چچا چھکن نے اخبار نکالا یا اخبار نے۔۔۔؟


\"1280\"چچا چھکن سے بھلا کون واقف نہیں ہے۔ ان کی سوانح حیات کے چنیدہ واقعات کو سید امتیاز علی تاج رقم کر چکے لیں۔ لیکن ان کا سوانحی خاکہ لکھنے کی سید صاحب کو مہلت نہ مل پائی اور یہ سعادت اس عاجز کو نصیب ہوئی۔

چچا چھکن کا لانبا قد ہے اور منحنی سا جسم۔ پیکر خاکی میں سب سے نمایاں ان کی لمبی داڑھی ہے۔ ذرا تیز ہوا چلتی ہے تو ان کی داڑھی ہوا میں لہرانے لگتی ہے اور دھان پان ایسے کہ ہوا تھوڑی سی اور تیز ہو جائے تو وہ خود بھی لہرانے لگتے ہیں۔ شروع جوانی میں سر پر ترکی ٹوپی اوڑھتے تھے اور بات کرتے ہوئے جب شدت جذبات سے مغلوب ہر کر زور زور سے سر ہلاتے تھے تو اس کا پھندنا خوب پھدکتا تھا۔  واللہ ان کے جذباتی الفاظ میں کیا جادو ہے، امرت کی دھارا ہیں۔ آب زلال کا چشمہ ہیں۔ جب وہ شدید جذباتی ہو کر بات کرتے ہیں تو مخاطب خواہ کتنے ہی شدید غصے میں کیوں نہ ہو، ان کے چہرے کی طرف دیکھ کر غالباً ان کے اخلاص کی داد دیتے ہوئے خوش ہو کر بے ساختہ مسکرانے لگتا ہے۔ اگر آپ نے ٹی وی پر جمشید انصاری کو حسنات بھائی کے رول میں دیکھا ہو تو آپ کو چچا چھکن کا سراپا ذہن میں لانے میں دقت نہیں ہو گی۔ حسنات بھائی ہی کی مانند وہ بھی خفا ہوتے تو اپنے قلم کو لہراتے ہوئے دھمکی دیتے کہ ’چقو (چاقو) ہے میرے پاس چقو‘۔ حسنات بھائی کی تصاویر آپ کے سامنے ہیں، روئے انور پر فٹ بھر کی کچھڑی داڑھی چپکا لیں اور ذرا سا پیچھے ہٹ کر دیکھیں۔ بس آپ نے چچا چھکن کے درشن کر لئے۔

نوے کی دہائی میں کشمیر میں جہاد شروع ہوا تو چچا چھکن پر جوانی کے چند روز باقی تھے۔ چچا چھکن  لڑنے کے لیے کشمیر پہنچے۔ لیکن ان کو ابتدائی فوجی تربیت کے کیمپ سے واپس بھیج دیا گیا کیونکہ وہ اپنے ان استادوں کو بھی اسلحے کے استعمال اور جنگی حکمت عملی پر سبق دیتے پائے گئے تھے جن کے نام بڑے اور درشن چھوٹے تھے۔ دسیوں معرکوں میں وہ کماندار بھارتیوں کو شکست دے چکے تھے، مگر\"1287\" چچا چھکن کے سامنے طفل مکتب دکھائی دیتے تھے۔ کم از کم چچا چھکن کو تو وہ یہی دکھائی دیتے تھے۔ لیکن ان کمانڈروں کی کم ظرفی دیکھیں، کہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے چچا چھکن کی بات سنتے ہی بے شرمی سے ہنس پڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ’چچا، چلانی تو آپ کو غلیل بھی نہیں آتی ہے، اور سکھاتے ہمیں ہیں جو کئی معرکوں میں سرخرو ہو چکے ہیں‘۔ ان تضحیک آمیز الفاظ سے ٹپکتا ہوا حسد آپ کو بھی صاف دکھائی دے رہا ہو گا۔ پیشہ ورانہ رقابت کا یہ حالت تھا کہ جنگی تربیت میں ان کے ساتھ کے رنگروٹ بھی کسی سبب سے تاک تاک کر وہیں نشانے لگاتے تھے جہاں چچا چھکن کی ٹوپی کا پھندنا لہراتا دکھائی دیتا تھا۔ حالانکہ بعد میں ان پر جذبات کی شدت ایسی غالب نہ آتی تھی اور اخیر میں تو انہوں نے ترکی ٹوپی اوڑھنا بھی ترک کر دی تھی مگر اس کا پھندنا ان رفیق رنگروٹوں کا نشانہ بنا رہا۔ مگر صاحب، ٹوپی اوڑھنی چھوڑ دی تو کیا ہوا، جب ایک چیز شخصیت کا حصہ بن جائے تو وہ الگ ہو کر بھی الگ نہیں ہو پاتی ہے۔ اب ان کے سر پر ایک سفید لٹ باغی ہو کر ترکی ٹوپی کے پھندنے کی مانند لہرانے لگی ہے اور یہی لگتا ہے کہ انہوں نے ٹوپی کو چھوڑ دیا ہے، مگر ٹوپی انہیں چھوڑنے پر راضی نہیں ہے۔ اب ان کی ٹوپی کا پھندنا نہیں پھدکتا مگر ان کے الفاظ ان کی شخصیت میں پیدا ہونے والا یہ خلا کماحقہ پورا کر رہے ہیں۔

چچا چھکن خود کو میدان صحافت کا سردار سمجھتے ہیں۔ ہم جیسے ان کے مداح بھی ان کا مرتبہ جان کر اور عقل و دانش دیکھ کر ازروئے احترام انہیں سردار جی ہی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ماننے کی بات ہے کہ ان کی شخصیت ایسی خالص ہے کہ اگر فی زمانہ خالصہ کہلانے کا کوئی حقدار ہے تو چچا چھکن ہی ہیں۔  انہوں نے میدانِ صحافت میں بھی وہ نام کمایا ہے جو بڑے بڑوں کو نصیب نہیں ہوا۔ جس اخبار کا نام\"1368\" لیں، پتہ چلتا ہے کہ وہ اس میں کام کر چکے ہیں۔ ایسا ہرفن مولا شخص ہم نے زندگی میں کوئی دوسرا نہیں دیکھا ہے۔ لیکن دنیا میں ہر جگہ ہم جیسے حق کا ساتھ دینے والے، اور نابغوں کے فن کا برملا اعتراف کرنے والے تو  موجود نہیں ہیں۔ چچا چھکن جس اخبار میں بھِی جاتے ہیں، وہاں کے صحافیوں اور کالم نگاروں کا جلن سے برا حال ہو جاتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ چچا چھکن وہ اخبار چھوڑ کر چلے جائیں۔ لیکن وہ بلا کے مستقل مزاج ہیں اور ثابت قدم ہیں، نہیں جاتے جب تک کہ سیکیورٹی والے نہ بلا لیے جائیں۔

صحافیوں کی پیشہ ورانہ رقابت تو سمجھ آتی ہے لیکن ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اخبار کے مالکان کیوں ان سے جلتے ہیں۔ ان کو تو الٹا خوش ہونا چاہیے کہ ایسا بڑا عالم ان کے ادارے میں موجود ہے جو کہ اپنی سیٹ چھوڑ کر باقی ہر شعبے پر بھی دسترس دکھاتا ہے اور اخبار کے مالک، چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر، تجزیہ کار، کالم نگار، رپورٹر ، کاپی رائٹر، کمپوزر، پرنٹر آپریٹر، ہاکر اور چائے والے غرض کہ اخبار کے ہر شعبے کے اہلکار کو اس کی نشست پر جا جا کر اس کو کام کرنے کا درست طریقہ بتاتا ہے۔ ایسی شدید مصروفیت کے عالم میں اگر ان کو تفویض کیا گیا کام نہیں ہو پاتا ہے، تو اس معمولی سے نقصان سے کہیں زیادہ فائدہ اس تربیت کا ہے جو کہ وہ بحیثیت مجموعی ادارے کو پہنچاتے ہیں۔ غالباً اخبار کے مالکان اس بات پر حسد کا شکار ہو جاتے ہیں کہ مالک تو وہ ہیں لیکن بیشتر اوقات ادارے پر حکم چچا چھکن چلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسا بڑا آدمی مگر علم سکھانے انہوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ جس نامی صحافی کا نام لیں، وہ انہی کا شاگرد نکلتا ہے، لیکن یہ ناخلف شاگرد ہیں، خود یہ بات نہیں مانتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے چچا چھکن سے تعلق رکھنا کوئی بہت شرم کی بات ہو۔  چچا چھکن ہی ان کا پول کھولتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلانا فلانا میرا شاگرد ہے۔ معلوم نہیں کتنوں کو وہ لکھنا پڑھنا سکھا چکے ہیں، لیکن ان لوگوں نے کامیابی پانے کے بعد اپنے استاد کا ہر سانس پر شکر ادا کرنے کی بجائے، ان کا نام آنے پر ہمیشہ ویسے ہی قہقہہ لگایا ہے جیسے انہوں نے حسنات بھائی کی ٹوپی کو ہلتے ہوئے دیکھ لیا ہو۔ بڑے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔ ہم کہے دیتے ہیں ان کامیاب صحافیوں کو بھی ایک دن اس بے ادبی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ ویسے بھی مثل مشہور ہے کہ نیم حکیم خطرہ جاں اور نیم ملا خطرہ ایماں۔ چچا چھکن تو اپنی ذات میں بیک وقت یہ دو آتشہ ہیں اور ان کے مبینہ شاگرد یہ فیصلہ نہیں کر پاتے ہیں کہ چچا چھکن سے اپنی جان بچائیں یا ایمان۔

لیکن چچا چھکن اس سلوک پر شکوہ کناں نہیں ہیں۔ اب ملک بھر کے اخبارات سے انہوں نے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ کہتے ہیں کہ جس نے اپنا اخبار چلانا ہے، وہ خود آ کر ہمیں لے جائے۔ لیکن زمانے کی ناقدری کا کیا شکوہ کیجیے کہ یہ گوہر بے مثال گدڑی کا لعل بنا پڑا ہے، یعنی گدڑی کی عفونت پر اعتراض کر کے کوئی اسے لے جانے پر تیار نہیں ہے۔ ایسے نابغے کی ایسی ناقدری اور پھر لوگ باگ حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں اخبارات کی سرکولیشن اتنی کم کیوں ہے اور اخباری صنعت ناکامی سے کیوں دوچار ہے۔ بہرحال ان کے دل میں خلوص اب بھی اتنا زیادہ ہے کہ وہ اکثر اپنا کام دھندا چھوڑ کر غیر متعلقہ لوگوں، حتی کہ اپنے کاروباری رقیبوں کے بھی پاس جا جا کر بھی ان کا کاروبار خود چلانے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔

چچا کا حلقہ احباب ہمیشہ سے بہت وسیع رہا ہے۔ ہر مشرب کے بڑے لوگوں سے ان کا قریبی تعلق قائم رہا ہے۔ کوئی بھِی مشکل پڑے، دو بڑے\"140007\" لوگوں میں ایسا اختلاف ہو جائے کہ ان کے درمیان بات چیت نہ رہے، کوئی ایسی مشکل آن پڑے کہ ان کا دماغ ماؤف ہو جائے، کسی جگہ حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہو اور معاملہ سلجھ نہ رہا ہو، تو یہ بڑے لوگ چچا چھکن کے در پر ہی سوالی ہوتے ہیں۔ خواہ دن ہو یا رات، وہ چچا چھکن کو بلا بھیجتے ہیں۔ چچا چھکن کا احترام اور ان کی دیانت اور اخلاص پر اعتبار ایسا ہے کہ کوئی ان کو نہ نہیں کہہ پاتا ہے۔ ان کی بات ٹالنے کا تو ہم نے کسی کو نہیں سنا ہے۔ خواہ دو جانی دشمن ہی کیوں نہ ہوں، چچا چھکن کے بیچ میں پڑنے پر وہ شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ ان کا بھارت کا ویزا لگ گیا ہوتا، تو بھارتی وزیراعظم سے مل کر پاکستانی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر بھی یہ کبھی کا حل کروا چکے ہوتے۔

لیکن چچا چھکن پیٹ کے ایسے پکے ہیں کہ جس کی مدد کریں، اس کی زندگی میں کبھِی اس پر اپنے احسان کو نہیں جتلاتے ہیں۔ ہمیشہ اس کے فوت ہونے کے بعد ہی اس راز کو کھولنے کی عادت نے ان کا اتنا بھرم بنایا ہوا ہے۔ نواز شریف اور واجپائی صاحب کی اس دار فانی میں مہلت ختم ہونے کے بعد ہی ہمیں اعلان لاہور کے معاملے میں چچا چھکن کی خدمات کا پتہ چلے گا اور واجپائی، لال کرشن ایڈوانی، پرویز مشرف وغیرہ فوت ہو جائیں تو پھر چچا چھکن کی زبانی ہمیں علم ہو گا کہ پرویز مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کے حل کے انتہائی قریب پہنچنے میں چچا چھکن کا کتنا بڑا ہاتھ تھا۔

اب چچا چھکن صحافت سے فراغت پا کر گھر بیٹھے ہیں تو محلے بھر کے قضیے چکاتے ہیں۔ خواہ نیا مکان کرائے پر دینے کا معاملہ ہو، یا پرانا مکان زمین بوس کر دینے کا، وہ بروقت اور تیر بہدف مشورہ دیتے ہیں، اور ہر دو صورت میں اپنے مشورے کی وجہ سے مکان کا ایک ہی حشر ہونے پر قسمت کا قصور واضح کر کے گرے ہوئے مکان کے مالک کو تسلی دلاسہ بھی وہی دیتے ہیں۔ گھریلو معاملات میں تو چند ناخوشگوار واقعات کے بعد انہوں نے دخل دینا چھوڑ دیا ہے جن کی کچھ تفصیل آپ کو سید امتیاز علی تاج صاحب بتا چکے ہیں۔

سید صاحب کا بتلایا ہوا ایک واقعہ یاد آتا ہے جسے وہ ’چاچا چھکن نے تصویر ٹانگی‘ کے عنوان سے رقم کر چکے ہیں۔۔ چچا چھکن پر خدا کا فضل ہے۔ خواہ بہت پیچیدہ تکنیکی کام ہی کیوں نہ ہو، اپنی بے مثل ذہانت سے وہ اسے خود ہی کرتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہی چچی کو ایک فریم شدہ تصویر ملی، تو یہ چچا چھکن ہی تھے جنہوں نے مودے، امامی، چھٹن، للو اور دوسرے بچوں اور ملازمین کی مدد سے اسے تن تنہا دیوار پر ٹانگ دیا تھا۔ لیکن عورت ذات ہوتی ہی کم عقل ہے۔ چچی دیکھ کر کہنے لگیں کہ لگتا ہے کہ دیوار پر چاند ماری کی ہے، ایسے ہی تصویر ٹانگنی ہو تو مجھے ہفتہ بھر پہلے بتا دیا کرو تاکہ بچوں کو لے کر میکے چلی جاؤں۔ اب اس میں چچا چھکن کا کیا قصور اگر میخیں معیاری نہیں تھیں اور درجن بھر جگہوں پر کوشش کر لینے کے بعد وہ تصویر ٹانگنے میں کامیاب ہوئے۔  زندگی رہی تو امتیاز علی تاج کا مضمون ’چچا چھکن نے تصویر ٹانگی‘ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اس دوران میں اگر بہت جلدی ہے تو چچا چھکن کو اپنی دیوار پر لٹکا کر دیکھ لیجئے۔ ان باکس کیجئے نا اپنی درخواست مع تفصیلی احوال ظاہری۔۔۔۔ نیت کا حال چچا چھکن خود سے ڈھونڈ نکالیں گے۔ ابھی عینک ڈھونڈ رہے ہیں اپنی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar