ڈاکٹر نجم الرشید: مجنوں کوموت کیسی شتابی سے آ گئی!


\"nasirکسی ایسے شخص کی موت کا تصور کرنا آسان نہیں، جسے آپ اکثر دیکھتے ہوں، اور ہمیشہ مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوں۔ ہمارا تخیل خواہ کتنا ہی زرخیز کیوں نہ ہو، اور اس کی پرواز کتنی بلند کیوں نہ ہو، مسکراہٹ کے مردہ ہونے کی تصویر بناتے ہوئے، اس کے پر جلنے لگتے ہیں۔ موت کا خیال آسان ہے، موت کا یقین حد درجہ مشکل! شعبہ فارسی اورینٹل کالج کے استاد ڈاکٹر نجم الرشید سے اکثر ملاقات ہوتی تھی، کبھی کاریڈور میں، کبھی کمرے میں، کبھی اورینٹل کالج کے وسطی صحن کے آس پاس۔ جوںہی ان پر نظر پڑتی، وہ ایک تازہ کھلی ہوئی مسکراہٹ سے اپنے ملنے والوں کا استقبال کرتے۔ وہ اس یقین کے حامل محسوس ہوتے تھے کہ ایک مسکراتا چہرہ، دنیا میں خدا کے جمال کا پرتو ہے۔ انتیسویں رمضان کی جس شام تمام پاکستانی، مفتی منیب کے ذریعے ہلال عید کی خبر سننے کے منتظر تھے، اسی شام قطعی غیر متوقع طور پر ڈاکٹر نجم کے انتقال کی دل دہلا دینے والی اطلا ع ملی۔ ڈاکٹر نجم کے گھر والوں اور احباب کے لیے ہلال عید اتنا سنگ دل، اتنا تڑپا دینے والا کبھی نہیں رہا ہ وگا، اور شاید آئندہ ہمیشہ اس زخم کو تازہ کیا کرے گا، جو ان کی موت سے لگا ہے۔ میرے لیے یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ ان کی اہلیہ، اور ان کی پچھتر سالہ بیوہ ماں نے کس طرح اپنے اکلوتے بیٹے کے سانحہ ارتحال کی اطلاع پر اوّلین ردّعمل ظاہر کیا ہو گا۔ ڈاکٹر نجم کے اکلوتے نو سالہ بیٹے کو البتہ وقت لگے گا کہ وہ سمجھ سکے کہ یتیمی کتنا بڑا دکھ ہوتی ہے! آج اورینٹل کالج کے شیرانی ہال میں ان کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام ڈاکٹر فخر الحق نوری (پرنسپل و ڈین کلیہ شرقیہ)اور ڈاکٹر سلیم مظہر (صدر شعبہ فارسی) نے کیا تھا، جس میں وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے اعلان کیا کہ پنجاب یونیورسٹی ان کے بیٹے کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کرے گی۔ کفالت یتیمی سے وابستہ حقیقی مسائل کا حل ہے، اور ریاست کو چاہیے کہ وہ ہریتیم کی ذمہ داری قبول کرے مگر پدری محبت کے سلسلے کے یوں اچانک ٹوٹ جانے سے جو خلا انسانی روح میں پید اہوتا ہے، اسے اہل معرفت تو بھر سکتے ہیں، عام انسان نہیں۔ بڑی سے بڑی کامیابی بھی محبت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ یہ دوسری بات ہے کہ بڑا دکھ، بڑی شخصیت اور بڑی کامیابی کو اکثر ممکن بناتا ہے!

یکم اکتوبر 1968ء کو ڈنگہ گجرات میں پیدا ہونے والے نجم الرشید پہلے کوئٹہ یونیورسٹی سے منسلک ہوئے، پھر 23 فروری 2001ء کو\"najam اورینٹل کالج کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہوئے۔ شعبہ فارسی، اورینٹل کالج کے قدیم ترین شعبوں میں سے ہے، جس کا آغاز 1870ء میں اورینٹل کالج کے آغاز کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ یعنی کم وبیش اسی زمانے میں، جب عملاً سرکاری فارسی کی جگہ کولونیل انگریزی لے چکی تھی، اور ’پڑھو فارسی بیچو تیل‘ جیسی حقیقت زبان زد عام تھی۔ یہ کہنے میں باک نہیں ہونا چاہیے کہ برصغیر میں فارسی کی علمی روایت کو باقی رکھنے میں اورینٹل کالج کے شعبہ فارسی کا نہایت اہم کردار ہے۔ نجم الرشید نے یہیں سے ایم اے فارسی کیا تھا، البتہ پی ایچ۔ ڈی کے لیے وہ تہران گئے تھے۔ انھوں نے برصغیر میں فارسی نقد ادبی کی روایت پر پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا، جو بہ قول ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ایک لاجواب تحقیقی کام ہے۔ پی ایچ۔ ڈی کے بعد بھی انھوں نے تحقیقی کام جاری رکھا۔ پچاس کے قریب تحقیقی مقالات شایع کیے، جن میں نصف غیر ملکی جرائد میں چھپے۔ متعدد عالمی کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔

ڈاکٹر نجم کا شماراپنے شعبے کے مقبول اساتذہ میں ہوتا تھا۔ ان کی مقبولیت کے تین اسباب تھے:فارسی زبان وادبیات پر عالمانہ دسترس اور اس کی ترسیل کا سلیقہ، خوش اخلاقی اور اخلاقی اقدار کی غیرمعمولی پاسداری۔ یونیورسٹیوں میں پہلی خوبی اکثر اساتذہ میں ہوتی ہے، مگر باقی دو خوبیاں کسی کسی میں ہوتی ہیں۔ وہ اورینٹل کالج کے ایک ایسے استاد تھے، جن کے صاحب کردار ہونے کی گواہی، ان کے دشمن بھی دیتے تھے۔ وہ کلین شیو تھے، مگرروایتی مذہبی شخص تھے، یعنی نماز روزے کی پابندی کرتے تھے، مگر مجال ہے کہ باقیوں کو خبر ہو۔ ان کے ماتھے پر کوئی محراب نہیں تھی، مگر دل میں گوشہ حق تھا، جسے سب سے چھپاتے تھے۔ وہ اپنے دینی مزاج کو اشتہار نہیں بناتے تھے۔ اپنی آمدنی کا ڈھائی فیصد باقاعدگی سے مستحقین کو دے دیا کرتے تھے، جو زکوةٰ کے علاوہ تھا، اور اس بات سے صرف ان کے چند قریبی احباب واقف تھے، جن میں ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈاکٹر فخر الحق نوری اور ڈاکٹر فرید شامل ہیں۔ کیا ستم ہے کہ ان سب خوبیوں کے ہوتے ہوئے، وہ جامعاتی سیاست کا بری طرح شکار ہوئے۔ انھیں وقت پر پروفیسر نہیں بننے دیا گیا۔ دو مرتبہ پروفیسر کی اسامی کا اشتہار یونیورسٹی نے شایع کیا، دونوں مرتبہ اس وقت کے ڈین کی ’مہربانی‘ سے منسوخ کرا دیا گیا۔ اعلیٰ تعلیم کے انحطاط کے متعدد اسباب پر گفتگو \"najam\"ہوتی رہتی ہے، مگر اس حقیقت پر کم ہی کسی کی زبان کھلتی ہے کہ کس طرح جامعاتی سیاست اور سازشیں، اساتذہ کی شخصیت میں حقیر، معمولی اور منفی جذبات کی پرورش کرتی ہیں، ان کے علمی جبہ وعمامہ کو جھوٹے تکبر کی نشانی بناتی ہیں، اور کیسے انھیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں تخلیق علم میں صَرف کرنے کے بجائے، اپنے رفقا کی کردار کشی اور ان کی حق تلفی میں جھونک دیں۔ ڈاکٹر نجم الرشید کی حق تلفی ہوئی، اورانھیں صدمے سے بھی گزرنا پڑا۔ جب یہ سب ہو رہا تھا، انھوں نے جواباً محاذ نہیں کھولا۔ اس کے بجائے انھوں نے ایک نئے علمی محاذ پر جانے کاعزم باندھا۔ انھوں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کا فیصلہ کیا۔ پہلے وہ ہائیڈل برگ جرمنی جانا چاہتے تھے، پھر انھوں نے اوکسفرڈ یونیورسٹی لندن جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں انھوں نے سکھ عہد کی فارسی تاریخوں پر تحقیقی کام کیا۔ لیکن اس دوران میں بھی بدقسمتی نے ان کا تعاقب جاری رکھا۔ ان کے معدے میں ٹیومر نمودار ہوا، جسے کینسر کے طور پر شناخت کیا گیا۔ چند ماہ قبل پاکستان واپس آئے تو جلد ہی یونیورسٹی کے حالات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جن مہربانوں نے انھیں صدمہ پہنچایا، وہ مدت ملازمت پوری کرکے رخصت ہوئے، اور ان کی جگہ ڈاکٹر فخرالحق نوری نے لی، جو خود ستم زدگان میں شامل رہے تھے۔ حالات کی یہ تبدیلی ان کے حق میں تھی، جلد ہی پروفیسر کی اسامی مشتہر ہوئی۔ آج وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ انھیں قاعدے کے مطابق، درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ کے چار ماہ بعد پروفیسر بنا دیا جائے گا، جس سے مالی فائدہ ان کے اہل خانہ کو ہوگا۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے!!

ان کا کینسر ابتدائی مرحلے پر تھا، اور قابل علاج تھا۔ اسی لیے شوکت خانم میموریل ہسپتال میں ان کا علاج شرو ع ہوا، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ المیہ یہ ہے کہ ان کا انتقال کینسر سے نہیں حرکت قلب بند ہونے سے ہوا۔ کینسر کے علاج کے دوران یا اس کے نتیجے میں وہ دل کے مریض بھی بنے۔ وہ صرف سنتالیس سال کی عمر میں وہاں چلے گئے، جہاں ہم سب نے بالآخر پہنچنا ہے۔ کاش وطن عزیزمیں، ان اسباب پر تحقیق کا رواج پڑ جائے، جنھیں انسانی اختیار میں لا کر اولاد آدم کو اپنی طبعی زندگی احسن طریقے سے بسرکرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے!

انھیں یاد کرتے ہوئے میر کا شعر یاد آتا ہے:

کس پاس جا کے بیٹھوں خرابے میں اب میں ہائے

مجنوں کو موت کیسی شتابی سے آ گئی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔