بے پردہ قندیل نے پردہ کر لیا


\"Jamshed\"بچہ بچہ اور تو اور للہے کا بیٹا جھلا بھی جانتا تھا کہ ہر مصبیت، ہر بُرائی کی جڑ منشی غریب نواز مرحوم کی بھانجی قندیل ہے۔ بستی خُداداد کے تقریباً ہر باسی کا خیال تھا کہ قندیل کی وجہ سے پولیس ہفتے میں ایک بار بستی کا چکر کاٹ کر جاتی ہے، تیلی کی ہٹی پر بھاؤ چڑھ جاتا ہے، دریا خشک ہوجاتے ہیں، چوری چکاری ہوتی ہے اور تو اور جھلے کی نوکری چھوٹنے اور ٹانگ ٹونٹے کی وجہ بھی قندیل ہے۔

 جھلا صبح کام پر نکلا تو گلی کا موڑ مڑتے ہی قندیل پر نظر پڑ ی وہ سائیکل پر قابو نہ رکھ سکا کھیت میں جا گرا، دیر سے فیکٹری پہنچا تو  فیکٹری کے منیجر نے فارغ کردیا اور گھر آتے ہوئے اُسی مقام پر پہنچا جہاں اُس منحوس سے ٹاکرا ہوا تھا تو ایک بار پھر کھیت میں جا گرا اور اس بار ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسے چارپائی پر ڈال کر گھر لایا گیا تو اُس کی ماں نے جھولی اٹھا کر قندیل کو بددعا دی جس کی نحوست کی وجہ سے روزی بھی بند ہوئی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی۔ اس کی ماں نے ایسا واویلا مچایا کہ اس کے رونے دھونے کی آواز پورے گاؤں میں سنائی دی اور جہاں سنائی نہ دی وہاں تک اچھو کی ماں نے پہنچا دی۔

اچھُو گاؤں کا اتھرا پتر اور گھبرو جوان تھا۔ بستی کے لڑکے اسے اچھُو 302 کہتے۔ وہ گلیوں میں پھرتا تو یوں لگتا جیسے مقبوضہ علاقوں میں حملہ آوروں کا سپہ سالار پھر رہا ہو۔ بڑی بوڑھیاں نظر اتارتیں اور مٹیاریں اُسے دیکھ کر گڑوی کی تال پر میریا ڈھول سپاہیا گاتیں۔ چوڑا ماتھا، موٹی آنکھیں، گھنگریالے بال، چھاتی کے بالوں میں چمکتا ہوا سونے کا تعویذ اور ہاتھ میں ڈنڈا۔ بستی کے سارے چھوکرے اُس کی نقل کرتے، کوئی اُس کی طرح چلتا، کوئی اُس جیسے بال بناتا تو کوئی اُس کی طرح ہر جگہ کھڑاک کرنے کی مشق۔

بستی کے چند لوگ اچھُو کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن ان کی کون سنتا جب بستی میں ابلاغِ عامہ کا محکمہ اچھُو کے ماں باپ کے پاس اور  مولوی کے گھر من و سلویٰ بھی اسی گھر سے جاتا تھا۔ لہٰذا مولوی کے لئے اچھُو کو بُرا کہنا اپنی روزی کا دیا اپنی پھونک سے بجھانے کے مترادف تھا۔ سب نے مل کر یہ مشہور کررکھا تھا کہ اُس نے اپنی بستی کے بارے میں بُرا اور دُوسری بستیوں کے بارے میں کبھی اچھا نہیں سوچا۔ اس لئے اسے بُرا سمجھنے والے بھی چپ تھے کہ شاید دُوسری بستیوں کے لوگ اچھُو کے خوف سے اُن پر حملہ نہیں کرتے۔ اچھُو اپنی بستی کا محبوب مگر دوسری بستیوں میں سنگین جرائم کی پاداش میں مطلوب تھا۔

ہر بستی کی طرح اس بستی کے لوگ بھی انسان تھے، ان کا بھی حق تھا کہ کسی کو بُرا سمجھیں۔ اچھُو نہ سہی قندیل ہی سہی جس نے پوری بستی کی ناک کٹوا دی تھی۔ پھر قندیل میں ناک کٹوانے والیوں کی تمام خرابیاں (جنہیں بستی کی بڑی بوڑھیاں لچھن‘ کہتی تھیں ) موجود تھیں۔ گوری رنگت، سارنگی کے تاروں کی طرح تنا ہوا  بدن، کنواری اوپر سے بے سہارا اور پھر اپنی جوانی پر سانپ کی طرح پہرہ دینے والی۔ مردوں کو آخری خرابی پر اعتراض تھا اور عورتوں کو اس کے علاوہ سب پر۔

اچھُو کے باپ تیلی کو یہ نشانیاں ازبر تھیں، وہ انہیں گنواتا جاتا، دانت پیستا جاتا اور جب آخری نشانی پر پہنچتا کھاتے کا رجسٹر اپنی رانوں میں دبا لیتا۔

 بڑے تو بڑے کھیتوں میں گلی ڈنڈا اور گولیاں کھیلتے بچے بھی قندیل کی نحوست سے واقف تھے۔ جب وہ مخالف کا نشانہ خطا کرانا چاہتے تو کانچ کی گولی کے گرد قندیل کی نحوست کا دائرہ کھینچ کر پانچ بار ’’قندیل کا کڑا ‘‘ کا منتر پڑھتے اور پھر نشانہ خطا ہونے پر اُسے ننگی گالی دے کر فتح کا نعرہ لگاتے۔

قندیل کے باپ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اُس کی بس ایک ماں تھی اور ایک چھوٹا بھائی۔ بھائی کی عُمر ابھی پانچ سال تھی اور ماں پہلے خاوند اور بعد میں بھائی مرنے کے غم میں پاگل ہو گئی تھی۔ قندیل کی نحوست اور ماں کے پاگل پن کی وجہ سے گاؤں کا کوئی بچہ اس کے بھائی سے کھیلنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اس لئے قندیل ہی اس کی بہترین تھی اوروہ بھی اس کی طرح بستی سے غائب ہی رہتا۔ بس کبھی کبھار ہٹی سے سودا سلف لینے آتا تو تیلی زیر لب مسکرا تے ہوئے کبھی اس کے جسم پر چٹکی کاٹ کر اور گالوں پر ہاتھ پھیر کر مولوی صاحب سے کہتا : ’’بالکل بہن جیسا ہے‘‘۔ اس پر دونوں قہقہہ لگاتے اور مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے استغفراللہ کہتے۔

 وہ راستے سے گذرتا تو بچے سے اس سے چھیڑخانی کرتے، اُسے قندیل کا نام لے کر چھیڑتے اور وہ بغیر کچھ بولے، ڈرا سہما نظریں جھکائے تیز قدموں سے اپنے گھر کا رُخ کرتا۔ ہر آواز اس کے قدم تیز کردیتی جیسے کسی نے اس کی ننھی سی پیٹھ پر دہکتا ہوا چابک رسید کردیا ہو۔

قندیل کی ماں گھر میں بند رہتی، صبح سویرے بچوں کو رخصت کرکے سوجاتی اور رات کے وقت چھڑی اٹھا کر بچوں پر پہرا دیتی۔ اُسے خوف تھا کہ اُس کے بچوں کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ صبح سویرے دُوسری بستی سے ٹانگہ آتا، قندیل اپنے بھائی کو چپکائے ٹانگے میں بیٹھتی اور ماں دروازہ اندر سے بند کرلیتی۔

قندیل کیا کرتی ہے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ہاں البتہ اچھُو کی ماں ہر روز ہر گھر کا چکر لگاتی اورعورتوں کو قندیل کی بدچلنی کے قصے سناتی۔ صرف اچھُو کی ماں ہی نہیں اس کا باپ بھی صبح سویرے اپنی گاہنی پر اور پھر رات گئے تک ہٹی پر مجمع لگائے رکھتا۔ قندیل کے قصوں کے ایسے دور چلتے کہ بڑے بڑے منہ پھٹ بھی اذانیں دینے لگتے۔ رات کو سب توبہ تو بہ استعغفار کرتے ہوئے جاتے اور اگلے روزتازہ گناہ معاف کرانے پھر تشریف لاتے۔ قندیل کی نجی زندگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے افسانوی تڑکا لگانا اور انہیں ہر زُبان کی دھار پر دھرنے کا فریضہ یہ خاندان مذہبی جوش و خروش سے ادا کرتا۔

ایک شام پولیس کی گاڑی بستی میں ایک بار پھر دیکھی گئی۔ تیلی نے رات کے وقت اعلان کیا کہ اب بس ہو گئی۔ برداشت کی کوئی حد ہوتی ہے۔ اب بستی میں قندیل رہے گی یا پھر شریف لوگ۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ اس قسم کی عورتیں کس قسم کی تباہی لاتی ہیں۔ چلو مہنگائی، اور بے روزگاری کی خیر ہے لیکن پولیس شریفوں کی بستی میں آنے لگے، یہ بات برداشت سے باہر ہے۔ یہ سن کر تیلی نے اعلان کیا کہ کل قندیل کی چھٹی ہے، وہ اس رات ہٹی میں سوئے گا اور اس گھمبیر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال کر اٹھے گا۔

’’آج اچھُو بھی گھر پر نہیں ہے اور تم دُوکان پر سو رہے ہو ‘‘، اچھُو کی ماں نے تیلی کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ مسئلہ حل کرنے کا قصد کس چکا تھا۔

اگلے روز لوگ اچھُو کی ماں کی چیخ و پکار سن کر گھروں سے باہر نکلے اور سب تیلی کی ہٹی کی طرف بھاگے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ تیلی نے قمیض اتاری ہوئی ہے اور اس کی کمر پر جمے ہوئی خون کی آڑی ترچھی لکیریں ہیں جیسے کسی نے اسے کوڑوں سے مارا ہو۔ اس کی بیوی بیک وقت ہرمل کی دھونی اور بستی والوں کی سوئی ہوئی غیرت پر پانی ڈال رہی ہے۔

’’اس نے اُس چڑیل کو بستی سے نکالنے کا سوچا تو اس کا یہ حال کردیا چڑیلوں نے۔ نکالو اس ماں بیٹی اور کتے کے پلے کو بستی سے۔ ان کی نحوست ہمارے پلے کچھ نہیں رکھے گی ‘‘۔

مولوی صاحب نے چڑیلوں کے حملوں کے ملتے جلتے واقعات سنائے، دھونی کا عمل ختم ہوا تو شرفأ کا قافلہ قندیل کے گھر کی جانب چل پڑا۔ لوگوں نے ڈنڈے اٹھا لئے اور یوں لگتا تھا جیسے غضب کا رن پڑنے والا ہے۔ قافلہ گھر کے قریب پہنچا تو اچھو کی ماں نے دروازے پر لات ماری اور دروازہ کھل گیا۔

چھوٹے سے صحن میں ایک مٹی کا چولہا تھا جس میں رات بھر آگ جلتی رہی تھی۔ مولوی صاحب نے اسے جادو ٹونے کا کوئی چکر بتایا۔ کچی دیوار پر رگڑ کا تازہ نشان تھا جیسے رات کوئی دیوار پھاند کر اس گھر میں اُترا ہو اور صحن کے وسط میں چھوٹی ہوئی چارپائی کے پاس شیشم کی تازہ شاخیں پڑیں تھیں۔ مولوی نے شاخیں اٹھائیں، انہیں اچھو کی ماں سے چھپا کر باہر پھینک دیا اور خود دیوار پر پڑے نشانوں کے آگے کھڑے ہوگئے۔ گھر کے اکلوتے کمرے کا درواز بھی کھلا ملا۔ کمرے کے اندر دو صندوق تھے اور دونوں خالی۔ لکڑی کے پھٹوں سے بنی میز پر لالٹین تھی، اس پر کچھ پرانی کتابیں پڑی تھیں اور لالٹین ابھی تک جل رہی تھی۔

’’کہاں ہیں وہ چڑیلیں اور کتے کا پلا؟‘‘ اچھو کی ماں گرجدار لہجے میں پوچھا۔

’’بی بی کی غیر ملک میں بڑی نوکری لگ گئی ہے۔ رات کو ان کے گھر کوئی گھس آیا بی بی کی عزت لوٹنا چاہتا تھا۔ بی بی جی کی ماں نے مار مار کر بھگایا، انہوں نے اسی وقت سامان اٹھایا اور رات کے اندھیرے میں نکل گئے۔ اس وقت تک وہ شہر پہنچ چکے ہوں گے۔ بی بی جس ہوٹل پر کام کرتی تھیں وہاں سے اماں جی اور کاکے کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جائیں گی۔ بڑی نیک بخت تھی بی بی۔ سارا دن کام کرتی، ماں کی خدمت، پھر بھائی کے ساتھ میرے بچے کو بھی پڑھاتی اور رات خود بھی پڑھائی کرتی تھیں ‘‘۔

قندیل کی ہمسائی نے بتایا۔ خیر یہ وہ لوگ تھے جو اچھُو کر بُر ا سمجھتے تھے۔ ان کا کیا اعتبار؟

اچھو کی ماں نے قندیل کے ساتھ ساتھ اس عورت کو بھی کھری کھری سنائیں اور سب تیلی کے ہٹی کے باہر جمع ہوگئے۔ اچھو کی ماں نے مصرع طرح دیا کہ قندیل کسی کی رکھیل ہوگئی ہے اور پھر ہر ایک گرہ لگانے لگا۔ لوگوں کی خاطر مدارت کے لئے تیلی کے گھر لسی منگوائی گئی تو وہ بھی شریک ہوئے جو اب تک خاموش تھے۔ پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔

 کروبیوں کا مجمع پولیس کے گھیرے میں تھا۔

پولیس نے تیلی، مولوی اور اچھو جیسے بالوں والے سب صالحین کو حراست میں لے لیا۔ تیلی کے گھر کی تلاشی ہوئی اور سارا سامان چوری کا مال قرار دے کر اٹھا لیا گیا۔ اچھو کی ماں نے اچھو کو آواز دی تو ایک پولیس والے نے لوگوں کو بتایا کہ رات وہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے پکڑا گیا ہے، اس نے کل رات ہتھار ڈالنے سے قبل کئی قتل کئے ہیں۔

قندیل کی کہانی بستی خُداداد کی بے پردہ لڑکی سے مختلف ضرور ہے لیکن مملکتِ خُداداد بستی خُداداد سے ہرگز مختلف نہیں۔ وہاں بھی بے پردہ عورت کے پردے میں باپردہ مرد چھپائے جاتے تھے اور یہاں بھی۔

یہ بستیاں قندیلوں کو سربازار اچھالتی ہیں تاکہ کسی کی نظر اُن پر نہ پڑجائے جو اصل میں معاشروں کی ناک کٹوانے کے ذمہ دار ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔