غیرت پر قتل ہونے سے کیسے بچا جائے (جدید بہشتی زیور)


زیادہ مشکل نہیں ہے۔ بس چند رہنما اصول ذہن نشین کر لیں۔\"FB_IMG_1468099874489\"

1۔ پیدا ہوتے وقت اپنی سی کوشش کریں کہ آپکا جنم بحیثیت ایک نر کے ہو۔ جوں ہی آپ ایک اولاد نرینہ کی صورت میں اس جہان رنگ وبو میں قدم رنجہ فرمائیں گے آپ کا غیرت کے پیمانے پر تول پورا مان لیا جائے گا۔ اب آپ زندگی میں جو دل آئے کریں۔ اس کے نتیجے میں آپ کے والدین، آپ کے اعزا، آپ کے محلے دار، آپ کی قوم اور آپ کی قوم کے دانشوروں کی غیرت بیدار ہو جانے کا امکان صفر سے کچھ کم ہی سمجھئے۔ تو موج کریں۔۔۔ اب یہ اپنی سی کوشش آپ کیسے کریں گے، یہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے۔

2۔ اگر خدانخواستہ آپ کی پیدائش ایک لڑکی کے طور پر ہو گئی ہے تو اب بہت ساری احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ ہم ایک ایک کر کے آپ کو وہ گنوائے دیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو کوشش کریں کہ آپ کا کوئی بھائی پیدا نہ ہو تاکہ غیرت بریگیڈ کے ہراول دستے کا ایک سالار تو کم ہو۔ ایک دفعہ پھر بتاتے چلیں کہ یہ کوشش آپ نے کیسے کرنی ہے یہ آپ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے۔

3۔ اگر آپ کا پہلے سے کوئی بھائی موجود ہے تو اسے بے غیرت بنانے کی ہر ممکن سعی کریں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعلی تعلیم کے حصول، ادب اور شاعری سے شغف، فلسفے سے شناسائی، موسیقی سے دلچسپی اور اوریائی دانشوروں سے پرہیز سے غیرت کا دف مارنے میں آسانی ہوتی ہے تاہم غیرت کے کیڑے کے مکمل انتقال کی گارنٹی دینا مشکل ہے۔

4۔ یہی نسخہ آپ اپنے والد، دادا، نانا، چچا، مرد کزنز اور خاندان کے باقی تمام مردوں پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔

\"honor-killing1\"5۔ سات سال کی عمر سے اسکارف لیجئیے۔۔بارہ تیرہ سال میں عبایا اور سولہ سال کی عمر سے برقعہ لینا شروع کر دیجئے۔ اچھی تراش کے کپڑے پہننے سے، میک اپ کرنے سے اور چہرہ اور بال عریاں رکھنے سے آپ کے اردگرد کے مردوں کے جذبات مشتعل ہو سکتے ہیں اور چونکہ ان کے جذبات پر ہمہ وقت برف کا ٹکور کرنا آپ کی اولین ذمہ داری ہے اس لئے اس ذمہ داری سے بالکل غافل نہ رہیں۔ آپ کی غفلت سے ان کے اندر کا جانور باہر نکل سکتا ہے کیونکہ جانور کی فطرت میں باہر نکلنا ہے۔ اور پھر کچھ ایسا ویسا ہو سکتا ہے۔ چونکہ اصول نمبر 1 کی رو سے کوئی جانور(میرا مطلب ہے کوئی مرد) مستوجب سزا تو ہو سکتا نہیں اس لئے سزا آپ ہی کو بھگتنی پڑے گی جو کہ باقی ماندہ جانوروں (میرا مطلب ہے باقی ماندہ مردوں) کی غیرت کی تشفی کے لئے قتل کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ ایک دفعہ پھر بتاتے چلیں کہ اسکارف، عبایا یا برقعہ پہننے سے جذبات مشتعل نہ ہونے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ جانور کا (میرا مطلب ہے مرد کا) آخر کیا بھروسہ۔ اور ہاں سات سال کی عمر سے پہلے بھی کچھ نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ ہم پہلے ہی آپ کو بتا چکے ہیں کہ لڑکی کے طور پر پیدا ہونا ہی اصل میں آپ کا سب سے بڑا قصور اور جرم اور گناہ ہے۔

6۔ کسی کی غیرت نہ جاگے اس لئے تعلیم حاصل کرنے کی ضد نہ کریں۔ یوں بھی پڑھ لکھ کر آپ نے کیا کرنا ہے۔ آخر میں تو بچے پالنے ہیں۔ باورچی خانہ چلانا ہے۔ گھر کی صفائی کرنی ہے اس کے لئے تعلیم کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی گندی نظریں پڑتی ہیں۔ بچی ہو کہ لڑکی کہ عورت بن جائے۔ گندی نظریں تو پڑیں گی نا۔ پھر آپ کے غیرت مند محافظ ان گندی نظروں کو کیسے برداشت کریں گے۔ اتنی آنکھیں کون پھوڑے اس سے بہتر ہے فساد کی جڑ ہی کاٹ دی جائے۔ اس انجام سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے کہ گھر میں بند رہا جائے۔ ہاں گھر کے اندر کوئی گندی نظر رکھتا ہو تو اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ جیسا کہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے۔ آپ دنیا میں لڑکی کے طور پر آئیں ہی کیوں۔

7۔ آپ کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ کھانا ہو، کپڑا ہو، سواری ہو، مکان ہو کہ زندگی بھر کا ساتھ ہو۔ پسند کا حق صرف مردوں کے پاس ہے۔ جب آپ کی عمر ہو جائے یا نہ بھی ہو تب بھی آپ کا فرض یہ ہے کہ کسی صنف مخالف کی طرف نظر اٹھا کر مت دیکھیں۔ کوئی آپ کو دیکھے تو اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا تاہم ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کی نظر التفات کے جواب میں ہماری ہدایت کے مطابق بے اعتنائی برتیں گی تو پھر اس دیکھنے والے کی غیرت کو بھی ٹھیس پہنچے گی لیکن اعداد وشمار کے تجزیے یہ بتاتے ہیں کہ اس غیرت کو جگانے کی وجہ سے آپ کے قتل کا امکان دس فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔ نوے فی صد امکان یہ ہے کہ آپ پر تیزاب پھینک دیا جائے گا۔ ہماری رائے میں باپ یا بھائی سے قتل ہونے کی نسبت عاشق سے تیزاب ڈلوا لینا زیادہ بہتر ہے۔ یوں بھی یہ ہدایت نامہ قتل سے بچنے کے لئے ہے۔ بعض اوقات بڑی مصیبت سے چھوٹی تکلیف بہتر رہتی ہے۔

8- پسند کی شادی؟ یہ کیا ہوتی ہے۔ یہ محض دجالی میڈیا اور مغربی بے راہ رو اقوام کا پھیلایا ہوا دام فریب ہے۔ اس سے بچ کر رہئے۔ آپ کے لئے بہترین فیصلہ آپ نہیں کر سکتی ہیں کیونکہ خالق حقیقی نے آپ کو اتنی عقل کہاں دی ہے۔ شادی کے ضمن میں رہنما اصول یہ ہے کہ آپ یا تو چڑیا گھر کے بندر کی طرح گھر آئے مہمانوں کو کو ایک طے شدہ تماشہ اس وقت تک دکھائیں گی جب تک کوئی ایک قبولیت کی سند آپ کو عطا نہیں کر دیتا۔ یا پھر آپ کے والد اور بھائیوں کی خواہش کے مطابق آپ کی ونی کی جا سکتی ہے اگر ان کی کسی حرکت کی وجہ سے کسی اور کی غیرت کو جاگنے سے بچانا مقصود ہو۔ سوارہ بھی کیا جا سکتا ہے اور جائےداد سے وابستہ غیرتی معاملات ٹھیک رہیں تو اس کے لئے اس سے بہتر اور سعادت کیا ہو گی کہ آپ کی شادی کلام پاک سے کر دی جائے ۔

9- شادی کے بعد شوہر کی گالم گلوچ اور مار پیٹ پیکج کا حصہ ہیں۔ ان پر آواز اٹھانا یا طلاق مانگنا نیک بیبیوں کو زیب نہیں دیتا۔ اس سے معاشرتی اور خاندانی اور مذہبی اقدار ساری کی ساری ایک دم خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اور شوہر یا بھائیوں وغیرہ کو غیرت کو جگانا پڑتا ہے۔ اور پھر وہی ہوتا ہے جس سے آپ کو بچانے کی ہم یہاں کوشش کر رہے ہیں۔

10۔ اگر ان ساری ہدایات کو نظر انداز کر کے آپ ایک خود مختار خاتون بن ہی گئی ہیں تو یاد رکھئے آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ کا ہر قدم مردوں کی غیرت کو پاؤں تلے روندے چلا جاتا ہے۔ تعلیم سے آپ باز نہ آئیں۔ پردہ آپ نہ کریں۔ سڑکوں اور بازاروں میں آپ پھریں۔ میدانوں میں آپ کھیلیں۔ اداروں میں آپ ملازمت کریں۔ میڈیا پر آپ جلوے بکھیریں۔ مردوں سے بحث مباحثہ آپ کریں اور پھر ہماری غیرت بھی نہ جاگے۔ یہ کیونکر ممکن ہے۔ آپ کا قتل تو لازم ٹہرا ہے۔ آج نہیں تو کل۔ فرد جرم تو آپ کی پیدائش پر ہی طے ہو گئی تھی۔ اب تو فیصلہ سنانے کا وقت ہے پر یاد رکھئے کہ اس قتل کا سارا گناہ آپ کے سر ہے۔غیرت عورت کی جان سے بڑھ کر نہیں ہے تو انتظار کیجئے۔ ہاں جب وقت آن پہنچے تو آپ یہ تمنا کر سکتی ہیں کہ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 94 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

5 thoughts on “غیرت پر قتل ہونے سے کیسے بچا جائے (جدید بہشتی زیور)

  • 17-07-2016 at 4:00 am
    Permalink

    تصویر کا ایک رخ دکھانا ہمیشہ نقصان کا موجب ہوتا ہے، قندیل بلوچ کا قتل ایک قابل مذمت عمل ہے محض اس لیے کہ یہ انسانیت اور اخلاق کے منافی ہے، براہ مہربانی میری تمام ہم سب والوں سے درخواست ہے کہ اس لڑکی کو اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے استعمال نہ کریں، اس کی زندگی میں جو غلط تھا وہ حق ہے، کیوں اس کو معصوم من الخطا ثابت کرنے پر تل گئے ہیں،
    اور بہت سی ان لڑکیوں کی مثالیں کیوں بھول جاتے ہیں جو لڑکی بھی ہیں، تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں، برقعہ بھی اوڑھتی ہیں، مردوں کے اس معاشرے میں کام بھی کرتی ہیں، اور اپنی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔

  • 17-07-2016 at 1:03 pm
    Permalink

    اخیر کر دتی اے حاشر صاحب نے۔ اس کو کہتے ہیں کمبل کٹ۔ لاجواب تحریر ہے۔ جدید بہشتی زیور کا آئڈیا اچھوتا ہے۔ اس کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

  • 17-07-2016 at 2:58 pm
    Permalink

    زبردست ۔۔۔۔۔۔اصل جرم لڑکی ہونا ہے ۔۔۔۔لڑکی بکری ہے ۔۔۔جانور ہے ۔۔۔۔اس کے ساتھ جو کریں ٹھیک ہے یہ ہی ہمارے معاشرہ کا اصول ہے جس کی بنیاد جہالت ہے ۔۔۔جہالت سے مقصود یہاں ایک مخصوص ذہنی رویہ ہے جس کی بنیاد قومی روایت ہے ۔۔ورنہ کئی اعلی یورپی یونیورسٹیز سے بڑی بڑی ڈگری ہولڈرز بھی اسی جہالت کا شکار ہیں ۔۔۔روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے انسانیت کی بنیاد پر قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل درآمد ۔۔۔جوکہ پاکستان میں ناممکن ہے ۔۔۔۔

  • 17-07-2016 at 9:09 pm
    Permalink

    Wo larrkiyaan qabil-e-satayish hein, chonkay wo larrkiyan qatal nai hooin is liye filhaal un per baat relevant nai thi. Baqi apnay nazriat kay liye aap bhi to kuchh larrkiyon ko istamal kar rahi hein misal kay tor per, doosron say darkhwastein a? Humsub walay apnay nazriaat ki tarweej kay liye mareekh say misaalein laanay say to rahay meri behen.

  • 20-07-2016 at 5:49 pm
    Permalink

    کچھ لوگوں کا المیہ ہوتا ہے کہ عینک لگا کر بھی انہیں وہ نظر نہیں آتا جو وہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ معاشرے کے اکا دکا یا چلیں کہ لیں سینکڑوں وہ واقعات تو انہیں نظر آتے ہیں جو معاشرے میں منفی اثر مرتب کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر وہ باتیں جو ہمارے معاشرے کا مثبت خاصہ ہیں وہ ان لوگوں کی عینک سے گزر کر دماغ کے پردے پر کبھی منعکس نہیں ہوتیں۔ پورا مضمون پڑھ کر بھی سمجھ نہیں آیا کہ صاحب مضمون کو دکھ کس بات پر ہے، اپنے مرد ہونے پر یا پھر بہت سی خواتین کے مرد نہ ہونے پر۔

Comments are closed.