قندیل بلوچ، خدا سے ہماری شکایت نہ کرنا


قندیل بلوچ جب کوئی بیان دیتی تھی یا اپنی ویڈیو جاری کرتی۔ سوشل میڈیا پراس کی کی کہی بات وائیرل ہو جایا کرتی۔ بیزار کن سی پوسٹ\"wisi کرنا اور کافی احمقانہ ویڈیو بیانات دینا اس کا خاصہ تھا۔اب کیا حماقت کرے گی یہ ایک اٹریکشن تھی جو اس کے ساتھ قائم ہو گئی تھی۔

نہ وہ کوئی اچھی فنکارہ تھی۔ نہ اس کا تعلق کسی آسودہ گھرانے سے تھا۔ اس کی ذات سے جڑی ہر بات ہی ایک سکینڈل تھی۔ کپتان کی شادی کی خبریں آنے پر اس کا ایک بددعا قسم کا جلا کٹا بیان آیا کہ یہ شادی بھی ناکام ہو گی۔ قندیل کی حرکتوں سے اوازار ہو کر بھی آپ مسکرانے پر مجبور ہو ہی جاتے تھے۔

آج اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کو اپنے بھائی نے گلا دبا کر مار دیا۔ کچھ دن پہلے اس کے ایک خاوند اور ایک بچے کی خبریں میڈیا پر چلتی رہیں تھی۔ پھر کسی رپوٹر نے ایک عدد مزید خاوند بھی ڈھونڈ لیا تھا۔ ایک بلوچ جرگے کی بھی اطلاعات آئیں تھیں۔ جس میں قندیل کی مذمت کی گئی تھی کہ وہ اپنے نام سے بلوچ ہٹائے۔

قندیل ایک ایسا کیس ہے جو ہمارے بیمار معاشرتی روئیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ تو ناکام تھی ہے لیکن اس سے متعلق لوگ بھی تو ناکام ہو گئے۔ خاوند اس کے ساتھ چلنے میں ناکام رہا۔ شو بز انڈسٹری اسے کام دینے میں ناکام رہی۔ میڈیا نے اسے بدنام کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ اسے شہرت چاہئے تھی جو اس نے حاصل کر لی۔

کسی نے بھی اس کے گھریلو حالات پر غور نہیں کیا۔ اس کی غربت پر اس کی معاشی حالت پر۔ روٹی کمانے کا کیا طریقہ اس کے پاس بچا تھا۔

مظفر گڑھ جو قندیل کا آبائی علاقہ ہے۔ وہاں ایک دوست سے بات ہوئی تو اس کا بتانا تھا کہ ہم تو قندیل کی قوم قبیلے کے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتے ہیں۔ تب سن کر ہم بھی مسکرائے تھے۔ اس مذاق نے ہی ایسی باتوں نے ہی اس کی زندگی کا سفر جلدی تمام کیا ہے۔

بدقسمتی دیکھیں ہم ایک مذہبی معاشرہ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں۔ کئی اقسام کے فرقے ہمارے ہاں موجود ہیں۔ مذہب کی ہر قسم کی تشریح \"qandeel\"ماننے والوں کے پاس قندیل جیسوں کے لئے برداشت کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ قندیل سے ایک مذہبی شخصیت کا رابطہ بھی ہوا تھا۔ مفتی عبدالقوی صاحب کی اس سے ملاقات ہوئی۔ مفتی صاحب نے اپنا سکینڈل تو بنوا لیا نام کو بٹا بھی لگوا لیا۔ قندیل کو سلامتی کا تحفظ کا امن کا عزت کا کوئی پیغام دینے میں وہ ناکام رہے۔

قندیل نے اپنے لئے تحفظ مانگا تھا سرکار سے جو نہیں دیا گیا۔ کیوں دیا جاتا بلکہ ایسی درخواست سنی بھی کیوں جاتی۔ یہ کام تو ہمارے ہاں لوگوں کی حیثیت دیکھ کر ہوتے ہیں۔ بطور انسان ان سہولیات تحفظات پر ہماری ریاست ہمارا معاشرہ ہمارا کوئی حق کدھر تسلیم کرتی ہے۔

قندیل کو ہم سب نے مل کر مارا ہے۔ ہمارے پاس اسے دینے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ بھائی بھی اس کے پاس گیا تو سر پر چادر رکھنے سمجھانے کی بجائے گلا دبانے کو۔

امید ہے کہ وہ خدا سے ہماری شکایت نہیں کرے گی اپنے لوگوں کی۔ خدا تو ہمیں جانتا ہی ہے۔ ایدھی صاحب پہلے ہی جا چکے ہیں انہوں نے کوئی جھولا قندیل جیسوں کے لئے بھی وہاں ضد کر کے بنوا لیا ہو گا۔ جنہیں ہمارا معاشرہ دنیا میں لاتا تو ہے انہیں زندگی منانے نہیں دیتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “قندیل بلوچ، خدا سے ہماری شکایت نہ کرنا

  • 18-07-2016 at 8:30 pm
    Permalink

    موم بتی مافیا اور دیسی ٹامیزکے کہنے پر ساری زندگی علما اور دینی اقدار کے خلاف زندگی بسر کرنے والے اپنے آخری لمحات میں علماء اور چند کندھوں کے محتاج ھوتے ہیں،یاد رہے مفتی عبد القوی عالم نہیں جاہل اعظم ہے میں نے یہ بات بی بی سی کے اس آرٹیکل کے تناظر میں لکھی کہ جس کاعنوان تھا کہ ’ قندیل مردوں اور مولویوں کےلیے خطرہ تھی لیکن میں قدرت کی اس مکافات پر حیران تھا کہ بالآخر ایک مولانا اور چند کندھے وہ بھی مردوں کے جن کو بقول موم بتی مافیا قندیل بلوچ سے خطرہ تھا ہی کام آئے نہ میڈیا آیا نہ ہی موم بتی مافیا اور یوں حوا کی ایک باغی بیٹی منوں مٹی تلے سپرد خاک ھو گئی

Comments are closed.