بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی


\"adnanبھیا ڈھکن فسادی تڑاک سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اندر آتے ہی بولے \”بس آج تو فوراً ہی منہ میٹھا کرا دو۔ ہم تو فسق و فجور میں پڑی ہوئی اور لہو و لعب میں ڈوبی ہوئی اس قوم سے مایوس ہو چلے تھے لیکن شکر ہے کہ ابھی بھی اس تن مردہ میں کچھ جان باقی ہے\”۔

یہ کہہ کر وہ فوراً فرج پر ٹوٹ پڑے اور جلد ہی وہ میز پر بیٹھ کر چار کلو آموں کو تن تنہا کھانے میں مشغول ہو گئے۔

\”کیا ہوا بھیا۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟\”

\”میاں تمہارے بھائی نے آخر کار گاڑی خرید ہی لی۔ اور اس پر پہلی ہی سواری بہت مبارک ثابت ہوئی\”

\”گاڑی خرید لی؟ وہ کیسے؟ جب پچھلے ہفتے آپ کے ایک قریبی دوست نے آپ سے قرضہ مانگا تھا تو آپ تو بتا رہے تھے کہ آج کل ہاتھ بہت تنگ ہے؟\”

\”میاں وہ پچھلے ہفتے کی بات ہے۔ اس کے بعد ایک اجتماع میں بھائیوں سے کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا تو رزق میں الحمداللہ بہت فراخی آ گئی ہے\”

\”وہ کیسے بھیا، کچھ ہمیں بھی پتہ چلے تاکہ ہم بھی اپنے حالات کو بہتر کر سکیں؟\”

۔\”میاں تم نے شہر کی مصروف ترین مون مارکیٹ میں وہ پلاٹ تو دیکھا ہی ہو گا جو بے کار پڑا ہوا تھا اور کسی استعمال میں نہیں تھا۔ بس بلدیہ نے کچھ گھاس پھونس لگا دی تھی جہاں بے فکرے ہر وقت مختلف کھیل کود کرتے رہتے تھے اور عاقبت سے غافل تھے؟ الحمداللہ پچھلے مہینے ہم چند بھائی وہاں جمع ہوئے اور وہیں ایک عظیم الشان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے\”۔

\"bhaya\”بھیا وہ تو بچوں کے کھیلنے کا پارک تھا۔ مون مارکیٹ میں تو ایک بڑی مسجد پہلے ہی موجود ہے۔\”

\”میاں وہ مسجد غلط مسلک والوں کی ہے۔ وہ دین کے نام پر گمراہی پھیلا رہے ہیں ۔ اب انشااللہ وہاں کے لوگ بھی ہمارے سے صراط المستقیم سیکھیں گے\”

\”لیکن بھیا، آپ نے دین کا علم تو کبھی حاصل نہیں کیا، تو پھر آپ لوگوں کو کیسے دین سکھائیں گے؟\”

\”اللہ مسبب الاسباب ہے، خود ہی ہمارے توسط سے ان لوگوں کو سیدھی راہ دکھا دے گا۔ نیت نیک ہو تو سب کچھ ہو جاتا ہے\”۔

\”نیت نیک ہونے والی شرط تو آپ نے ٹیڑھی لگا دی ہے۔ بہرحال بھیا وہ تو سرکاری زمین تھی۔ یہاں کے لوگوں کے لیے سیر و تفریح اور صاف ہوا کا بندوبست کرنے کے لیے وہاں پارک بنایا گیا تھا\”

۔\”میاں تم سے یہی امید تھی۔ نرے مادہ پرست ہی رہو گے۔ فانی جسم کا ہی خیال رہتا ہے تمہیں۔ ابدی روح کا کوئی خیال نہیں۔ جتنا کودنا پھاندنا ہوگا یہ بے فکرے سڑک پر ہی کود پھاند لیں گے۔ ہم تو ان کی روح کی صحت کے بارے میں فکرمند ہیں اور تم جسم پر اٹکے ہوئے ہو۔ اور جہاں تک سرکاری زمین کی بات ہے، ساری زمین اللہ کی ملکیت ہے۔ اور اللہ کا گھر ہی بنایا ہے اس پر۔ کوئی پارک تو نہیں بنایا\”۔

\”بیت المال کی زمین کو صرف حکومت ہی استعمال کر سکتی ہے بھیا، افراد اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے۔\”

\”یہ غیر اسلامی حکومت ہے۔ جمہوریت کفر ہے۔ اس لیے بیت المال کا کوئی سوال نہیں ہے۔ بہرحال، تمہیں ان باتوں کی فہم نہیں ہے۔ کچھ اور بات کرو۔\”

\”چلیں چھوڑیں بھیا۔ آپ جانے اور اللہ جانے۔ یہ بتائیں کہ مسجد تو آپ نے پچھلے مہینے شروع کی تھی۔ لیکن پچھلے ہفتے کے اجتماع کے بعد ایسا کیا ہوا کہ آپ کے مالی حالات بہتر ہو گئے؟\”

۔\”میاں وہاں کے تاجروں سے ہم بھائیوں نے چندہ نکلوا کر راتوں رات مسجد تو کھڑی کر دی۔ جب تک اس غیر اسلامی حکومت کے اہلکاروں کو خبر ہوئی معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اب مسجد کو ڈھانے کی ہمت ان میں نہیں تھی۔ پھر پچھلے ہفتے وہاں مالی کے مجاہدین کی حمایت میں ایک اجتماع کیا تو شہر بھر سے ہمارے دینی بھائی جو مختلف قبضہ مساجد کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں وہاں جمع ہوئے اور ان سے مالی امور پر بات بھی ہوئی۔ وہاں یہ ذکر چھڑا کہ جمع ہونے والا چندہ کتنا مسجد پر خرچ ہونا چاہیے اور کتنا مسجد کے منتظم کی تنخواہ وغیرہ پر جانا چاہیے\”۔

\”ہم نے بتایا کہ ہم چندہ ہوا میں اچھالتے ہیں۔ جو دائیں طرف گرے وہ مسجد کے مصارف پر خرچ کرتے ہیں اور جو بائیں طرف گرے وہ اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ ایک اور بھائی نے بتایا کہ وہ بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ زمین پر اپنی ضرورت کے مطابق ایک دائرہ کھینچتے ہیں۔ جو رقم دائرے میں گرے وہ میں اپنے مصارف کے لیے رکھ لیتے ہیں اور جو باہر گرے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔ ہمارے استاد حضرت چڑیا کوٹی صاحب، جو درحقیقت علم اور تجربے میں ہمارے استاد تھے، چپ رہے۔ ان سے استفسار کیا تو وہ بولے کہ وہ بھی ایسا سا ہی طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ ہماری طرح لالچ نہیں کرتے ہیں اور سب رقم اللہ کو دے کر اس کی طرف سے جو ملے اسی پر گزر بسر کر لیتے ہیں۔ وہ جمع کیا ہوا چندہ ہوا میں اچھالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ جو تو مجھے ذاتی مصارف کے لیے دینا چاہتا ہے وہ مجھے لوٹا دے۔ جو رقم زمین پر گرتی ہے اسے وہ اپنے مصرف میں لے آتے ہیں۔ تو میاں پچھلے ہفتے سے ہم نے بھی انہیں جیسی قناعت اختیار کی ہے اور الحمداللہ کل ایک گاڑی خریدنے کے قابل ہو گئے ہیں جس پر اب ہم دور دور تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ پہلے سائکل پر بہت محدود علاقہ ہماری دسترس میں تھا\”۔

۔\”ماشااللہ بھیا۔ یہ سب آپ کی قناعت کا انعام ہی ہے۔ خدا ہم سب پر رحم و کرم کی نظر کرے\”۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 690 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar