دھند ، سردی اور لوڈ شیڈنگ


fogپاکستان اور خاص طور سے پنجاب کے بیشتر علاقے اس وقت شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں۔ سردی کی شدید لہر کی وجہ سے بھی لوگ حواس باختہ ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی عروج پر ہے۔ اس موقع پر جبکہ پنجاب کے سب بڑے شہروں میں لوگ ان وجوہ سے سخت پریشان ہیں اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں، حکومت کا کوئی نمائندہ ان کی دلجوئی کرنے یا ان کی شکایات سننے کے لئے موجود نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ملک کے طاقتور الیکٹرانک میڈیا کو بھی اس وقت امریکہ میں آنے والے برفانی طوفان اور متعدد ریاستوں میں سڑکیں بند ہوجانے کی خبریں سنانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔

خبر کی دنیا میں یہ اصول ہمیشہ سے رہنما رہا ہے کہ قرب میں پیش آنے والا واقعہ ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور ذمہ دار صحافی اور رپورٹر اسے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور سے جب قدرتی عوامل اور سرکاری لا پرواہی کی وجہ سے عوام کی پریشانی دوچند ہو چکی ہو تو ایسے میں میڈیا ہی ان کی آواز حکام تک پہنچانے اور انہیں جھنجوڑنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بد قسمتی سے یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آتی۔

دوسری طرف پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں بھی اس بنیادی عوامی مسئلہ کو نظر انداز کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم اور صوبے کے وزیر اعلیٰ اقتصادی ترقی اورعوامی بہبود کے منصوبوں کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ لیکن یہ پارٹی پیپلز پارٹی کو بجلی اور گیس کی نایابی کے سوال پر کوستی ہوئی 2013 ءکے انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی۔ لیکن برسر اقتدار آنے کے بعد بجلی اور گیس کے متعدد منصوبوں کے بارے میں اسکینڈل اور بے قاعدگیوں کے قصے تو سامنے آئے ہیں لیکن ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔ حکومت کے پاس سابقہ حکومتوں پر الزام دھرنے کے سوا کوئی دوسرا عذر بھی نہیں۔

حقیقت احوال ہے یہ کہ سابقہ حکومت کے دور میں عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ اب یہ قیمت اٹھائیس ڈالر فی بیرل ہے۔ حکومت اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وافر مقدار میں تیل درآمد کرکے فیول سے چلنے والے نجی بجلی گھروں سے کافی مقدار میں بجلی حاصل کرسکتی تھی اور اس دوران دوسرے منصوبے پورے کئے جا سکتے تھے۔ اسی طرح اگرچہ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں لیکن نواز حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر پاک ایران گیس منصوبے پر تیزی سے عمل کرنے کی بجائے اسے سرد خانے میں ڈال رکھا ہے اور گیس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے گلف کی ریاستوں سے ایل این جی درآمد کرنے کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ لیکن ابھی تک اس گیس کی سپلائی اور عوام و صنعت کو اس کی فراہمی کا کوئی اہتمام نہیں ہو سکا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ قدرت نے تیل کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی کی صورت میں حکومت پاکستان کو صورت حال بہتر کرنے کا جو نایاب موقع عطا کیا ہے، اسے حکمرانوں کی ناہلی اور ذاتی لالچ یا سیاسی مفادات کی وجہ سے ضائع کیا جا رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali