مسئلہ کشمیر اور کشمیر کمیٹی کی نااہلی


\"saad

مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی مظالم اور پینتیس سے زائد افراد کی شہادت نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے اور دنیا کی نظریں پاکستان اور بھارت پر ہیں کے کس طور وہ اس مسئلے سے نبٹے گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت تو اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں پر پاکستان اور پاکستان میں موجود کشمیر کمیٹی خواب غفلت کی نیند سو رہی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی اس لیے بنائی گئی تھی کہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے پر بدقسمتی سے کشمیر کمیٹی سیر سپاٹے اور سیاسی نوازشات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اگر آج کوئی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور کشمیر کمیٹی کے ارکان سے ان کی اب تک کی مسئلہ کشمیر پر کارکردگی پیش کرنے کا کہہ دے تو سب بغلیں جھانکنے لگیں۔

بھارتی انتخابات کے دوران موجودہ حکمران جماعت کی جانب سے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کا پروپیگنڈا کیا گیا تاہم کشمیر کمیٹی خواب غفلت کی نیند سوئی رہی۔ مارچ میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے بعد ٹرن آئوٹ کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا ہوتا رہا کہ کشمیر ی عوام نے بھارتی الیکشن کمیشن کے تحت ہونے والے انتخابات اور آئین کو تسلیم کر لیا ہے، کشمیر کمیٹی نے کچھ نہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی سرکار کی جانب سے ڈیموں کی غیرقانونی تعمیر کے ذریعے آبی جارحیت کے معاملے پر بھی کشمیر کمیٹی کی آنکھ نہیں کھلی، مقبوضہ کشمیر میں سیلاب ہوں یا وادی میں ریلیوں کے دوران کشمیری قیادت کی پاکستانی پرچم کشائی کا معاملہ یا کشمیری رہنمائوں کی نظربندی کا معاملہ کشمیر کمیٹی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوتی۔ اب برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد پھوٹنے والے فسادات میں بھی کمیٹی سوتی رہی یہاں تک کہ پینتیس سے زائد کشمیری شہید ہو گئے ۔ کل کہیں جاکر کشمیر کمیٹی کے چئرمین نے بروز جمعہ احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا صرف احتجاجی مظاہروں سے آپ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں؟-

کشمیر کمیٹی کے نمائندوں یا ان نمائندوں کے چمچوں سے جب آپ پوچھیں کے کشمیر کمیٹی کیا کر رہی ہے تو جواب ملتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کام صرف شفارشات پیش کرنا ہے اور کمیٹی پوری طرح مسئلہ کشمیر پر کام کر رہی ہے۔ حضور! کشمیر کمیٹی پارلیمانی کمیٹیوں میں سب سے مہنگی کمیٹی ہے اور کمیٹی کا اجلاس چھ کروڑ میں پڑ رہا ہے۔ تو اتنی مہنگی کمیٹی کا کام صرف شفارشات پیش کرنا ہے، کمال ہے۔ حالانکہ کشمیر کمیٹی کے قیام کے وقت قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ کمیٹی کے ارکان نہ صرف کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں گے بلکہ عالمی برادری کو باور کروائیں گے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے نکالا جائے۔

کشمیر کمیٹی اس موثر انداز سے اور اس کامیابی سے اس مسئلے کو اجاگر کر رہی ہوتی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ اجاگر ہو کر کہاں جاتا ہے۔ یہ روایت ہی نہیں رہی اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کوئی وفد بیرونی دورے پر جاتا ہے تو کیا کبھی اس وفد نے واپس آکر کوئی رپورٹ پیش کی کہ وہ کس سے ملا، اور اس نے کیا کارروائی کی اور کمیٹی نے اس دورے میں کیا حاصل کیا؟ زیادہ سے زیادہ واپس آ کر مظفرآباد، راولپنڈی یا کشمیر ہاوس میں پریس کانفرنس کر کے وہی رٹے رٹائے جملے بول دیے جاتے ہیں کہ ہمارا دورہ کامیاب رہا، ہم نے موثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا وغیرہ۔ کیا کمیٹی کبھی فارن میڈیا سے جا کر ملی؟ یو این کی بلڈنگ کے اندر داخل ہونا بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، یہ وہاں کس سے ملے، کس سے بات کی؟ چلیں یورپی ممالک اور امریکا کے دورے تو کمیٹی کر لیتی ہے لیکن کیا کمیٹی مسئلہ کشمیر کے لیے کبھی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک گئی؟ کبھی اس مقصد کے لیے چین گئے؟ وہ چین جو ہمارے خطے کا ایک اہم ملک ہے۔ آپ نے کبھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ آپ روس جائیں جو پھر سے خطے میں اثرورسوخ حاصل کر رہا ہے۔ کمیٹی نے کبھی ان ممالک کو قائل کرنے کی کوشش نہیں کی، آپ وفد کی صورت میں جائیں ان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ملیں وہاں کے تھنک ٹینک سے ملیں۔ کبھی اگر کمیٹی کا یورپی ممالک یا امریکا جانا بھی ہوا تو ایک دو اجلاسوں میں جن میں اپنے ہی لوگ شامل ہوتے ہیں شرکت کر کے واپس آ جاتے ہیں_ کمیٹی کو ان کے لوگوں سے ملنا چاہیے، ارکان پارلیمنٹ سے ملنا چاہیے ارکان کانگریس سے ملنا چاہیے اور ان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اصل حقیقت بتائیں، انہیں کشمیر میں بھارتی مظالم اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ سے آگاہ کریں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کمیٹی کو اس طور پر فعال کیا جائے کہ یہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اجاگر کر سکے اور عالمی برادری کو پاکستانی موقف پر قائل کر سکے بصورت دیگر اس کمیٹی کو ختم کر کے اس کمیٹی پر خرچ ہونے والی رقم کو عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔