حرام موت کا دکھ


\"zafar عید گزر گئی۔ سوچا تھا کسی اچھی خبر سے آغاز کریں گے۔ مشکل یہ ہے کہ دل خانہ خراب کو اچھی خبر مل کے نہیں دے رہی۔ ایک موہوم سی مسکراہٹ کے لئے اپنا دل چاک کرنا پڑتا ہے۔ تھوڑی دلبستگی کے لئے دل کباب کرنا پڑتا ہے۔ شکیل نے شاید اسی کیفیت میں لکھا ہو گا، ’ اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے’۔ ایسے ہی کسی موقع پر عباس تابش نے دعوت دی تھی کہ میرے سینے سے ذراکان لگا کر دیکھو! سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے۔ انسانی ضمیر کے روشن استعارے ایدھی صاحب نے آنکھیں موند لیں۔ ان مردہ دیدوں کا کیا ذکر کریں جن کی بینائی ایک فقیر منش انسان کی انسانیت کو بھی برداشت کرنے یارا نہیں رکھتی۔ ایدھی نے صرف آنکھیں نہیں موندیں بلکہ مر کر ان کی روشنی دان کر دی۔ آسیب نگاہ روحیں ہاتھوں میں ترازو لئے مسندنشیں ہو گئیں۔ ان کے آفاقی ترازو مبارک رہیں کہ انہوں نے ایدھی کے آخری دان کو بھی حرام قرار دیا۔ فرمایا ایک بزرگ نے کہ نابینا کو بینائی لوٹانا جرم ہے۔ دوئی میں بٹی اس سوچ پرکیا بحث اور کیا مکالمہ کہ مہر خانم کی رسوائی کا سامان یہ اپنے ہاتھوں کرتے ہیں۔ البتہ یہ موضوع قابل بحث ہے کہ انسانی کھال سے جوتے کون بنائے گا؟ ہمیں تو خواہی نا خواہی انسانیت کے اجتماعی شعور سے بھلے کی امید ہے۔ ہماری آرزوﺅں کا تو مرکز ہی تپتی دھوپ میں انسان کے لئے ٹھنڈے سائبان کی تلاش ہے۔ مولانا صاحب سے مگر پوچھنا چاہیے کہ کون لوگ ہوں گے جو اپنے مردہ باپ کی لاش سے کھال اتار کر ان پر باٹا اور سروس کے اسٹیکر لگائیں گے۔ زندوں کی امامت کے بعد اب مردوں کی امامت کا دعوی ہے۔ کوئی بھلا مانس ان کو بتائے کہ پنڈورا کے صندوق سے درد، دکھ، رنج ، الم اور تکالیف اڑ کر دھرتی پر پھیل گئے تھے مگر اس صندوق میں ایک چیز رہ گئی تھی جس کو امید کہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایک نئی صبح طلوع ہو گی۔ ویلم بلیک نے لکھا تھا، ’ جب سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے تو شام کا ستارہ چمکنا شروع کر دیتا ہے‘۔ ان کوخبر کر دیں کہ دشت امکاں کے باسی امید کے تانے اپنی سانسوں سے بن رہے ہیں۔ دلوں میں لہر باقی ہے کہ دھرتی کے سینے پر ایک اور ستارہ طلوع ہو گا جو کوئٹہ کے پٹیل باغ یا لائل پور کے لیاقت روڈ پر ایک جھولا لٹکا کر اس پر لکھے گا، ’قتل نہ کیجیے جھولے میں ڈال لیجیے‘۔ آپ لاکھ کہتے رہیں کہ یہاں حرام پلتا ہے مگر یہ نہ بھولیئے کہ سانس اور جسم کا رشتہ جوڑنے کی قدرت خالق کے پاس ہے۔ ایک معصوم روح کو کسی کچرے کے ڈھیر پر کتوں کی بھوک مٹانے کی بجائے پالنے کا حوصلہ صرف ایدھی کو ملتا ہے۔ یہ کرم کے فیصلے ہیں۔ یہ نصیب کی بات ہے۔

ادھر ایدھی کے درد کو قرار بھی نہیں آیا تھا کہ کشمیر دھرتی لال ہوئی۔ چناروں کی زمین پر ابھی لال سیب کے درختوں پر کونپل پھوٹنے کو تھی کہ دھرتی انسانی خون کے دھبوں سے رنگین ہو گئی۔ سوچیئے شیطان کتنا خوش ہوتا ہو گا زمین کو انسانی خون سے رنگین دیکھ کر۔ اس خیال پر استغفار کرنا چاہیے لیکن کبھی کبھی دھیان آتا ہے کہ خون کے لئے انسان کی پیاس کو دیکھ کر شاید کبھی کبھی شیطان بھی افسوس کرتا ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  گم شدہ پرندے کی آواز۔۔۔ انتظار حسین

دیکھیےنا، فرانس کی دھرتی پر نوے معصوم انسانی جانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی مگر اس پر کیا لکھنا۔ ہم جس دیس کے باسی ہیں وہاں انسانوں کو مذہب، ثقافت، نگ، نسل، جنس، زبان،عہدہ اور خیالات کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا چلن عام ہے۔ فرانس کے معصوموں کے لئے دو لفظ لکھنے کی پاداش میں نہ صرف’ لبرل فاشسٹ‘ کا تمغہ پہننا پڑے گا بلکہ غداری کا ایک طوق بھی گلے میں لٹکانا پڑے گا جس پر لکھا ہو گا کہ اگر آپ کو انسانیت کا اتنا ہی دکھ ہے تو آپ شام میں مرنے والوں معصوموں کی موت پر کیوں خاموش تھے ’دیسی لبڑل‘، لنڈے کے سیکولر۔ یہی تو مولانا نے کہا تھا کہ اگر آپ کو انسانیت کا اتنا ہی دکھ ہے تو اپنی زندگی میں اپنی آنکھیں نکال کر دوسروں کودے دیں۔ یہ مگر نہیں بتایا کہ اگر کوئی سرا پھرا ایسا پیدا ہوا جس نے اپنی زندگی میں ہی کسی کو اپنا کوئی عضو دان کرنے کی ٹھانی تو کیا مولانا اس پر حلال کا فتوی دے دیں گے؟

کسی حد تک اس غداری کا طوق برداشت بھی کر لیتے مگر ادھر میں فرانس کے قتل عام پر چار حرف لکھوں گا، ادھر لاہور میں بیٹھے میرے مدیر کوگالیاں پڑیں گی۔ صرف انہی پر کیا موقوف، دائیں بائیں، سچے جھوٹے ،اصلی نقلی کی خیالی تقسیم میں بٹی دانش اپنی دشنام کا دائرہ ملایشیا میں بیٹھے جاوید احمد غامدی یا لندن میں بیٹھی ملالہ یوسف زئی تک بھی بڑھا لیں گے۔ ہم وہاں رہتے ہیں جہاں برگزیدگی کے دعویداروں کا چلن ہے کہ ہم جیسا نہ سوچا تو غلط سوچا۔ ہم جیسا نہ کہا تو غلط کہا۔ ہم جیسا نہ دیکھا تو غلط دیکھا۔ ہم ایسی بدقسمت دھرتی کے باسی ہیں جہاں معصوم انسانوں کے قتل عام کو ہم مذہب، رنگ، نسل اور جنس میں تقسیم کر کے دیکھنے کے عادی ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ ایک بے گناہ انسان کی موت پر کون خوش ہو سکتا ہے؟ دیکھنا چاہیے کہ آج تک معصوموں کے قتل کی عذرخواہی کون کرتا رہا ہے؟ آج ہی کی بات ہے کہ قندیل بلوچ غیرت کے نام پر مار دی گئی۔ آنے والے دن گواہ ہوں گے کہ اس قتل کے عذرخواہ انہی صفحات اور انہی ٹی وی اسکرینوں پر درجنوں کے حساب سے ملیں گے۔ ایک جملے میں قتل کی مذمت کر کے چونسٹھ جملے مرحومہ کے کردار پر لکھیں گے۔ کوئی سرپھرا اگر قندیل بلوچ کا دکھ لکھے گا تو اس پر فحاشی کو پروان چڑھانے کا الزام لگا کر نام نہاد غیرت مند قاتل کے قتل کا عرق ننگ پونچھنے کا سامان کیا جائے گا۔ کبھی اکیلے میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ جس خالق نے انسانی جان کی حرمت اپنے کعبے سے افضل قرار دی ہو ہم کس غلغلے سے اسے ضرب شمشیر قرار دے کر طاق نسیاں پر دھرتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کراچی میں سیاست کو راستہ دیں

 عید تو گزر گئی۔ چراغاں مگرہو نہ سکا۔ پشتو کے مشہور شاعر درویش درانی نے اپنی کتاب کے دیباچے میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں، ’بہت بچپن میںکسی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک عورت کا بچہ مر گیا تھا۔ وہ اپنے وقت کے شیخ کے پاس آئی کہ میرا ایک ہی بچہ تھا۔ مجھے اپنا بچہ واپس چاہیے۔ رو رو کر اس کی آنکھوں کا پانی سرخ ہو گیا۔ شیخ کو اس پر ترس آیا۔ شیخ نے عزرائیل سے کہا کہ اس کے بچے کی روح واپس کر دو۔ عزرائیل نے انکار کر دیا۔ شیخ کو غصہ آیا اور اس نے عزرائیل کے ہاتھوں سے روحوں کا قفس کھینچ لیا۔ اس کھینچا تانی میں قفس کا منہ کھل گیا اور وہ تمام روحیں جو عزرائیل نے اس روز قبض کی تھیں اپنے اپنے جسموں کی طرف پرواز کر گئیں۔ پھر کوئی مردہ جنازے سے اٹھ رہا ہے۔ کوئی بستر مرگ سے اٹھ رہا ہے۔ کوئی غسل کے تختے پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ یہ کہانی پڑھ کر کافی دن سوچتا رہا۔ دو باتیں پریشانی کی تھیں۔ ایک یہ جو لوگ اس دن دفن کر دئے گئے ہوں گے ان کی آنکھیں جب روح واپس ملنے پر قبر میں کھل گئی ہوں گی تو وہ کتنی اذیت میں ہوں گے۔ دوسری یہ کہ خدا نے انسان کو یہ اختیار کیونکر دیا کہ وہ خدا کے کاموں میں دخل اندازی کر سکیں۔ مدتیں گزر گئیں جب شعور نے طے کیا کہ نہ روحیں واپس جسموں میں آتی ہیں اور نہ کوئی خدا کے کاموں میں مداخلت کر سکتا ہے‘۔

درویش صاحب بڑے آدمی ہیں۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ اذیت اور کیا ہوتی ہے۔ کیا کسی معصوم انسان کے قتل سے بھی بڑی اذیت ہو سکتی ہے؟ ہماری اذیت کیا ان لوگوں سے کم ہے جو قبر میں زندہ ہو گئے تھے۔ ؟ہم وہی مردے تو ہیں۔ جھوٹی رسموں، جھوٹی غیرتوں اور جھوٹے تقدیس کے قبروں میں قید۔ بس سانسیں لیتے ہیں۔ دن گنتے ہیں۔ ہماری غیرت کسی کمزور کا گلہ دبا کر قتل کرنا جانتی ہے۔ غیرت ایسی انسانی قدر کو ملیا میٹ کر کے یہاں قتل جیسے قبیح جرم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور لوگ ہیں کہ عذر خواہی کئے جا رہے ہیں۔ اس دکھ سے سے زیادہ کیا دکھ بھوگ سکتے ہیں کہ ہم انسانی خون پر خوش ہوں اورہمارا تقوی کسی اندھے کی بینائی پر آزردہ رہے۔ حرام کی بحث میں یہاں انسان کا جینا حرام ہو چکا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “حرام موت کا دکھ

  • 17-07-2016 at 9:12 am
    Permalink

    صندوق پینڈورا کا تھا ، سنڈریلا کا نہیں

Comments are closed.