ترکی کے شہیدان جمہوریت کو سلام


\"edit\"ترکی میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات فوج کے ایک گروہ کی طرف سے بغاوت کی کوشش، عوام کی پرجوش مزاحمت کی وجہ سے ناکام بنائی جا سکی ہے۔ اس لئے اس رات کے دوران طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والے فوجیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جن دو سو کے لگ بھگ لوگوں نے اپنی جان قربان کی ہے، انہیں بلا شبہ شہیدان جمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے۔ فوج کی بغاوت کی وجوہات اور ناکامی کے اسباب پر ترک حکومت بھی تحقیقات کرتی رہے گی اور مبصرین بھی جائزہ لینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہ دلیل بھی پیش نظر ہے کہ دراصل فوج کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بغاوت کی تھی اور فوج کی اکثریت بدستور قانونی اور آئینی حکومت کی وفادار تھی۔۔۔ اس لئے یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ تاہم اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر صدر رجب طیب اردگان کے سوشل میڈیا کے ذریعے خطاب اور پیغامات اور مساجد سے ہونے والے اعلانات کے بعد لوگوں کا ہجوم ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا راستہ روکنے کا حوصلہ نہ کرتا تو مہلک ہتھیاروں سے لیس باغی فوجیوں کا یہ مختصر گروہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ فوج کا باقی ماندہ ’’وفادار‘‘ حصہ بھی اس بغاوت کو ہی سچائی جانتے ہوئے باغیوں کے اقدام کو درست قرار دیتا اور یہ کارروائی بغاوت کی بجائے انقلاب کا نام پاتی۔

ترکی کے علاوہ متعدد دوسرے ملکوں میں فوجیوں کی بغاوت کوئی نئی بات نہیں۔ کئی صورتوں میں کسی ایک جرنیل نے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد برس ہا برس تک اپنے ملک کی تقدیر کے برے بھلے سارے فیصلے خود ہی کئے ہیں۔ پاکستان بھی ایسے چار امتحانوں سے گزر چکا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں فخر سے اعلان کیا جاتا ہے کہ عوام نے ہمیشہ فوج کی ناجائز حکومت کی مزاحمت کی ہے اور ان کی مسلسل جدوجہد ہی کی وجہ سے فوجی آمر ہر بار ناکام ہوئے ہیں اور ملک کو مستقل طور سے جمہوریت کے راستے سے ہٹا نہیں سکے۔ لیکن یہ بیان کسی حد تک درست ہونے کے باوجود پوری سچائی بیان کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں اگرچہ لوگوں نے ہمیشہ جمہوریت کی خواہش کی ہے اور اس کی بحالی کےلئے کوششیں بھی کی ہیں اور قربانیاں بھی دی ہیں لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ہر بار کسی فوجی جرنیل کے آنے پر پاکستان کے عوام نے مٹھائیاں بھی بانٹی ہیں اور اس کا دل و جان سے خیر مقدم بھی کیا ہے۔ آج جو سیاسی لیڈر ٹاک شوز میں عام لوگوں کو جمہوریت کے نام پر بھاشن دیتے نہیں تھکتے، ان میں سے اکثریت اس ملک پر حکمرانی کرنے والے جرنیلوں کی نظر کرم کی پیداوار ہی ہیں اور انہی کے سایہ عاطفت میں پروان بھی چڑھے ہیں۔ فوجی حکمرانوں نے ملک کے سیاسی ڈھانچے کو اس حد تک کمزور اور ناکارہ بنا دیا ہے کہ اب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی ہر حکومت، فوج کے سربراہ کی خوشامد میں دن کو رات اور رات کو دن کہنے ہی  میں عافیت سمجھتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کسی فوجی سربراہ سے سات پردوں میں بھی اختلاف کا حوصلہ کر لے تو ملک میں عوامی راج کے محافظ چلا چلا کر اسے احمقانہ اور خودکشی پر مبنی سیاسی رویہ قرار دیتے ہوئے اس کی دھجیاں بکھیرنے میں دیر نہیں لگاتے۔

یہ فوجی حکومتوں کے تسلسل ہی کا ثمر ہے کہ فوج کو اب باقاعدہ سیاسی معاملات میں اہم ترین فریق سمجھ لیا گیا ہے۔ کوئی اس پر انگلی اٹھانے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ اگر اس طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی جائے تو غداری کے الزامات کی بوچھاڑ ہوتے دیر نہیں لگتی۔ یہ بھی اسی غیر جمہوری مزاج کا حصہ ہے کہ منتخب پارلیمنٹ اور حکومت کے ہوتے، وزارت عظمیٰ یا وزارت کے خواہشمندوں کی نگاہیں مسلسل جی ایچ کیو کا طواف کرتی رہتی ہیں کہ مبادا وہاں کے صاحب اختیار کو ان کی بے بسی پر رحم آ جائے اور وہ قانونی طور سے برسر اقتدار شخص یا پارٹی کو ایوان اقتدار سے رخصت کرنے کا اشارہ کر دے تو ان کے بھی وارے نیارے ہو جائیں۔ ترکی میں ناکام بغاوت سے اہل پاکستان کو یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ قوم کے مفاد کا فیصلہ مٹھی بھر فوجی نہیں کر سکتے بلکہ اس کا فیصلہ جمہوری نظام میں عوام کے ووٹ کی طاقت سے ہی ہو سکتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب عوام کو جمہوریت کی افادیت پر یقین کرنے کا سبق یاد کروایا جائے گا۔ جب ذاتی مفاد کےلئے وقفے وقفے سے فوج کے سربراہ کو ’’بغاوت‘‘ کرنے کی ترغیب دینے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ جب اپوزیشن اور حکومت ، عام آدمی اور لیڈر ، صحافی اور دانشور، استاد اور محقق یکساں طور سے یہ تسلیم کریں گے کہ جمہوریت میں ہی عوام کا مفاد ، قوم و ملک کا تحفظ اور بھلائی ہے۔ ایک نظام کے تحت ملک کی حفاظت کےلئے استوار کئے جانے والے ادارے یعنی مسلح افواج کی عزت و احترام بھی اسی میں ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کریں اور عوام کی چنی ہوئی حکومت کے تابع فرمان رہیں۔ پاکستان میں یہ سبق یاد کرنے کے لئے ابھی کئی مرحلے عبور کرنے کی ضرورت ہے۔ فوج کی بڑائی کو اس کی بندوق اور توپ کی صلاحیت کی بجائے اس کے نظم و ضبط اور عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہونے سے ناپنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی رائے سے بغاوت کرنے والی فوج نہ تو عظیم ہو سکتی ہے اور نہ وہ قومی مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔

کل رات انقرہ اور استنبول کی گلیوں اور سڑکوں پر ترک عوام نے اس سنہرے اصول کو اپنے خون سے تحریر کیا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں ان کے ایثار ، قربانی اور بہادری کی توصیف کی جا رہی ہے۔ اس لئے ایسے تمام ملکوں میں جہاں جمہوریت خام اور فوج طاقتور ہے، لوگوں کو اس مثال سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کل رات ترک عوام نے دنیا بھر کے فوجی لیڈروں کو پیغام دیا ہے کہ ان کی توپیں اور بندوقیں ، جنگی ہیلی کاپٹر یا بم برساتے طیارے۔۔۔ عوام کے عزم اور حوصلہ کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس لئے ان تمام ملکوں میں آباد لوگوں کو اپنی قدر و قیمت اور قوت کے بارے میں احساس بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک نظام استوار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جمہوری حکومت ووٹ لینے کے بعد ووٹ دینے والوں کو جوابدہ ہو سکتی ہے۔ اور اس طریقہ کی نفی ہو سکتی ہے کہ بام اقتدار تک پہنچنے کےلئے ووٹ تو عوام سے لئے جائیں اور پھر اقتدار کو برقرار رکھنے کےلئے فوج کی خوشامد کی جائے۔ اسی طرز عمل نے عوام کو بے اعتماد اور فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو داغدار کیا ہے۔ اب ہر ملک میں خواہ وہ پاکستان ہو یا مصر یا کوئی دوسرا ملک، اس پیغام اور رویہ کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

فوج کی بغاوت کو مسترد کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی جمہوری حکومت غلطیوں سے پاک ہوتی ہے یا اسے گمراہی سے روکنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس سے صرف یہ اصول واضح کرنا مقصود ہے کہ طاقت کے زور پر جمہوری حکومت کو برطرف کرنا ناقابل قبول ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی سیاسی غلطیوں، جابرانہ طرز حکومت اور ہوس اقتدار کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے 11 سال وزیراعظم رہنے کے بعد 2014 میں جونہی صدارت کا عہدہ سنبھالا۔۔۔ تو اختیارات کو وزیراعظم کے دفتر سے ایوان صدر منتقل کر لیا۔ جو محل وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا، اردگان کے صدر بنتے ہی اسے صدارتی محل کا درجہ دے دیا گیا۔ گویا ترک جمہوریت میں عہدہ یا نظام کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ فرد واحد کی مرضی و خواہش ہی اہم ترین ہے۔ یہی رویہ شخصی حکومت کی طرف لے جاتا ہے جو جمہوری طور سے منتخب ہونے والے لیڈر کو بھی بدترین آمر میں بدل دیتا ہے۔ اس طرح نظام اور مملکت ثانوی حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں اور فرد واحد کی خواہشات ان پر حاوی ہونے لگتی ہیں۔ متعدد ملکوں میں اس قسم کے تجربے کا انجام تباہی کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوا۔ اردگان بھی اگر اپنا طرز عمل نہیں بدلیں گے تو وہ نہ صرف اپنی حکومت ، اپنی حیثیت بلکہ ملک و قوم کے مفاد کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ کل رات بغاوت کے کوشش ان کے آمرانہ اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف احتجاج کی ایک آواز تھی۔ یہ ردعمل زیادہ سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔

ناکام فوجی بغاوت کا الزام ملک کے مقبول مذہبی لیڈر فتح اللہ گولان پر عائد کیا گیا ہے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مقیم گولان ہی نے دراصل اس بغاوت کی منصوبہ بندی کی تھی اور فوج میں ان کے حامیوں نے ہی کل رات حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ صدر طیب اردگان کو شروع میں فتح اللہ گولان کی حمایت حاصل تھی لیکن اب اردگان انہیں اپنا سب سے بڑا سیاسی دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ ترکی میں گولان سے عقیدت رکھنے والے لوگوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ گولان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر ترک حکومت یہ شواہد فراہم کر دے کہ فتح اللہ گولان ملک میں جمہوریت کے خلاف بغاوت میں ملوث تھے، تو انہیں ترکی کے حوالے کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس کے باوجود صدر اردگان نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے فوج کے علاوہ عدلیہ اور انتظامیہ میں سے ہر اس شخص کو نکالنے کی کارروائی شروع کی ہے جو فتح اللہ گولان سے متاثر ہے یا ان کا عقیدت مند ہے۔ خبروں کے مطابق بغاوت کے الزام میں 2800 فوجیوں کوحراست میں لیا گیا ہے۔ تقریباً اتنے ہی ججوں کو عدالتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی صدر اردگان نے گزشتہ چند برس کے دوران گولان سے ہمدردی رکھنے والے ججوں و افسروں کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ایک جمہوری قائد کے طور پر صدر اردگان پر واجب ہے کہ وہ بغاوت کرنے والوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائیں لیکن مخالفانہ رائے رکھنے یا پسند نا پسند کی بنیاد پر عدالتوں اور انتظامیہ سے لوگوں کو نکالنا غیر جمہوری اور غیر ضروری فعل ہے۔ اس سے دور رس تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

صدر اردگان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگرچہ وہ بغاوت کی ایک کوشش میں سرخرو ہوئے ہیں لیکن اس اقدام سے ترک فوج میں موجود تفرقہ و انتشار بھی سامنے آیا ہے۔ اب سیاسی ضرورتوں کے تحت فوج کو مزید کمزور کرنے کی بجائے، اسے پیشہ وارانہ بنیادوں پر مستحکم کرنے کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی جرنیل کی سیاسی رائے کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر وہ ملک کے آئین اور منتخب حکومت کا وفادار ہے تو اس سے تعرض کرنا غیر ضروری ہے۔ اسی طرح عدالتوں میں اردگان پرست جج مقرر کر کے نظام عدل کو کمزور کیا جائے گا جو جمہوریت کے فروغ کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اردگان سمیت اس وقت ترک لیڈروں کو غصے اور انتقامی جذبے سے کام لینے کی بجائے صبر، عفو اور حوصلہ سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد نظام کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے پورا کرنے کےلئے کام کیا جا سکے۔

اگر صدر اردگان نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور ملک میں جمہوری روایت اور اداروں کو مستحکم کرنے کا عزم کرنے سے گریز کیا تو نہ تو بغاوت کی یہ کوشش آخری ثابت ہو گی اور نہ صدر اردگان تاحیات اقتدار پر قابض رہ کر من مانی کر سکیں گے۔ بلکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں اقتصادی ترقی اور جمہورییت کے فروغ کی جو روایت پروان چڑھی ہے ۔۔۔۔۔ وہ اسے تباہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 674 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali