وہ آنکھیں موندے اوندھے پڑے ہیں!


mujahid ali

پاکستانی میڈیا کے بزرجمہر اس سوال پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں کہ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ مقامی عناصر کا تھا یا اس کی منصوبہ بندی بھارت جیسے دشمن نے پٹھان کوٹ پر حملہ کا بدلہ لینے کے لئے کی تھی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ حملہ افغان حکومت کی مرضی سے کیا گیا ہے اور افغانستان میں بیٹھے عناصر نے اس کی نگرانی کی تھی۔ یہ سوال چونکہ جس طرح دل چاہے پڑھا جا سکتا ہے، اس لئے اس میں سازش کے جال اور مختلف پہلوﺅں سے مختلف النوع دشمنوں کے ہاتھ تلاش کرنے کے امکانات بھی بے پناہ ہیں۔ پاکستان میں اخبار کے قاری بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک کے سینکڑوں کالم نگار اور ٹاک شو میزبان اور ان کے ان گنت مہمان، اس اہم سوال پر دور کی کوڑی لانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ تادم تحریر اخباروں اور ٹیلی ویژن کی حد تک یہ دنگل جاری ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ قوم کی فکر میں دبلا ہونے والے صحافی اور تبصرہ نگار ہی دہشت گردی کی وجوہ اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں اتاولے نہیں ہوئے جاتے بلکہ حکومت کے مختلف ادارے بھی اس معاملے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اسی مستعدی کا نتیجہ ہے کہ فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آج پشاور میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے حوالے سے بعض ”اہم“ انکشافات کئے ہیں۔ اپنی بات کو معتبر ثابت کرنے کے لئے انہوں نے افغانستان کے کسی علاقے سے کسی پاکستانی صحافی کو کی جانے والی ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ سنائی اور بتایا کہ اس معاملہ کی منصوبہ بندی اور نگرانی افغانستان سے کی جا رہی تھی۔ چونکہ کل افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان نے یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ حملہ افغانستان سے نہیں ہوا، اس لئے اچھے ہمسایہ کا کردار ادا کرتے ہوئے فوج کے سب سے بڑے ترجمان نے بھی یہ اقرار کیا کہ اس معاملہ میں افغان حکومت ملوث نہیں ہے مگر دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی، اور اس کا ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کا لیڈر خلیفہ عمر منصور ہے۔ یہی شخص 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کا ترجمان ملا محمد عمر خراسانی اس واقعہ سے لاتعلقی ظاہر کر کے پاکستان کے کئی معزز مبصرین کو یہ اہم جواز فراہم کر چکا ہے کہ طالبان تو حق پرست تحریک کے لوگ ہیں، انہیں تو بس گمراہ کیا جاتا ہے۔ لیجئے ملا خراسانی نے ایک ہی بیان میں دلدر دور کر دئیے بلکہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے کرنے والے لوگوں کو تحریک طالبان شرعی عدالت میں سزائیں دے گی۔ اللہ دے اور بندہ لے۔ ہمارے پاس بحث کرنے اور دشمن کے آنگن میں اس جرم کا کھرا نکالنے کا ایک تیر بہدف نسخہ ہاتھ آ گیا۔ حیرت ہے کہ جنرل عاصم باجوہ تک روح میں اتر جانے والا ملا خراسانی کا یہ بیان نہیں پہنچا وگرنہ وہ بھی شاید 20 جنوری کو 21 افراد کی جان لینے والے دہشت گردوں کو سہولت بہم پہنچانے والے لوگوں کی شناخت پریڈ کروانے سے گریز کرتے۔
لگتا ہے جس طرح ملک کے دانشور مبصروں کا اصل مقصد کسی سوال کا جواب تلاش کرنا نہیں بلکہ اپنی معلومات ، عقل ، حسِ سراغ رسانی اور حب الوطنی کی دھاک بٹھانا ہوتا ہے، اسی طرح فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کو بھی موقع ملا تو وہ پریس کانفرنس کے ذریعے یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ دیکھ لیجئے جن حکومتوں کو عوام ووٹ دیتے ہیں، وہ تو کان میں روئی دے کر سوئے پڑے ہیں لیکن اس ملک کی فوج چوکس اور چوکنی ہے۔ وہ نہ صرف آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کو مار بھگا رہی ہے بلکہ جو ڈھیٹ اس مار سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے، ان کا سراغ لگا کر ہاتھ باندھ کر رپورٹروں اور ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں جنرل باجوہ نے یہ ہوشربا انکشاف بھی کیا ہے کہ دہشت گرد سہولت کاروں کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ان کی اصل طاقت سہولت کار ہی ہوتے ہیں۔ قیمتی معلومات فراہم کرنے کے بعد جنرل موصوف نے اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے چار دہشت گردوں نے نوجوان طالب علموں سے بھری باچا خان یونیورسٹی پر دھاوا بولا اور فائرنگ کر کے 21 افراد کو شہید کر دیا۔ اب فوج کے چاق و چوبند محکمہ تعلقات عامہ نے اس بھیانک منصوبے کا انکشاف کر دیا ہے۔ قباحت صرف یہ ہے کہ یہ سراغ رسانی چار روز تاخیر سے کی گئی ہے۔ اگر یہ ادارے اصول اور طریقے پر عمل کرتے ہوئے، یہ فریضہ بروقت انجام دے لیتے تو انہیں 21 نوجوانوں کی لاشوں کے صدمے سے نڈھال قوم کے سامنے یہ نہ کہنا پڑتا کہ چاروں حملہ آوروں کو مار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی سہولت کاروں کی طرح فوج یا کسی دوسرے ادارے کی گرفت میں ہوتے اور قانون کے مطابق ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا۔
ملک کے عام شہری کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی جرم کو روکنے کے لئے کون سا ادارہ مستعد ہے اور نتائج سامنے لا سکتا ہے لیکن جس نظام کو قائم کرنے کی جہد گزشتہ 65 برس سے کی جا رہی ہے اس کی حرمت کا تقاضہ ضرور ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ کون سا کام کس کے کرنے کا ہے۔ جنرل عاصم باجوہ جس وقت سہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کر رہے تھے اور اس دہشت گردی کی معلوم اور نامعلوم تفصیلات بیان کر رہے تھے تو ملک کے کئی “غبی“ لوگوں کے دل و دماغ میں یہ سوال ضرور کلبلایا ہوگا کہ فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ کس حیثیت میں یہ معلومات عام کرنے کا فرض ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ کے بارے میں جو معلومات اکٹھی کی ہیں، ان کا ذریعہ کیا ہے، کس ادارے نے یہ تحقیقات کی ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں واقع ہے اور یہ علاقہ خیبر پختونخوا حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ کے پی کے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ حملہ آوروں کا اصل مقابلہ صوبائی حکومت کے مقرر کردہ اس دستے نے کیا تھا جو یونیورسٹی کی حفاظت کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں صورتحال پر قابو پانے کے لئے پولیس اور فوج کو طلب کر لیا گیا تھا۔ اس لئے یہ پوچھنا غیر متعلقہ سوال نہیں ہے کہ جب جنرل عاصم باجوہ اس حملہ کی معلومات اور تفتیش کی تفصیلات بتا رہے تھے تو اس وقت صوبائی حکومت کہاں تھی۔
اس سے قبل اسلام آباد سے یہ اعلان ہوتا رہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف براہ راست اس حملہ میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے کی کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں اور وزیر داخلہ لمحہ لمحہ کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ ابھی اس اعلان کی گونج بھی ماند نہیں پڑی تھی کہ وزیراعظم اپنے بھاری بھر کم وفد کے ہمراہ سوئزر لینڈ روانہ ہو گئے جہاں دنیا بھر کی حکومتوں کے سربراہ و نمائندے اور بزنس لیڈر جمع تھے۔ البتہ ہالینڈ کی بے اختیار ملکہ (ان کے شوہر ولیم الیگزینڈر ملک کے آئینی بادشاہ ہیں۔ واضح رہے یورپ کے کسی آئینی بادشاہ یا ملکہ کو مسکرانے کے لئے بھی لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والی حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے) نواز شریف سے ملاقات کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔ دنیا میں حکومتوں یا ملکوں کے سربراہ ملک میں کوئی ایسا سانحہ رونما ہونے پر جس میں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہوں، تمام ضروری کام چھوڑ کر واپس اپنے ملک روانہ ہوتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کریں، امدادی کام اور تفتیش کی نگرانی کریں اور اپنے لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ اس قسم کے جرم کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت پوری قوت سے ان عناصر کو کچل دے گی، جو عوام کا امن و چین تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  نومبر 2015 میں پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد فرانسیسی صدر اور حکومت کا ردعمل ابھی کل کی بات ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اس ملک کے عوام گزشتہ دس برس کے دوران دہشت گردوں کے ہاتھوں اتنے زخم کھا چکے ہیں کہ نئے زخم پر مزید چلانے اور کراہنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ اس لئے لیڈر اسی بیان کو از سر نو جاری کر کے اپنا فرض منصبی ادا کر لیتے ہیں جو کئی سال پہلے کسی بیورو کریٹ نے لکھ کر ان کی دراز میں رکھ دیا تھا۔ نہ صورتحال بدلتی ہے ، نہ لیڈر تبدیل ہوتے ہیں تو آخر نیا بیان دے کر جعلی تاثر قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پاکستانی حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں کے سخت اور بھاری بھر کم لفظ اسی لئے اپنی اہمیت اور معنیٰ کھو چکے ہیں۔ یہ بیان صرف اس لئے جاری ہوتے ہیں کہ سب جان سکیں ہم موجود ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے کہ وہ کس لئے موجود ہیں۔ اگر یہ لیڈر قوم کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے ہیں تو ملک کا وزیراعظم قوم کو روتا دھوتا چھوڑ کر ڈیووس روانہ نہ ہوتا، جہاں وہ اپنے کارناموں کی ڈینگیں مار کر خود ہی خوش ہوتا رہا ۔ وہ جو اقتصادی کارنامے بیان کرتے ہیں ، ان میں سے کسی کا عوام کی زندگی پر تو کوئی اثر نظر نہیں آتا۔
اگر یہ لیڈر قوم کے غم خوار ہوتے تو ملک کا وزیر داخلہ سینیٹ سے منہ چھپا کر کسی آرام دہ کونے میں آنکھیں موندے نہ پڑا ہوتا اور اس سوال کا جواب دیتا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے محب اور لال مسجد سانحہ میں لاتعداد معصوم بچوں کی جانیں داﺅ پر لگانے کے ذمہ دار اور ایک کرنل سمیت متعدد فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے  اور بھگوڑا قرار دئیے جانے والے ملاّ کو گرفتار کرنے کی صلاحیت اور حوصلہ نہیں رکھتی۔ نہ ہی ملک کی فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے سربراہ کو کسی جرم کے بارے میں تفصیلات بتانے اور دعوے کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ اور نہ لبوں پر یہ سوال آتا کہ آخر اس ملک کا نگہبان کون ہے۔ حاکم تو ہمارے سامنے ہیں اور وہ اپنی حاکمیت کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں۔ ان حاکموں کا پاﺅں پھسلنے کا انتظار کرنے والے سیاستدان بھی ہمارے سامنے ہیں تا کہ وہ چوکیں اور ہم اقتدار پر قبضہ کریں۔ لیکن وہ ہاتھ دکھائی نہیں دیتے جو سسکتی ماﺅں اور روتے باپوں کے آنسو پونچھیں۔ جو قوم کی بے یقینی ختم کریں۔ جو بتا سکیں کہ بس اب بہت ہو چکا۔ آج کے بعد کوئی دہشت گرد برداشت نہیں ہو گا۔
یہ سارا ڈھونگ ہے کہ ہم سانحہ چارسدہ کے اصل مجرموں کو نہیں جانتے، محرکات سے لاعلم ہیں یا ہمیں نہیں پتہ کہ یہ سانپ اور سنپولئے کہاں سے غذا لے کر توانا ہوتے ہیں۔ ہم اس ڈھونگ سے نکلنا نہیں چاہتے۔ اسی لئے مباحث بھی جاری ہیں۔ اداروں کی پھرتیاں بھی دیدنی ہیں اور حکمران بھی متحرک اور مستعد ہیں۔ بس وہ آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali