سیف الملوک کا میک اپ


\"1-yasir-pirzada\"غریب آدمی کا المیہ یہ ہے کہ وہ خوبصورت بھی ہو تو بد صورت ہی لگتا ہے۔ غریب ملکوں کا بھی یہی المیہ ہے!

اب کی بار چھٹیوں میں جھیل سیف الملوک دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ پر فضا مقامات کی سیرکے علاوہ   ایک لالچ یہ بھی تھی کہ واپسی پر کالم لکھنے کی ککھیڑ سے بچ جاؤں گا، سیف الملوک کا سحر ہی اس قدر ہو گا کہ پریاں خود بخود میرا ہاتھ پکڑ کر کالم لکھوا لیں گی۔۔۔ ’’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ! ‘ ‘ ہر اُس لکھاری کی طرح جو سیف الملوک پر جا کر مبہوت ہو جاتا ہے میں نے بھی اپنے اوپر جھیل کا سحر طاری کرنے کی پوری کوشش کی، جھیل کا گہرا سبز پانی، ارد گرد بلند و بالا پہاڑ اوراُن کی اوٹ سے جھانکتا سورج بلاشبہ ایک خوبصورت نظارہ تھا، ایسا لگتا تھا گویا کسی نے پہاڑوں کے درمیان پیالے میں آب حیات ڈال کر رکھا ہو، مگر اس آب حیات تک پہنچنے کے لئے اپنی حیات کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔ اب اگر کوئی انگریزی میں مجھ سے کہے کہ  Its worth it تو میں اسے بے شمار دعاؤں کے ساتھ جھیل سیف الملوک دیکھنے کے لئے  اُس ڈرائیور کے ساتھ روانہ کر دوں گا جو ہر موڑ پر جیپ کو اوورٹیک کرتے ہوئے بتائے گا کہ اس کھائی میں اگلے روز گاڑی گر گئی، ایک ہی خاندان کے سات افراد مر گئے۔ ہمارا ڈرائیور بھی ایسا ہی تھا۔ ناران سے سیف الملوک تک جانے والی سڑک  دراصل کوئی سڑک  نہیں بلکہ ایک ایسا ٹوٹا پھوٹا پہاڑی راستہ ہے جس کی روح پرور بات یہ ہے کہ  کسی موڑ پر بھی اگر جیپ کا ڈرائیور چُوک جائے اور ٹائر راستے سے اتر جائے تو مرحومین کی نماز جنازہ  دو دن سے پہلے ادا نہیں کی جا سکے گی کیونکہ ہزاروں فٹ کھائی میں گری لاشیں ڈھونڈنے میں اتنا وقت لگ ہی جاتا ہے۔ ’’مگر صاب، آپ فکر نہ کرو، اللہ مالک ہے!  ‘ ‘ یہ کہہ کر ڈرائیور نے جیپ کی رفتار \"Saiful_muluk_during_June\"بڑھائی اور تیزی سے اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کرتے ہوئے اپنی جیپ اس قطار میں گھسا دی جہاں پہلے ہی بیسیوں جیپیں گزشتہ ایک گھنٹے سے گلیشئر کے پاس رکی ہوئی تھیں اور ایک ایک کر کے انہیں وہاں سے گزارا جا رہا تھا۔ بے شمار لوگ وہاں سے پیدل ہی جھیل کی طرف ہو لئے جو کم از کم ایک گھنٹے کی پہاڑی واک تھی، ان میں عورتیں، بچے، بوڑھے سبھی شامل تھے، ایک  ٹانگ سے معذور شخص بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا، برقع پوش عورتوں نے بچوں کی انگلیاں پکڑرکھی تھیں، ایک بزرگ کو اُن کی بیٹی نے تھام رکھا تھا، لوگوں نے گیس کے چولہے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے، کئی نوجوان اس پر خطر رستے پر موٹر سائیکلوں دوڑاتے ہوئے جھیل تک پہنچنا چاہتے تھے۔۔۔ سیر کے شوق میں ایسا عجیب و غریب ہجوم میں نے اپنی زندگی میں پہلے نہیں دیکھا تھا۔ میں بھی اسی ہجوم کا حصہ تھا۔

اسی بارے میں: ۔  قوم کا درد رکھنے والا بادشاہ

پاکستان کے یہ علاقے بلاشبہ قدرت کا تحفہ ہیں، ناران کے بلند و بالا پہاڑ، ان کے درمیان بہتا ہوا پُر شور دریا اور اس کے کنارے قطار اندر قطار صنوبر کے درخت۔۔۔ کسی بھی انسان کو مسحور کردینے کے لئے یہ نظارہ کافی ہے۔ اگر موقع ملے تو ناران کے  دریائے کنہر میں چپوؤں سے کشتی چلانے کا تجربہ ضرور کریں، کسی زمانے میں  پی ٹی وی پر سگریٹ کا ایک اشتہار چلا کرتا تھا جس میں چند لوگوں کو ایسے ہی ایک بپھرے ہوئے دریا میں کشتی رانی کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا، ناران کا یہ تجربہ بھی ویسا ہی ناقابل فراموش تھا۔ اس پورے علاقے میں چپے چپے پر لوگوں نے دریا کے کنارے بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا ہے، حتی کہ آپ عین دریا کے پانی  میں پاؤں ڈال کر بیٹھ سکتے ہیں اور ساتھ گرما گرم چائے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ جگہ جگہ لاہوری اور پنجابی کھانوں کے بورڈ لگے ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے خیبر \"saiful\"پختونخواہ نے کم از کم کھابہ گیری کے میدان میں پنجاب سے ہار مان لی ہے حالانکہ کے پی کے میں روایتی کھانوں خاص طور سے چربی میں تیار کی گئی دنبہ کڑاہی کا جواب نہیں۔ ناران کے بازار میں  ایک عجیب سماں تھا، اس موسم میں پورے پاکستان سے سیاح یہاں امڈ آتے ہیں اور کھوے سے کھوا چھلتا ہے، اتنی قدر پُر رونق جگہ تو شاید اس وقت لاہور کی فوڈ سٹریٹ بھی نہ ہو، کھانے پینے کی دکانیں، ریستوران، چائے کافی کے سٹال، گفٹ سٹور، ایک دنیا یہاں آباد تھی، رات کے پچھلے پہر ناران کے پہاڑوں میں  زندگی اپنے جوبن پر تھی، ایسا لگتا تھا جیسے پہاڑوں نے ہمیں اپنی آغوش میں لے کر  مسرت کے یہ لمحات بخش دئیے ہوں !

تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔ پاکستان کے اِن علاقوں کی ہم نے بچپن سے اتنی تعریف سُن رکھی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں جیسے جھیل سیف الملوک جیسی کوئی دوسری جگہ اس زمین پر واقع نہیں، جو پہاڑ ہمارے پاس ہیں کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں ہو سکتے، جو دریا ہمارے ہاں بہتے ہیں وہ کہیں اور نہیں بہتے ہوں گے اور سمندر کے پانی کا جو رنگ ہمارے ملک میں ہے وہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔ قدرت نے ہمارے حصے کا حسن ہمیں ضرور دیا ہے مگر ہم نے اسے بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ان پر فضا پہاڑی علاقوں میں سوائے کھانے پینے کے\"saif\" اور کوئی سرگرمی نہیں جو آپ انجوائے کر سکیں، پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل ناران میں سب سے بہترین جگہ پر واقع ہے مگر نا اہل عملے کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ اس کی لوکیشن سے لطف اندوز نہ ہو سکیں، پورے ناران میں کوئی اے ٹی ایم نہیں، ریسکیو سروس نہیں، میڈیکل سٹور یا ڈاکٹر نہیں، کہیں کوئی حادثہ ہو جائے تو خیبر پختونخواہ کے لوگ بھاگم بھاگ مدد کو پہنچتے ہیں، ٹورازم کا کلچر یہاں ضرور ہے مگر حکومت کی دلچسپی نہ  ہونے کے برابر، جھیل سیف الملوک سے لے کر ناران کے دریا تک حکومت ایک پتھر اٹھانے کی بھی روادار نہیں، یہاں کی تمام ترسیاحت عوام کی اپنی کاوش ہے، گاڑی دریا میں گر جائے تو لوگ رسہ ڈال کر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، ہسپتال لے جانا ہو توبالا کوٹ جانا پڑتا ہے، لینڈ سلائیڈنگ ہو جائے تو گھنٹوں کے لئے لوگ سڑکوں پر خوار ہو جاتے ہیں، ٹریفک بلاک ہو جائے تو ہزاروں گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔ سیزن میں ہوٹلوں میں جگہ نہیں ملتی، منہ مانگے کرائے تو لئے جاتے ہیں مگر وہاں کام کرنے والے ملازمین کا کوئی پرسان حال نہیں، ان کی تنخواہ نہ ہونے کے برابر اور مزدوری کے اوقات صبح سات سے رات بارہ بجے تک، سیزن کے بعد ’’ملازمت ‘ ‘ ختم، پھر وہ پہاڑ سے نیچے آ کرنیا  کام ڈھونڈتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کی روٹی کما سکیں۔

اسی بارے میں: ۔  مسلم لیگ نواز کی فوری مشکلات اور عزائم

امیر ملکوں نے اپنے قدرتی حسن کو چار چاند لگا رکھے ہیں، یہی پہاڑ اور دریا اُن کے پاس بھی ہیں مگروہاں کی حکومتوں نے پبلک \"saiff\"پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے پہاڑوں میں سرنگ بنا کر اُن میں ٹرینین چلا دی ہیں اور اسے ’’ٹاپ آف یورپ ‘ ‘ کا نام دے کر پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کیا ہوا ہے۔ ہم  غریبوں نے ٹرین تو کیا چلانی ہے اگر ہم  ان جگہوں پر چند ایسے سپاٹ بنا کر لوگوں کی تفریح کا کچھ انتظام کرد یں،  ریسکیو سروس بنا دیں، چھوٹی موٹی ڈسپنسری، ایک آدھ بینک، کوئی سپر سٹور، دو چار برینڈز۔۔۔ تو یہ جگہیں جگ مگ کر اٹھیں۔ غریب آدمی جتنا بھی خوبصورت  ہو  اسے کوئی  نہیں دیکھتا جب تک اس کی برینڈنگ اور میک اپ نہ کیا جائے۔ ناران کی خوبصورتی بھی ایک غریب آدمی کی خوبصورتی ہے  جسے میک اپ کی ضرورت ہے، ہمارے  پاس اتنے پیسے تو نہیں کہ مہنگا میک اپ خرید سکیں، لیکن تھوڑی بہت ’’پفنگ ‘ ‘ تو کر ہی سکتے ہیں۔ حکومت یہ بھی نہیں کر سکتی تو کسی ملکی یا غیر ملکی کمپنی کو ان علاقوں کا کچھ حصہ لیز پر دے کر سو جائے، پیسہ بھی ملے گا اور عوام کو سہولت بھی۔۔۔ اور مفت میں سیف الملوک کو  سرخی پاؤڈر لگ جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 148 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada