ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو….


muhammad Shahzadآئیے چند گھسے پٹے مکالمے دہراتے ہیں۔’ دینی مدارس امن کے گہوارے ہیں‘۔اکثر سنتے ہیں ہم سب۔ خطرناک ، بھیانک ، ڈراونی ، جانور نما شکلوں والے ’اداکار‘ یہ مکالمے بولتے ہیں۔ایک دفعہ اتفاق ہوا ملک کے سب سے بڑے ’امن کے گہوارے‘ میں جانے کا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ مدرسہ وہی تھا جہاں بزعم خود طالبان کا گاڈ فادر ہونے کا دعویدار مدارالمہام ہے۔ مولانا صاحب پڑھا رہے تھے کہ روزے کی حالت میں شوہر بیوی کے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ یہ نوے منٹ کا لیکچر تھا۔ اتنی صراحت سے سمجھایا گیا کہ اس کے بعد زندگی بھر کوئی کم لباس فلم دیکھنے پر طبیعت مائل نہ ہوئی۔ بس اسی لیکچر کو ذہن میں لاتے ہیں … جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔ اگلا لیکچر قادیانیوں کے بارے میں تھا۔ میرا پیغام کدورت تھا، عداوت تھا، رعونت تھا سراسر …. مرتد ہیں۔ خارجی ہیں۔ جہاں ملیں، قتل کر دو….

’مسجدیں اللہ میاں کا گھر ہیں ‘۔ یہ مکالمہ بھی کچھ وحشی صفت غزال صحراﺅں میں بولتے  پائے گئے ہیں۔ جہاں صحرا نہ ہو، ان کے قدم رنجہ فرمانے سے ہو جاتا ہے ۔ اس نوع کے گھر وں میں جانے کا اتفاق تو کئی بار ہوا۔ لیکن ہمارا اپنا گھر اس ’گھر‘ سے ….وہ ’بلخ نہ بخارے‘ والا محاورہ تو سن رکھا ہے نا…. اس ’گھر ‘ کے غسل خانے واللہ بہت جان گسل تھے۔ تعفن کا ماخذ اہل تقویٰ کے آداب سحر خیزی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس ’گھر‘ میں بیٹھ کر ہم نے یہ سیکھا کہ شیعہ کافر اور زندیق۔ اور جو انہیں ایسا  نہ مانے، وہ بھی ان جیسا۔ اس ’گھر‘ کے ’مکینوں‘ کو ہمیشہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے پایا کہ شیعوں کو کافر قرار دیا جاوے، آئینی طور پر، قادیانیوں کی طرح ! بریلویوں کی مسجدوں سے معلوم ہوا کہ وبابی کافر نیز سلفی بھی کافر اور دیوبندی ، وہ تو بھئی بہت ہی کافر…. جب چاروں کھونٹ کی سب مسجدیں دیکھ لیں تو جان لیا کہ ’امن کا گہوارہ‘ یا ’اللہ کا گھر‘ کے نام پر فانی مگر حریص اہل دنیا نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔ خلاصہ کلام یہ کہ ’مسلمان ‘ وہ ہے جو کسی دوسرے کو ’مسلمان‘ نہ مانے۔ احوال واقعی یہ ہے کہ صرف وہی ہمیں مسلمان گردانتے ہیں جنہیں ہم اپنے تئیں یہود ، ہنود اور نصاری ٰ قرار دیتے ہیں اور صمیم قلب سے کافر گردانتے ہیں۔ ہر ٹائپ کے مسلمان نے دوسری ٹائپ کے مسلمان کو کافر قرار دیا ہوا ہے۔ البتہ ’امن کے ان گہواروں‘ میں جن گروہوں کے بارے میں شدو مد سے تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ کبھی بھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے، ان گروہوں ہی میں سے کچھ کو خصوصی حالات میں شرف بخش بھی دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک قطعی غیر متعلقہ بات ہے کہ خصوصی حالات کی تفصیل دریافت کی جائے ۔ البتہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ یہ رعایت بلکہ اعزاز متعلقہ گروہوں کی خواتین ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ ان دشمن خواتین سے شادیاں کی جاتی ہیں اس طرح وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی ہیں ۔ یہ دائروں کے کچھ جمالیاتی پہلو ہیں جنہیں قرون اولیٰ میں خط عارض اور خط قوسین کی مدد سے واضح کیا جاتا تھا ۔

امن کے ان گہواروں میں ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ امتِ مسلمہ کا خلیفہ ابوبکر بغدادی ہے یا ملا عمر اور اس کی باقیات۔ ان گہواروں کے کچھ خادم ہمارے آزاد میڈیا کے ممتاز ستارے ہیں، کچھ اپنی ذات میں انجمن ہیں ۔ کچھ اپنے کار ہائے نمایاں کی بنیاد پر جاوید قرار پا چکے ہیں۔ کچھ شام کے دربار سے وابستہ رہے ہیں اور شامی کہلاتے ہیں۔ کچھ علم میں رازی ہیں اور ان کے بارے میں اقبال فرما گئے ہیں دقیق اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے غریب…. کچھ سفید پوش تھے ، اب ضیا پوش ہو چکے ہیں۔ کچھ کے بارے میں ابھی طے نہیں ہو سکا کہ ان کی شہرت چار دانگ عالم تک محدود ہے یا عطارد ، مریخ اور زحل تک جا پہنچی ہے۔ ان کے کمال کی اسی وسعت کی بنا پر انہیں صحافت کی اردبیگنی کہا جاتا ہے۔ اینکر اور اینکرنیاں انہیں مولانا صاحب کے لقب سے پکارتی ہیں۔ جہاں جہاں ان ’مولاناﺅں‘ کی جہالت نہیں پہنچتی، میڈیا کے توسط سے جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک تلمیذ الرحمن شہرہ آفاق اینکر نے ایسے ہی ایک ’مولانا‘ کے فتوے کا حوالہ دے کر ایک مظلوم گروہ کو واجب القتل قرار دیا جس سے متاثر ہو کر کچھ ’مومنین ‘ نے اگلے ہی دن نواب شاہ میں دو افراد کا خون ناحق کر دیا۔ ایک ’مشہورِزمانہ‘ اینکرنی (جو آج کل ایک انتہائی معتبر چینل پر جھروکہ درشن دیتی ہیں )نے تو گورنر پنجاب کے قتل میں حجّن بی کا کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں جسے حجّن بی کہا جاتا ہے اسے چاوڑی بازار میں ’کٹنی‘ کہتے ہیں۔ بالآخر اس فتنہ پرور کی ’حشر سامانیاں‘ رنگ لائیں اور تاثیر کو قتل کیا گیا۔ پھر یہ پرچم ’روزنامہ حجت ‘ نے اٹھا لیا اور سفاک قاتل کو جھنڈے پر چڑھا لیا۔ واضح رہے کہ ہماری تاریخ میں عزت والوں کے سر نیزے پر چڑھائے جاتے ہیں اور منافق کنٹینر پر جلوہ دیتے ہیں اور جھنڈے پر چڑھائے جاتے ہیں اور پھر ایک روز جھنڈا سرنگوں ہو جاتا ہے…. لاہور ہائی کورٹ کا ایک سابق جج روز نامہ ’حجت‘ میں قسط وار انٹرویو دیتا ہے اور قارئین کو یہ بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے۔ قادری قاتل نہیں محسن امت ہے…. واللہ کیا حجت ہے…. وکلا قادری قاتل پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں قاتل کا بوسہ لینے والے کو قاضی مقرر کیا جاتا ہے۔ ہے کوئی امتیاز علی تاج جو ’قرطبہ کا قاضی‘ جدید ایڈیشن لکھے….

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اور جس طرح کی تعلیم و تربیت ہمیں ریاست فراہم کرتی ہے اس کے نتیجے میں تو جہالت کی خودرو بوٹیاں ہی پیدا ہوں گی۔ درس گاہوں میں ایسی سیکورٹی تو نہیں مہیا کی جا سکتی کہ چڑیا بھی پر نہ مار سکے۔ دہشت گردوں نے تو جی ایچ کیو، مہران نیول بیس اور کامرہ ائر بیس کی سکیورٹی تاخت و تاراج کر ڈالی۔ ایک صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ 2016ء دہشت گردی کے خاتمے کا سال ہو گا۔ اچھا صاحب…. ابھی تو گیارہ مہینے باقی ہیں…. پہلے مہینے کی رپورٹ میں تو لکھا گیا کہ درس گاہ قتل گاہ میں تبدیل ہو گئی۔ ایک اعلان آپ نے کیا اور ایک پیش گوئی اوبامہ نے کی ہے کہ پاکستان آنے والی کئی دہائیوں تک دہشت گردی کا شکار رہے گا ۔ تاریخ کی دھول میں سے حقیقت کپڑے جھاڑتی برآمد ہوتی رہے گی…. دہشت گرد روپ بدل بدل کر درشن دیتا ہے، کبھی اینکر کے روپ میں، کبھی عاشقِ رسول کے روپ میں، کبھی ’مقبول‘ دانشور کے روپ میں۔ کبھی وزیر کے روپ میں، کبھی جج کے روپ میں، کبھی مولوی کے روپ میں۔ کبھی وکیل کے روپ میں۔ یہ دہشت گرد گولیوں سے نہیں مریں گے…. جو سوچ ، جو تعلیم اور جو تربیت دہشت گردی کو پروان چڑھاتی ہے، اسے مارنا پڑے گا۔ ایسا ہو گیا تو پھر کسی درس گاہ میں کسی سیکورٹی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فی الحال تو ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ پشاور ہوا۔ شب بھر میں فوجی عدالتیں قائم ہو گئیں۔ نیشنل ایکشن پلان بھی بن گیا۔ مگر حاصل کیا ہوا؟ چارسدہ! فکر نہ کریں۔ اگر ہماری رفتار یہی رہی تو یہ آگ پورے ملک میں پھیل جائے گی ۔ آپ صرف اتنا کریں کہ سوگ مناتے رہیں۔ پھر سالانہ برسیاں منائیں۔ اچھے اچھے گانے نشر کریں۔ ٹوئٹر پر دہشت گردی کی پرزور مذمت کریں۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ یہی آگ ایک دن ایسی جگہ بھی پہنچ سکتی ہے جہاں آپ کے بچے پڑھتے ہیں۔ آپ پال رہے ہیں دہشت گرد۔ اور دہشت گرد دنیا کے کونے کونے میں پہنچنے کا مشن رکھتا ہے۔ پھر کون بچائے گا آپ کے بچوں کو؟

(محمد شہزاد بنیادی طور پر ایک آتش طبع میراثی بلکہ اتائی ہیں۔ طبیعت خانہ بدوش ہے گویا سانس میں سر اور ایک چکر ہے مرے پاﺅں میں زنجیر نہیں ہے …. صحافت میں بھی آزاد ہ روی اپنائی۔ قلم کی باگ کم ہی کھینچتے ہیں۔ ملکی و غیر ملکی اخبارات، ویب سائٹس اور تحقیقی اداروں کے لئے لکھتے ہیں۔ ملک گدا تنگ نیست …. دل زدگاں کی ایک بستی اسلام آباد تھی، یہاں چندے قیام کیا ، یہاں کی آبادی جو کچھ ہے، اسے اپنے نفس گرم اور خوئے نرم کی دین جانتے ہیں۔ کرم فر ما yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔)


Comments

FB Login Required - comments