میڈیا ، سیاست اور پاکستان کا مستقبل


پاکستان میں سیاست دانوں اور میڈیا کو ایک کے بعد دوسرا دلچسپ موضوع گفتگو کرنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کےلئے مل جاتا\"edit\" ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی کےلئے پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے استعمال پر بحث ابھی ماند نہیں پڑی تھی کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی شادی کا شوشہ چھوڑ دیا گیا۔ عمران خان اور ان کے ترجمان اس کی تردید بھی کر رہے ہیں اور بین السطور یہ بتانے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ 63 سالہ سابق کرکٹر دو ناکام شادیاں کرنے کے باوجود جواں سال اور جواں ہمت ہیں، اس لئے تیسری شادی تو وہ ضرور کریں گے لیکن ’’ہیٹرک‘‘ میں وقت لگتا ہے۔ وقت کا تعین تو عمران خان کو ہی کرنا ہے لیکن ذومعنی باتوں اور اشاروں کے ذریعے وہ میڈیا کی زینت بنے رہنا چاہتے ہیں۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ ایک روز قبل ملک کے تمام بڑے شہروں میں ایک نامعلوم پارٹی ’’آگے بڑھو پاکستان‘‘ THE MOVE ON PAKISTAN کی طرف سے بینر آویزاں کئے گئے کہ اس ملک کو سیاستدانوں اور جمہوریت کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، اس لئے جنرل راحیل شریف نومبر میں ریٹائر ہونے کا فیصلہ واپس لیں اور ملک میں مارشل لا لگا کر ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کریں۔ پاک فوج کے ترجمان نے ان بینرز سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے لیکن پوری قوم یہ سراغ لگانے پر لگی ہے کہ یہ کام دراصل کس کا ہے؟

یوں مملکت پاکستان میں جسے سو کے لگ بھگ ٹیلی ویژن چینل اپنی نشریات کے ذریعے ایک تماشہ گاہ میں تبدیل کر چکے ہیں، ایک نیا میلہ لگ چکا ہے۔ ہر شخص کمتر یا برتر اپنی اپنی بساط اور ضرورت کے مطابق صرف دور کی کوڑی لانے پر مصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ تقاضہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کی معلومات کو ہی درست سمجھا جائے۔ یوں پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سیاست اور مذہب کے معاملات میں کسی دلیل اور جواز کے بغیر بات کو منوانے کی کوشش کا چلن ہے۔ بلاشبہ اس رویہ کو عام کرنے میں کمرشل مفادات کا اسیر الیکٹرانک میڈیا سب سے آگے ہے۔ لیکن یہ کام نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے سیاستدان اور ان کے چہیتے ’’مبصرین‘‘ بیانات اور تبصروں و تجزیوں کے ذریعے یہ خدمات سرانجام دیتے تھے۔ یوں ہر معاملہ میں سازش کا سراغ لگا کر قیاس آرائیاں کرنے، الزامات لگانے ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور ملک کو آگے بڑھنے سے روکنے اور خود اپنی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اب زمانے کی رفتار تیز ہے۔ پاکستان کا صحافی ہوشیار ، اس کی نگاہ عقابی اور نظر تیر ہو چکی ہے، اس لئے اخبار میں خبر اور کالم، اس تیز رفتاری کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔ اب الیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز اور ان میں ہونے والے مباحث یا خطبہ نما تعارف کے ذریعے ’’باخبر ذرائع سے حاصل معلومات‘‘ سازش کے سراغ ، عمیق حکیمانہ تبصروں اور تاریخ کی خود پسند توجیہہ کو ملا کر ایسا آمیزہ تیار کیا جاتا ہے جو لوگوں کو فروخت کیا جا سکے۔ اس کےلئے اس بات کی تخصیص نہیں ہے کہ متعلقہ معاملہ کسی قومی مفاد کے حوالے سے اہم ہو، کوئی پالیسی زیر بحث ہو یا قوم کو درپیش کوئی بڑا خطرہ یا چیلنج سامنے آیا ہو ۔۔۔۔۔ جس پر بات کر کے کسی راہ کو متعین کرنے کی کوشش ضروری ہوتی ہے۔ معاملہ چونکہ دکانداری تک محدود ہے اور مدعا تفہیم کی بجائے فروخت ہے، اس لئے تمام ٹاک شوز اپنی صوابدید اور صلاحیت کے مطابق پروگرام کو دلچسپ اور ’’بکنے والا مال‘‘ بنانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کسی لیڈر کی شادی کا معاملہ ۔۔۔ جو کہ درحقیقت سو فیصد ذاتی نوعیت کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کا سیاست یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔۔۔ یا وزیراعظم کے علاج اور ’’شاہانہ‘‘ سفر کی بحث اور پھر بینر آویزاں کرنے پر سازش کا سراغ جیسے موضوعات مرغوب اور ضروری قرار پاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فوج کے سربراہ کو مارشل لا کی ترغیب دینے والے لوگوں کی گرفت کرنے کا کوئی طریقہ تلاش کیا جاتا اور اس قسم کی جمہوریت کش مہم چلانے والوں کی سرزنش کےلئے قانون سازی کی جاتی تاکہ خفیہ ایجنڈا رکھنے والوں کے خلاف اقدام کرنے کے ساتھ اس ذہن کو ختم کرنے کےلئے بھی کام کیا جا سکتا جو ہمیشہ ذاتی مفاد کےلئے ملک میں جمہوری نظام کو ختم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملکی معاملات میں فوج کے رول کے حوالے سے گفتگو اور مباحث کا آغاز ہوتا۔ سیاستدان ان کمزوریوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے جن کی وجہ سے ماضی میں بار بار فوج کو سیاست میں ملوث ہونا پڑا اور ملک میں مضبوط سویلین ادارے قائم نہیں ہو سکے۔ بدنصیبی سے یہ مباحث عنقا ہیں۔ اس کی بجائے یا تو سازش کا سراغ لگانے کی لگن ہے یا اس ناامیدی کا اظہار سامنے آتا ہے کہ ملک کے سیاستدان بدعنوان اور نااہل اور فوج ضرورت سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس لئے لوگوں کو یہ سچائی قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر فوجی مداخلت یا درپردہ فوج کے اختیار کی بالا دستی کےلئے تیار رہیں۔ یہ رویہ منفی اور ملک میں جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے تباہ کن ہے۔ لیکن جس ملک کا میڈیا، سوشل میڈیا پر فحش کلامی سے شہرت پانے والی قندیل بلوچ اور ایک مولوی عبدالقوی کی سیلفی پر مباحث میں کئی دن صرف کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔ اس سے تعمیری سیاسی رہنمائی کی توقع عبث ہے۔

میڈیا ملک کے سیاستدانوں کو بدعنوان اور نااہل کہتا ہے۔ اس طرح ان کے بارے میں چہ میگوئیاں اور لاف زنی کر کے لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ درحقیقت ملک کا میڈیا نہ صرف اپنے فرائض بجا لانے میں ناکام ہے بلکہ اپنے حقوق اور حق اظہار رائے کی حفاظت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اس لئے پیمرا کے نام سے ایک ادارہ حکومت نے الیکٹرانک میڈیا پر مسلط کر رکھا ہے۔ وہ کسی اسکول ماسٹر کی طرح کبھی سرزنش کرتا ہے، کبھی تین روز کےلئے پروگرام بند کرنے کا حکم دیتا ہے اور کبھی بعض لوگوں کو ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ ملک کے طاقتور ، بااختیار اور بااصول ’’صحافی‘‘ اس صورتحال کو چیلنج کرنے اور قبول کرنے سے انکار کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ نہ وہ مالکان کو منع کر سکتے ہیں کہ صاحبان مانا آپ نے بہت مال بنا لیا ہے۔ اب آپ کو شہرت کی ضرورت ہے۔ میڈیا ہاؤس کے ذریعے قانون سے تحفظ اور سیاستدانوں کے قرب کی ضرورت ہے لیکن اپنی دولت کے زور پر آپ ایڈیٹری اور کالم نگاری نہیں خرید سکتے۔ دن رات سیاستدانوں کو ان کے کرنے اور نہ کرنے کے کام گنوانے والے صحافی اور اینکر اپنے مالکان کو یہ سادہ صحافتی اصول باور کروانے کے اہل نہیں ہیں۔

وہ جو کہا جاتا ہے کہ دوسروں کی فہمائش سے پہلے اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لینی چاہئے۔ یہ بات اس وقت ملک کے صحافیوں سے زیادہ کسی طبقے پر لاگو نہیں ہوتی۔ اصولی طور پر ہر اس صحافی کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حوصلہ کے بارے میں سوالیہ نشان ڈالنے کی ضرورت ہے جو ایک ایسے ’’ایڈیٹر‘‘ کی نگرانی میں کام کر رہا ہے جو اتفاق سے اس ادارے کا سرمایہ دار اور مالک بھی ہے اور اسی قوت کی بنا پر وہ صحافیوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کا اہل بھی ہو چکا ہے۔ کسی بھی صحافتی ادارے میں ایڈیٹر اور مالک کا دائرہ کار علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ ایڈیٹر کا کام خبر کی سچائی اور ترسیل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ مالک کا کام اس ادارے سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ دونوں مقاصد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس لئے ایڈیٹر اور مالک کا تعاون تو سمجھ آتا ہے لیکن اگر ایڈیٹر اور مالک ایک ہی شخص ہو گا تو کمرشل مفادات ہی کی فتح ہو گی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ باتیں ناقابل عمل اور گئے دنوں کی ہیں لیکن یہ موقف مبنی برحقیقت نہیں ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ جس دوران پاکستان کے لوگ میڈیا کی سرکردگی میں عمران خان کی نئی دلہن کا نام جاننے کی کوشش کر رہے ہیں یا ان الزامات پر بحث کر رہے ہیں کہ فوجی مداخلت کے بارے میں بینر مسلم لیگ (ن) نے خود لگوائے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی دوران افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ وارسا میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں امریکہ اور دیگر رکن ممالک کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان بدستور افغان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اس لئے اس پر دباؤ ڈالنے اور اسے راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے۔ اسی دوران پانچ روز سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے لوگوں پر بھارتی فوج ظلم کرتی رہی ہے اور روزانہ آٹھ دس لوگ جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔ لیکن عالمی منظر نامہ پر اس ظلم اور جبر کے بارے میں کوئی آواز سننے کو نہیں ملی۔ پاکستان کی حد تک ٹاک شوز میں دھواں دار باتیں ضرور کی گئی ہیں اور بھارت کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف بیان بھی جاری ہوئے ہیں لیکن ان کی نوعیت جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا ۔۔۔۔ سے زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا کے اہم لیڈر بھارت کو سچا مانتے ہیں اور یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس احتجاج میں بھی پاکستان کا ہاتھ ہو گا۔ اس لئے بان کی مون ہوں یا امریکی وزارت خارجہ، وہ بھارت کو صبر کی تلقین کرنے سے آگے بڑھنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔

اس کے برعکس امریکی کانگریس کی متعدد ذیلی کمیٹیاں اس بات پر بحث اور غور کرنے میں مصروف ہیں کہ یہ طے کیا جائے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان امریکہ کا دوست ہے یا دشمن۔ اور پھر خود ہی اس نتیجہ پر پہنچ کر کہ پاکستان بہرحال دشمن کا کردار ادا کر رہا ہے ایک سب کمیٹی یہ تجویز بھی تیار کرتی ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی امریکی امداد بند کی جائے۔ اس ہنگام میں ایک آواز یہ بھی بلند ہوتی ہے کہ پاکستان کو شمالی کوریا بنا دیا جائے۔ اس کا ناطقہ بند کیا جائے کیونکہ افغان جنگ کا تسلسل پاکستان کی بدکرداری کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔ بھارتی لابی کے تیار کردہ اس منظر نامہ میں پاکستان کی طرف سے اپنے سفارتخانہ واشنگٹن کے ایک ترجمان کے اس بیان کو کافی سمجھا جا رہا ہے کہ: ’’امریکہ اور پاکستان دوست ملک ہیں اور دہشتگردی کے حوالے سے مشترکہ مقاصد کےلئے کام کر رہے ہیں‘‘۔

ایسے میں ملک میں فروعی معاملات پر طوفان اٹھانے والوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا اسی رویہ اور طرز عمل سے پاکستان کا مستقبل روشن اور اس کے باشندوں کو امن و سکون نصیب ہو سکے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 625 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali