کتابوں سے ملے گی تمھیں قوت پرواز


صحافی ہونے کے بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں لیکن ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ بہت سے بڑے لوگوں سے ملاقات کا موقع مل جاتا ہے۔ ہمارے\"mubashir ہاں مشہور لوگوں کو بڑا سمجھا جاتا ہے۔ میں اکثر اپنے دفتر میں سیاست دانوں، بزنس ٹائیکونز، کھلاڑیوں اور فن کاروں کو دیکھتا رہتا ہوں۔ یہ ایک عام بات ہے۔ عام یا خاص لوگوں سے ملتے رہنا چاہیے۔ اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن شاذ ہی میں نے کسی خاص شخصیت سے خاص طور پر ملنا چاہا ہو گا۔

میں صرف ان لوگوں سے ملنے کو بے قرار رہتا ہوں، جنھوں نے کوئی کتاب لکھی ہو یا جنھیں کتابوں سے محبت ہو۔ جب میں کوئی کتاب پڑھ لیتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ میں ان سوالوں پر گفتگو کرنے کے لیے صاحبان کتاب سے ملاقات کی کوشش کرتا ہوں۔ چنانچہ میری جیب میں ہر وقت ایسے لوگوں کی فہرست رہتی ہے، میں جن سے ملنا چاہتا ہوں۔ ان لوگوں کی کتابیں میں نے ایک علیحدہ شیلف میں سجا رکھی ہیں۔

ان ناموں میں ایک نام عبدالستار ایدھی کا بھی تھا۔ میں کبھی اس نام کو فہرست سے کاٹ دیتا تھا، کبھی دوبارہ لکھ لیتا تھا۔ اس کی وجہ یہ کہ ایدھی صاحب نے خود کوئی کتاب نہیں لکھی۔ ان کی سوانح حیات تہمینہ درانی نے ان کا انٹرویو کرکے لکھی ہے۔ میں سوچتا تھا کہ ایدھی صاحب سے ملوں گا تو کیا سوال کروں گا۔ انھوں نے سوال کرنے کو چھوڑا ہی کیا ہے۔

میں خود سے سوال کرتا تھا کہ ایدھی صاحب انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے پاس کتابوں سے محبت کا وقت کہاں ہوگا۔\"Handshake\"

لیکن ایک دن میں نے خود کو ایدھی مرکز فون کرنے پر مجبور پایا۔ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے فون ریسیو کیا۔ میں نے اپنا نام بتایا تو وہ پہچان گئے۔ کہنے لگے، ’’آپ وہی ہیں جنھوں نے چند دن پہلے ایدھی صاحب کے بارے میں سو لفظوں کی کہانی لکھی ہے۔ جس دن چاہے ملنے آجائیں۔ شام سات بجے آئیں تو اچھا ہے۔‘‘

میں نے کہا، ’’شام سات بجے میں دفتر میں ہوتا ہوں۔ دس بجے سے پہلے کسی صورت نہیں آسکتا۔‘‘ فیصل ایدھی کچھ دیر سوچتے رہے۔ ’’اچھا! پھر آپ کو صبح سویرے آنا پڑے گا۔ آٹھ بجے آسکتے ہیں؟‘‘

میں ساڑھے سات بجے ایدھی سینٹر کھارادر پہنچ گیا۔ وہاں رضاکاروں نے بتایا کہ ایدھی صاحب میٹھادر میں رہتے ہیں۔ صبح کا وقت تھا اس لیے بازار بند تھے ورنہ شاید میری گاڑی اس علاقے میں گھس بھی نہیں سکتی تھی۔ میں کچھ دیر تک ان گلیوں میں چکراتا رہا۔ کھارادر اور میٹھادر پرانے شہر کے علاقے ہیں۔ باہر کا آدمی تنگ گلیوں اور ٹیڑھے راستوں کو یاد نہیں رکھ سکتا۔

ایک گلی میں ایک شخص کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کھارادر ہے یا میٹھادر؟‘‘ اس نے کہا، ’’یہاں زمانے میں مٹھاس بانٹنے والا ایدھی رہتا ہے۔ یہ میٹھادر ہے۔‘‘

میں نے گاڑی ایک طرف لگائی اور پوچھتا پاچھتا ایدھی سینٹر پہنچ گیا۔ استقبالیہ کے نام ایک چھوٹا سا کمرا تھا۔ مجھے وہاں موجود بلوچ \"Book\"خواتین و حضرات نے بیٹھنے کو کہا اور اندر اطلاع کردی۔ فیصل ایدھی کو آنے میں کچھ دیر لگی۔ میں نے کمرے کا جائزہ لیا۔ میزیں، کرسیاں، الماریاں، دروازوں اور دیواروں کا رنگ و روغن، ہر شے سے پراناپن ٹپک رہا تھا۔

پہلے فیصل ایدھی آئے اور معذرت کی کہ مجھے انتظار کرنا پڑا۔ پھر ایک رضاکار ایدھی صاحب کی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا لایا۔ میں نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔

کراچی میں کئی ایدھی سینٹرز ہیں۔ میں ایک مرکز کے پڑوس میں رہ چکا ہوں۔ دیوار بیچ پڑوسی نہیں، محلے دار کہہ لیں۔ کراچی کے علاقے انچولی کے ایک کونے پر نصیر ترابی رہتے تھے۔ اس کے برابر والی گلی میں علامہ طالب جوہری کا قیام ہے۔ اس کے ساتھ والی گلی میں ڈاکٹر ہلال نقوی کی رہائش تھی۔ پہلے میں بھی اسی گلی میں رہتا تھا۔ وہاں سے چلتے چلتے سڑک پر آجائیں تو اپنا گھر کے نام سے ایدھی سینٹر ہے۔ لوگ اسے سہراب گوٹھ والا ایدھی سینٹر کہتے ہیں۔

جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو یہی سمجھتا تھا کہ وہ ایدھی صاحب کا گھر ہے۔ گھر کی کسی تقریب میں کھانا زیادہ بن جاتا تھا تو وہیں پہنچایا جاتا تھا۔ صدقے کا بکرا اسی ایدھی مرکز میں چھوڑا جاتا تھا۔ پرانے کپڑے گٹھری میں باندھ کر وہیں دیے جاتے تھے۔ ایدھی مرکز کا کوئی ملازم کبھی کوئی سوال نہیں کرتا تھا۔ جو کچھ دے دیا، اس کی رسید کاٹ کے حوالے کی۔

کبھی بچپن میں ایدھی صاحب کو وہاں دیکھا، کبھی نمائش پر چندہ جمع کرتے پایا، کبھی جلوس میں دکھائی دیے، کبھی ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوئے۔ لیکن وہ ان تھک محنت کرنے والے دیوقامت شخص نظر آتے تھے۔ میٹھادر کے مرکز میں میرے سامنے جو ایدھی صاحب تھے، وہ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اتنے کمزور کہ بول نہیں سکتے تھے، میرے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ پھر درخواست کی کہ مجھے آپ سے متعلق تین کتابیں ملی ہیں۔ اگر آپ ان پر دستخط کردیں تو بہت خوشی ہوگی۔

میں نے اپنا قلم پیش کیا لیکن ایدھی صاحب نے ایک رضاکار کو اشارہ کیا۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ ایدھی صاحب اپنے خاص قلم سے دستخط کرتے ہیں۔ وہ نیلے رنگ کا موٹا سا مارکر تھا۔ انھوں نے تینوں کتابوں پر دستخط کردیے۔

فیصل ایدھی نے کہا، ’’کیا آپ کی ایدھی صاحب کے ساتھ تصویر بنا دوں؟‘‘ میں نے انکار کیا، ’’بس یہ دستخط کافی ہیں۔ ایدھی صاحب کی جب \"poster\"طبعیت اچھی ہوگی تب فوٹو بنوائیں گے۔ ان دنوں دوسرے لوگ تصویریں بنوانے آ جاتے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ خود کیسے بنواؤں۔‘‘

فیصل ایدھی نے کہا، ’’جب ایدھی صاحب کی طبعیت خراب ہوتی ہے اور وہ بستر پر ہوتے ہیں، تب لوگوں کا تصویر کھنچوانا ہمیں بھی برا لگتا ہے۔ لیکن اس وقت یہ بیٹھے ہیں۔ میں آپ کی ایک تصویر بنا دیتا ہوں۔‘‘ انھوں نے موبائل فون کا کیمرا آن کیا تو میں نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔ ایدھی صاحب نے ازخود میرا ہاتھ تھام لیا۔ وہ نازک سا، بوڑھے اور بیمار شخص کا ہاتھ تھا لکن میری رگ و پے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تصویر بن چکی تو میں نے دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

میرے سامنے ہی ایدھی صاحب کو ایمبولینس میں بٹھایا گیا اور وہ ڈائیلسس کے لیے ایس آئی یو ٹی کو چلے۔ اس کے بعد ان کی طبعیت نہیں سنبھلی۔ اس کے بعد میں نے ایسی کوئی تصویر نہیں دیکھی جس میں وہ بیٹھے ہوئے ہوں۔ اس کے بعد میں نے انھیں کسی کا ہاتھ تھامے نہیں دیکھا۔

ایدھی صاحب ایمبولینس میں رخصت ہوئے تو میری سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں۔ عجیب سی کیفیت تھی۔ ذہن خالی خالی ہورہا تھا۔ میں بلاوجہ اس کمرے کی ایک دیوار کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میں نے غور کیا کہ وہاں ایک پوسٹر لگا ہوا تھا۔ اس پر لکھا تھا، ’کتابوں سے ملے گی تمھیں قوت پرواز‘ میں جذباتی ہوگیا۔ وہاں میں ایک ایسے شخص سے ملنے آیا تھا جو خود کو کم پڑھا لکھا کہتا تھا۔ انسانیت کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف شخص کے پاس کتابوں کے لیے وقت کہاں ہوتا ہوگا۔ لیکن اس پوسٹر کو دیکھ کر پتا چلا کہ ایدھی صاحب کو کتابوں سے کتنی محبت تھی۔ میں نے بے اختیار ایدھی صاحب کی کتابوں کو چوم لیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi