غیرت کے نام پر سب سے بڑی بے غیرتی


\"omaid\"ماڈل و اداکارہ قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا ہے. ان کے بھائی نے انہیں ملتان میں گلا دبا کر قتل کیا۔

پولیس کے مطابق قتل غیرت کے نام پر کیا گیا۔ خاندانی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ بھائی قندیل کو ماڈلنگ سے منع کرتا تھا نیز اسے علاقے میں مفتی عبد القوی کے واقعے کے بعد طعنے ملتے تھے۔

قندیل بلوچ گزشتہ سال سے سوشل میڈیا پر اپنی بے باک سیلفیوں اور ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھیں۔ حال ہی میں مفتی عبد القوی کے ساتھ ان کا سیلفی اسکینڈل بھی میڈیا پر بحث کا موضوع رہا۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کو ہمیشہ جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ مرد کے جذبات عورت کی زندگی سے زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔ قوانین لانے کی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر قانون نہ لایا جائے اور ایسا کہنے والے بہت معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ اجی مرد پر بھی تو ظلم ہوتا ہے۔ ہم نے تو آج تک غیرت کے نام پر کسی عورت کو قتل کرتے نہیں دیکھا!!

پاکستانی سوشل میڈیا پر اس پر متعدد آرا آرہی ہیں، جہاں لوگ قندیل بلوچ کے بہیمانہ  قتل پر غصہ ہیں وہیں غیرت کے نام پر قتل کے جواز گھڑنے والے اور قتل ہونے والی کے کردار پر سوال اٹھانے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کھیلوں کے رپورٹر حسن چیمہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے ہی طے کرنا ہے کہ کس مرد کو مارنا ہے، کس عورت کو اب جینے کا حق نہیں تو پھر خدا کا کیا کام رہ گیا؟

صحافی ندرت خواجہ کہتی ہیں کہ کیسا مریض معاشرہ ہے کہ جب عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں، جب بچوں پر جنسی تشدد ہو رہا ہوتا ہے تو خاموش رہتا ہے مگر جب کوئی دہشت گرد مرتا ہے تو اس پر حشر بپا دیتا ہے۔ غالباََ ان کا اشارہ حالیہ دنوں میں ملا منصور کی ہلاکت کی طرف تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ حیرت ہے کہ ایدھی کی ڈی پی لگا کر لوگ اس قتل کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔ رمل محی الدین کہتی ہیں کہ پاکستان میں عورتیں اپنے گھروں، اپنے بستروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

منصور علی خان نے کہا کہ میڈیا کو جاننا چاہئے کہ \’غیرت کے نام پر قتل\’ کا جملہ ہی توہین آمیز ہے۔

اس سے پہلے مفتی عبد القوی ٹی وی پر یہ کہ چکے تھے کہ آیندہ علما پر کوئی الزام لگانے سے پہلے اس عورت کا انجام یاد رکھے!

\”Ainda Ulema ko badnaam karne se pehle is aurat ka anjaam zehn mein rakha jaye\”- Mufti Qavi pic.twitter.com/boMuMcQ6oD

— Blastphemous (@thewrioter) July 16, 2016

کیپٹل ٹی وی کے اینکر شہزاد رضا نے اس پر کہا کہ کوئی شخص بھی جو اس قتل کے جواز فراہم کرے چاہے وہ مفتی عبد القوی ہی کیوں نہ ہو اسے گرفتار کر لینا چاہئے۔ سائرہ نظامی کہتی ہیں دن دھاڑے دھمکیوں پر ایسے مولویوں کو گرفتار کر لینا چاہئے۔

کچھ لوگوں نے میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، ثمر من الله نے کہا کہ قندیل کے قتل کا ذمہ دار صرف اس کا بھائی ہی نہیں ہے بلکہ میڈیا بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے۔ خاور اظہر کہتے ہیں کہ قندیل کے قتل میں میڈیا ذمہ دار ہے جس نے اس کی نجی زندگی کی تفصیلات منظر عام پر لا کر اس کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ ان کے مطابق قندیل ریٹنگ کی دوڑ کا شکار ہیں۔

اس پر عمر قریشی نے کہا کہ جو لوگ میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں انہیں \”Shoot the messenger\”  کے جملے پر غور کرنا چاہئے۔ عترت اسد کہتی ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قندیل خود شہرت چاہتی تھیں۔ ندرت خواجہ نے کہ ہم قندیل بلوچ کے قتل پر میڈیا کو کسی صورت بلی کا بکرا نہیں بنا سکتے، ساری دنیا میں سوشل میڈیا سے مشہور ہونے والی شخصایت ہیں جن سے لوگ محبت یا نفرت کرتے ہیں مگر کسی کو قتل نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اس کے لئے سخت قوانین لانے ہوں گے، نیز مجرموں کو کفر کردار تک لانا ہوگا اور معاشرے کو بدلنا ہوگا۔

بی بی سی کے سوشل میڈیا کے اردو زبان کے لئے ایڈیٹر طاہر عمران کہتے ہیں کہ قندیل بلوچ نے پاکستانی سوشل میڈیا کو اپنے طریقے سے بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے اپنی مختصر سی سوشل میڈیا کی زندگی میں بہت سی معاشرتی حد و قیود کو کامیابی سے چیلنج کیا۔ انہوں نے خواتین کے بارے میں مکالمے کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا اور معاشرے کی منافقت کو کامیابی بے نقاب کر کے رکھ دیا کہ لوگ ان کو دشنام کا بھی نشانہ بناتے ہیں مگر ان کی ویڈیوز کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قندیل کے بعد اب سوشل میڈیا ویسا نہیں رہے گا۔

میں عثمان احمد کی اس بات سے متفق ہوں کہ اگر بہن کو مارنا غیرت مندی ہے تو میں بے غیرت ہوں۔

فیس بک پر علی رضا نے بہت خوبی سے بات کو نمٹا دیا، کہتے ہیں \” غیرت کے نام پہ قتل کرنا سب سے بڑی بے غیرتی ہے۔\”


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “غیرت کے نام پر سب سے بڑی بے غیرتی

  • 16-07-2016 at 11:59 pm
    Permalink

    Time to rationalise the Qandeel baloch: Everybody commenting that Qandeel should be a banker, doctor or whatever the bullshits are, must recognize the effort and strength of Qandeel in the typical patriarchal society of ours. Just Imagine for a moment, a divorced teenager rural girl, not even had a primary education, emerged to the national arena through whatever means she used reflects that dilemma of our society ” Sahib yahan mangnay se kuch nahi milta, yahan Cheh’nna parta hai”. And she did that !. What a lady she was?. And the same bogus mentality of majority is indulging in “If’s” and “But’s”. Reality is that,”She came, she saw, she conqured”. Aik bar imagine to kro k wo bandi kahan se chali aur kahan pohanchi.

  • 17-07-2016 at 12:10 am
    Permalink

    Shayad ek bhi nai, per aap wo ek khami batain jis ki bunyad per us ka qatal jayiz hey? Yahan qatal per baat ho rahi hey.

Comments are closed.