آغا ناصر۔۔۔ گم شدہ لوگ، گلشنِ یاد، اور ہم


\"zeffer05\"جمشید فرشوری کی فون کال تھی، \’تمھاری شادی کی تاریخ کیا ہے؟\’ میں نے بتایا، تو کہنے لگے، \’تمھارا نام بھیجا تھا، پروگرام پروڈیوسر کے تربیتی کورس میں؛ چلو رہنے دو، یہ تو وہی تاریخ ہے، جو تمھاری شادی کی۔۔۔ میں نے بے چینی سے کہا، سر مجھے یہ کورس کرنا ہے۔ انھوں نے میری ضد کے آگے ہار مان لی؛ ولیمہ بھگتا کر اگلے ہی روز میں پی ٹی وی اکیڈمی، اسلام آباد کے کلاس روم میں تھا۔ اس کورس کی سربراہی غفران امتیازی، اور آغا ناصر کر رہے تھے۔ تینوں محترم نام اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

آغا ناصر سرو قامت، قد آور شخصیت تھے؛ تصور کرتا ہوں، تو کلاس روم کے بائیں ہاتھ پہ رکھی کرسیوں پر، اپنی دھیمی اور دل آویز مسکان لیے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں؛ بالکل جیتے جاگتے۔

بہت سے قارئین نے \’تعلیم بالغاں\’ کا نام سنا ہوگا؛ بطور ہدایت کار، اور پروڈیوسر یہ ان کی شناخت بنا۔ تربیت کے دوران جب یہ پروگرام ہمیں دکھایا گیا، تو میں آغا ناصر پر نظریں جمائے رہا، اس وقت ان کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ تھی، جو کام یاب افراد میں عاجزی کی علامت ہوتی ہے۔ انھوں نے طالب علموں کو بتایا، کہ جب یہ پروگرام رِکارڈ کیا گیا، ان دنوں پی ٹی وی کے کیا وسائل تھے، اور کیسی مشکلات تھیں۔ یہ سب تکنیکی باتیں ہیں، جنھیں یہاں بیان کرنے کا محل نہیں۔

فن کی رمزیں سمجھاتے آغا ناصر نے کہا، کہ پی ٹی وی کا سنہرا دور وہ تھا، جب ضیا الحق کی حکومت تھی؛ سخت سینسر شپ کا سامنا تھا؛ ایسے میں ہمیں جو کہنا تھا، وہ ہم ضرور کہتے تھے، لیکن ایسے کہ سینسر کی زد پہ نہ آے۔ خلاصہ یہ بیان کیا کہ آرٹ ہوتا ہی کنائے میں ہے۔ ٹیلے ویژن پروگرام ناظرین کی نفسیات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں، اس کی مثال دیتے، انھوں نے ضیا الحق ہی کے دور کی یہ بات بتائی، کہ انھیں (آغا ناصر کو) \’اوپر\’ سے آرڈر ملا، سرکاری ٹی وی پر ریسلنگ دکھائی جاے؛ بہ قول ان کے یہ نپی تلی منصوبہ بندی تھی، کہ اس طرح گھٹے ہوے ماحول میں پرورش پاتے عوام کے اندر چپ چاپ سلگتے لاوے کا رخ موڑا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں، میں دھندلا سا بھی دیکھوں، تو معلوم ہوتا ہے؛ اس دور کے ٹیلے ویژن ڈراموں میں جاگیردار، وڈیرا، پولِس اور دیگر کو دانستہ \"Aghaبدعنوان دکھایا گیا۔ دوسری طرف ایسے ترانے، اور ملی نغمے نشر ہوے، جو پاک فوج کی عظمت بیان کرتے تھے۔ \’کرکٹ ڈپلومیسی\’ دراصل عوام کی توجہ بٹانے کا نسخہ تھا؛ جسے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے؛ حکم ران خوش ہوتے ہیں، رعایا اپنے سلگتے مسائل پہ غور کرنے کے بہ جاے، کرکٹ کی سیاست پر بات کرتے رہیں۔ \’پناہ\’ ڈراما تو بہت سوں کو یاد ہوگا؛ یہ پروپگنڈا کی عمدہ مثال ہے۔ ایک پوری نسل ایسی تیار ہو گئی، جسے جہاد اور فساد کا فرق ہی نہیں معلوم ہو سکا۔ خیر بات ہو رہی تھی، آغا ناصر کی۔

تھیوری ختم ہوئی تو مجھے میوزک وِڈیو کی اسائنمنٹ ملی۔ نیرہ نور کی آواز میں احمد شمیم کی نظم \’کبھی ہم بھی خوب صورت تھے\’ کو فلم بند کرنا تھا۔ اسائنمنٹ لے کر آغا ناصر کے سامنے پیش ہوا؛ انھوں نے بہت سے سوالوں میں سے ایک یہ پوچھا، \’اگر آپ کو موسیقی کا انتخاب کرنے کا موقع دیا جاتا، تو آپ کیا منتخب کرتے؟\’ میں نے ایک لمحہ سوچے بہ غیر جواب دیا، \’یا تو قومی ترانے کو نئے انداز میں فلم بند کرتا، یا اذان کا انتخاب کرتا۔\’۔۔۔ توقف کرتے اپنے مخصوص انداز میں مسکراے؛ پھر گویا ہوے، \’قومی ترانے کو تو آپ سرکاری اجازت کے بغیر فلم بند نہیں کر سکتے؛ اور یہ جو آپ نے کہا، کہ اذان۔۔۔ تو یہ بات آپ نے مجھ سے کہی ہے؛ باہر کسی اور سے مت کہیے گا۔\’

ان کے انتقال  کی خبر ملی، تو من پہ ایک بوجھ سا محسوس ہوا؛ حق مغفرت کرے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 151 posts and counting.See all posts by zeffer-imran