چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ کی خدمت میں


\"asifجسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس منصور علی شاہ صاحب ایک نیک نام انسان ہیں۔ میرا ان سے براہ راست تعارف نہیں تاہم دوستوں کی گواہی ہے کہ وہ صاحب دیانت اور قابل انسان ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہو گا۔ تاہم بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسے اوصاف حمیدہ رکھنے والے انسان کے طریق کار سے آپ کو تحفظات لاحق ہو جاتے ہیں۔ خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں بیان کر دیا جائے۔ ان سطور کو ایسی ہی ایک کاوش سمجھا جائے جس کا مقصد خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں۔

جناب چیف جسٹس نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جوڈیشل افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

” ججز ٹھیک ہو جائیں تو ان کے ساتھ کھڑا ہو ں گا“۔ ”ماتحت عدلیہ کے جج دوسروں کے پاس جانے کی بجائے میرے پاس آئیں“۔ ” بے ایمانی کرنے والوں کے ساتھ وہ کروں گا جو کسی نے سوچا نہ ہو گا“۔ ” عدلیہ سے متعلق تمام مسائل حل کروں گا“۔ ”ایماندار اور اہل لوگوں کو عدلیہ کی ٹیم کا حصہ بناﺅں گا“

یہ خیالات بہت مبارک معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں بادی النظر میں ایک بنیادی سقم نظر آ رہا ہے کہ ادارہ سازی کی بجائے فرد واحد مرکز و محور محسوس ہو رہا ہے۔ ماتحت ججز بہت زیادہ ہیں وہ ایک ایک کر کے جناب چیف جسٹس کے پاس آنے لگے تو چیف جسٹس کا وقت ضائع ہو گا۔ ماتحت ججز کے شکایات کے ازالے کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام ہونا چاہیے اور وہ اتنا طاقتور ہونا چاہیے کہ ججز کسی بھی مسئلے میں چیف جسٹس کے پاس نہ جائیں، ادارے کا نظم بروئے کار آئے اور مسئلہ حل ہو جائے۔ اسی طرح عدلیہ کی ٹیم کا انتخاب بھی ادارہ جاتی سطح پر اچھے انداز میں ہونا چاہیے۔ یہ انتخاب کسی فرد واحد پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بھلے وہ کتنا ہی نیک نام کیوں نہ ہو کیونکہ صاحب منصب آتے جاتے رہتے ہیں۔ کل کو کوئی خدا نخواستہ کوئی اچھا آدمی نہ ہو تو کیا وہ غلط افراد کی ٹیم نہ بنا لے گا؟ یہ اختیار ایک فرد واحد کے پاس رہے ہی کیوں؟ ادارے کا اجتماعی نظام احتساب اتنا طاقتور کیوں نہ کر دیا جائے کہ بے ایمانی کا امکان کم سے کم ہو جائے؟ ’میں‘ کی تکرار سے معاملات سدھر سکتے تو جناب افتخار چودھری ریٹائرمنٹ سے پہلے ریاست کو ماں جیسا بنا کے جاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ان کے خیالات کی شہ سرخیاں تو بنتی رہیں لیکن وہ تشریف لے گئے تو معلوم ہوا ادارے کی خرابیاں جوں کی توں موجود ہیں۔ اور جناب چیف جسٹس کو کہنا پڑ رہا ہے کہ ججز ٹھیک ہو جائیں تو وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کچھ ججز اگر ٹھیک نہیں ہیں تو وہ منصب پر کیوں ہیں؟ایک خود کار احتسابی نطام آج تک کیوں وجود میں نہیں آ سکا؟

ہمیں آج اسی نظام کی ضرورت ہے۔ کوئی مسیحا نہیں بلکہ یہ نظام اور ادارے ہوتے ہیں جو ٹھیک ہوجائیں تو معاشرے کو بدل سکتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس سے درخواست ہے وہ قوم کو ایک ایسا نظام بنا کر دے جائیں۔ ہمیں معجزوں اور مسیحاﺅں کی نہیں، اداروں کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔