اب فرانس کا جھنڈا کیوں نہیں لگایا گیا ہے؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

پیرس میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کا پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سات جنوری 2015 کو چارلی ایبدو رسالے کے دفتر پر حملہ کر کے وہاں قتل عام کیا گیا۔

اس واقعے میں بیس افراد ہلاک ہوئے اور بائیس زخمی ہوئے۔ اس پر مغربی دنیا میں تو ’میں بھی چارلی ہوں‘ کی مہم چلی، مگر چارلی ایبدو کے گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے مسلمانوں نے یا تو اس پر خاموشی اختیار کی، یا پھر چارلی کے بارے میں ’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘ ٹائپ کے کلمات کہے۔

\"charlie-hebdo\"

لیکن اس کے بعد فرانس میں چارلی ہیبدو کی دہشت گردی کے واقعے کے خلاف ہونے ہونے والے یونٹی مارچ میں مسلمان ممالک کی طرف سے ترک وزیراعظم احمد داؤداولو، اردن کے بادشاہ عبداللہ ثانی اور ملکہ رانیہ، لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسل، عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ زید النہیان، فلسطین کے صدر محمود عباس، الجیریا کے وزیر خارجہ رامتنے لمامرا، مالی کے صدر ابراہم کائتا، نائجر کے صدر محمدو عیسوفو، تیونس کے وزیراعظم مہدی جمعہ، اور مصر کے وزیر خارجہ سمیح شکری نے شرکت کی۔ دنیا کے ساٹھ سے زیادہ ممالک نے اپنے اکابرین کو اس مارچ میں بھیجا تھا۔ اس سلسلے کے مارچوں میں دنیا بھر کے تقریباً سینتیس لاکھ افراد نے شرکت کی تھی لیکن مسلم ممالک کے عوام نے اس سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا تھا۔

\"Paris-Attack-Nov_86818313_86818312\"

اس کے بعد پیرس میں ہی تیرہ نومبر 2015 کو ایک کنسرٹ ہال، سٹیڈیم اور مختلف دوسری جگہوں پر بیک وقت منظم دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس میں 130 افراد ہلاک ہوئے اور 352 زخمی ہوئے۔ اس مرتبہ دنیا بھر کے لیڈر فرانس سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانس میں اکٹھے نہیں ہوئے۔ لیکن دوسری طرف اس مرتبہ سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے لوگوں نے فرانس سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانس کا جھنڈا اپنی تصویر پر لگایا۔ ایک بحث نے جنم لیا کہ پاکستان، ترکی، افغانستان وغیرہ میں دہشت گردی ہونے پر ایسا جھنڈا کیوں نہیں لگایا جاتا ہے۔

اب کل فرانس میں دوبارہ دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔ فرانس کا قومی دن باستل ڈے چودہ جولائی کو منایا جاتا ہے۔ چودہ جولائی 1789 کے انقلاب فرانس کا وہ واقعہ پیش آیا تھا جس میں عوام نے باستل کے قلعے پر حملہ کیا تھا اور فرانس میں بادشاہت کے خاتمے اور جمہوریت کا اعلان کیا گیا تھا۔

\"nice-attack-1043000341\"

فرانس کے شہر نیس میں باستل ڈے کی پریڈ کے موقعے پر بموں اور ہتھیاروں سے لیس ایک تیونسی نژاد فرانسیسی نے شہر کی گلیوں میں اکٹھے ہونے والے لوگوں پر ٹرک چڑھا دیا ہے۔ جس سے چوراسی افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سو سے زیادہ زخمی ہیں۔ اس مرتبہ نہ تو بین الاقوامی لیڈر اکٹھے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے فرانس کا جھنڈا دکھائی دے رہا ہے۔

غالباً اس تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ پاکستان، افغانستان، ترکی اور ایسے دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر ویسا ری ایکشن سامنے کیوں نہیں آتا ہے جیسا کہ پیرس حملوں کے وقت سامنے آیا تھا۔

جب ایک چیز معمول کی خبر بن جائے تو دل پر اس کا اثر ہونا ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے پچھلے دنوں افغانستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی واردات کو بھی ہم نے ان دیکھا کر دیا اور ترکی میں ہونے والی دہشت گردی بھی ہم نے نظرانداز کی۔ اور اپنے پاکستان میں تو ہر ہفتے دس دن بعد کسی بم دھماکے میں آٹھ دس لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر آتی ہے۔ اسے اب کون توجہ سے پڑھتا ہے؟

نوے کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے جب کراچی میں بدامنی اور قتل و غارت عروج پر تھی۔ کراچی کے ایک دوست کہنے لگے کہ آپ لاہور والے تو بس اب صبح کا اخبار دیکھ کر سکور ہی کاؤنٹ کرتے ہوں گے۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ اب تو یہ اتنی مرتبہ ہو چکا ہے کہ یہ انسانی موتیں بس ایک نمبر ہی بن کر رہ گئی ہیں۔

جب کسی جگہ موت ایک نمبر بن جائے، تو جھنڈا دکھائی نہیں دیتا ہے، مگر جب یہ سانحہ پہلے پہل ہو، تو بہت کچھ بدل جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “اب فرانس کا جھنڈا کیوں نہیں لگایا گیا ہے؟

  • 16-07-2016 at 12:10 am
    Permalink

    کاکڑ صاحب کافی حیرت والی بات ہے کہ جن حملوں کے بعد اظہار یکجہتی کی گئی ان حملوں میں مسلمان ملوث تھے لیکن جس حملے میں غیر مسلم ملوث تھا اسے عمومی طور پر ایک حادثہ یا کسی دماغی مریض کی اختراع بنا کر توجہ ہٹا لی جاتی ہے.

  • 16-07-2016 at 12:56 am
    Permalink

    فرانس کے پہلے حملے میں بھی مسلمان ملوث تھے، دوسرے میں بھی اور تیسرے میں بھی اب یہ نام اور وطن سے مسلمان ہی لگ رہا ہے۔ نام میں محمد ہے۔ لیکن تینوں میں بین الاقوامی ردعمل مختلف ہے جو کہ آہستہ آہستہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

Comments are closed.