل کرتے تھے، امی نے یہ نیا کام مجھے دیا اور میں نے کچھ ہی دنوں میں پتا لگا لیا کہ ان کا ایک کلاس فیلو امجد ہے اورامجد کے والد کی لائبریری ہے۔ یہ لائبریری کرایہ پر ہر قسم کی کتابیں مہیا کرتی تھی۔ بس یہ اطلاع جب امی کو ملی تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا اورسیدھا امجد کے گھر پہنچ گئیں اورامجد اور ان کے والد صاحب کی وہ کلاس لی کہ تمام محلے والوں نے دیکھا، وہ دن تنویر بھائی اورامجد کی دوستی کا آخری دن تھا۔ امجد اوراس کے گھر والوں نے تنویربھائی کا ان کے گھر آناجانا بند کر دیا اور امجد نے بھی تنویر بھائی سے تعلق ختم کرلیا۔ یہ وہ وقت تھا جب تنویر بھائی نویں کلاس میں تھے۔ امی جان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ سال بورڈ کے امتحان کا سال ہے، انہوں نے تنویر بھائی کو اس سے چھٹکارا دلانے کے بعد نصابی کتابوں کی طرف راغب کرنا شروع کیا، اب میں سوچتا ہوں انہوں نے کس طرح تنویر بھائی کی خدمتیں کرنا شروع کیں اور تمام مارکُٹائی ختم کر کے روزانہ رات بادام، پستہ دودھ میں اُبال کر انہیں پیش کرتی تھیں۔ تنویر بھائی سے ان کا سلوک اب اتنا شفیق ہوگیا کہ میں اس سے جیلس ہونے لگا اور وہ تنویر کو تنویر کے بجائے ڈاکٹر تنویر کہہ کر بلانے لگیں۔ میں آج بھی حیران ہوجاتا ہوں اپنی ماں کی سوچ پر۔ انہوں نے نویں کلاس سے ہی تنویر بھائی کو یہ بتادیا کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے اور یہ تمام محبتیں صرف اس لیے ہیں کہ تم تعلیم کے میدان میں کچھ کر کے دکھائو اور اس کے لیے انہوں نے گھر میں تنویر کی بہت خاطر مدارتیں کیں۔

امی کی محبت بھری کوششیں رنگ لائیں اور میٹرک میں تنویر بھائی فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئے۔ امی جان کی خوشی دیدنی تھی۔ تنویر ڈاکٹری کی پہلی سیڑھی پھلانگ چکا ہے، یہ میری امی کا جملہ تھا، تنویر بھائی کے لیے اب اگلی سیڑھی اس سے زیادہ مشکل ہے، تنویر اب تمہیں نہ صرف فرسٹ کلاس لانی ہے بلکہ نمبر بھی اتنے اچھے ہوں کہ تمہارا میرٹ میں نام آجائے اور تم میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرسکو۔ اب تنویر بھائی پر امی کی شفقت اور مہربانیاں اور زیادہ ہوگئیں ان کے کھانے کی تیاری ان کی فرمائش کے حساب سے ہونے لگی۔ دودھ، بادام اور پستہ کی اضافی خوراک زبردستی امی جان تنویر کے لیے بناتی۔ ان کا خیال تھا اس سے تنویر کی ذہنی قوت میں اضافہ ہوگا اوروہ بہتر طورپر امتحان کی تیاری کرسکے گا۔ انٹر کے ان دو سالوں میں تمام تر غربت کے باوجود تنویر بھائی کو وی وی آئی پی، خوراک اور سہولت دی جاتی تھی۔ تنویر کوامی جان صبح سویرے فجر سے پہلے جگا دیتیں اور بھرپور ناشتہ کروا کر اسے پڑھنے کے لیے کہتیں، ان کی منطق تھی فجر سے قبل کا وقت نہایت سکون کا ہوتا ہے اور اس وقت کی پڑھائی ذہن نشین رہتی ہے اس لیے تنویر بھائی کو فجر سے قبل ہی جگا دیا جاتا تھا۔ تنویر بھائی اس دور میں کافی مذہبی ہو گئے تھے، تمام نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور کبھی کبھار تبلیغ کے کام میں بھی چلے جاتے تھے، ان کی نئی نئی داڑھی کے چند بال صرف ٹھوڑی پر تھے۔ مذہبی عقیدت کی وجہ سے انہوں نے ان چند بالوں کو ہی محبت کے ساتھ سنبھال کررکھا تھا۔ امی جان نے انہیں کئی بار کہا کہ جب تک مکمل داڑھی نہ آجائے یہ بال کاٹ دو مگر تنویر بھائی نہ مانے۔ ایک دن امی نے تنویر بھائی سے کہا کہ اگرتم یہ بال نہیں کاٹو گے تو میں سوتے میں خود کاٹ ڈالوں گی، مجھے یاد ہے تنویربھائی نے نہایت غصے میں کہا کہ اگر آپ نے ایسا کیا تومیں پڑھائی چھوڑنے کے ساتھ ساتھ گھر بھی چھوڑ دوں گا۔ یہ نہایت خطرناک دھمکی تھی، امی جان نے وقت کی نزاکت کو محسوس کیا اور بُردباری سے انہیں انٹر کے امتحان کی تیاری میں اتنا مصروف کر دیا کہ وہ تبلیغ کی سرگرمیوں سے دور ہو گئے۔

وہ دن آگیا جب ان کا انٹر کا نتیجہ آیا اور میرٹ پر تنویر بھائی کا سندھ میڈیکل کالج میں داخلہ ہوگیا۔ میرے خیال میں تنویر بھائی سے کئی گنا زیادہ امی اس کامیابی پر خوش تھیں اور یقیناً یہ اُن ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ تنویر بھائی قصہ گل بکاؤلی سے نکل کر اناٹومی اور فزیالوجی پڑھنے لگے۔

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ تعلیم کے حصول میں امی جان نے کبھی بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق نہیں کیا۔ اس طرح وہ دونوں کے لیے علمی زندگی میں بھی ان صلاحیتوں کے استعمال پر یقین رکھتی تھیں۔ بی ایڈ کے امتحان کے بعد رفعت باجی کی شادی ابا جان نے اپنی بہن ( میری پھوپھی) کے بیٹے سے طے کردی، اس پر بھی امی نے میری پھوپھی سے دو شرائط رکھیں، پہلی یہ کہ پھوپھی اپنا ذاتی گھر خریدیں اور دوسری یہ کہ رفعت باجی جو اس وقت بطور اسکول ٹیچر پڑھا رہی تھیں شادی کے بعد بھی اپنی ملازمت اسی طرح کرتی رہیں گی اور شوہر یا سسرال رفعت باجی کی ملازمت پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ یہ شرط بڑی کڑی تھی۔ پھوپھی اور ان کے گھر والے اس کے حق میں نہیں تھے کہ رفعت باجی شادی کے بعد ملازمت کریں لیکن امی نے اس شرط کو شادی کے لیے لازمی قرار دیا اور بالآخر انہیں اس پر راضی ہی ہونا پڑا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کا یہ فیصلہ کتنا دُور رس تھا۔ باجی نے سردار نواز بھائی جان کے ساتھ مل کر نہ صرف اپنے گھر کو بہتر طریقے سے چلایا بلکہ اپنے بچوں کی بھی نہایت اعلیٰ تربیت کی۔ امی کی خواہش کے مطابق رفعت باجی کی بڑی بیٹی نے ڈاکٹری کا کورس مکمل کیا اور گزشتہ سال انگلینڈ سے ایم آرسی پی کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ آج بڑی امی تو موجود نہیں مگر ان کے کیے ہوئے فیصلے نئی نسل کو بہرہ مند کررہے ہیں۔ ایک اچھی سوچ اور ایک اچھا فیصلہ نسلوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ میں اپنی ماں کے کیے ہوئے فیصلوں پر جب بھی سوچتا ہوں حیرانی کی حد تک داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ فیصلہ سازی کی بات چل رہی تو میں چاہوں گا یہاں پر امی جان کی بالغ نظری کا یہ رُخ بھی بیان کروں کہ جب انہوں نے اپنے فیصلوں پر اپنی اولاد کے فیصلوں کو ترجیح دی تاکہ ان کا مستقبل بہتر گزرسکے۔ یہاں میں ایک بار پھر اپنی ہی زندگی کے نہایت اہم واقعہ کا ذکر کروں گا۔

امی کا خاندان ایک بہن اور دو بھائیوں پر مشتمل تھا (گلزار خالہ، خورشید ماموں اور نصیر ماموں) خورشید ماموں ایک مجذوب انسان تھے، ساری زندگی ہمارے ساتھ رہے۔ گلزار خالہ حیدرآباد میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھیں جب کہ نصیر ماموں انگلینڈ میں رہتے تھے۔ امی جان اور نصیر ماموں میں بڑی محبت تھی۔ 1985ء میں نصیر ماموں اپنی دو صاحبزادیوں کے ہمراہ پاکستان آئے تھے، مجھے نہیں معلوم کس وقت امی اور نصیرماموں نے یہ طے کرلیا کہ میری اور تنویر بھائی کی شادی نصیرماموں کی دونوں بیٹیوں سے کردی جائے گی۔ اس بات کی خبر جب مجھے ملی تو میں نے اس رشتے سے انکار کردیا، کیونکہ میں کالج میں اپنی کلاس فیلو کو پسند کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ میری شادی میری مرضی سے ہو۔ امی جان کو جب میرے انکار کا پتا چلا تو میرا خیال تھا کہ بڑا ہنگامہ ہوگا کیوں کہ امی نصیرماموں سے شدید محبت کرتی تھیں اور وہ کسی صورت یہ برداشت نہیں کرسکتی تھیں کہ ان کا بھائی ناراض ہو۔ مگر سوچ کے برخلاف انہوں نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا اور مجھے اکیلے میں بیٹھا کر کہا کہ اگر یہ تمہارا اٹل فیصلہ ہے تو مجھے تمہارے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں صرف یہ کہنا ہے کہ تم اس لڑکی کو ہماری حیثیت سچائی کے ساتھ بتانا، ہم لوگوں کے رہن سہن اور ہماری مالی حیثیت میں تم کوئی جھوٹ شامل نہ کرنا۔ میں نے ان سے اس بات کا وعدہ کیا اور سچ تو یہ ہے کہ میں تمام حالات پہلے ہی بتا چکا تھا کیوں کہ زندگی میں مضبوط رشتے صرف اور صرف سچائی ہی کی بنیادوں پر قائم رہ سکتے ہیں لہٰذا اس میں جھوٹ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ خیر امی نے نہ صرف یہ کہ میری حمایت کی بلکہ ابا جان اور بہنوں کو بھی اس بات پر راضی کیا کہ یہ سجاد کی اپنی زندگی کا فیصلہ ہے ہمیں اس میں اس کے ہر جائز مطالبے کی حمایت کرنی چاہیے اور بلاوجہ کے تمام اعتراضات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نصیر ماموں کو یہ بات بتانا بہت مشکل کام تھا اور کوئی یہ ہمت نہیں کررہا تھا کہ رشتے سے انکار والی بات ماموں جان سے کی جائے۔ امی نے نصیر ماموں سے خود بات کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں بتایا کہ اس طرح سجاد اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے لہٰذا تنویر اور ساجد (میرے چھوٹے بھائی) کا رشتہ ان کی دونوں صاحب زادیوں سے کرنا ہو گا۔

نصیر ماموں کو یہ تجویز پسند نہیں آئی اور وہ ناراض ہوکر واپس انگلینڈ چلے گئے۔ ان دنوں امی جس اضطرابی کیفیت میں تھیں، میں اس کو سمجھ سکتا تھا مگر نہ ہی میں نے اس بارے میں کوئی سوال کیا اور نہ ہی انہوں نے مجھ پر کسی صورت یہ ظاہر ہونے دیا کہ میری وجہ سے ان کا بھائی ان سے ناراض ہوگیا ہے۔ لیکن میں امی کے اس دُکھ کو محسوس کرسکتا تھا۔ بہرحال چونکہ میرے پاس بھی واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا لہٰذا اس تکلیف کے ساتھ ہی وقت گزارنا تھا۔ امی نے آنے والے وقتوں میں ـ(میری شادی کے بعد) جس محبت سے میری بیوی کا خیال رکھا وہ بیان سے باہر ہے۔ شاد نہ صرف ان کی سب سے چہیتی بہو ثابت ہوئیں بلکہ امی کے ساتھ شاد کی دوستی مجھ سے زیادہ ہوگئی جس میں امی کی محبتوں کے ساتھ ساتھ شاد کے خلوص کا بھی بڑا حصہ ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہماری شادی کے بعد میرے یا شاد کے کسی دوست کے ہاں اگر کسی تقریب میں ہم مدعو کیے جاتے تو شاد ہمیشہ امی کو پہلے سے تیار کرلیتیں کہ ہمارے فلاں دوست کے گھر پر تقریب ہونے والی ہے اور آپ نے ہمارے ساتھ جانا ہے۔ شروع شروع میں امی ہمارے ساتھ جانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتیں لیکن شاد کے مسلسل اصرار پر وہ ہمارے ساتھ جانے لگیں اور ایک وقت تو یہ آیا کہ ہمارے تمام دوست امی سے متعارف ہوگئے۔ وہ ہر تقریب میں ان سے کافی گھل مل کر باتیں کرتیں۔ عموماً گھر میں شاد اور امی ہمارے دوستوں کے متعلق اس طرح باتیں کرتی تھیں جیسے امی بھی ہماری کلاس فیلو رہی ہوں۔ مجھے شاد اور امی کی یہ دوستی ہمیشہ پُرسکون رکھتی۔ نصیرماموں کے معاملے میں امی کو جو تکلیف ہوئی میں اس دوستی کو اس کا مداوا خیال کرتا ہوں۔

تقریباً آٹھ سال بعد امی جان نے نصیرماموں کو انگلینڈ فون کیا۔ اس وقت تک ان کی بیٹیوں کی بھی شادی ہوچکی تھی۔ میں اس فون کال کو کبھی نہیں بھول سکتا کیوں کہ اس کال میں امی نے نصیر ماموں کو نہ صرف راضی کرلیا بلکہ ان پر یہ بھی باور کروایا کہ سجاد کا فیصلہ اور ان کی (امی) کی حمایت ایک درست قدم تھا، انہوں نے نہ صرف شاد کی بہت زیادہ تعریف کی بلکہ شاد کی نصیر ماموں سے بات چیت بھی کروائی۔ نصیرماموں نے مجھ سے بھی بات کی اور ہمیں ڈھیروں دعائیں دیں۔

یہ تھیں ہماری بڑی امی! جیسا کہ میں نے ابتداء میں لکھا تھا وہ تھیں بھی ’’بڑی سوچ کی مالک اور بڑی نبض شناس‘‘، جہاں اپنے فیصلے کی ضرورت کو اہم سمجھا، وہاں اپنے فیصلے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور ڈٹ گئیں۔ جہاں یہ سمجھا کہ اولاد کا فیصلہ ان کا حق ہے، وہاں تمام تر مشکلات، جھیل گئیں اور اولاد کے لیے ڈٹ گئیں۔

سلام بڑی امی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “بڑی امی

  • 15-07-2016 at 12:54 pm
    Permalink

    یادوں کی مہکتی مٹی سے گندھا خوبصورت خراجِ تحسین ۔۔۔ لیکن ! “بڑی امی” کے آخری ایام کے احوال اور احساس کے حوالے سے کچھ کمی محسوس ہوئی جس کا ذکر آپ نے بھی اپنی اس تحریر کی اولین سطروں میں کیا۔ امید ہے کہ جلد ہی اس بارے میں اپنی یادیں شئیر کریں گے۔ انتظار رہے گا۔

  • 20-07-2016 at 4:57 am
    Permalink

    Bohat khoob, mza aa gya kasam se

Comments are closed.