باچا خان کا بیانیہ


faizullah khanنسلی و لسانی تعصب کی بنیاد پہ باچا خان نے جن نظریات کی ترویج کی اسے خود پشتونوں نے بھی خاص پذیرائی نہیں بخشی۔ باوجود اس کے کہ باچا خان کے پیروکار سمجھتے ہیں کہ پشتون دنیا کی سب سے اعلی و ارفع قوم ہیں جو کہ حکمرانی کے لئے دنیا میں اتارے گئے ہیں۔۔ یہی وجہ ہے کہ فکر باچا خان سے متاثرہ خود کو پشتون پہلے اور مسلمان بعد میں سمجھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اسلام ایسے تمام بتوں کو ٹھوکر کی زد پہ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ قبیلے صرف تعارف کے لئے ہیں فضیلت کا معیار البتہ تقویٰ ہی ہے۔ باچا خان کی زندگی ہی میں خیبر کے پشتونوں نے ان کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے پاکستان میں شمولیت اختیار کی، پشتونوں کا لگایا ہوا یہ زخم باچا خان اور ان کے پیروکار ابھی تک فراموش نہیں کرسکے۔ یہی وجہ تھی کہ باچا خان نے اپنے لئے مزار جلال آباد میں پسند کیا۔ فکر باچا خان کے مزید ایک متاثر اجمل خٹک تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ کابل سے ٹینکوں پہ سوار ہوکر اٹک تک کا علاقہ آزاد کرائیں گے یہ اور بات تھی کہ بعد میں اجمل صاحب اپنی فکر و فلسفے سمیت مشرف ہی کو پیارے ہو گئے۔

باچا خان کا المیہ بھی عجب رہا۔ پشتون پاکستان کے حق میں تھے تو وہ کانگریس کے ساتھ قدم سے قدم ملائے کھڑے تھے۔ سوویت یونین نے افغانستان پر جارحیت کی تو غفار خان کمیونسٹوں کے ساتھ اس بات کے منتظر تھے کہ کب روسی جہاز بحیرہ عرب میں اتریں اور ان کے ناتمام خواب پورے ہوں۔ امریکہ نے کابل پہ بارود کی برسات کی تو باچا خان کے پیروکار امریکہ کے ساتھ تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہی امریکہ تھا جسے خدائی خدمتگار کے پیروکار افغانوں کا قاتل کہتے تھے۔ خیر انہی دنوں خان عبد الغفار خان کا پوتا واشنگٹن گیا اور اپنے سارے پاپ معاف کراتے ہوئے مور بی بی (محترمہ بیگم نسیم ولی خان ) کے مطابق فقط 35 لاکھ ڈالرز میں پشتونوں کے خون کی قمیت لگائی اور بدلے میں صوبائی حکومت پا کر کرپشن کا بدترین بازار گرم کیا ۔ پاکستان توڑنے اور باچا خانی فکر کے لوگوں کی روسی سے محبت و الفت کی داستان جاننے کے لئے بہتر ہوگا کہ اجمل خٹک اور دیگر باچا خانی پیروکاروں کے ساتھ کابل میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے جمعہ خان صوفی کی کتاب ’ فریب ناتمام‘ کا مطالعہ کرلیا جائے۔

فکر باچا خان جسے اپنانے کا مشورہ کچھ دوست دے رہے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ باچا خان نے اس ریاست کو تسلیم ہی کب کیا ؟ وہ ڈیورنڈ لائن ہی کو نہیں مانتے ۔ ان کے مطابق تو اس معاہدے کی رو سے اٹک تک کا علاقہ افغانستان کو دیا جائے۔ بھلا کوئی ذی ہوش یہ کرسکتا ھے ؟

سید مودودی کی تو خیر زندگی بھی طعنوں میں گزر گئی لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ ان کی زندگی میں کب ریاست نے ان کا بیانیہ اختیار کیا ؟ ریاست اپنا بیانیہ مفادات کے تابع ہو کر تشکیل دیتی ہے۔ ویسے بھی اطلاعاً عرض ہے کہ اس بیانیے کی ابتدا بھٹو نے کی تھی۔ وجہ اس کی بھِی باچا خانی فکر کا توڑ تھا جو آزاد پشتونستان کی تحریک کی صورت میں ہماری بنیادیں کھود کررہا تھا۔ خیر ریاست کا اپنا بیانیہ ہوتا ہے جسے حسب ضرورت مذھب…. قوم…. سیکولر ازم یا الحاد کا تڑکہ لگایا جاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مشرف نے روشن خیالی و سیکولر ازم کے بیانیے کو ریاست کے لئے پسند کیا کیونکہ وہی تب بھِی اور اب بھی ریاست کی ضرورت ہے تو کیا ہم کہیں گے کہ یہ سیکولرازم کے اصلی و نسلی علما سے پو چھا گیا ہے ؟ جواب یقینا نفی میں ہوگا کیونکہ ایک آدھ سیکولر کو چھوڑ کر وطن عزیز کے سارے سیکولر جعلی ہیں یا زیادہ سے زیادہ ردعمل میں لکھتے ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اب انہیں غامدی صاحب کی شکل میں ایک عدد اسلامی سیکولر مل چکا اور اب اسلامی سیکولرز مذہبی رنگ لئے قوم کو حاکمیت کے باب میں گمراہ کر رہے ہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

24 thoughts on “باچا خان کا بیانیہ

  • 24-01-2016 at 8:16 pm
    Permalink

    بہت خوب ، صرف ایک فقرہ لکھنا چاہتا ہوں‌کہ اسلامی سیکولرازم نام کی کوئی اصطلاح نہیں ،یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ کیسی گرم سردی ہے یا کتنا کمال سفیدی والا سیاہ رنگ ہے۔ کوئی یا تو سیکولر ہوسکتا ہے یا پھر اسلامسٹ۔

  • 24-01-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    باچا خان کے بیانیے کے بارے میں اس قدر بعید از حقیقت تحریر لکھنے کے لئے انسان کو یا تو درجے کا دروغ گو اور فتنہ باف ہونا چاہیے، اور یا دائیں بازوکے پریس اور سرکاری پراپیگنڈے کے پھیلاے ہوۓ جھوٹ کا شکار.. ہم خوش گمانی سے کام لیتے ہوۓ فرض کر لیتے ہیں کہ مصنف کا شمار موخر الذکر زمرے میں ہو گا. نسل پرستی اور باچا خان کو ملانا ایسا ہی ہے جیسا کہ سید مودودی کو قبر پرستی سے جوڑنا. یہ البتہ سمجھ نہیں آیا کہ اگر بعض پشتونوں کا خود کو برتر اور حق حکمرانی کا سزاوار سمجھنا غلط ہے (اور بجا طور پر غلط ہے) تو مسلمانوں کا خود کو دنیا کی سیادت کا حقدار سمجھنا کس کلیے کی رو سے درست ہے. جہاں تک لوگوں کا پاکستان کے قیام کے حوالے سے باچا خان کی فکر کو رد کرنے کا تعلق ہے، تو کم از کم اس لحاظ سے تو فکر مودودی اور فکر باچا خان ایک ہی صف میں ہیں. یہ دیکھ کر ہنسی آئی کہ باچا خان کی فکر میں کیڑے نکالنے کے لئے صوفی جمعہ کی اسم بامسمی کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کے پس ورق پر پاکستانی استخباراتی ادارے کے اہل کار کی تعریفی راے پکار پکار کر گواہی دے رہی ہے کہ اس پردہ زنگاری میں کون سا معشوق جلوہ گر ہے. باقی پیتیس لاکھ ڈالر والا افسانہ تو اس قدر بچگانہ ہے کہ اب اس پر ہنسی بھی نہیں آتی. اس ضعیف روایت کے مقابلے میں “افغان جہاد” کے دوران ہونے والی ڈالروں کی برسات کے ثمرات سمیٹنے والوں کی بہاریں دنیا پر عیاں ہیں. بہتر ہوتا کہ باچا خان کے اصل فکری منہج یعنی عدم تشدد، قوموں کی ثقافتی رنگا رنگی کے احترام، صوبائی خود مختاری کی حمایت اور مرد وزن کے لئے تعلیم کی اہمیت پر تنقید کی جاتی اور اس کے مقابلے میں سید مودودی کے “الجہاد فی الاسلام” کی افادیت اور “خلافت و ملوکیت” میں مندرج اتحاد بین المسلمین کے مضمرات کی بڑائی کو اجاگر کیا جاتا. مضمون میں شامل دیگر تضادات مثلا پشتونوں کا پاکستان کے حق میں ہونا مگر اکثریتی ووٹ کانگریس کو دینا، باچا خان کا پاکستان کی جڑیں کھودنا مگر صدارتی انتخابات میں سید مودودی کے شانہ بشانہ محترمہ فاطمه جناح کی حمایت کرنا وغیرہ ایک الگ بحث کے متقاضی ہوتے اگر ان میں ذرا سی بھی گہرائی پائی جاتی. چلتے چلتے، باچا خان اور سید مودودی کی بحث میں غامدی صاحب کو “این ہم بچہ شتر است” کے مصداق رگیدنا سمجھ میں نہیں آیا. لگتا ہے کہ مضمون نگار زیادہ ہی جلدی میں تھے چنانچہ جو جو انہیں یاد آتا گیا اسے رگڑتے گئے.

    • 24-01-2016 at 10:56 pm
      Permalink

      مسلمانوں‌کی سیادت کا دعویٰ کم از کم فیض اللہ خان کی تحریر میں تو نظر نہیں آیا۔ ویسے بھی اگر پختون یا کوئی اور اپنی نسل کی بنیاد پر افضل یا برتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ توہٹلر کے آریائی قوم کے برتر ہونے کے دعوے جیسا ہے ۔ مسلمان نسلی طور پر کوئی ایک قوم تو ہے نہیں ،جس میں کوئی اور شامل نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے کسی بھی خطے کا شخص، چاہے وہ کالا ہو یا گورا، زرد رنگت کا یا تبتی نقوش والا، کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوسکتا ہے، نسل پرستی میں البتہ یہ ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ ڈی آئی خان جو کے پی کے کا حصہ ہے، وہاں‌کے علیزئی، سدوزئی پٹھان جو نسلی اعتبار سے پٹھان ہیں ، اشرافیہ کا حصہ رہے ہیں، مگر صرف پشتو نہ بولنے کی وجہ سے انہیں پشتون قرار نہیں دیا جاتا۔
      دوسرا یہ کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی خود کو دنیا کی سیادت کا حق دار قرار دیتا بھی ہے تو وہ اس بنیاد پر کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے، اللہ کے آخری رسول کی امت ہونے کے ناتے انہیں اخلاقی، روحانی، ذہنی طور پر اتنا بہتر ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کی سیادت کے حقدار بن سکیں۔ ایک طرح سے یہ چیلنج ہی ہے ،جو خود کو دیا جارہا ہے کہ اپنی کیپیسٹی بلڈنگ کرو تاکہ اقوام عالم میں‌ممتاز ہوسکو۔ اس میں‌کیا برائی ہے؟
      پینتیس لاکھ ڈالر والی بات افسانہ ہی ہوگی، یہ رقم واقعی زیادہ نہیں۔ یہ بات تو مگر ماننا ہوگی کہ اے این پی اور جناب اسفند یار ولی نے امریکہ کے حوالے سے ایک سو اسی کے ڈگری کا ٹرن لیا ۔ پاکستانی فوج ، ایجنسیاں‌قابل معافی نہیں کہ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دے کر ، سی آئی اے کی جنگ لڑ کر لاکھوں‌افغان مروا دئیے اور وہ جو یہ جنگ لڑوانے والا، جس نے یہ سب کچھ کیا، فنانس کیا، شر پھیلایا، اس سے بغلگیر ہوجانا۔ کیا بات ہے، اسے قبول کرنے کے لئے بھی کمال درجے کا سادہ لوحی اور انتہا درجے کی حسن کرشمہ سازی چاہیے۔ یاد رہے کہ ہم نے ازخود خوش گمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نرم ترین آپشنز ہی لی ہیں۔

    • 26-01-2016 at 6:08 am
      Permalink

      بہت خوب قاضی صاحب

  • 25-01-2016 at 12:29 am
    Permalink

    وجاہت مسعود صاھب ذمہ دار شخصیت ہیں ، باچا خان بابا کے حوالے یہ کیا خرافات شایع کی گئی ہے ؟

    • 26-01-2016 at 6:10 am
      Permalink

      اچھا ہے کہ یہ تحریر شائع ہوئی اور پھر اس کے جواب میں حقیقت کے بہت سے پہلو عیاں ہوئے

  • 25-01-2016 at 12:56 am
    Permalink

    حیرت کی بات کہ خاکوانی صاحب نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج ، ایجنسیاںقابل معافی نہیں کہ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دے کر ، سی آئی اے کی جنگ لڑ کر لاکھوںافغان مروا دئیے۔ لیکن اس جنگ کے سرخیل ملا عمر کی موت پر ملا عمر” مرد کوہستانی“ لکھا تھا۔ انہوں ہی افغان طالبان کو فریڈم فائٹر لکھا تھا۔ خاکسار یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کے خلاف بندوق اٹھانے والے کیسے فریڈم فائٹرز ہو گئے؟ امریکہ تو بہت بعد میں آیا۔ ان فرینڈم فائٹرز نے تو پچانوے میں افغانوں کے خلاف بندوق اٹھائی تھی اور بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ خاکوانی صاحب تواتر سے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد لکھتے رہے ہیں کیونکہ وہ ریاست کے خلاف بغاوت کو ٹھیک نہیں سمجھتے (انکا موقف درست ہے) لیکن وہ افغان طالبان کی ریاست کے خلاف بغاوت کو جہاد کہتے ہیں؟ربانی دور کے طالبان جہاد کو ہمارے یہاں کمال سرد مہری سے یہ کہہ کر سند جواز بخشا جاتا ہے کہ افغانستان عدم استحکام کا شکار تھا۔ جگہ جگہ ناکے لگے ہوئے تھے۔ پرانے مجاہدین اخلاقی برائیوں کا شکار ہو چکے تھے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ بات صرف قندھار کے حس تک ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ بات ایسے ہی تسلیم کی جائے جیسا کہا جا رہا ہے۔ تو کیا افغانستان اس وقت میں پاکستان کے موجودہ حالات سے زیادہ عدم اعتماد کا شکار تھا؟
    کیا آج کوئی دانشور ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک اپنی گاڑی میں سفر کر سکتا ہے؟ کیا کوئی شخص اپنے خاندان کے ساتھ درہ آدم خیل اپنی گاڑی میں جا سکتا ہے؟ حد یہ ہے کہ بلوچستان کے سرکاری عمارتوں سے قومی پرچم چودہ اگست کے دن خوف کی وجہ سے غائب ہوتا ہے۔ صرف کوئٹہ شہر میں گزشتہ تین سالوں سے ایف سی کی کاروان میں قومی پرچم کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ خضدار، وڈھ، تربت میں تو قومی پرچم لہرانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔کہا جاتا ہے کہ قندھار میں جنگی کمانڈر بچوں کے ساتھزیادتی کرتے تھے۔ کیا قصور میںبچوں کے ساتھ زیادتی کر کے ان کی فلمیں نہیں بنائی گئیں؟

    جب ایسا ہے تو کیا ٹی ٹی پی یا کسی اور مسلح تنظیم کو پاکستان میں جہاد کا حق دیا جاتا ہے؟؟
    کیا ٹی ٹی پی نے انہی دلائل کی بنیاد پر پاکستان مینںجہاد شروع نہیں کیا تھا جو طالبان نے افغانستان میں کیا تھا؟ کیا کراچی کے انہی لوگوں نے ان کے جہاد کے حق میں فتوے جاری نہیں کیے جنہوں نے افغان طالبان کے حق میں جاری کیے تھے؟

    آپ کے اصول نرالے ہیں۔ آپ کے لیے وہ فریڈم فائٹرز ہیں اور یہ دہشت گرد۔۔۔ہم اس پر بھی خاموش رہ جاتے لیکن آپ اب بھی افغانستان میں طالبان کی آمد کے خواب دیکھ رہے ہیں۔اب جب افغانستان میں ایک جمہوری حکومت ہے اور امریکہ نکلنے والا ہے آپ اپنے کالم ” پہلی کامیابی” میں رقم طراز ہیں.

    “جن دنوں داعش نے عراق میں تہلکہ مچا رکھا تھا، ایک دو محفلوں میں افغانستان کے حوالے سے بات ہوئی تو میں نے رائے ظاہر کی کہ افغانستان میں بھی موصل جیسا منظر دہرایا جائے گا۔جب امریکی فوجوں کا انخلا شروع ہو گا اور سیکیورٹی افغان فوج کے ہاتھ آئے گی تو طالبان اسی انداز میں مختلف شہروں پر حملے کریں گے اور افغان آرمی بھی عراقی آرمی کے انداز میں “شاندار پسپائی” اختیار کرے گی۔”شاندار پسپائی” کی اصطلاح کو طنزیہ نہ سمجھاجائے”
    گویا ایک جمہوری حکومت کے خلاف بندوق اٹھانے کو آپ افغانستان میں تو جائز سمجھتے ہیں مگر یہ پاکستان میں آکر کفر اور دہشت گردی بن جاتی ہے۔ پھر آپ یہ بھی لکھ لیتے ہیں کہ “کہ پاکستانی فوج ، ایجنسیاں،قابل معافی نہیں کہ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دے کر ، سی آئی اے کی جنگ لڑ کر لاکھوں افغان مروا دئیے.”۔
    اس بات پر البتہ حیرت ظاہر نہیں کر سکتے کہ باچا خان کو کمیونسٹ کہنے جسیے صریح دروخ گوئی پر آپ فیض اللہ خان کو داد بھی دے رہے۔
    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

  • 25-01-2016 at 1:17 am
    Permalink

    آن لائن صحافت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں ریڈر شپ اور قبولیت کا پیمانہ کلکس کی تعداد اور اس تعداد کی بنیاد پر لکھاری کی مقبولیت کا معیار ہے۔

    چاہے تحریر کتنی ہی حقیقت سے بعید ہو یا انتہا درجے کی کم علمی اور ذہنی پستی کا مظہر ہو کلکس کی تعداد لکھاری کے لئے قبولیت کی سند اور ایڈیٹرز کے لئے ترجیح کی بنیاد ٹہرتی ہے۔

    درج بالا تحریر کے سیاق و سباق پر آیا جائے تو باچا خان کی فکر اور سیاست سے اختلاف کوئی اچنبھے کی بات یا قابل اعتراض امر نہیں کہ سیاسی شخصیات اور ان کا فکر تنقید و استناد کے معیارات اور تاریخی عمل کی کسوٹی پر پرکھے جانا ایک عام سی بات ہے۔

    لیکن یہاں فاضل تحریر نگار کا اپنے فکری رجحان کا اظہار بڑا دلچسپ ہے۔ باچا خان کی تنقیص، سید مودودی کا تذکرہ اور غامدی پر چوٹ۔

    باچا خان کی طرف سے پاکستان کی مخالفت ایک سیاسی رائے کا اظہار تھا جسے چھیالیس کی انتخاب میں عوامی مقبولیت کی کسوٹی پر سرخروئی حاصل ہوئی جس کی بنیاد پر بننے والی قانون ساز اسمبلی کو بائی پاس کرکے ریفرینڈم کا انعقاد ہی محل نظر تھا لیکن اس بحث میں جانا شاید فاضل تحریر نگار کا منشا نہ رہا ہو نہ ان کی گوگلیانہ ریسرچ اور ٹویٹرانہ و فیس بکانہ تجزیہ نگاری اس صلاحیت کے اظہار پر مائل ہو۔

    اتنا عرض کردوں کہ پاکستان کی اسکیم کی مخالفت تو سید مودودی بھی اسی شدومد سے کرتے تھے بلکہ وہ تو اس کے خلاف سیاسی محاذ کی بجائے مذہبی انشاء پردازی کے محاذ پر سرگرم رہے۔ پھر پختون قبائلیوں کی کشمیر پر چڑھائی کے اولین مخالف بھی سید مودودی تھی اگر موصوف کی نظر سے رسائل و مسائل کے جماعت اسلامی کی بدلتی افتاد طبع کے تحت ترمیم سے گزرنے والے ایڈیشنز کے بجائے مودودی صاحب کا اصل فتوٰی گزرا ہو۔

    پختونوں نے باچا خان کو رد کیا یا نہیں مودودی صاحب کے اپنے فرزند اور ان کے زمانہ اول کے کم و بیش تمام رفقاء وقتاً فوقتاً مودودی صاحب کی فکری قلابازیوں سے اظہار برأت کرتے آرہے ہیں جن میں امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار، ارشاد حقانی، وحیدالدین، منظور احمد نعمانی، نعیم صدیقی اور تحریر نگار کی چوٹ کا ہدف غامدی صاحب شامل ہیں۔

    تحریر نگار جس ڈیورنڈ لائن کو نہ ماننے کا طعنہ باچا خان کو دے رہے ہیں اسے پاکستان سے منظور شدہ طالبان امارت نے بھی کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ موصوف خود بھی اسے بین الاقوامی سرحد نہ ماننے اور افغانستان کو پاکستان کا حصہ مانتے ہوئے بغیر سفری دستاویزات کے افغانستان میں قلمی جہاد کی کوششوں کا حصہ بننے کی خواہش لے کر داخل ہوئے تھے اور وہاں دھر لئے گئے تھے۔ بھلا ہو ملالہ بیٹی اورہمارے مہربان ضیاء الدین یوسفزئی کا کہ جن کی کوشش کے باعث انہیں ڈیورنڈ کے اس پار بخیریت آنا نصیب ہوا۔۔۔ لیکن یہاں شاید وہ اقبال کے الفاظ میں طارق بن زیاد کے نعرے ہر ملک ملک مااست کا نعرہ بلند کرنا مناسب سمجھتے ہوں یا سید مودودی کے فکری ہم زلف حسن البناء و سید قطب کی اتباع میں لاشرقیہ لاغربیہ کا راگ الاپیں۔۔۔ اوہ یہ راگ لفظ بھی تو ہندوستانی ووکیبلری ہے پتا نہیں تحریر نگار اس کا استعمال پسند فرماتے بھی ہیں یا نہیں۔

  • 25-01-2016 at 1:50 am
    Permalink

    I intend to write on the ‘Bacha Khan’s narrative’ in detail in Urdu for this publication responding to the self-contradictory and illogically organized piece above. The Bacha Khan’s narrative has always challenged the the centrist extremist mindset. The narrative comes in sharp contrast to the dis-empowering elitist discourse that has all along usurped state resources and manipulated society on the basis of hyper nationalism and wishful interpretation of religion. For the time being, it will suffice to read a few lines from the autobiography of legendary Bacha Khan translated into Urdu in the following link. It might perhaps bring to light the ideals which Bacha Khan preached and practiced for more than six decades–the ideals of human dignity, pluralism, non-violence and social justice
    https://drive.google.com/file/d/0B7h-dd2BPS2XdEVYeFRGVVRRcnM/view?pref=2&pli=1

  • 25-01-2016 at 2:24 am
    Permalink

    فیض اللہ خان کے ساتھ مدعی سست گواہ چست والا معاملہ ھے۔
    بطور پختون قوم پرست میں یہ کہنے کی جسارت کرونگا کہ مذھب و مملکت تبدیل ھو سکتی ھے پر نسل نھی ، اپنے حقوق کی تحفظ کیلئے قومیت سب سے بہترین ذریعہ ہے، میں ایک نسل پرست ہو کے بھی باچا خان کا پیروکار نہیں ھوں لیکن باچا خان کے بارے میں غلط بیانی بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔
    جہاں تک پختونوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات ہے تو جناب استصواب رائے میں تقریباً دو لاکھ ووٹ پڑے تھے، اور باچا خان نے بآئکاٹ کا حکم دیا تھا ورنہ اس وقت رجسٹرڈ ایک لاکھ خدائی خدمتگار تھے ، اور اگر باچا خان بآئکاٹ کی “غلطی” نہ کرتے تو آج ھم پاکستان کے ساتھ نہ ھوتے ۔

  • 25-01-2016 at 2:49 am
    Permalink

    مجھے کچھ لکھنے کو من نہیں اس لئے نہیں کرتا، کیونکہ موصوف کی ساری باتیں منطق اور تاریخی حوالہ جات سے لا علمی کا ایک لا۔ مثال مثال ہے۔کچھ بھی لکھنے سے پہلے بندہ تھوڑا سا مطالعہ کریں، حالات اور تاریخی ابواب کا، تو بات بن سکتی ہے۔ بہر حال ایک ایسا احسان فراموش انسان، جب یہ افغانستان میں پھس گیا تھا، تو یہی اے این پی کے لوگوں نے کوشش اور تھگودو کیا تھا موصوف کی رہائی کیلئے۔

  • 25-01-2016 at 5:42 am
    Permalink

    What do you mean by “jali secularism”? When you talk about narrative then be clear in your mind that there is no jali and asli. These are all perspectives and statements or narratives. Idiot, at least learn the language of your narrative first before making claims.

  • 25-01-2016 at 9:32 am
    Permalink

    محترم خاکوانی صاحب کے تجاہل عارفانہ پر قربان جاؤں . کیا سید مودودی کے پیروؤں کا یہ نعرہ ان کے ذہن رسا سے محو ہوگیا ہے کہ، “دین کا پرچم لے کر اٹھو اور دنیا پر چھا جاؤ”. اس کی یہ تفسیر بالراے پہلی بار سنی کہ اس میں جہاد و قتال کے ذریعے غلبہ پانے کی دعوت نہیں بلکہ اپنی کیپسٹی بڑھانے کا ذکر ہے. خاکوانی صاحب شاید سچ میں ایسا ہی سمجھتے ہوں مگر سید مودودی کے پیرو کیپیسٹی بڑھانے کا انتظار کہاں کرتے ہیں. دنیا پر چھا جانا تو ذرا معروضی حالات کے پیش نظر مشکل ہے، فی الحال پنجاب یونیورسٹی پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں. جہاں ان کے زیر قبضہ ہاسٹلوں سے ناگفتہ بہ سامان اور گفتہ بہ مفرور آے روز برآمد ہوتے ہیں. باقی بیسویں صدی کی اصطلاح اسلامسٹ اور اٹھارویں صدی کی اصطلاح سیکولر میں تال میل کے غیر ممکن ہونے پر ہم خاکوانی صاحب سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں اور پشتون ہی نہیں، ہر قسم کی نسل پرستی اور نسلی برتری بلکہ کسی بھی پیدائشی حادثے کی بنا پر دعوی سیادت کو رد کرنے میں ہم خاکوانی صاحب اور باچا خان دونوں کے مؤید ہیں.

    • 25-01-2016 at 3:55 pm
      Permalink

      جناب والا قاضی صاحب، مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کب سید مودودی کا ترجمان سمجھ لیا گیا، بھیا جماعت اسلامی جانے اور ان کی سیاست۔ میں یہ سمجھا تھا کہ شائد آپ مسلمانوں کے سیادت والے حق کی بات بڑے تناظر میں‌کہہ رہے ہیں اور اسلامسٹوں کو طعنہ دے رہے ہیں، اس پر یہ کہا۔ اگر آپ کا روئے سخن جماعت اسلامی کی طرف تھا تو اس کا جواب ان کے ذمے ہے، میرے نہیں۔ اسلامسٹ اصطلاح ہم نے شفقت برتتے ہوئے استعمال کی، ورنہ لکھنا تو چاہتے تھے کہ کوئی مذہبی شخص سیکولر نہیں ہوسکتا۔ پھر سوچا کہ آپ جیسے دوست اس پر برہم نہ ہوجائیں، خاص کر جناب بخشی صاحب جن کی گھنی ڈاڑھی کو ہم لوگ رشک کی نظر سے دیکھتے اور پھر سیکولرازم کی حمایت میں‌مذہبی عقائد کوازسرنو کسوٹی پر پرکھنے کا مشورہ پڑھ کر خون کھولاتے ہیں۔
      باقی اصطلاحات اٹھارویں، انیسویں ، بیسویں صدی کی نہیں ہوتیں۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس وقت وہ اصطلاحات موجود ہیں یا نہیں اور کن معنوں‌میں استعمال ہو رہی ہیں۔

      • 26-01-2016 at 9:44 am
        Permalink

        فقیر کی داڑھی کا ذکر چھوڑیں خاکوانی صاحب کہ داڑھی تو سرسید کی بھی تھی، حسرت موہانی اور آزاد کی بھی اور مارکس اور اینگلز کی بھی۔ اور برہم ہونے کی کیا بات ہے قبلہ، آپ ضرور اپنے کھولتے خون کے چھینٹے ہمارے دامن پر پڑنے دیں۔ لیکن جب آپ کہیں گے کہ کوئی مذہبی شخص سیکولر نہیں ہو سکتا تو ہم مارکیٹ سے وہ والا مولوی لائیں گے جو آپ کی داڑھی نہ ہونے کو فسق کی صریح علامت کہے گا۔ اگر ہماری رندوں سے شناسائی ہے تو مارکیٹ میں پائے جانے والے ان رنگ برنگے شیوخ تک بھی پہنچ ہے جو فوراً کہہ دیں گے کہ داڑھی کے بغیر آپ کا بے نور چہرہ دیکھ کر ان کا خون کھولتا ہے۔ پھر اپنے باطنی زہد کی جو تعبیرات آپ پیش کریں گے وہ مذہبی اعتقادات کو ازسرنو کسوٹی پر پرکھنے کے مترادف ہی ہوں گی۔ سلامت رہئے۔

  • 25-01-2016 at 2:21 pm
    Permalink

    تعجب اس لکھاری کے کم عملی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوا کہ اس فورم نے ایسے لکھاری کو یہاں جگہ کیسے دی جس کی کوئی بھی بات صداقت اور تحقیق پر مبنی نہیں ہے۔

  • 25-01-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب سے گزارش ہے کہ ا گر کسی موضوع کو زیر بحث لانا ہی ہے تو کوئی معیاری تحریر سے ابتدا ہو- مصنف سے گزارش ہے کہ اوپر تحریر کئے گئے سارے الزامات میں سے کسی ایک کو بھی ثابت کردیں-

  • 25-01-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    مجھے افسوس ہور ہا ہے پختون قوم پرست دوستوں‌کے کمنٹس پڑھ کر۔ ان میں‌اور ملا عبدالعزیز جیسے ٹی ٹی پی کے حامیوں‌کے لب ولہجے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا۔ ایسی تنگ نظری، ایسے عورتوں والے کوسنے۔
    بھیا فیض‌اللہ خان افغانستان خدانخواستہ منشیات خریدنے نہیں‌گیا تھا، ایک بڑے میڈیا گروپ کے لئے کام کر رہا تھا، افغانستان انٹرویو کرنے گیا تھا، اس کی نا سمجھی کہ ویزے کے بغیر گیا، مگر دنیا بھر میں بڑے بڑے صحافیوں‌کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جنہیں صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے کے لئے ایسا کرنا پڑا۔ فیض اللہ خان کی رہائی کے لئے بہت لوگوں نے کوشش کی، جماعت اسلامی سے اےاین پی، صحافتی تنظیموں سے محمود اچکزئی اور حکومتی عہدے داروں سے لے کر سلیم صافی جیسے صحافیوں نے۔ اس کی پوری تفصیل وہ لکھ چکے ہیں، اے این پی سے لے کر ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد کی کوششوں‌کا اعتراف کیا ہے۔ مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی زندگی وہ اے این پی والوں‌کے پیر دھو دھو کر پیتے رہیں؟ کیا باچا خان کی سیاست پر کوئی کمنٹ کرنا فیض اللہ خان کےلئے ممنوع ہوگیا؟ اس نے جو لکھا، اس کا دلیل سے جواب دیں، اللہ اللہ خیر صلا، یہ کوسنے دینے کی کیا تک ہے۔

  • 25-01-2016 at 10:22 pm
    Permalink

    اور نظریں یہاں پختون قوم پرستوں اور راجہ داہر کی فکری اولاد (جن میں حاجی عدیل بھی شامل ہیں ) نے پے درپے حملے کر کے فیض الله خان کو “ڈھیر” کر دیا ہے
    فیض الله خان ، الله آپ کو سچ بات کہنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی طاقت دے ، آمین

  • 25-01-2016 at 10:42 pm
    Permalink

    فیض اللہ خان بھائی کی غلطی فقط یہ ہیکہ انہوں نے ٹھیک اس وقت باچاخانیت پر لکھا جب باچا خان یونیورسٹی جیسا سانحہ رونما ہوا__مجھے سمجھ نہیں آتی ہمارے پشتون بھائی باچا خان کو تنقید سے بالاتر کیوں سمجھتے اور باور کراتے ہیں حالانکہ اگر بحیثیت ایک انسان باچا خان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان سے بڑی تاریخی غلطیاں سرزد ہوچکی تھی__ میرا تو عقیدہ ہے کہ باچا خان مرحوم نہ تو خدا تھے اور نہ ہی خدا کی فرستادے جو انکی ہر بات من و عن تسلیم کی جائے بلکہ وہ ایک انسان تھے اور دوسروں سے زیادہ بڑے… ہمیں رفتہ بزرگوں کی غلطیوں کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر حلق میں اتارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ماضی کی غلطیوں سے عبرت کے لئے ٹھیک ٹھاک محاسبہ کرتے رہنا چاہئے… چاہے وہ سید مودودی مرحوم ہوں یا کہ باچا خان مرحوم……

    • 26-01-2016 at 6:19 am
      Permalink

      میں پشتون نہ ہونے کے باوجود باچا خان کی سیاسی عظمت کا قائل ہوں، بات باچا خان کے تنقید سے بالاتر ہونے کی نہیں ہے، باچا خان کے بارے میں درست معلومات ہونے کی ہے، نسل پرستی کو باچا خان سے منسوب کرنا باچا خان کے بارے میں لاعلمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • 26-01-2016 at 11:40 am
    Permalink

    محترم خاکوانی صاحب بھلے جتنا اصرار کریں کہ وہ “رائٹ” کے آدمی ہیں، مکالمے پر ان کی ہر دم آمادگی ہمیں تو یہی تاثر دیتی ہے کہ وہ لبرل اقدار پر عامل ہیں.. فراق اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر.. کبھی ہم جان لیتے ہیں، کبھی پہچان لیتے ہیں.. اب یہاں چونکہ وہ برادرم فیض اللہ خان کے موقف کی حمایت میں کمر بستہ دکھائی دیۓ، تو ہم نے بھی گفتگو کا دائرہ سید مودودی کے قبیلہ فکر پر ہی مرکوز رکھا. فی الحال اس بات سے بھی قطع نظر کہ فیض اللہ خان جیسے عاقل، (کم از کم جسمانی) بالغ اور تجربہ کار جوان کی صریحا خلاف قانون حرکت کو ناسمجھی کہہ کر درگزر کیا گیا. کیا باچا خان پر بہتان باندھنے، بلا ثبوت تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور فکر مودودی پر اپنی مرضی کا جامہ منڈھنے کو بھی ناسمجھی کہیں یا شر انگیزی؟ باچا خان اور سید مودودی ہی نہیں، کوئی بھی تاریخی شخصیت تنقید اور تجزیے سے بالاتر نہیں ہے، مگر اس کی کوئی حقیقی بنیاد بھی ہو. دشنام طرازی سے صرف اشتعال پیدا ہوتا ہے اور اس قسم کا رد عمل دیکھ کر اسے ٹی ٹی پی سے تشبیہہ دینا ‘زبردست مارے اور رونے بھی نہ دے” کی مثال ہے. اتفاق سے کل سوشل میڈیا پر آر ایس ایس کی جانب سے، ہندی زبان میں نہرو خاندان پر رکیک اور بے بنیاد حملوں پر مشتمل ایک پوسٹ نظر سے گزری. اس پر لینن کا قول یاد آگیا کہ انتہا پسند دائیں بازو کے ہوں یا بائیں کے، ایک سے ہوتے ہیں. یہ مضمون پڑھ کر ہم اس قول میں مذکور سیاسی کے علاوہ مذہبی انتہا پسندوں کے اشتراک عملی کے بھی قائل ہو گئے ہیں.

  • 26-01-2016 at 1:30 pm
    Permalink

    مضحکہ خیز تحریر یوں لگتا ہے کہ لیکھک ابھی جے ٹی آی کی اردو کالج والی یونٹ میں پر زور نعری لگا کے ایا ھے اور انکی بازگشت میں لکھنے لگا ھے بھائ ایسے تو نھیں ھوتا نہ دانشوری نھیں اسے دانہ شوری کہتے ہونگے زیادہ حیرت خاکوانی پر ھوئ اندر سے اب بھی وھی جمعیتی؟

  • 26-01-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    مجھے اوپر والے تبصرے پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔کسی بھی صاحب تنقید نے فیض صاحب کے اٹھائے ہوئے نکات کا جواب نہیں دیا۔لوگوں کے 35 لاکھ ڈالر والے الزام کو افسانہ قرار دے کرفیض صاحب کو کاذب قرار دے ڈالا حالانکہ وہ باچا خان کی بہو کے الزامات دہرا رہے تھے۔عامر صاحب کے تبصرے بعد انہیں سینگوں پر اٹھا لیا گیا۔ایک صاحب نے باچا خان کو مقدس گائے کا مقام عطا کیا اور وجاہت مسعود صاحب کا گریبان پکڑ پوچھا “باچا خان کے خلاف خرافات کیوں شائع کی گئیں”۔
    لبرلز میں ایک خوبی کی تعریف ان کے ناقدین بھی کرتے ہیں کہ ان کا علمی مرتبہ دوسروں سے بلند ہوتا ہے۔اختلاف بھی کرتے ہیں تو متانت اور منطقی انداز میں لیکن اس مضمون پر جو غدر مچا ہوا اس سے دیکھ کر فیس بک کے مذہبی اکھاڑے یاد آجاتے ہیں جہاں ملا ٹائپ دھمکیاں دینے سے بھی بعض نہیں آتے۔
    اگر کسی کو باچاخان سے زیادہ عقیدت ہے تو مضمون نگار پر کذب و جہل کے الزام کا نیزہ تاننے کے بجائے ان کا باقاعدہ جواب دے۔مولوی اور مسٹر میں کچھ تو فرق ملحوظ رکھیں

Comments are closed.