قندیل بلوچ کا المیہ


\"imtiaz

غیرت کے نام پر قندیل بلوچ کا قتل ایک ناحق قتل ہے اور ایک ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں انسانیت لمحہ بہ لمحہ مر رہی ہے اور غیرت کی بھینٹ چڑ رہی ہے۔ مجھے افسوس اس بات کا بھی ہے کہ قندیل کو ’غلط‘ کہنے والے آج خاموش رہیں گے۔ ان کا ضمیر ’قندیل کی چھوٹی غلطیوں‘ پر تو خاموش نہ رہا سکا لیکن قتل جیسے قبیح اور بڑے جرم پر خاموش رہے گا۔

پاکستان کی ہزاروں قندیلیں ایسی ہیں جو رات کی تاریکی میں ماری جاتی ہیں اور کسی کو پتہ تک نہیں چلتا۔ میں اپنے علاقے میں تین لڑکیوں کا غیرت کے نام پر قتل دیکھ چکا ہوں اور آج بھی جب سوچتا ہوں تو آنسو نکل آتے ہیں۔ ایک لڑکی کا قتل تو صرف اس بنیاد پر کیا گیا کہ اس کے ٹیلی فون پر کسی لڑکے سے رابطے تھے۔

آج سے تین سال پہلے امی جی نے بتایا کہ سیالکوٹ کی ایک لڑکی ان ۔۔۔۔۔۔ کے گھر تین دن سے بند ہے اور وہ اسے قتل کرنے والے ہیں۔

میں ناشتہ چھوڑ کر بڑے بھائی کے پاس بھاگا، ان کو کہا کہ فورا ان کے گھر والوں کو بلائیں، پولیس کو اطلاع دیں، انہیں بتائیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو سارے خاندان کو جیل بجھوا دیں۔ درمیان میں کچھ با اثر لوگوں کو ڈالا گیا۔ معاملہ ایک دن کے اندر طے ہو گیا اور لڑکی کو اس کے والدین کے پاس سیالکوٹ بھیج دیا گیا۔ میں آج بھی اس بارے میں سوچتا ہوں تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے کہ ایک قندیل کی جان تو بچی۔

لیکن اس معاملے کی ایک دوسری انتہا بھی ہے۔ میں رواں برس ویلینٹائن ڈے پر بحث دیکھ رہا تھا تو ایک ایلیٹ کلاس کی خاتون کہہ رہی تھیں کہ نوجوانوں کو تعلقات قائم کرنے میں آزادی ہونی چاہیے، تو میں اس کا یہ فقرہ سن کا ہنس پڑا۔ اکثر ایسی آزادی کے بارے میں وہ لوگ بات کر رہے ہوتے ہیں، جو پاکستانی معاشرے کے پیچیدگی کو سمجھتے ہی نہیں۔ ان کو سمجھ ہی نہیں کہ ایک گاؤں میں یا محلے میں معاشرتی دباؤ زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، دیہات کیا شہروں میں آج تک لوگ غیرت کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ صورتحال ویلینٹائنز ڈے منانے تعلقات قائم کرنے سے نہیں معاشرے کی تعلیم و تربیت سے تبدیل ہو گی۔ نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کو ایسا کرنے کی ترغیب دینا، ان کی زندگیوں سے کھیلنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ معاشرے تبدیل ہونے میں صدیاں لگتی ہیں، راتو رات تبدیل نہیں ہو سکتے۔

ہماری معاشرتی جہالت اور ناہمواری اس قدر ہے کہ مرد کچھ بھی کر لے خیر ہے لیکن سارا ملبہ ایک لڑکی پر گرتا ہے۔ کسی لڑکی کے عشق کا یا جنسی تعلق کا قصہ مشہور ہو جائے تو لڑکی کا رشتہ تک ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ غریب والدین پہلے ہی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ بیٹی کے کسی نہ کسی طریقے سے ہاتھ پیلے ہو جائیں۔

ایک طلاق یافتہ لڑکی کے لیے دوسرا رشتہ ڈھونڈنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ غربت میں آ کر یہ ساری چیزیں جڑ جاتی ہیں لیکن ٹی وی پر بیٹھ کر اور برینڈیڈ پرس ہاتھ میں لیے آزادی کی یہ باتیں کرنا آسان ہوتی ہیں۔

میری باتوں سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انسان معاشرے کا قیدی ہے اور اس کے دباؤ کا اثر ہر صورت لیتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل جیسے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون کی حکمرانی اور سب سے اہم تعلیم چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔