خلافت کے علمبردار اور اسلامی تصورِ خلافت


\"?\"

(محمد عمار احمد)

داعش کو اپنی خلافت کا اعلان کئے دو برس ہو گئے ہیں۔ 2014 کے انہی ایام میں داعش نے اپنی خلافت کا باقاعدہ اعلان کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ابوبکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کر کے انہیں خلیفۃ المسلمین تسلیم کرنے کی تلقین کی۔ دولت الاسلامیہ فی العراق و الشام نامی تنظیم نے عراق اور شام میں فرقہ پرست حکومتوں، حزب اﷲ اور اس طرز کی نجی ملیشیاؤں کے سُنی مخالف اقدامات کے ردِ عمل میں اپنی جد وجہد کا آغاز کیا۔ ان عناصر کے ستائے لوگوں اور صدام حسین کے ساتھیوں نے اس تنظیم کو اپنے لئے نعمت و نجات سمجھتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار کی اور اسے مضبوط کیا۔ اس تنظیم نے حالات کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے نہ صرف شیعہ بلکہ سنی اور کرد علاقوں میں بھی مظالم شروع کر دئے۔ جو لوگ اسے اپنے لئے نجات دہندہ سمجھ رہے تھے وہ اب دوطرفہ مظالم کا شکار ہونے لگے، ایک طرف داعش تو دوسری طرف بعض انتہاپسند شیعہ سرکاری و نجی فورسز اور گروہ۔ یہ لوگ ایک بار پھر پسنے لگے مگر راہِ نجات کوئی نہیں تھی۔

داعش نے شام و عراق کی سرحدوں کو ختم کرتے ہوئے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں خلافت کا اعلان کیا اور وہاں پر سزا و جزا اور تجارت و ٹیکسز کا نیا نظام جاری کیا اور طاقت کے بل بوتے پر اسے کارآمد بنانے کی کوششیں کیں۔ پھر شام و عراق سے نکل کر دنیا بھر میں عسکری تنظیموں کو ابوبکر بغدادی کی بیعت پر آمادہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا خوب اور کامیاب استعمال کیا جس سے مصر، الجزائر، نائجیریا،پاکستان، بھارت اور افغانستان میں کچھ عسکری گروہوں نے ابوبکر بغدادی سے وفاداری کا اعلان کیا۔ یہ عسکری تنظیمیں اپنے اپنے ممالک میں داعش کے ا حکامات پر عمل کرنے لگیں۔ فرانس، امریکہ، تیونس، سعودی عرب، بنگلہ دیش افغانستان اور ترکی داعش کی دہشتگردی کا شکار ہوئے ہیں۔

داعش اور دنیا بھر میں خلافت کے لئے مسلح جد و جہد کرنے والی تنظیمیں نہ صرف انسانیت کو نقصان پہنچا رہیں بلکہ اسلامی اصطلاحات ’ جہاد ‘ اور ’ خلافت ‘ کا چہرہ مسخ کرنے کی مجرم بھی ہیں۔ ان لوگوں کی کارروائیاں مسلمانوں کے لئے مصائب کا سبب بن رہی ہیں نیز اسلامی تعلیمات اور اصطلاحات کا ایک خوفناک چہرہ دنیا کے منظر نامے پر ابھر رہا ہے۔ شام و عراق کی صورتحال کی ذمہ داری ان ملکوں کی حکومتوں پر ہی نہیں بلکہ داعش جیسی تنظیموں پر بھی عائد ہوتی ہے کیوں کہ دونوں طرف کی مسلح کارروائیاں بے گناہ لوگوں کی اموات اور بے گھر ہونے کا سبب ہیں۔ مسائل کے پر امن حل کی بجائے طاقت کے استعمال سے معصوم اور بے گناہ افراد بری طرح متاثر ہیں۔ طویل ترین خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں لوگ لقمہ ِ اجل بن چکے ہیں جبکہ اکثریت کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ لوگ بشار اور اس کے مخالفین کے ستائے ہوئے ہیں اور در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ بشارکے ساتھ ساتھ اسلام اور خلافت کے نام لیوا بھی اس ظلم سے مستثنیٰ نہیں کہ جیسے بشار انسانیت کا مجرم ہے اسی طرح داعش بھی مجرم ہے۔

داعش، تحریک طالبان پاکستان، بوکو حرام، انصار بیت المقدس (مصر) ابو سیاف (فلپائن) اور انصار التوحید فی بلاد الہند (بھارت) یہ تنظیمیں اپنے اپنے ممالک میں خلافت کی علمبردار اور داعش سے منسلک ہیں۔ یہ تنظیمیں احیائے خلافت و نفاذ ِ شریعت کی جد و جہد کر نے کی دعوے دار ہیں جبکہ ان کی کارروائیوں سے ان ممالک کے عوام خوف، دہشت اور ظلم کا شکار ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں پورے عالم میں اسلامی تصور ِ خلافت و ریاست کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کا باعث بن رہی ہیں اور مغرب میں اسلام مخالف جذبات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان سے متاثرہ طبقہ خود مسلمان ہیں جو ان کے متشدد نظریات کی مخالفت کی پاداش میں ان کے ظالمانہ حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ صرف پاکستان میں انہی عناصر کی کارروائیوں میں 80,000 لوگ لقمہ ِ اجل بن چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ خلافت و شریعت کے محافظ اور علمبردار ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اسلام کا تصورِ خلافت کیا ہے۔ ؟

اﷲ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس کا اظہار فرشتوں سے ان الفاظ میں کیا کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ (نائب ) بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں۔ اﷲ تعلیٰ نے پہلا انسان تخلیق کیا اور فرشتوں کے سامنے اسے پیش کر کے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس خلیفۃ اﷲ کو سجدہ کریں۔ یہ پہلے انسان، پہلے خلیفہ اور پہلے نبی سیدنا آدم علیہ السلام تھے۔ اﷲ نے خلیفہ کا جو پہلا نمونہ دنیا میں بھیجا وہ کوئی تشدد پسند، اکھڑ مزاج، اور ظالم نہ تھا بلکہ وہ انسانیت کا خیر خواہ، اخلاق ِ کریمہ اور اعلیٰ انسانی اقدار کا اولین پیکر تھا جبکہ اس کی حتمی شکل نبی آخر الزماںؐ ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت میں پہلا خلیفہ بنا کر اﷲ نے فرشتوں کو جنہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آپ کا نائب زمین پر فساد کا سبب بنے گا یہ بتایا کہ میرا نائب زمین پر خیر خواہی، بھلائی اور امن وآشتی کا پیغامبر ہو گا نہ کہ فساد اور خوف پھیلانے والا۔

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان سے یہ وعدہ کیا کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد اعمالِ صالحہ پر کاربند رہو گے تو میں تمہیں زمین پر خلافت عطا کروں گا۔ عصر ِ حاضر میں خلافت کے علمبردار اسی آیت کا سہارا لے کر ہی عالم ِ اسلام کو غیر مستحکم کر رہے ہیں کہ مسلمانوں سے خلافت کا وعدہ کیا گیا اور ہم اسی خلافت کے علمبردار ہیں۔ ان کا دعویٰ جس حد تک صحیح ہے اس کے لئے اسی آیت کو کسوٹی بنایا جائے تو ان سفاک لوگوں کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

سورۃ نور پارہ 18کی آیت نمبر 55 میں اﷲ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان سے وعدہ کیا کہ تمہیں خلافت دوں گا اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ اگر تم اعمال ِ صالحہ پر کاربند رہے تو۔ ہم فرد سے لے کر عالمی سطح پر اسلامی معاشرے اور ممالک کی صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو کیا مسلم امہ اعمالِ صالحہ پر کاربند ہے۔ ؟ کیا اسلامی ممالک میں کوئی ایک ایسا ملک ہے جو خلافت ملنے کی پہلی شرط پر پورا اترتا ہو۔ ؟ جواب یقینی طور پر نفی میں ہو گا۔ جب پہلی شرط پوری نہیں ہوتی تو یہ خلافت کا قیام کیسے ہوا۔ ؟ اس کے بعد اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب خلافت قائم ہو جائے گی تو پھر اس کے اثرات معاشرے اور ریاست پر مرتب ہوں گے۔ وہ اثر امن خوشحالی اور اطمینان کی صورت میں ہو گا۔ خلافت سے پہلے ہر طرف ظلم، دہشت اور خوف کے مہیب سائے ہوں گے، بد امنی و بدحالی ہو گی مگر خلافت کے قیام کے بعد ہر طرف سکون، اطمینان اور امن ہو گا۔ لوگ خوشحال ہوں گے، وہ مطمئن اور بے خوف ہو کر خدا کی بندگی کریں گے۔ وہ خوف اور دہشت کی فضاؤں سے نکل کر زندگی گزاریں گے اور اسلامی ریاست پھلے پھولے گی۔ لوگوں کو بنیادی حقوق میسر ہوں گے، دشمنیاں اور بغض و عداوت ختم ہو کر دوستی اور ہمدردی میں بدل جائیں گی۔ لوگ توحید اور وحدت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسلامی احکامات کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔ یہ آیات واضح کر رہی ہیں کہ اسلامی تصور ِ خلافت کوئی مبہم اور غیر واضح تصور نہیں بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع منصوبہ ہے جو اسلامی ریاست کی تعمیر و ترقی کا ذریعہ ہے۔ اگر لوگ اسلامی تعلیمات سے منحرف ہوں گے تو اﷲ وہ خلافت و نیابت چھین لے گا۔

قرآن کی اس آیت کی روشنی میں مسلح تنظیموں کی جد وجہد کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تنظیمیں اسلامی تصور ِ خلافت کو داغدار کر رہی ہیں نہ کہ خلافت کا احیا۔ غیر مسلموں سے زیادہ خود مسلمان انہیں مضبوط کر رہے ہیں اور یہی ان کے ستم کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔ جن ملکوں میں یہ کام کر رہی ہیں ان ملکوں میں خلافت کی صورت میں امن ہونا چاہئے تھا مگر بات اس کے الٹ ہے۔ جہاں یہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہاں یہی خوف، دہشت اور وحشت کی علامت ہیں۔ اپنے زیر ِ قبضہ علاقوں میں لوگوں پر مظالم کرتے ہیں، انہیں قتل کر کے ان کے سروں سے فٹبال کھیلتے ہیں۔ معصوم بچوں اور لڑکیوں کو زندہ جلا تے اور قتل کرتے ہیں۔ اسلامی تصور ِ خلافت تو یہ ہے کہ خلافت کے بعد وہاں امن ہو گا اور لوگ خدا کی عبادت اطمینان سے کریں گے مگر خلافت کے ان علمبرداروں کی کارروائیوں سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں خون آلود ہوئی ہیں یہاں تک کہ مسجد ِ نبویؐ کو بھی خون آلود کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ غیر مسلموں اور مخالف نظریات رکھنے والے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا اور انسانی خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ دور ِ خلافت ِ راشدہ میں خلیفہ اس بات پر بھی غمگین ہوتا کہ اس کے عہد میں ایک کتا بھی پیاسا مر ے گا تو اسے جواب دینا پڑے گا مگر یہاں ایلان کُردی جیسے ہزاروں معصوم بچے خلافت و امامت کے علمبرداروں کی وجہ سے پیاسے مر رہے ہیں جبکہ بوڑھے، جوان اور عورتیں ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ساری صورتحال میں معتدل مذہبی طبقے کا کردار مایوس کن ہے۔ خلافت کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے میں کوتاہی خلافت کے غلط تصور کے پھلنے پھولنے کا سبب بن رہی ہے۔ اہل ِ علم کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور احیائے خلافت کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ ان متشدد اور انسان دشمن عناصر سے نجات مل سکے۔ مسلمان طبقہ خلافت کاقیام دیکھنا چاہتا ہے مگر سنجیدہ لوگوں کی طرف سے جب اس کے لئے کوشش نہیں ہوتی تو پھر لوگ ان متشدد لوگوں کو ہی اسلام کے خدام سمجھ کر ان کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح عالم ِ اسلام کے کسی ایک خطہ میں اسلامی ریاست و خلافت کو قائم کر دیا جائے اور وہ صحیح اسلامی منہج پر کام کرے۔ اس سے دنیا میں احیائے خلافت کے لئے متشدد اور گمراہ تحریکوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ جب تک جہاد اور خلافت و شریعت کا صحیح اور عملی نمونہ مسلم نوجوانوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا تب تک مسلم نوجوان ان گمراہ نظریات کے حامل گروہوں کا ایندھن بنتے رہیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “خلافت کے علمبردار اور اسلامی تصورِ خلافت

  • 22-07-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    Bashar insaniyat ka dushman kaisay hai? yeh baat ap kaisay sabit ker sakty hain? kia aap k pass sirf CNN or BBC ke media reports hain? Irfan

  • 25-07-2016 at 4:19 pm
    Permalink

    M. hassan jaffery sb : khilafat ki daleel ka kaha apne. khilafat to anbiya k aney se qaim hui hai hamesha.khilafa jansheen ko khetey hain or jansheen tb hota hai jb pichla jansheen ya baani dunya se rukhsat ho jaye.Mere Aqa saw ne khilafat tum me qaim hogi (masnad ahmed bin hambel) ki khabar di hai.jis me akhri zamana me khilafat k qaim honey ka bataya gaya hai.yani ye khilafat Essa Nabi-ullah (sahi muslim) k aney or un k fot honey k bad unke jansheen ki surat me qaim hogi.

Comments are closed.