استنبول کی مشعل اور مظفر گڑھ کی قندیل


ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ ترکی کے غیرت مند عوام مساجد میں ہونے والے اعلانات اور اذانوں کے نتیجے میں سڑکوں پر آئے یا\"razi انہیں متحرک کرنے میں اس میڈیا نے کردارادا کیا جس پر اسلام پسند طیب اردگان نے پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ ہمار ے لیے دلچسپی کی بات یہی تھی کہ نہتے عوام جمہوریت کو بچانے کے لیے ٹینکوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن چکے تھے۔ وہ ٹینکوں پر چڑھ گئے تھے ۔ جانوں کی قربانیاں دے رہے تھے اور وزیراعظم ہاﺅس اور دیگر اداروں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہوگئے تھے۔ سیسہ پلائی دیوار کا لفظ ماضی میں ہم نے جب بھی سنا، بےمعنی محسوس ہوا کہ ہم جسے سیسہ پلائی دیوارسمجھتے ہیں وہ اکثر ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ بہت سے متضاد تبصرے جاری تھے۔ اسے اسلام پسندوں کی جیت کہا جا رہا تھا ۔ بعض لوگ مرسی والی کہانی دہرائے جانے کے منتظر تھے لیکن رات کی تاریکی میں سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے عوام ہمیں بہت بھلے لگ رہے تھے۔ درمیان میں کچھ آوازیں راحیل شریف کے لیے بھی بلند ہوئیں۔ ہمارے کچھ نام نہاد جمہوریت پسندوں نے اس امید کا بھی اظہارکیا کہ پاکستان میں بھی فوج اسی طرح جمہوریت اور نظریاتی سرحدوں کی دفاع کے لئے میدان میں آئے گی۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ تر ک فوج کے باغی گروپ کو فوج کے اصل دھڑے کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ اگر حمایت حاصل ہوتی تو شاید اس بغاوت کو کچلنا آسان نہ ہوتا لیکن منطقی انجام تو یہی ہے کہ نہتے عوام نے ٹینکوں کو روند ڈالا۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ اور دھماکوں کے باوجود وہ باغی اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے جو ایک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے حامی بتائے جاتے ہیں جو امریکہ میں مقیم ہے اور جسے وہاں بیٹھ کر یہ کھیل کھیلنے اور سازشیں کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

ہم اس ساری صورت حال پر اس لیے خوش تھے کہ ہم نے عوام کی قوت کے ایسے خواب بارہا دیکھے۔ ہم نے بارہا یہ گمان کیا کہ شاید \"s-l300\"پاکستان میں بھی کبھی عوامی طاقت ایسی بغاوتوں کے خلاف کوئی کردارادا کرسکے گی۔ لیکن افسوس کہ ہمارے یہ خواب نہ ماضی میں شرمندہ تعبیر ہوئے اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں ملتان کے ایک سیاسی اور سماجی کارکن شیخ ظہور احمد بہت یاد آئے جنہیں لوگ پیار سے ”شیخ اشتہار“بھی کہتے تھے۔ شیخ ظہور احمد کے بارے میں 1970ء کے عشرے میں ریاض بٹالوی مرحوم نے روزنامہ مشرق کے سنڈے ایڈیشن میں ایک فیچر لکھاتھا جس میں ان کی بہت سی جعل سازیوں کو بے نقاب کیا گیا تھا اورشاید ان کے لیے فراڈیا کا لفظ بھی استعمال کیا گیا تھا۔ بعد کے دنوں میں شیخ ظہوراحمد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے اورانہوں نے اپنے نام کے ساتھ ”ادنیٰ کارکن“ بھی لکھنا شروع کر دیا۔ شیخ ظہوراحمد کے سیاسی سفر کاآغاز جنرل ضیاءکے دور میں ہوا تھا اور وہ تمام اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے سیاستدانوں کے احتساب کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ اسی دوران وہ ٹرانسپورٹر بن گئے اور الحاج شیخ ظہوراحمد کہلانے لگے۔ انہوں نے خود بھی کئی حج کیے اورملتان میں حج اورعمرے کو بطور رشوت استعمال کیا۔ وہ ملتان کے صحافیوں اور بااثر شخصیات کو رشوت کے طور پر حج اورعمرہ کرایا کرتے تھے۔ ان کے ڈیرے پرصحافیوں اور سیاستدانوں کی چہل پہل ہوتی تھی اور وہ ان کے سامنے نوازشریف، حمید گل، اسلم بیگ اوردیگر اہم شخصیات کو ٹیلی فون ملا کران کے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ بات کیا کرتے تھے۔ ان کی بے تکلفی سادہ لوح ملتانیوں کو مرعوب کرنے کے لیے کافی ہوتی تھی اورانہوں نے کبھی اس بات پر غور بھی نہیں کیا تھا کہ جس ٹیلی فون سیٹ سے وہ نوازشریف ،حمید گل اوراسلم بیگ کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں اس ”ہاٹ لائن“ کے ساتھ تو کوئی تاربھی نہیں لگی ہوئی۔ 12 اکتوبر 1999ء کو بھی نوازشریف کے حمایت میں ان کا ایک اشتہار اخبارات کے دفاتر میں پہنچ چکا تھا جس میں انہوں نے وزیراعظم کو مکمل وفاداری کا یقین دلایا تھا۔ یہ اشتہار ڈاک ایڈیشنوں میں شائع بھی ہوگیا۔ رات آٹھ نو بجے کے بعد جب یہ واضح ہوگیا کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور پرویزمشرف نے نوازحکومت کاتختہ الٹ دیا ہے تو الحاج شیخ ظہور احمدنے ہنگامی طورپر اخبارات سے رابطہ کیا اور فوج کے اس اقدام کی بھرپور حمایت میں اشتہارجاری کردیا جو اگلے روز تختہ الٹ جانے کی خبروں کے ساتھ ہی اخبارات کے لوکل ایڈیشنوں میں شائع ہو گیا۔

بتانا ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں فوج جب بھی آتی ہے پوری تیاری کے ساتھ آتی ہے اور اسے بہت سے ”جمہوریت پسندوں“ کی حمایت \"turki\"بھی حاصل ہوتی ہے۔ ابھی دوماہ پہلے ہم نے 1983ء کے ایک اخبار کا عکس فیس بک پر شائع کیا جس میں یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین ضلع کونسل ملتان کی حیثیت سے جنرل ضیاءالحق کے ریفرنڈم کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اشتہار میں یوسف رضا گیلانی اور جنرل ضیا الحق کے ساتھ جنرل غلام جیلانی کی تصویر بھی موجود تھی۔ اگرچہ یہ سب کچھ ہمارے تلخ ماضی کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود اس اشتہار کی فیس بک پر اشاعت سے کہرام مچ گیا۔ ہمارے جمہوریت پسندوں، ترقی پسندوں اور لبرلز نے اس اشتہار کو جمہوریت کے خلاف ہماری سازش قراردے دیا۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی ایسی تصاویر بھی لوگوں کے پاس موجودہیں جن میں وہ بھٹو صاحب کی پھانسی پر لوگوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ لیکن کیا کریں ہم سب کاحافظہ بہت کمزور ہے ۔ ہمیں یا تو چیزیں بھول جاتی ہیں یا پھر بہت دیر کے بعد یاد آتی ہیں۔ ہم نے ماضی سے پہلے کبھی سبق سیکھا نہ آئندہ سیکھیں گے۔ جنرل مشرف جیسے لوگ آج بھی جمہوریت کا منہ چڑانے کے لیے دنددناتے پھر رہے ہیں۔ غیرت، حمیت سب مدت سے رخصت ہو چکی۔ غیرت کا لفظ اس معاشرے میں صرف عورتوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پھرکسی کو یہ پوچھنے کی جرات نہیں ہوتی کہ قندیل بلوچ کے غیرت مند بھائیوں کو غیرت اتنی دیر سے کیوں آئی۔ استنبول کی مشعل ہمارے نہیں جلے گی، ابھی ہم مظفر گڑھ کی قندیل بجھانے میں مصروف ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “استنبول کی مشعل اور مظفر گڑھ کی قندیل

  • 17-07-2016 at 10:05 am
    Permalink

    Khuda ki Shaan hy k wo kis kis tarah logon ko ”Bay-Naqab” karta hy
    Burhan Wani ki Shahadat par khamosh rehnay walay Qandeel Baloch k qatal par articles like rahay hain. #WhatStandards….??? Height of hypocrisy…!!!!

Comments are closed.