جِینا، جرنیل اور بے نامی پوسٹر


\"farah\"جانے کون سی اشبھ گھڑی تھی جب زندگی نے اس قدر فرصت ہماری جھولی میں ڈال دی کہ ہم سوشل میڈیا کے اسیر ہو گئے۔ یہ لت بھی بڑی عجیب شے ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کھنچے چلے جاتے ہیں اس سرکس میں۔۔۔ موت کے کنویں کے کنارے پر کھڑے تماشائی کی طرح تصور ہی تصور میں کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ اور جب آنکھ کھلتی ہے تو شو ختم اور گھر واپسی۔

پچھلے دنوں قندیل بلوچ اور مولوی قوی ہموطنوں کے دلوں اور اکاؤنٹس پر، بالترتیب، قابض تھے۔ سو اس سے پہلے کہ ہمارے حواس پر بھی قابو پاتے، ہم نے سوچا کہ ٹویٹر سے رخصت لے کر جینا کی کہانی ہی دیکھ لی جائے۔ ہمارا مَن \’من مائل\’ دیکھنے پر مائل ہو گیا۔ حالانکہ تفریح کا کام تو اب تک پاکستانی سیاست سے چل ہی رہا تھا۔

بہرحال نہ جانے کتنی قسطیں اور کتنے ہفتے اسی آس میں گزر گئے کہ کب اس ڈرامے کے کردار کچھ تو ایسا کریں کہ کہانی بدلے اور آگے بڑھے۔ مگر نہ تو صلاح الدین کسی کی صلاح لیتا ہے، نہ مَنُّو ہی مان کر دیتی ہے ۔۔ اور پھر جِینا! ہائے بے چاری اکیلی ہی جال بُنتی رہتی ہے۔۔ ماں باپ نہیں ہیں نا اس کے۔ ہوتے تو مدد کے لئے نوکر چاکر سے تو عشق و عاشقی نہ رچانی پڑتی۔ اور پھر صلاح الدین کو کوئی دولت اور گھر کے ساتھ عقل بھی دے دیتا تو جِینا گھر سے دفتر کا راستہ نہ دیکھتی۔۔ اور نہ ہی کسی نمک حرام، لالچی ملازم کو ایمپائر کی انگلی کے سبز باغ دکھاتی۔

یہ جِینا ہے کون؟ آپ نہیں جانتے؟ چلیں رہنے دیں۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ ایک لڑکی ہے جو کسی کے گھر اور زندگی پر زبردستی راج کرنے کی خواہش میں ہر جائز، ناجائز راستہ اپنانے کو مائل ہے۔

\"jeena\"نہ جانے کیوں جینا سے ہمیں جرنیل صاحب یاد آ جاتے ہیں کہ یہ بھی سیاست کے سیدھے سادے، کم حوصلہ صلاح الدینوں سے ایکسٹنشن پر ایکسٹنشن مانگے چلے جاتے ہیں۔ اور صلاح الدین پر قابو پانے کی اس کاوش میں ہر ایرے غیرے سے دوستی بھی کر لیتے ہیں۔ پھر اسے دعوٰی کہئے یا ڈراوا کہ ہر لحظہ لبوں پر یہ اصرار کہ تمہیں میری ضرورت ہے۔ میں نے ہی اس گھر کو سنبھال رکھا ہے۔ میں نہ ہوں تو ہمسائے ہی قبضہ کر لیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

اور پھر وہ کشمیر کی کلی جیسی نازک مَنُو! جس کے گھر والے اسے گھر رکھنے پر آمادہ نہیں اور جو گھر میں رکھنا چاہتے ہیں، وہ اس کے اپنے نہیں۔ اب تک تو یہی فیصلہ نہیں ہوا کہ مَنُّو خود کیا چاہتی ہے۔ بس روتی رہتی ہے۔ ہمارے (اور ہمارے ہمسایوں) کے کشمیر کی طرح۔

ہمیں من مائل سے بڑی امیدیں ہیں۔ شاید مَنُّو کا کچھ سنور جائے۔ یا شاید خدا جینا کی ہی قسمت بدل دے۔ ماں باپ تو اب نہیں ملنے والے، کوئی اچھا گھر ہی مل جائے اسے۔

\"bannaer\"خیر چھوڑیں، ہم تو اب واپس سوشل میڈیا پر سیاست کے مزے لینے آ گئے ہیں جِینا کو خیر باد کہہ کر۔ یوں بھی سنا ہے آج کل حالات \’دلچسپ\’ ہو گئے ہیں۔ پچھلی بار اتنی دلچسپی کے حالات میں جرنیل صاحب کے حکم پر صلاح الدین صفت یاروں کو منو سمیت گھر بدر کر کے مارشل لاء لگوا دیا گیا تھا۔۔ بس دعا کریں کہ اس بار ہمارے جرنیل صاحب بھی اپنے لئے کوئی اور اچھا سا گھر ڈھونڈ لیں۔۔ صلاح الدین کی جان چھوڑیں۔ اور اس غریب سرمایہ دار کا پتہ کروائیں جس نے راتوں ملک کے پانچ بڑے شہروں کی سڑکوں پر انہیں بلانے کے پوسٹر لگا دئے اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی۔۔ ہوتی بھی کیسے۔؟ بھلا ان شہروں میں کونسی سوسائٹی یا قانون وغیرہ ہے جو کسی کے کام میں دخل انداز ہو کہ بھائی کون ہو؟ کس چیز کے پوسٹر لگا رہے ہو؟ یوں بھی ماشا اللّہ ہماری فوجِ ظفر موج کی ناک تلے اسامہ بن لادن زندگی کے آخری چار سال اور چار بیویاں گزار بلکہ بھگتا گیا اور انہیں خبر نہ ہوئی۔ یہ چھوٹے موٹے پوسٹر لگانے والے بھلا کس کھاتے میں!

اور پھر ایک اکیلا جرنیل اور اکیلی جینا کس کس محاذ پر لڑیں۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر فرح شیریں کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر فرح شیریں کی دیگر تحریریں