ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت


wajahatپسماندہ معاشروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اہم مسائل پر گھسے پٹے انداز میں ایک ہی طرح کی باتیں اتنی بار دہرائی جاتی ہیں کہ پورا مسئلہ چند رٹے رٹائے مفروضوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام میں درکار تبدیلیوں ہی کو لے لیجئے۔ گذشتہ صدی میں مولوی ممتاز علی کی تحریروں سے لیکر آج تک ہمارے نام نہاد ثقہ حلقوں نے اس بنیادی مسئلے کو ٹھٹھے بازی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کبھی اس پر فحاشی کی تہمت لگائی جاتی ہے تو کبھی مغرب کے اس خاندانی نظام کو لتاڑا جاتا ہے جو ہمارے دانشوروں کی رائے میں عرصہ ہوا زوال پذیر ہو چکا۔کبھی سوال کیا جاتا ہے کہ آخر مردوں کے حقوق کی بات کیوں نہیں کی جاتی۔حالانکہ بات سیدھی سی ہے۔ تاریخی طور پر جو طبقات یا گروہ مختلف وجوہات کی بنا پر ترقی اور حقوق کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ان کے حقوق کے تعین اور فراہمی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اقلیتوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قوانین اور اداروں کی سطح پر ایسے ڈھانچوں میں اصلاح کی جائے جو پچھڑے ہوئے طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں۔اسی طرح عورتوں کے سیاست میں حصہ لینے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں خالص مذہبی بنیادوں پر بحث کو تو چھوڑیں کہ عورتوں کو سیاست سے باہر کرنے کے خواہشمند احباب ہماری مختصر تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر خود خواتین کی سیاسی قیادت تسلیم کر چکے ہیں۔ اصل مسئلہ محض ان چند خواتین کی سیاست میں شمولیت کا نہیں جو اپنے خاندانی اثر و نفوذ اور مراعات یافتہ طبقات سے تعلق کے باعث سیاست میں موجودہیں۔ سوال ان وسائل سے محروم کروڑوں عورتوں کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کا ہے جنہیں نہ تو تعلیم تک رسائی ہے اور نہ علاج معالجے کی سہولتیں میسر ہیں۔ انہیں نہ تو روزگار کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور نہ گھر کی چار دیواری میں مو¿ثر آواز ملتی ہے۔ تاریخ میں جہاں کہیں استحصال کا شکار ہونے والے گروہوں کو اپنے حقوق منوانے کا موقع ملتا ہے معاشرے کی پیداواری اور اخلاقی حالت میں بہتری پیدا
ہوتی ہے۔

گزشتہ سو سال سے گویا ہمارا واحد مسئلہ مروجہ خاندانی ڈھانچوں کا تحفظ ہے۔ سماجی تبدیلی کی کوئی کروٹ ہو، انسانی فکر کسی نئی علمی جہت کا سراغ لگائے یا میدان سیاست میں کوئی نیا مرحلہ درپیش ہو، ہمارا ردعمل ہر صورت میں ایک سا رہتا ہے، آنکھیں بند کر کے شور 01مچانا کہ ہمارا خاندانی نظام، معاشرتی ڈھانچہ اور اخلاقی اقدار خطرے سے دوچار ہیں۔ آئے روز بالغ اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنی مرضی سے ازدواجی بندھن استوار کرنے کے جرم میں عدالتوں کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن کے ردِ عمل میں مختلف مذہبی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے گوناگوں مفادات کے پیش نظر باقاعدہ مہم چلائی کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے خاندانی نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی مساعی کا گویا واحد مقصد قوم کو مغرب کے منتشر خاندانی نظام کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس خوفزدہ ذہنی کیفیت کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟ کیا واقعی کچھ قوتیں ہمارا خاندانی نظام تباہ کرنے کے درپے ہیں؟ کیا ہمارے خاندانی نظام اور سماجی اقدار میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں؟

اگر ہمارا خاندانی نظام واقعی بہترین ہے اور انسانوں کو تحفظ، ترقی کے مواقع اور خوشیوں کی ضمانت فراہم کرتا ہے تو پھر کسی
کوگھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاشرے کی اکثریت اتنی کم عقل اور اپنے فائدے سے بے نیاز نہیں ہو سکتی کہ آنکھیں بند کر کے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مار لے۔ غالباً ہمارے ہی خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار میں کوئی بنیادی خرابی ہے یا ہم ان سماجی ڈھانچوں کی بناوٹ اور ارتقا کو صحیح طریقے سے سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر نسل میں ایک بڑی تعداد ایک خاص عمر تک خاندانی نظام اور نام نہاد معاشرتی اقدار سے ٹکرانے کی سر توڑ کوشش کرتی ہے اور پچھلی نسل اِس رویے پر بوڑھی عورتوں کی طرح بازو پھیلا پھیلا کر بین کرتی نظر آتی ہے۔ کچھ سر پھرے قدیم رسم و رواج سے ہٹنے کی ہمت تو کر لیتے ہیں مگر وسیع سماجی حمایت، معاون قوانین، رسم و رواج، اداروں اور متبادل روایات کی عدم موجودگی میں معاشرتی بے گانگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انفرادی اُلجھنوں سے بھرپور غیر ہموار زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد معاشرتی دباﺅ کا سامنا کرنے کی جرات سے محروم ہوتی ہے یا روایت سے وابستہ مفادات کا لالچ 02آڑے آتا ہے۔ یوں بھی روایت کی گھسی پٹی شاہراہ پر اک بے فکرے ہجوم کے ساتھ چہل قدمی کرتے زندگی کرنا آسان ہے۔ بزرگوں کی تابعداری پر شاباش کے ڈونگرے الگ رہے اور مستقبل میں روایت کے ڈنڈے پر اجارہ داری بھی ہاتھ سے نہیں گئی۔ دوسری طرف اپنے شعور کی پگڈنڈی پر تن تنہا سفر کرتے ہوئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ اب اگلا منظر دیکھیے، ماضی کی اسی باغی نسل کے بیشتر افراد ایک خاص عمر کوپہنچ کر ناجائز مفادات کے لالچ میں اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے گھبرا کر اسی نظام کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں جو کل تک اُنھیں قبول نہیں تھا۔ روایت سے
انحراف کیا جائے یا روایت کی پابندی، جو معاشرہ ارتقا اور تبدیلی کو ایک اُصول کے طور پر قبول نہیں کرتا، ہر دو صورتوں میں بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ حقیقی خوشی کسی کے ہاتھ نہیں آتی، بغاوت کرنے والے جان لیوا معاشرتی دباﺅ میں ٹیڑھی میڑھی انفرادی نفسیات اور انتہا پسند اخلاقیات کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ دوسری طرف سر تسلیم خم کرنے والے ایک خاص طرح کے جذبہ¿ انتقام میں ڈوب کر اذیت پسند اور رجعت پسند رجحانات کے اسیر نظر آتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں معاشرے کے ہموار اخلاقی اور سماجی ارتقا میں خلل پڑتا ہے۔ غیر صحت مند اخلاقی اقدار فروغ پاتی ہیں۔ انفرادی منافقت رفتہ رفتہ اجتماعی بددیانتی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایک اور نسل نوجوانوں کی اخلاقی بربادی، شاندار خاندانی ڈھانچوں کی ناقدری اور مغربی ثقافت کی نام نہاد یلغار کا رونا روتی نظر آتی ہے۔ یہ معاشرتی پسماندگی اُن مہربان حلقوں کو بے حد پسند ہےجنہوںنے معاشرے پر معاشی، سیاسی اور مذہبی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ جب اِنسان کے دل میں خوشی کی کرن ہی نہیں، نہ گزرے ہوئے کل کی یاد خوشگوار ہے نہ حال پہ اطمینان ہے اور نہ آنے والے کل سے بہتری کی اُمید تو پھر کون سیاست 03کے بکھیڑوں میں پڑے، علم کے میدان میں تحقیق کا دروازہ کھولے، نئی سوچ کا آوازہ بلند کرے اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خاندانی نظام فرد کو تحفظ دینے اور خوشیوں کی ضمانت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری طرف موجودہ خاندانی ڈھانچے کی وجہ سے معاشرتی اور سیاسی ترقی میں بھی شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ہمارے مروجہ خاندانی نظام کی افادیت کا اندازہ لگانا ہو تو اپنے محلے یا گاﺅں پر ایک سرسری نظر ڈال کر گھریلو لڑائی جھگڑوں کی بلند شرح ملاحظہ کیجئے۔ اپنے اردگرد بسنے والوں میں سے منہ بسورتے میاں بیوی اور خوش و خرم جوڑوں کا تناسب نکال لیجئے۔ ایک اور پیمانہ یہ ہے کہ ان باپ بیٹوں کی تعداد معلوم کر لیں جنہیں ایک دوسرے کے رویوں سے شکوہ نہ ہو۔ یہ آئے دن چولھا پھٹنے کی وارداتیں دوزخ میں نہیں، ہمارے معزز گھروں میں وقوع پذیر ہو رہی
ہیں۔ پورے معاشرے میں بدعنوانی، رشوت، منشیات اور غنڈہ گردی کا طوفان اُٹھانے والے آسمانوں سے نہیں اُترے ہمارے مقدس خاندانی نظام کی پیداوار ہیں۔ غریبوں کی بیٹیوں کو جہیز کے ترازو میں تولنے والے اور اپنی ہونے والی بہو میں ہوس پرور درندگی سے دراز قامتی تلاش کرنے والے شرفا مغرب سے نہیں آئے ہمارے ہی ملک میں پلے بڑھے ہیں۔ جس معاشرتی نظام میں نام نہاد غیرت کے نام پر اپنی بہن، بیٹی اور بیوی کا خون کرنے والا تھانے اور کچہری میں سینہ پھُلائے پھرتا ہے، وہاں کی شرافت کا اندازہ کرنا ہو تو دوپہر کی دھوپ میں بچیوں کے کسی سکول یا کالج کے قریب غیرت مند نوجوانوں کے غول ملاحظہ کریں۔ مذہبی تہواروں پر خریدوفروخت کے بارونق مراکز میں بطور خاص پولیس تعینات کی جاتی ہے تاکہ عورتوں کو مقدس خاندانی نظام کے پروردہ نمونوں کی درازدستی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ یہ سب حقائق ایسے معمولات زندگی کا حصہ ہیں جن کا عام حالات میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ اگر معمول کی حدود سے آگے نکلنے والے واقعات کا جائزہ مقصود ہو تو کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔ کھیتوں سے لے کر پولیس تھانوں تک آبروریزی کی وارداتیں گن جائیے۔ اغوا اور اخلاق باختگی کے قصے پڑھیں۔ سسرال اور قریبی رشتہ داروں کی کارگزاری ملاحظہ کریں۔ سوتیلے والدین اور شوہروں کی بدسلوکی سے تنگ آ کر دارالامان پہنچنے والی بدنصیب عورتوں کی داستانیں معلوم کیجئے۔ ایک ہی نظر میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا معاشرتی نظام شدید تناﺅ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور یہ اس معاشرے کی تصویر ہے جہاں ظلم کی بے شمار کہانیاں خاندانی عزت کے نام پر دبا دی جاتی ہیں۔ چادر اور چار دیواری کے بلند بانگ نعرے کی حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جبر، تشدد  اور بددیانتی کی غلاظت پر منافقت کی چادر ڈال کر اسے روایت پرستی کی چاردیواری میں قید کر رکھا ہے۔

04دراصل خاندان کے کسی ایک نمونے کو واحد فطری اور ناقابل تبدیلی نظام قرار دینا تاریخی حقائق سے انکار ہے۔ مختلف زمانوں اور مختلف خطوں میں خاندانی نظام کے مختلف نمونے اور ڈھانچے رائج رہے ہیں۔ کہیں عورت کو مرد پر بالادستی حاصل تھی تو کہیں مرد کو عورت پر۔ کہیں مشترکہ خاندانی نظام رائج تھا تو کہیں میاں بیوی اور بچوں پرمشتمل مختصر گھرانہ۔ کہیں قبیلے کو معاشرتی اکائی کی حیثیت تھی تو کہیں ایک ہی پیشے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو مشترکہ برادری کا درجہ دیا جاتا تھا۔ دوسرے معاشرتی اداروں کی طرح خاندان بھی کوئی جامد مظہر نہیں ہے بلکہ معاشی، سیاسی اور علمی تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ ہزاروں برسوں پر محیط انسانی تاریخ میں خاندانی نظام بے شمار تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ گزشتہ چند عشروں میں سائنسی ایجادات، سیاسی تبدیلیوں اور نئے معاشی ڈھانچوں کی نشوونما کی رفتار تیز رہی ہے چنانچہ خاندانی نظام بھی اسی رفتار سے تبدیل ہو رہا ہے۔ آج کی دُنیا میں کوئی معاشرہ ان تبدیلیوں سے اثر قبول کیے بغیر سیاسی اور معاشی سطح پر زندہ رہنے کی امید نہیں رکھ سکتا۔ خاندانی نظام پر سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں کے اثرات کو ذیل کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

گزشتہ صدی میں اِنسانیت کو دو عالمی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سطح پر خاندان کا ادارہ بھی اِن جنگوں سے متاثر ہوا ہے۔ ان عالمی جنگوں میں صنعتی ممالک کے محنت کشوں کی بڑی تعداد محاذ جنگ پر مصروف تھی۔ لہٰذا کھیتوں اور کارخانوں میں افرادی قوت کا بحران پیدا ہو گیا۔ چنانچہ جنگ میں شریک بیشتر ممالک میں عورتوں نے مردوں کی جگہ سنبھال لی۔ جنگ کی ہنگامی صورت حال ختم ہونے کے بعد ان عورتوں کو زبردستی ملازمتوں سے فارغ کرنا ممکن نہیں تھا، جنہوںنے بحران میں اپنی پیداواری اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا تھا۔ علاوہ ازیں جنگ کے بعد سماجی خدمات کے شعبوں میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ نت نئی صنعتوں میں بھی افرادی قوت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ خواتین کارکنوں کی شکل میں صنعتی معاشروں کوایک مضبوط سہارا مل گیا۔

روایتی عورت کا مثالی کردار یہ تھا کہ وہ گھریلو کام کاج میں زندگی بسر کرے۔ لیکن نئی صورت حال میں معاشرے کو یہ اُصول تسلیم کرنا پڑا کہ روزی کمانے کے بنیادی حق میں مردوں اور عورتوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔ جب عورت روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو گھریلو فیصلوں میں اس کی رائے کا وزن بڑھ جاتا ہے، اِس کی مالی محتاجی ختم ہوتی ہے۔ چنانچہ جس گھرانے میں مرد اور عورت دونوں برسرروزگار ہوں وہاں مرد کی روایتی بالادستی کو لازمی طور پر دھچکا پہنچتا ہے۔ معاشی سطح پر خودکفیل عورت محض دو وقت کی روٹی کے لیے نہ تو شوہر سے پٹائی کرانے پر آمادہ ہوتی ہے اور نہ بچوں سے لے کر پیشہ وارانہ امور تک ہر معاملے میں شوہر کے اشارہ¿ ابرو کی محتاج ہوتی ہے۔

05جب معاشی سرگرمی میں عورتوں کی بھرپور شرکت کو بطور ایک اُصول تسلیم کر لیا گیا تو عورتوں پر گھریلو کام کاج کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ گھریلو کام کاج میں مدد دینے والے بیشتر آلات مثلاً واشنگ مشین، ویکیوم کلینر، بجلی کا چولھا اور ریفریجریٹر وغیرہ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھائی دہائی میں متعارف ہوئے۔

اب اسی مثال کا ایک اور زاویے سے جائزہ لیں۔ دفتر یا کارخانے میں کام کرنے والی عورت سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ اِن عورتوں کی طرح آٹھ دس بچے پیدا کرے گی جن کی زندگی کا دائرہ شوہر، بچوں اور باورچی خانے تک محدود تھا۔چنانچہ خاندان میں افراد خانہ کی اوسط تعداد کم ہو گئی۔ معیار زندگی میں بہتری آئی اور مختصر خاندان کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے فرد کوغذائیت، علاج معالجے اور تعلیم کی بہترین سہولتیں فراہم کرنا معاشرے کی ذمہ داری قرار پایا۔

دوسری عالمی جنگ میں محوری قوتوں یعنی جرمنی، جاپان اور اٹلی نے عورتوں کو گھر کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا فریضہ سونپا جبکہ جمہوری حکومتوں نے عورتوںکی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کارخانوں میں کام سنبھال کر صنعتی پیداوار کی شرح برقرار رکھیں۔ اس معرکے میں جنگجو وحشیوں کی تعداد بڑھانے کے خواہش مند نظام کو شکست ہوئی جبکہ بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والے ممالک بازی لے گئے۔ نازی اور فسطائی آمریتوں کے انجام سے سبق حاصل نہ کرنے والے کچھ افراد آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیںجنہوںنے سڑکوں پر ”بڑا خاندان۔ جہاد آسان“ جیسے نعرے لکھنے کا کام سنبھال رکھا ہے۔ ہمارے یہ دوست اس گزرے ہوئے زمانے میں زندہ ہیں جب قوموں کے مابین کشمکش کا فیصلہ جنگ کے میدانوں میں افرادی قوت کے بل پر ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں زندہ رہ سکتی ہیں جو برتر فکری معیار، اعلیٰ علمی استعداد، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل ہوں۔

خاندانی نظام کے تجزیے میں سب سے پہلے تو خاندان اور فرد کا فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خاندان ایک معاشرتی ادارہ ہے جبکہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔جس طرح انسانوں نے مل جل کر رہنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قانون، عدلیہ، سیاسی جماعتیں، قانون ساز ادارے اور انتظامیہ جیسے ادارے تشکیل دے رکھے ہیں اسی طرح خاندان بھی ایک معاشرتی ادارہ ہے چنانچہ معاشرے کی قانونی، اخلاقی، سیاسی اور معاشی اکائی فرد ہے، خاندان نہیں۔ جس طرح بدلتے ہوئے اجتماعی حالات میں قانونی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے تبدیل ہوتے ہیں اسی طرح خاندان کے ادارے میں تبدیلیوں کی ضرورت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ دوسری طرف انسانوں کے بنیادی حقوق منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور نہ اُنھیں ریاست اور معاشرے کو شدید نقصان پہنچائے بغیر معطل کیا جا سکتا ہے۔

article-22799البتہ قانون، سیاست اور انتظامیہ جیسے اداروں اور خاندان میں ایک فرق یہ ہے کہ قدیم معاشرتی ادارہ ہونے کے باعث خاندان ایک ڈھیلا ڈھالا ڈھانچا ہے جسے قانون یا دستور کی طرح منضبط کرنا مشکل ہے۔ خاندان کی تعریف بھی خاصی غیر متعین ہے۔ مختلف گھرانے گوناگوں حالات و واقعات کے نتیجے میں مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں۔ کہیں خاندان مختصر ہوتا ہے کہیں وسیع۔ کبھی نامساعد حالات کا شکار ہو کر دور دراز کا کوئی رشتے دار خاندان کا حصہ بن جاتا ہے تو کوئی بچہ والدین کی وفات کے بعد اجنبی گھرانوں میں پرورش پاتا ہے۔ ایسی صورت میں خاندان کو ایک باقاعدہ اور منضبط ادارے کی بجائے ایک معاشرتی قاعدہ سمجھنا چاہیے جو صرف مثالی صورت حال ہی میں اپنے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ معاشرتی معمولات میں خلل کی صورت میں محض معاشرتی قاعدوں پر انحصار کرنے سے پچھڑے ہوئے افراد یا محروم طبقات کی حق تلفی لازم آتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مناسب قوانین اور انتظامی ادارو ں کے ذریعے افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ماں باپ اور بہن بھائی خاندان کے نزدیک ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ہی چھت تلے رہنے والے ان کے رشتہ داروں میں محبت، احترام، وابستگی اور ہم آہنگی کا امکان نہایت فطری امر ہے اور یہی معاشرتی قاعدہ ہے لیکن اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں شوہر کا بیوی پر تشدد، بھائی کا بہن کو قتل کرنا، باپ کی جائیداد پر بیٹے کا ناجائز قبضہ اور طلاق کی صورت میں بچوں کی تحویل پر میاں بیوی میں تنازع جیسے امکانات موجود رہتے ہیں۔ عدالتوں میں اس نوعیت کے بے شمار مقدمات ہر وقت زیرِ سماعت رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان تنازعات کو اس بنا پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ خاندان کے داخلی معاملات ہیں، بہن کو قتل کرنے والا بھائی عدالت میں ایک قاتل کی حیثیت سے پیش ہو گا۔ جائیداد کے تنازعے میں باپ اور بیٹے کا باہمی رشتہ غیر متعلق ہو جائے گا۔ درحقیقت قانون کی تشکیل کا ایک بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ معاشرتی معمولات اور قاعدے فرد کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں لہذا منضبط اداروں یعنی قانون اور عدلیہ کی دخل اندازی ضروری ہو چکی ہے۔ قانون کا منصب غیر جانبدار واقعاتی اور دستاویزی شہادت کی مدد سے شہریوں کو انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون کو ناقابل ثبوت اور متنوع معاشرتی معمولات کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں والدین کی اکثریت بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود قانون کی نظر میں والدین کو بچے کے بہترین مفاد کا واحدمحافظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آخر ایسی مثالیں بھی تو موجود ہیں جن میں والدین بگڑے ہوئے عرب شیوخ کی تفریح یعنی اونٹ دوڑ کے لیے چند ٹکوں کے عوض اپنے کمسن بچے فروخت کر دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی باپ معمولی رقم کے لیے اپنے بچے بیگار لینے والے بھٹہ مالکان کے ہاتھ رہن رکھ دیتے ہیں۔ معاشرے میں ایسی صورت پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں جہاں والدین اور بچے کے مفادات متصادم ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں قانون والدین کے حقوق کی بجائے بچے کے بہترین مفاد کو فوقیت دیتا ہے۔ خاندان افراد خانہ کے لیے تحفظ اور محبت کی ضمانت دیتا ہے مگر جہاں خاندان کا کوئی فرد محسوس کرے کہ خاندان اس کے حقوق کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے وہاں اُسے خاندان کے دائرہ کار سے باہر اپنے حقوق حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ بے شک والدین اپنی سمجھ کے مطابق شادیاں طے کرتے وقت بچوں کی بہتری مدنظر رکھتے ہیں لیکن والدین کو شریک زندگی کے انتخاب کا غیر مشروط حق نہیں دیا جا سکتا۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں اَن گنت مثالیں موجود ہیں کہ والدین مالی مفاد، جائیداد کے لالچ اور جاہلانہ رسم و رواج کی تقلید میں بچوں کی زندگیاں جہنم بنا دیتے ہیں۔جہاں اکثر مسلم گھرانوں میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ جہاں معاشرتی اکثریت نے سہولت کی ثقافت اختیار کر رکھی ہے۔ جہاں مذہبی احکامات پر عمل کرنے میں سہولت نظر آئے وہاں مذہب کا دامن تھام لیا جاتا ہے جہاں رسم و رواج کی پابندی میں فائدہ نظر آتا ہو وہاں رسم و رواج کا سہارا لے لیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کی آڑ میں مطلب حل ہوتا ہو وہاں قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انسانی حقوق اور معاشرتی ترقی کے لیے درکار اجتماعی تبدیلیوں کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔

06غیر منصفانہ ریاستی نظام کو اپنے استحکام کے لیے دیگر استحصالی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر کے اندر جو اخلاقی نظام رائج ہوتا ہے گھر سے باہر بھی اسی کی وسیع تر صورت نظر آتی ہے۔ گھر کی چاردیواری میں تشدد سہنے والے دراصل سڑکوں پر، تھانوں، جیلوں اور نجی عقوبت خانوں میں اذیت جھیلنے کی تربیت پاتے ہیں۔ جنھیںخاندان میں مشاورت اور شرکت رائے کی بجائے بزرگوں کے احکامات ماننے کا درس ملتا ہے، اُنھیں ملک میں جمہوری قدروں کے فقدان کا احساس ہوتا ہے نہ ان کے لیے حریت فکر کوئی اعلیٰ انسانی قدر پاتی ہے۔ جنہیںحیاتیاتی حقیقتوں سے نظریں چرانے کی منافقانہ اخلاقیات سکھائی جاتی ہے وہ اجتماعی زندگی میں بھی قول و فعل کے تضاد کو درست اور عین فطری سمجھ کے قبول کرتے ہیں۔ جہاں گھر میں ذاتی مفاد کے لیے اُصولوں کو نظر انداز کرنا سکھایا جاتا ہے وہاں اُصولوں پرکاربند رہنے کی بجائے بدعنوانی، اقربا پروری اور لاقانونیت کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ جہاں لفظ ”خاندان“ سے ایک ایسا گروہ مراد لیا جاتا ہے جو ہر حال میں طعنہ زنی اور ٹانگ کھینچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا وہاں فراخ دلی، محبت اور امن کا خواب پریشان ہوجاتا ہے۔

ہمارے مروجہ خاندانی نظام کی بنیاد دونکات یعنی جائیداد اور دیگر ملکیتی مفادات کا تحفظ نیز جسمانی تقاضوں کو جھٹلانے، دبانے اور چھپانے پر ہے۔ مروجہ خاندانی نظام میں پائی جانے والی بیشتر خرابیوں کی تہہ میں مالی مفادات کارفرما نظر آتے ہیں۔ ہمارے رسم و رواج مثلاً وٹہ سٹہ، بے جوڑ شادیاں، خاندان سے باہر شادی بیاہ سے گریز، لڑکیوں کو وراثت سے محروم کرنا، جہیز، ولور، سوارہ، لب وغیرہ کا بنیادی مقصد جائیداد اور دیگر ملکیتی مفادات ہی کا تحفظ ہے۔ قریبی افراد خانہ میں جھگڑوں کی ایک اہم وجہ مالی ناآسودگی اور معاشی عدم تحفظ ہے۔ نچلے اور متوسط طبقے پر اقتصادی دباﺅ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان خرابیوں میں مزید اضافہ ہو گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے خاندانی نظام میں انفرادی صلاحیت اور محنت کو بروئے کار لا کر معاشی ضروریات پوری کرنے کی بجائے دست نگری اور طفیلی رجحانات کا غلبہ ہے۔ عام طور پر ایک کمانے والے پر انحصار کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مالی دباﺅ سے گھبرا کر لوگ راتوں رات دولت ہتھیانے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ اپنے زور بازو سے رزق کمانے کی بجائے وراثتی جائیداد پر غیر ضروری انحصار کیا جاتا ہے۔ اہلیت اور محنت کی بجائے مراعات یافتہ حیثیت اور چھت پھاڑ کر ملنے والی دولت کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ان رویوں کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ معاشرے میں حقوق کی بجائے دھونس اور علم کی بجائے طاقت کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ معاشرے میں جو طبقات زندگی کی سہولتوں سے لطف اٹھاتے نظر آتے ہیں ان کی بڑی تعداد اپنی محنت اور ذاتی اہلیت کی بجائے باپ دادا کی وراثت، استحصال اور ناجائز ہتھکنڈوں کے بل پر مزے لوٹ رہی ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے معاشرے میں محنت کی بجائے استحصال کے ذریعے ترقی کی مثال پیش کی ہے۔ تاریخی طور پر درمیانہ طبقہ ہمیشہ اپنی اخلاقی اقدار میں حکمران طبقے کی نقالی کرتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند عشروں میں درمیانے طبقے کے حجم میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہ درمیانہ طبقہ ہموار سیاسی اور معاشی ارتقا کی بجائے مختلف اتفاقات مثلاً متروکہ جائیداد، پیٹرو ڈالر اور افغان جنگ وغیرہ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے چنانچہ اس میں درمیانے طبقے کی روایتی خوبیاں تو غائب ہیں مگر تمام سماجی اور معاشی طبقات کی خرابیاں جمع ہو گئی ہیں۔

ان خرابیوں کو دور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قانونی، سماجی اور معاشی اداروں میں اہلیت، محنت اور دیانت داری جیسی قدروں کو فروغ دیا جائے۔ عورتوں کو بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں سرگرم افرادی قوت کا حصہ بنایا جائے تاکہ متوسط گھرانوں پر معاشی بوجھ بھی کم ہو اور سماجی سطح پر طفیلی رجحانات اور نقصان دہ رسم و رواج کی حوصلہ شکنی بھی ہو۔ تاہم یہ سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ سماج اور معیشت کے موجودہ اخلاقی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں کیے بغیر یہ اقدامات مفید نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر ہمیں ماننا ہو گا کہ خاندان میں مرد کی بالادستی کوئی الہامی اور اٹل حقیقت نہیں۔ آنے والے عہد میں سماجی اور معاشی سطح پر حاکمیت اور بالادستی کی بجائے صنفی مساوات کا دور دورہ ہو گا۔ اسی طرح ہمیں اس تصور سے بھی جان چھڑانا ہو گی کہ خاندان کی مالی کفالت صرف مرد کا فرض ہے۔ مختصر لفظوں میں ہمیں روایتی اخلاقیات کی بجائے عملی اور افادی اخلاقیات اختیار کرنا ہوگا۔ مروجہ خاندانی نظام میں مرد صدیوں سے عورتوں کو اطاعت گزار گھریلو ملازمین کا درجہ دیتے آئے ہیں۔ ان کے لیے راتوں رات نفسیاتی، ازدواجی اور سماجی سطح پر عورتوں کا مساوی درجہ تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ ریاستی ادارے (قوانین، عدالتیں اور تعلیمی نصاب وغیرہ) ذرائع ابلاغ، مذہبی پیشوا اوررجعت پسند دانشور بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ متبادل سماجی رویوں کی تشکیل میں مدد دینے کی بجائے امتیازی رویوں کے دفاع میں مصروف ہیں چنانچہ سوچ اور عمل کے قدیم سانچوں سے چمٹے رہنے کا نتیجہ یہ ہے کہ خاندان کا ادارہ تحفظ، محبت، اطمینان اور استحکام کی بجائے، جبر، تشدد، نفرت اور منافقت جیسی خرابیوں کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
ہمارے موجودہ خاندانی نظام کا دوسرا ستون حیاتیاتی اور جسمانی تقاضوں کو جھٹلانا، دبانا اور چھپانا ہے۔ اول تو ہم یہ حقیقت ہی تسلیم نہیں کرتے کہ تمام انسانوںکی کچھ جائز جنسی ضروریات ہوتی ہیں۔ حقائق سے آنکھیں چرانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی جنسی رویوں میںپیدا ہونے والی خرابیوں سے بے خبر رہتے ہیں اور پاکیزگی کی ظاہری چادر کے نیچے ہر طرح کی برائیاں پرورش پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی جنسی تربیت اور تعلیم کا کوئی باقاعدہ طریقہ¿ کار موجود نہیں۔ چنانچہ نوجوان اپنے ہم عمر ساتھیوں سے پوشیدہ طور پر غیر مستند اور الٹی سیدھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرف تو اس طریقہ¿ کار سے نوجوانوں میں غیر ضروری تجسس اور بے جا احساس گناہ پیدا ہوتا ہے، دوسری طرف یہ نوجوان غلط تربیت اوربے ہودہ اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بزرگ نسل اپنے طور پر تصور کر لیتی ہے کہ ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد نوجوان جنسی حقائق سے خود بخود آگاہ ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ مذہب، سائنس اور بنیادی خواندگی کے سلسلے میں تو ہم نے کبھی یہ تصور نہیں کیا کہ نوجوان خود بخود یہ معلومات حاصل کر لیں گے، جنسی معاملات میں یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ نوجوانوں کو باقاعدہ اخلاقی اقدار اور علمی حقائق سمجھنے کی ضرورت نہیں؟ اس غلط سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر افراد علمی طور پر غلط، ناقابل عمل اور غیر اخلاقی جنسی اقدار کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔

اسی سوچ کا دوسرا رُخ جنسی جذبات اور تقاضوں پر ناجائز پابندیوں کا ہے۔ یہ امر تاریخی طور پر ثابت ہے کہ کوئی معاشرہ سخت ترین سزاﺅں کے باوجود جنسی جذبات پر ناجائز پابندیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔ جنسی آزادی لازمی طور پر اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے لیکن جنسی تقاضوں پر ناجائز پابندیوں کے نتیجے میں جائز اخلاقی حدود کا تعین ممکن نہیں رہتا۔ دبے ہوئے جائز جنسی تقاضے مجرمانہ رجحانات کو جنم دیتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے تمام معاشرے جنسی بے راہ روی اور منافقت کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں جائز جنسی ضروریات پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

تاریخ میں استحصال کرنے والے حکمران طبقوں نے عوام کو کچلنے کے لیے جسمانی جبر و تشدد، سوچ اور فکر پر پابندیاں اور جائز جنسی ضروریات پر پہر ے جیسے حربے اختیار کیے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران طبقوں کا مقصد پورا کرنے میں تیسرا طریقہ¿ کار سب سے مو¿ثر ہے کیونکہ جنسی گھٹن میں انسانوں کو اپنے وجود سے بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ انسان زندگی سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ اذیت پسندی فروغ پاتی ہے، اجتماعی بھلائی سے ایمان اٹھ جاتا ہے، انسان اپنی سوچ اور ضمیر پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ ایسے معاشروں میں درمیانہ طبقہ نام نہاد جنسی پابندیوں کا علمبردار بن جاتا ہے جبکہ اعلیٰ اور نچلے طبقات میں ہر طرح کی جنسی برائیاں خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ جنسی گھٹن کے ماحول میں صحت مند جنسی رویوں اور اقدار کی پرورش نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ لوگ اپنی جنسی زندگی سے غیر مطمئن رہتے ہیں اور طرح طرح کی اخلاقی برائیوںمیں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ خرابی صرف ہمارے معاشرے تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں صدیوں کی جنسی گھٹن اور ناجائز پابندیوں کے باعث روایتی اخلاقی ڈھانچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ احساس ذمہ داری اور جائز جسمانی تسکین کو یکساں اہمیت دینے والی صحت مند جنسی اخلاقیات راتوں رات نشوونما نہیں پا سکتی۔ نامعقول اجتماعی رویوں کی موجودگی میں معقول لیکن غیر معروف نکتہ نظر کو مشکل سے جگہ ملتی ہے۔ اس ضمن میں پہلا قدم مسئلے کی حقیقت تسلیم کرنا ہے۔ مرض کی درست تشخیص کیے بغیر بیماری دور نہیں کی جا سکتی۔ آج کی دنیا میں ذرائع ابلاغ اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ معاشرے میں ہر طرح کی معلومات کی بلا روک ٹوک فراہمی پر پابندی لگانا ممکن نہیں رہا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے ہر طرح کا بُرا بھلا مواد ان افراد تک پہنچے گا جنہیںاپنے معاشرے میں ان موضوعات پر بحث مباحثے کے ذریعے اچھائی اور برائی جانچنے کا موقع میسر نہیں ہو گا۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارا خاندانی نظام مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا۔ اگر ہم اجتماعی سطح پر دیانتدارانہ اور کھلے بحث مباحثے کے ذریعے مثبت اور منفی جنسی قدروں کا تعین نہیں کرتے تو ہماری آئندہ نسلوں کو مکمل تباہی سے بچانا ممکن نہیں رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں بہتری، ترقی، خوشحالی، تحفظ اور امن چاہنے والا کوئی فرد یا گروہ خاندانی ڈھانچے کی تباہی سے خوش نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مروجہ خاندانی نظام کے بہت سے پہلو بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں نہ صرف یہ کہ غیر ضروری ہو چکے ہیں بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدہ اور دیانت دارانہ بحث مباحثے کے ذریعے سماجی ڈھانچوں اور اجتماعی رویوں میں مناسب تبدیلیاں پیدا کی جائیں۔ قانونی سطح پر غیر منضبط رواجی روایات کی تقلید چھوڑ کر تمام شہریوں کے لیے مشترکہ سول قوانین نافذکیے جائیں۔ قانونی، سیاسی اور سماجی سطح پر صنفی امتیاز کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ عورتوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں۔ اجتماعی سطح پر استحصال اور بدعنوانی کی بجائے محنت اور اہلیت کے اصول رائج کیے جائیں۔ بے جا جنسی گھٹن پیدا کرنے کی بجائے صحت مند جنسی اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مغرب کے خاندانی انتشار پر بغلیں بجانے کی بجائے اپنے خاندانی ڈھانچوں اور سماجی رویوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ صرف اسی صورت میں صحت مند اور پیداواری سماجی ثقافت فروغ پا سکتی ہے اور ایک ایسا خاندانی نظام جنم لے سکتا ہے جو محبت اور تحفظ پر مبنی ہو۔ عین ممکن ہے کہ اس مجوزہ ثقافت اور سماجی نظام میں بہت سے رشتوں کی باہمی نوعیت وہ نہ رہے جس کے ہم صدیوں سے عادی چلے آ رہے ہیں لیکن اس کے ذریعے مکمل سماجی تباہی اور زوال کا راستہ ضرور روکا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت

  • 24-01-2016 at 8:29 pm
    Permalink

    باتیں تو بہت سی ہیں، مگر سردست ایک تمتماتے جملے نے کھینچ لیا، ’’ بے جا جنسی گھٹن کے بجائے صحت مند جنسی اظہار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔‘‘
    یہ صحت مند جنسی اظہار کے مواقع کیا ہوتے ہیں حضرت ؟ فراہم کئے جانے پر بھی روشنی ڈالی جائے، مخاطب یقینآ ریاست ہی ہے یا ضلعی انتظامیہ ؟
    تمتماتے جملے کی اصطلاح غلط ہوگی، مگر جس فقرے کو پڑھ کر چہرہ تمتما اٹھے، اسے تمتماتا جملہ کہہ لیتے ہیں، ورنہ جگمگاتا جملہ ہی تصور کر لیں۔

  • 24-01-2016 at 10:18 pm
    Permalink

    Piyaray Wajahat Mian, You are amazing, The insights in to our social system that you wrote about would usually be acquired by some one much older. I loved reading such pure form of Urdu. After a long time have I had the pleasure. Reading on such an important subject should reach everyone. Therefore please try writing a .little easier version of it I would love to keep in touch with someone like may please

  • 25-01-2016 at 8:46 am
    Permalink

    Appreciation

  • 25-01-2016 at 9:52 pm
    Permalink

    خاندانی نظا م کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے سےپہلے معاشی نظام کی اصلاح فرمائییے جس معاشرے میں دو تہائی کے قریب لوگ غربت کاشکار ہوں اس معاشرے میں کیا خاندانی نظام ہوگا؟غربت کے خاتمے کی سبیل کیجیئے خاندانی نظام از خود درست ہوجائے گا جو تھوڑی بہت کسر رہ جائے گی وہ سیکولرازم اور لبرل ازم کی مالا جپنے سے نہیں قرآن کے احکامات پر عمل کرنے سے پوری ہوگی

  • 02-05-2016 at 7:32 pm
    Permalink

    well written,, myth busting and thought provoking,,,

Comments are closed.