فرانس میں حملہ: انسانوں اور وحشیوں کی جنگ


\"mujahid

فرانس کے شہر نیس میں قومی دن کے موقع پر ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ اپنی نوعیت اور شدت کے اعتبار سے انوکھا اور ہولناک تھا۔ کوئی لفظ اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کرنے کےلئے کافی نہیں ہے۔ دنیا بھر کے لیڈروں نے اس المناک خوں ریزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ لیکن دہشتگرد جس قوت اور شدت سے حملے کر رہے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کےلئے موثر حکمت عملی اور بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے واقعات کے بعد اس قسم کی الزام تراشی کہ حملہ آور کا تعلق کسی عقیدہ یا گروہ سے ہے، دراصل ان عناصر کے مقاصد کو پورا کرنے کا سبب بنتی ہے جو دنیا میں مختلف ملکوں کو ہی نہیں بلکہ مختلف ملکوں میں آباد مختلف طبقوں اور گروہوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے کل نیس کے واقعہ کا اہم ترین سبق یہ ہونا چاہئے کہ اگر بنی نوع انسان نے ان وحشی اور انسانیت دشمن گروہوں اور عناصر کا مقابلہ کرنا ہے تو سب لوگوں کو ملکوں، عقائد اور رنگ و نسل کی تخصیص کے بغیر ایک دوسرے پر بھروسہ و اعتماد کو فروغ دینا ہو گا اور مل کر ایسے مزاج اور سوچ کا خاتمہ کرنا ہو گا جو افراد پر اثر انداز ہو کر انہیں بے دردی سے انسانوں کو مارنے پر آمادہ کرتی ہے۔

کل نیس میں ہونے والا حملہ تیونس نژاد فرانسیسی نے کیا ہے۔ اس کے نام اور پس منظر سے یہ اندازہ کرنا دشوار نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہو گا۔ اس دہشتگرد حملہ میں ایک شخص نے بھاری ٹرک خوش و خرم لوگوں کے ہجوم پر چڑھا دیا اور دو کلومیٹر تک انہیں روندتا چلا گیا۔ یہ ایک نیا ہتھکنڈہ ہے۔ اگرچہ پولیس کو حملہ آور کے ٹرک سے اسلحہ و بارود بھی ملا ہے اور ایسے گواہ بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے یہ بتایا ہے کہ اس شخص نے چیختے چلاتے اور جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے انسانوں کو ٹرک تلے روندنے کے علاوہ گولیوں سے بھی نہتے اور معصوم انسانوں کو مارنے کی کوشش کی۔ تاہم زیادہ ہلاکتیں بھاری ٹرک انسانوں کے ہجوم پر چڑھا دینے سے ہوئی ہیں۔ کئی ٹن وزنی ٹرک بے رحمی سے انسانوں کو روندتا رہا۔ بلکہ بے رحم قاتل نے ٹرک کو موڑ کر بچ جانے والے یا بچنے کی کوشش کرنے والے لوگوں پر چڑھایا۔ اس کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا تھا۔ یعنی زیادہ سے زیادہ خوف اور نفرت پیدا کرنا تھا۔ اس نفرت کے پیغام کو مسترد کرنے اور اس خوں ریزی کا مقابلہ کرنے کیلئے خوف اور نفرت سے نجات حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

\"nice-terrorism\"

کسی گروہ یا تنظیم نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس ابھی تمام صورتحال کو جائزہ لے کر اس دہشتگردی کی وجوہات جاننے اور یہ تحقیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا یا کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس کی مدد کی تھی۔ یہ شخص اگرچہ تیونس میں پیدا ہوا تھا لیکن وہ نیس میں ہی رہتا تھا اور فرانس کا شہری تھا۔ چھوٹے موٹے جرائم کرنے کے حوالے سے پولیس اس شخص سے آشنا تھی لیکن اسے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ یہ شخص دہشتگردی کے اتنے خوفناک واقعہ میں ملوث ہو سکتا ہے۔ یہی اس قسم کے لوگوں اور عناصر کی قوت بھی ہے۔ وہ عام لوگوں کی طرح معاشروں میں رہتے اور اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ ان کے طرز عمل سے ہرگز یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ اچانک دہشتگرد کے طور پر انسانوں کی کثیر تعداد کو ہلاک کر سکتے ہیں لیکن پھر اچانک کوئی شخص کسی وحشیانہ طریقے سے حملہ آور ہوتا ہے اور ساری منصوبہ بندی اور حفاظتی تدابیر کے باوجود کوئی ایسا واقعہ کر گزرتا ہے جو اپنے طور پر وحشت ناک اور نئی نوعیت کا ہوتا ہے۔ نیس میں ایک بھاری ٹرک سے لوگوں کو کچلنے کا طریقہ کار اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بات کا تصور بھی محال ہے کہ انسانوں میں رہنے اور پلنے والا کوئی وحشی کیوں کر دو کلومیٹر تک زندہ لوگوں کو جن میں بچے اور عورتیں ، بوڑھے اور جوان سب ہی شامل تھے ۔۔۔۔۔ کچلتا ہوا چلا جاتا ہے اور رحم کی کوئی رمق اس کے دل میں بیدار نہیں ہوتی۔ تادم تحریر 84 افراد اس سانحہ کی نظر ہو چکے ہیں جن میں 10 بچے بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کی اطلاع کے مطابق سینکڑوں زخمیوں میں سے متعدد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس لئے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا شدید اندیشہ موجود ہے۔

وہ کون سا پیغام ہے یا مقصد ہے جو کسی انسان کو درندگی پر اترنے اور ایسے لوگوں کو مارنے پر آمادہ کر دیتا ہے، جن سے نہ اس کی دشمنی ہوتی ہے اور نہ وہ انہیں جانتا ہے۔ وہ شیطانی راستے پر چلتا ہوا صرف مارنے اور مرنے کے مقصد سے حملہ آور ہوتا ہے۔ اس مزاج کو سمجھنا اور اسے پیدا کرنے والے مراکز کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس حملہ سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ اس کے درپردہ داعش یا اس سے ملتے جلتے کسی گروہ کا ہاتھ ہے۔ یہ دہشتگرد گروہ مواصلت کے جدید ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں نوجوانوں کی سوچ کو بدلنے اور انہیں ایک خوفناک جنگ میں اپنا ہتھیار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے واقعات پاکستان ، افغانستان ، ترکی ، بنگلہ دیش ، عراق ، شام کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں میں ہوتے رہتے ہیں۔ اب یورپ ان کے نشانے پر ہے۔ یورپ کے شہر اور شہری خاص طور سے اس لئے زیادہ اہم ٹارگٹ ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح کے واقعات کو زیادہ شہرت اور توجہ حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح تخریبی قوتیں تقسیم کرنے اور خوف پھیلانے کے مقصد میں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے داعش خاص طور سے متحرک اور مستعد ہے۔ اسے عراق اور شام میں اپنے زیر تصرف علاقوں میں پسپائی کا سامنا ہے اور گزشتہ دو تین برس کے دوران اس گروہ کو بے شمار وسائل اور اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے۔ اس نے خاص طور سے پروپیگنڈا میں مہارت حاصل کی ہے۔ یہ آزادیوں کو پامال کرنے کیلئے انسانوں کے درمیان بے یقینی اور عدم اعتماد کا بیج بونے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

نیس NICE میں ہونے والے حملہ سے سب سے پہلا سبق تو یہی حاصل ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ کی جنگ نہیں ہے بلکہ اچھائی اور برائی، زندگی اور ہلاکت کے درمیان معرکہ ہے۔ لیکن موت کے پیامبروں نے اسے عقیدہ کا نام دے کر معاشرہ میں انتشار ، بدامنی ، بداعتمادی اور لوگوں کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کرنے کا سامان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمان ملکوں میں اس مقصد کیلئے نام نہاد اسلامی خلافت یا مملکت کے خواب کو بیچا جاتا ہے یا فرقہ بندی کی بنیاد پر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر خوں ریزی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں فرقہ بندی کی بجائے دہشتگرد حملوں کے ذریعے اسے مسلمان اور غیر مسلمان کی جنگ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ بات اہم ہے کہ مسجد کا امام یہ بات واضح کرے کہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں ہے تو مغربی ممالک کے سیاستدان بھی دوٹوک الفاظ میں یہ پیغام عام کریں کہ یہ مسلمانوں کا غیر مسلموں یا مغرب پر حملہ نہیں ہے۔ مارنے والے مرنے والوں کو عقیدہ ، نسل یا رنگ کی وجہ سے نہیں مارتے بلکہ صرف مارنے اور دہشت پھیلانے کیلئے مارتے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمان امام یا مذہبی لیڈر اور مغربی سیاستدان یکساں طور سے اس خطرے کی اصل حقیقت کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ادارے اور ان کے مذہبی و تنظیمی رہنما ایسے مواقع پر معاشرے کے ساتھ مل کر نفرت کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ دفاعی طرز عمل اختیار کر کے خود کو مین اسٹریم سے تنہا کرنے کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح مغربی سیاستدان ، صحافی ، دانشور اور مبصر بھی ایک واقعہ کی شہرت کے اثر سے نکل کر بڑی تصویر دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ قوم پرست گروہ ایسے کسی بھی واقعہ سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے موقف کو چونکہ سہمے ہوئے متاثرہ لوگوں میں پذیرائی حاصل ہوتی ہے، اس لئے مقبول سیاسی بیان بازی کو دلیل اور حقیقت شناسی پر برتری حاصل ہو جاتی ہے۔ یورپ کے متعدد ملکوں میں قوم پرست سیاسی قوتوں کو سیاسی نفرت انگیزی کی وجہ سے جو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے، دوسری سیاسی قوتیں اس سے متاثر ہو کر خود بھی ویسے ہی نعرے بازی کا سہارا لینے لگتی ہیں۔ یورپ کے متعدد ملکوں میں انتہا پسند قوم پرست عناصر کی بڑھتی ہوئی قوت اور ان کا مقابلہ کرنے والی سیاسی صلاحیت میں کمی ایک خطرناک اور تشویشناک ماحول پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اب یہ سمجھنے اور واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ پہلا مقصد سیاسی نعرے بازی کے ذریعے اختیار حاصل کرنے کی بجائے مربوط و مضبوط منصوبہ بندی اور متوازن سوچ کے ذریعی انتہا پسندی کا مقابلہ ہونا چاہئے۔ معاشرے اگر اسلام کے نام پر یا بعض مسلمانوں کی طرف سے سرزد ہونے والے جرائم کے مقابلہ کیلئے ایسی قوم پرستانہ انتہا پسندی کو قبول کریں گے یا اسے فروغ دیں گے تو ایک تو ان جمہوری معاشروں کا سیکولر ، لبرل اور قبولیت کا مزاج تبدیل ہو گا تو دوسری طرف مسلمان آبادیاں معاشروں سے الگ اپنی دنیا بسانے پر مجبور ہوں گی جہاں تخریب اور نفرت کا پیغام عام کرنے کے موقع آسانی سے میسر آ سکیں گے۔ یہ صورتحال نہ یورپ کے باشندوں کیلئے اچھی ہے اور نہ ان ملکوں میں آباد مسلمانوں کیلئے نیک شگون ہو سکتی ہے۔ اسی لئے مسلمان رہنماؤں کو صرف معاشرے کے سیاسی لیڈروں پر تکیہ کرنے کی بجائے ، خود آگے بڑھ کر نفرتوں اور فاصلوں کو ختم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس مقصد کیلئے یہ واضح کرنا ضروری ہو گا کہ جن معاشروں میں بھی مسلمان آباد ہیں، ان سے محبت اور ان کی حفاظت ان پر اپنے عقیدے کی حفاظت ہی کی طرح فرض ہے۔ نفرت ، دوری اور تعصب کا پرچار کرنے والے مولویوں اور دینی رہنماؤں کو مسلمانوں کو خود اپنی صفوں میں سے چن چن کر نکالنا ہو گا۔

اس سانحہ کا دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ دہشتگردی خواہ نیس میں ہو، اورلانڈو میں ہو یا استنبول، دمشق ، بغداد ، ڈھاکہ ، کراچی یا لاہور میں ۔۔۔۔۔۔۔ اس میں انسان مرتے ہیں اور نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ یورپ میں اگر ایسے سانحہ کے بعد اسلام دشمن قوتوں کا راستہ روکنا ضروری ہے تو مسلمان ملکوں میں ایسے سانحات کے بعد سازشوں کے نام پر امریکہ یا دیگر مغربی قوتوں کے خلاف سیاسی طبع آزمائی کے ہتھکنڈے ترک کرنا ضروری ہو گا۔ ان سانحات سے یہ سبق سیکھنا ضروری ہے کہ ہماری ہمدردی مرنے والے کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے ، مارنے والے کا کسی قیمت پر ساتھ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے مسلمان معاشروں میں جو لوگ کسی بھی عذر سے جنگ ، تصادم اور دشمنی کو بڑھانے کی بات کرتے ہیں، وہ اپنے قول و فعل سے کسی نہ کسی طرح ان تخریبی قوتوں کے مددگار بنتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے خلاف ہلاکت کا پیغام عام کرنے کیلئے ہر معاشرے میں ہرکارے تلاش کرنے اور ان کی تربیت کرنے میں مصروف ہیں۔ اب اسلام اور کفر کی جنگ کا نعرہ ترک کر کے انسانوں میں وحشی بننے والوں کیخلاف ایک مقصد کیلئے صف بندی کرنا ضروری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali