کرکٹ کو نقصان نہ پہنچائیں


\"edit\" پاکستان اور انگلینڈ آج طویل عرصے بعد لارڈز کے میدان میں مقابل ہیں۔ یہ وہی میدان ہیں جہاں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ پر اسپاٹ فکسنگ کا الزام لگا اور پھر تینوں کھلاڑی میدان بدر ہو گئے۔ سلمان بٹ اور محمد آصف تو اب تک ٹیم میں واپس نہیں آ سکے مگر محمد عامر اپنی سزا بھگت کر پھر ان ایکشن ہو گئے ہیں۔ اب پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے تناظر میں میڈیا پر تجزیوں اور تبصروں کا طوفان آیا ہوا ہے۔ انگلش میڈیا اور سابق کھلاڑی محمد عامر سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں اور ان کے حوالے سے مسلسل ایک منفی میڈیا کمپین چلائی جا رہی ہے جبکہ پاکستانی میڈیا اور کھلاڑی محمد عامر کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسپاٹ فکسرز پر زندگی بھر کیلئے پابندی ہونی چاہئے اور اسی لئے وہ اب تک محمد عامر کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی رائے کا احترام مگر قانون کی پاسداری اس سے زیادہ اہم ہے۔ محمد عامر اپنی سزا بھگت چکے۔ جیل جا چکے۔ جرمانہ بھی ادا کیا اور لوگوں سے آنکھیں ملانے کے قابل تک نہ رہے اور اب اگر وہ اپنے گناہوں کی قانونی تلافی کر چکے ہیں تو انہیں بلاجواز تنگ کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے۔ کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کے قوانین کے مطابق ہی وہ دوبارہ کرکٹ کے میدان میں واپس آئے ہیں، اس لئے نوجوان کھلاڑی کو سپورٹ کیا جانا چاہئے۔

انگلش میڈیا کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ غیر ملکی ٹیموں کے آمد کے موقع پر اسٹار کھلاڑیوں کیخلاف محاذ کھڑا کر کے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور اب محمد عامر کیخلاف گھٹیا سرخیاں جمانے کا مقصد بھی انہیں دباؤ میں لا کر ان کا دھیان اچھی کارکردگی سے ہٹانا ہے۔ یہ رویہ برطانیہ جیسی آزاد صحافت کو زیب نہیں دیتا۔ قابل ذکر تعداد میں سابق انگلش کھلاڑیوں نے محمد عامر کی حمایت کی ہے جو قابل تحسین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے کا سفر جاری رکھا جائے وگرنہ تنازعات یونہی جنم لیتے رہیں گے اور نقصان کرکٹ کا ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔