سیکولرازم کیوں معقول ہے؟


 

 

 \"assem\"سیکولرازم کی بحث جاری تھی کہ چارسدّہ کا روح فرسا واقعہ ہو گیا۔ حملے کے ذمہ داران کا ویڈیو بیان جاری ہوا تو مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے جواز کے لئے جیسے مزید کوئی سند مہیا کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اسی پس منظر میں ہمارے کچھ روشن خیال مذہب پسند دوستوں نے رائے ظاہر کی کہ انتہا پسندی کی بجائے دہشت گردی سے لڑیں۔ شاید یہ بات بادی النظر میں سیکولرازم کی طرف کھڑے کچھ دوستوں کو کسی حد تک معقول بھی معلوم ہوئی ہو لیکن ہماری رائے میں جب تک فکر میں ایک انتہا پسندی اس طرح موجود ہے کہ اپنے اندر کسی نہ کسی حالت میں الہامی تعبیرات کو استبدادی طریقے سے سماج میں نافذ کرنے کا جواز رکھتی ہے، اس وقت دہشت گردی کے جزوقتی مظاہر سے جنگ جیتنے کے باوجود یہ فکری انتہا پسندی قلب ماہیت کے بعد دہشت گردی کے کسی نہ کسی نئے مظہر کے طور پر سامنے آتی رہے گی۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اس قسم کی سطحی تفریق سے بہرحال ایک قسم کی انتہاپسندی معقول ٹھہرے گی اور اس کی تہہ میں موجود خوابیدہ دہشت گردی کسی آتش فشاں کی طرح اپنے مقررہ وقت پر ابل پڑے گی۔ کیا یہ ہم سب کے سامنے نہیں کہ حکومت کے تنخواہ دار’اسلامی نظریاتی‘ اپنی فکر میں کس قسم کی انتہا پسندی رکھتے ہیں؟ کیا ان کے پاس اس کی معقول اعتقادی بنیادیں موجود نہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ شدید ترین مذہب پسند کے نزدیک بھی معصوم بچوں کے قتل کا جواز نہیں لیکن کیا آپ کو اس سے بھی انکار ہے کہ یہ مذہب پسند سلمان تاثیر کے قتل کا کوئی رتی برابر اعتقادی جواز نہیں رکھتے؟ کیا آ پ کی نظر سے تحریک طالبان پاکستان کا علمائے کرام کو لکھا وہ مشہورِ زمانہ خط نہیں گزرا؟ اس خط کو کسی بھی مذہب پسند کالم نگار کے اخباری مضمون کے ساتھ ملا کر پڑھ لیجئے تو آپ کو صاف نظر آ جائے گا کہ دہشت گردی کے درخت کے جڑیں فکری انتہا پسندی کے تخم سے پھوٹتی ہیں اور تعبیرات نافذ کرنے کی استبدادی خواہشات کے پانی سے سینچی جاتی ہیں۔

اس فکری خلطِ مبحث کے باعث انتہا پسندی کا یہ مرض اب اس حد تک پھیل چکا ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی ادارہ اس سے مکمل طور محفوظ نہیں۔ہماری رائے میں اس خلطِ مبحث کی بنیادی وجہ منفرد اعتقادی رجحانات اور تعصبات کے باعث سیکولرازم سے متعلق ایک مخصوص قسم کا نفسیاتی عدم تحفظ ہے جو بہرحال اپنی ہر صورت میں کسی نہ کسی طرح فکری استبداد کو ایک نظرئیے کے طور پر تسلیم کرتا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ازمنہ قدیم ہی سے اس فکری استبداد کی ذمہ داری اپنے اوپر لینے کی بجائے خدا کی جانب منسوب کر دیتا ہے۔ لہٰذا تاریخ کا ہر طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ پادشاہی اور امرا شاہی نظام حکومت میں جہاں پناہ یا عنان حکومت سنبھالے ’اولو الامر‘ وغیرہ ہمیشہ منزل من اللہ تصور کئے جاتے ہیں اور ان کے جبر سے آزاد ی مانگنے والے ہر انسان پر خدا سے آزاد ی مانگنے، خدا کو مرکز سے ہٹانے، خدائی الہام کو ٹھکرانے اور غیر اہم گرداننے کی تہمت لگتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سماج میں یہ تہمت اگر صرف زبان و بیان تک محدود رہے تو فکری انتہا پسندی ہے اور اگر اس سے آگے بڑھے تو دہشت گردی۔ دہشت گردی کے تدارک کے لئے تو یقیناً قوانین موجود ہیں اور ان پر ایک معقول حد تک اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ فکری انتہا پسندی کے لئے اب تک ایک ایسے اتفاق رائے پر امکانی نوعیت میں بھی کوئی قیاس آرائی کرنا مشکل ہے۔اس تناظر میں جب ہم سیکولرازم کی بات کرتے ہیں تو ہماری رائے میں یہ اپنے مذہب پسندوں دوستوں سے کوئی جنگ جیتنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس اتفاق رائے کی جانب ایک پہلا ناگزیرقدم ہے۔

ہماری اس رائے کی بنیاد یہ معقول مفروضہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں رائج مذہب پسند ی اپنی تمام سماجی جہتوں میں اس قسم کا مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کے قابل نہیں کیوں کہ یہ ہر قسم کے اعتقادات پر ایسا ثابت قدم اصرار کرتی ہے کہ مخالف تجربات کو نظری طورپر معقول جاننے سے بھی خود تردیدی کا شکار ہو جاتی ہے۔ چونکہ جدید سماجی محرکات فی نفسہ اس طریقے کے خلاف ہیں لہٰذا معاشرے میں اعتقادات کو مستقل طور پر قائم رکھنے کے لئے طاقت کا استعمال لازم آتاہے۔اس مفروضے کے جواب میں ہمارے ہاں کے ایک مخصوص طبقہ فکر کا یہ دعویٰ کہ سیکولر فکر بھی جبر و طاقت اور استبداد کو معقول گردانتی ہے گو ایک نہایت بودا طریقہ استدلال ہے، لیکن اگر بحث کی خاطر اسے معقول تنقید تصور بھی کر لیا جائے تو بھی ہمارے یہ مخالفین ایک استبداد کی بجائے دوسرے استبداد کو ترجیح دینے سے زیادہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ جسارت ہوتی ہے لیکن سماجی تجربہ گاہ میں تجرباتی طور پر اس بڑبڑاہٹ میں سے معنی دریافت کرنا ناممکن ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے منہ سے بولنے والا یہ استبدادی ذہن اعتقادات کی ماہیتِ اصل ہی سمجھنے سے قاصر ہے۔تجرباتی تناظر میں سادہ سی بات یہی ہے کہ میرا اعتقاد ایک پیچیدہ ترین کیفیت ہے جس کے بارے میں میرے اپنے اندازے بھی حتمی نہیں۔ میں صرف وجدانی طور پر اعتقاد رکھتا ہوں کہ میں فلاں آدمی کے نطفے اور فلاں عورت کے بطن سے پیدا ہوا ہوں، اور اس اعتقاد پر میرا دل مطمئن ہے کیوں کہ ایسی کوئی خبر کبھی میرے علم میں نہیں آئی جو مجھے مضطرب کر پاتی۔ میری عقل کبھی تو میرے اعتقاد کی ماہیت صرف اس درجہ تبدیل کرتی ہے کہ اضطراب کی صورت میں میرے اعتقاد کو متزلزل نہیں ہونے دیتی، اسے اپنی جگہ اٹل اور ساکن رکھتی ہے یا کبھی کسی دوسری صورت میں جب اضطراب اتنا شدید ہوتا ہے کہ اعتقاد اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے تو عقل اسے کسی دوسرے مقام پر قائم کر دیتی ہے۔ کیا ہم میں سے ہر ایک نے زندگی میں ایک سے زیادہ بار یہ مشاہدہ نہیں کیا کہ کسی شدید غیرمذہبی شخص کی زندگی میں مذہب نہایت اہمیت اختیار کر لیتا ہے اور اب وہ اسی شدو مد سے سچائیوں کے ایک بالکل متضاد مجموعے کو اپنا لیتا ہے؟

عقل چونکہ میری ذات کی اکائی کا ہی ایک جزو ہے لہٰذا میرے ہر اعتقاد کو کسی نہ کسی درجے میں استدلال مہیا کر سکتی ہے۔ مستقبل کی کوئی بھی خبر زمانی و مکانی پیمانوں پر ممکنات کی دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اخبارِ مستقبل پر اندھا اعتقاد وہ ہوتا ہے جو ان قضیوں پر حتمی درجے میں اصرار کرنے کی قوت رکھتا ہو جو تاحال دائرہِ امکان میں ہیں۔ اگر مستقبل کے ان وقائع کے وقوع پذیر نہ ہو سکنے کو کم سے کم درجہ? احتمال میں بھی مان لیا جائے تو پھر اعتقادمنطق و استدلال کی دوربین لگا کر اپنے برحق ہونے پر کسی احتمالی درجے میں اصرار کرتا ہے اور اندھا نہیں ہوتا۔ اخبارِ ماضی کے بارے میں اندھا اعتقاد وہ ہوتا ہے جسے کوئی بھی نئی دریافت ہونے والی تاریخیِ خبر مضطرب ہونے کی وجوہات فراہم نہ کر سکے۔ اگر کوئی خبر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر اعتقاد اندھا نہیں ہوتا بلکہ تاریخی سچائی کو بھی پرکھنے کی خاطر منطقی پیمانوں کی دوربین سے دیکھتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر اندھے اعتقاد کو آفاقی طور پر باطل کہنا ممکن ہو۔ وہ مبنی بر الہام بھی ہو سکتا ہے، دیومالا بھی ہو سکتا ہے، طلسمی داستان بھی ہو سکتا ہے، اور کسی سائنسدان کا وجدانی مفروضہ بھی۔ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک دیوانہ دوسرے دیوانے کے اعتقادکو معقولیت کی سند فراہم کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔

کچھ سادہ الہامی مثالیں ملاحظہ کیجئے جن پر مجھے اندھا اعتقاد ہے۔ میں قیامت کے برپا ہونے کو احتمالی واقعہ نہیں سمجھتا اور اس پر اندھا اعتقاد رکھتا ہوں کیوں کہ مجھے ایک خبر کی سچائی پر حتمی درجے میں یقین ہے، اس یقین کی بنیادیں وجدانی ہوں یا عقلی یا دیومالائی، اس سے قضئیے پر اعتقاد کی ماہیت میں کوئی فرق نہیں آتا، یہ صرف میرے اضطراب کی تسکین ہے اور میرا اعتقاد اندھا رہتے ہوئے بھی مطمئن ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں میرا اعتقاد ایسی کسی بھی خبر سے مضطرب نہیں ہو سکتا جو قیامت برپا ہونے کے قضئیے کا انکار کرتی ہو یا اس کے خلاف کوئی شکوک سامنے لاتی ہو۔ اسی طرح میں حیات بعد الموت پر اندھا اعتقاد رکھتا ہوں اور اس قابل نہیں کہ اس اعتقاد کو کسی بھی شکل میں کوئی عالمگیر احتمالی بنیادیں فراہم کر سکوں۔ اگر میں حتمی درجے میں اصرار کرتا ہوں کہ مرنے کے بعد( کسی نہ کسی صورت) پھر زندہ ہوں گا تو یہ اصرار احتمالی نہیں بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ایک یقینی واقعے کے ہونے پر اصرار ہے جو میرے خارج میں بہرحال کوئی ایسی معقول بنیادیں نہیں رکھتا جنہیں آفاقی کہا جا سکے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میں قیامت برپا ہونے کے غیرمعمولی دعوے پر اس طرح اصرار کر سکتا ہوں کہ میرا مخالف عقلی طور پر عاجز ٹھہرے؟ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں کیوں کہ خود خدا بھی یہ دعویٰ پیش کرنے اور کچھ منطقی دلائل کے بعد ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ اپنے مخاطب پر چھوڑ دیتا ہے۔

لیکن میں کل صبح سورج نکلنے کو احتمالی واقعہ مانتا ہوں یا اس قضئیے کی سچائی پر احتمالاً اصرار کرتا ہوں کہ میں اگلے پانچ سیکنڈ مزید زندہ رہوں گا۔ ان دونوں قضیوں پر میرا اعتقاد اندھا نہیں بلکہ منطقی استخراج و استقرا وغیرہ کی دوربین لگا کر دیکھتا ہے۔ میرا اعتقاد ان دونوں قضیوں کے بارے میں بھی حالتِ سکون میں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی خبر یا واقعہ اسے متزلزل نہیں کر سکتا، مجھے اطمینان سے اضطراب کی جانب نہیں دھکیل سکتا۔ میں اسی اطمینان کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کر دیتا ہوں کہ شاید کل صبح سورج نہ نکلے اور شاید میں اگلے ہی لمحے موت سے جا ملوں۔

مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ الہامی تعبیرات سے اخذ کی گئی سچائیوں پر غیرمتزلزل یقین رکھنے والے تمام انسانوں کو اپنے اپنے اعتقادات کو پرکھنے کی ضرورت ہے اور شاید ہمیں اپنے اپنے محبوب اندھے اعتقادات پر وضاحت سے اصرار کر کے بات ختم کر دینی چاہئے۔ اندھے اعتقادات پر اصرار کرنا بالکل حق بجانب ہے، لیکن ان کو سماج میں عملی مباحث بنانا اس وقت تک سود مند نہیں ہو سکتا جب تک ہمارے ہاتھ کوئی ایسی عالمگیر دوربین نہیں لگ جاتی جس سے دنیا کا ہر انسان ایک ہی منظر دیکھ سکے۔ہماری مذہبی فکر کے علم برداروں نے عالمگیر منطقی و استدلالی دوربینوں کی ایجاد پر توجہ دینے کی بجائے کئی دہائیوں سے ان اعتقادی مباحث کو سماجی و سیاسی میدان میں اٹھا کر خلطِ مبحث کی ایک ایسی روایت کو جنم دیا ہے جس کی قید سے نکلنے کاواحد ممکنہ طریقہ یہی ہے کہ سماجی مباحث میں استدلال کے ایک ایسے منہج کو مشترکہ طور پر تسلیم کیا جائے جہاں تنقید کے کچھ ایسے پیمانوں پر مکمل اتفاقِ رائے ہو جو کم ازکم نظری طور پر ہی انفرادی و اجتماعی موضوعیت سے ماورا ہوں۔ ایک ایسی موضوعیت جو اپنے تعبیری مظاہر میں اس طرح ثابت کر کے دکھائی جا سکتی ہو کہ وہ سماج کے ہر فرد کے لئے کسی جبر کے بغیر صداقت کی ایک یکساں کسوٹی ٹھہرے۔ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا سماجی آدرش ہے جس کے حصول میں مشرق و مغرب کی جدید فکری روایت کئی صدیوں سے ہانپتے کانپتے بھاگ رہی ہے اور فی الحال زیادہ تر قافلے سیکولر ازم کی منزل پر ہی پڑاو ¿ ڈالے کھڑے ہیں۔

 راقم اپنی فکری تشکیک پسندی کے باعث سیکولرازم کی وکالت کا حق ادا کرنے کے قابل تو نہیں لیکن ذرا سے غور سے ہر ایسا غیر متعصب مذہب پسند ذہن جو اوپر بیان کئے گئے عدم تحفظ کا شکار نہ ہو، بآسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ فی زمانہ مذہب کوئی ایسی کسوٹی فراہم کرنے سے قاصر ہے جو اپنی تمام سماجی جہتوں میں صداقت کا مشترکہ معیار ٹھہرے۔ اگربستر مرگ پر موجود معاصر مذہب پسند فکر اور اس کے وکلاءسیکولرازم کی بحث میں ایک فریق بننے کی بجائے فکری میدان میں اپنی جزوقتی شکست تسلیم کرتے ہوئے کچھ نئی تعبیراتی دوربینوں کی ایجاد کی طرف پوری توجہ کریں تو شاید مستقبل بعید میں کچھ ایسے اہداف کومفروضے کے طور پر پیش کرنے کے ہی قابل ہو سکیں جو ایک جدید سماج میں مشترکہ طور پر معنی خیز تسلیم کئے جا سکیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 60 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

10 thoughts on “سیکولرازم کیوں معقول ہے؟

  • 24-01-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح لاجواب تحریر … بخشی صاحب

  • 24-01-2016 at 8:21 pm
    Permalink

    بالکل درست فرمایا مزہب تو نام ہی اندهے اعتقاد اور اس اعتقاد کے بارے میں کبهی سوال نه کرنے کا ہے-
    اسی لیے عقل اور مزہب ایک میان میں ٹهر ہی نہیں سکتے –

  • 24-01-2016 at 10:43 pm
    Permalink

    Wonderful writing much of it not easy for the current generation to decipher. Thank you, Allah karay zoreqalam aur bhi ziada.

  • 25-01-2016 at 9:06 am
    Permalink

    میں اسی بات کو اس طرح کہنا پسند کروں گا کہ مذہب بہرحال کچھ ایسے بنیادی مفروضے لے کر سماجی میدان میں آتا ہے جن پر تنقید کی اجازت کسی بالکل آزاد فریم ورک میں نہیں دیتا، لیکن یہ کہنا کہ ان مفروضوں کو تعقلی بنیادیں فراہم کرنا ناممکن ہے، میری حقیر رائے میں ذرا محل نظر ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عقل بہرحال کوئی ایسا معروضی مقام نہیں جس کو تمام موضوعی عوامل سے ماورا ایک آفاقی کسوٹی قرار دے دیا جائے۔ جب عقل خود کشی جیسے فعل کو ایک داخلی معنی فراہم کر سکتی ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ عقل تو لامعنویت کو بھی معنی خیز کر کے دکھا سکتی ہے۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی سماجی نظام خودبخود کچھ قدری مفروضے قائم کر کے ہی آگے بڑھتا ہے۔

    اس تناظر میں میری سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ ہمارے منجمد سماج میں جمود کی ایک بڑی وجہ تعبیری استبداد ہے اور سیکولرازم، گو تمام مسائل کا حل نہیں، لیکن کسی حد تک ایک ایسے منہج کی طرف پیش قدمی ہے جہاں تعبیر کو قلعوں میں سے نکال کر سماجی میدان میں آزاد مباحثے کے لئے پیش کیا جا سکے۔

  • 25-01-2016 at 11:10 am
    Permalink

    ہمارے ہاں جب سیکولرازم کی بحث کی جاتی ہے تو سماجی روایت کے اعتبار سے یا تو لبرل ہیومنزم کی مغربی روایت کو فرض کیا جاتا ہے اور یا پھر اشتراکی روایت میں پناہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس حالت میں ایک ایسا شخص جس کے لئے مذہب کوئی قدری شناخت رکھتا ہے، اپنا پلڑا اسی طرف ڈال دیتا ہے جہاں محض مذہب کا نام لیا جا رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایک میرے جیسا کم علم شخص بھی اتنا سادہ لوح تو نہیں ہو سکتا کہ قراردادِ مقاصد کے انہدام کو دہشت گردی سمیت تمام مسئلوں کا حل سمجھ بیٹھے۔ میرے نزدیک تو دہشت گردی صرف ایک ایسا مظہر ہے جو مغرب ہو یا مشرق، ناانصافی، طبقاتی استحصال، سیاسی آدرشوں پر سمجھوتے اور ایک متوحش لامعنویت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ میرے لئے دعوتِ دین کا سوال کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا کیوں کہ میں نہ تو اس کے قابل ہوں اور نہ ہی ایسی کسی تحریک سے منسلک۔ میرے لئے تو بنیادی اہمیت تہذیب و تمدن کی ہے، اور ایک تہذیب یافتہ انسان کیسے خدا کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ سکتا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ خدا سے جڑے سوال بہرحال ہر تہذیب اور اعلی ثقافت کے سوال ہیں۔ ظاہر ہے جوابات متنوع ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔

    ہمارے سماج کی حد تک مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف تعبیر پر حکومت قائم ہو چکی ہے بلکہ مذہب صرف اور صرف سرمایہ دارانہ استحصالی مقاصد کے لئے ایک آلۂ کار ہے۔ دوسری طرح ایک نظری سیکولرازم نہ ہوتے ہوئے ایک عملی سیکولرازم رائج ہے، جو لبرل ہیومنزم کے تمام قبیح مظاہر کی ترویج میں مصروف ہے۔ یہ مظاہر دیکھنے کے لئے پوری میڈیا انڈسٹری پر رمضان کی ٹرانسمیشن دیکھنا ہی کافی ہے۔ رویت ہلال کمیٹی جیسے مضحکہ خیز ڈرامے سے لے کر لوگوں کو تحائف کے نام پر نچانے تک کیا ایسی چیز ہے جیسے تہذیب و تمدن کی علامت کہا جا سکے؟ دن دیہاڑے کسی گورنر کے ناحق قتل تک پر تمام مذہب پسند خاموش تماشائی ہیں، کیوں کہ اگر وہ بولتے ہیں تو ان کی نفسیاتی حدود پار ہوتی ہیں اور عدم تحفظات یہ ہیں کہ اس طرح ہم سیکولرازم کو رواج دیں گے۔

    میرے لئے سیکولرازم صرف اس لئے اہم ہے کیوں کہ ہمارے سماج کی حد تک یہ ایک ایسا پہلا قدم ہے جو مستقبل بعید میں نہ صرف سماجی مکالمے کے منہج کو نہ تبدیل کر سکتا ہے بلکہ زبان و بیان کے معنویاتی گروہوں کو بھی کشادہ کر سکتا ہے۔ میری رائے میں روایت، تہذیب و تمدن جیسی اصطلاحات کو فوری طور پر ازسرِ نو دریافت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سماج میں مذہبی تعبیر کی بدصورت شکلیں اس کا امکان بھی باقی نہیں رہنے دیں گی۔

  • 25-01-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    محترم ! آپ کا سیکولرازم میرا نہیں خیال سربر آوردہ سیکولر لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔البتہ وہ اسے ہم جیسے لوگوں کو مخمصے میں ڈالنے کے لیے فائدہ مند ضرور سمجھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی فکری اور علمی قیادتوںاور سیاسی اور سماجی قیادتوں میں ہمیشہ ‘ ہرجگہ فرق رہتا ہے۔

  • 26-01-2016 at 6:40 am
    Permalink

    مجھے نہیں معلوم عاصم بخشی صاحب کا ظاہری حلیہ کسی عقیدے کی پاسداری کا مرہون منت ہے یا خود بیزاری کا عملی ثبوت، لیکن مملکت خداداد میں اس طرح کے متشرع حلیے کے حامل کے قلم سے ایسی تحریر کا نمودار ہونا بذات خود ایک معجزہ ہے، بہت خوب لکھا ہے، مزید کا انتظار ہے۔

Comments are closed.