رومیلا تھاپر، سومنات اور محمود غزنوی


\"sajidموجوہ بھارت کے مورخین میں رومیلا تھاپر ایک بہت محترم اور معتبر نام ہے۔ وہ جواہر لال یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطا ہیں۔ وہ قدیم ہندوستان کی تاریخ پر متعدد کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کو بین الاقوامی پذیرائی ملی ہے۔ وہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں تدریس و تحقیق کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی ایک بہت مشہور کتاب Penguin History of Early India ہے جو اولاً ساٹھ کی دہائی میں چھپی تھی مگر2002 ءمیں پینگوئن نے اس کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن چھاپا ہے۔ اس کے بعد 2004 ءمیں ان کی ایک اور کتاب شائع ہوئی جس کا نام ہے:Somnatha: The Many Voices of a History

گزشتہ برس لٹریری فیسٹیول کے موقع پروہ لاہور تشریف لائی تھیں مگر بدقسمتی سے میں اس سیشن میں حاضری سے محروم رہا۔ اس کے بعد ہمارے اردو اخباروں میں متعدد دانشوروں اور کالم نگاروں کی نگارشات شائع ہوئی ہیں جن میں یہ دعوی کیا گیا ہے رومیلا تھاپر نے اس کتاب میں فارسی اور سنسکرت شواہد کی بنا پر یہ ثابت کیا ہے کہ ” محمود غزنوی کی سومنات کے عظیم مندر کی تباہی، اس کے بہت بڑے بت کو توڑنا، اس کے اندر سے سونا اور دولت کا نکالنا اور اس دولت کو لوٹ کر غزنی لے جانا، یہ ساری کہانی انگریز دور میں تراشی گئی۔ انگریز دور میں ہی محمود کو بت شکن کا لقب دے کر مسلمانوں کے ہاں اس کے کردار کی عظمت اور ہندوو ¿ں کے ہاں کردار کشی کی گئی۔“ (روزنامہ ایکسپریس17 اپریل 2015)

میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ رومیلا تھاپر جیسی نامور مورخ اس قسم کی بات لکھ سکتی ہے۔ گزشتہ مہینے ایک عزیز نے اسی مفہوم کی پوسٹ فیس بک پر ڈالی تو میں نے اس پوسٹ پر ایک تبصرہ لکھ دیا کہ یہ محض انگریزوں کا گھڑا ہوا قصہ نہیں ہو سکتااور ابن خلدون کی تاریخ سے بعض واقعات کا تذکرہ کر دیا جن میں سومنات پر حملے کا بھی ذکر ہے۔ اس پر بعض قارئین نے اس رد عمل کا اظہار کیا کہ مجھے کتاب پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنا چاہیے تھا۔ اگرچہ میں نے اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ میرا مضمون رومیلا تھاپر کی کتاب پر تبصرہ نہیں تھا اور نہ میں ایسا صاحب کرامت ہوں جو کتاب کو پڑھے بغیر اس پر تبصرہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو۔

اس کے باوجود میں معترضین کا شکر گزار ہوں کہ ان کی وجہ سے ایک بلکہ دو اچھی کتابیں پڑھنے کا موقع میسر آیا۔ البتہ سومنات والی \"romila\"کتاب پڑھ کر ایک حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ فیض صاحب کو گلہ تھا کہ جو بات ناگوار گزری ہے اس کا تو فسانے میں ذکر ہی نہیں۔ مگر یہاں صورت حال یہ ہے جس بات پر بغلیں بجائی جا رہی ہیں اس کا کتاب میں کہیں ذکر نہیں۔اس کتاب پرصدقے واری ہونے والو ں کو دیکھ کر مجھے پچھتر سال پرانی ایک کتاب یاد آئی جس کا عنوان ہے: How to Read a Bookاب کیا ان دانش وروں کو اس کتاب کے پڑھنے کا مشورہ دیا جائے مگر اس پر مجھے ناصر کاظمی یاد آ گئے جنہوں نے انتظار حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے How to Look at a Pictureجیسی کتابیں پڑھ کر تصویر دیکھنا نہیں سیکھا بلکہ تصویر دیکھنا تو مجھے انیس نے سکھایا ہے۔ میری اپنی رائے بھی یہی ہے کہ اس قسم کی کتابیں کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔ پنجابی محاورے کے مطابق سوئے ہوئے کو تو جگایا جا سکتا ہے مگر جاگتے ہوئے کو کوئی کیسے جگائے گا۔ اگر کسی کو احساس ہوکہ اس کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ صدق دلی سے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر لاعلمی کی ایک اور قسم ہے جسے مشہور فرانسیسی مصنف مونتیں نے doctoral ignorance کا نام دیا ہے۔ اسے اردو میں فاضلانہ جہالت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب ناخواندگی نہیں بلکہ کتابوں کودرست طور پر نہ پڑھنا ہے۔

رومیلا تھاپر کی محمود غزنوی کے بارے میں رائے جاننے کے لیے ہم اس کی پہلی کتاب سے رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بارھویں باب کے صفحات 426-33 پر محمود کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اس کے چیدہ نکات یہ ہیں

اسی بارے میں: ۔  پردہ از مولانا مودودی اور مسلم عورت کی حالتِ زار

ہندوستان کے شہروں پر محمود غزنوی ہر سال حملہ آور ہوتا تھا، بت شکنی کے علاوہ ان کا بڑا مقصد لوٹ مار کرکے غزنی کے خزانوں کو بھرنا ہوتا تھا۔۔۔ملتان پر حملے کے دوارن نہ صرف ہندوؤں کے مشہور مندر کی بے حرمتی کی گئی بلکہ شیعہ مسلمانوں کی مسجد کو بھی نہ بخشا گیا۔ پچاس ہزار ہندوؤں اور اتنی ہی تعداد میں غیر سنی مسلمانوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا۔

محمود غزنوی کے حملوں کا ہدف وہ مندر ہوتے تھے جن کی مال و دولت کے حوالے سے بہت شہرت ہوتی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسے بڑی مقدار میں مال غنیمت بھی ہاتھ آتا تھا اور اس کے بت شکن ہونے کی شہرت میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔ مندروں پر حملے ہندو ادوار میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن محمود نے ان میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا تھا۔

محمود کی سونے کی ہوس ناقابل تسکین تھی اس لیے متھرا، تھانیسر، قنوج اور بالآخر سومنات اس کے حملوں کا ہدف بنے۔ یہ بات چونکہ بہت مشہور تھی کہ سومنات میں بہت بڑا خزانہ موجود ہے اس لیے یہ ناگزیر تھا کہ محمود اس پر حملہ آور ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی بت شکن کے تاج میں ایک اور پر کا اضافہ ہو جاتا۔ محمود نے سومنات پر حملہ کرکے مندر کی بے حرمتی کی، اور بت کو توڑ دیا۔

رومیلا تھاپر کے نزدیک ترک اور فارسی تاریخ نگاروں نے اس میں بہت سی رنگ آمیزی کی ہے۔ اس ضمن میں سب سے درست بیان البیرونی کا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بت لنگ کی صورت کا تھا اور مندر کوئی سو سال پرانا تھا۔

رومیلا تھاپر نے محمود کے حملوں کی تین وجوہ بیان کی ہیں۔ مال و دولت کی ہوس؛ بت شکن کہلانے کا شوق اور تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنا۔

اب یہ گمان نہ کیا جائے کہ رومیلا تھاپر نے سومنات والی کتاب میں محمود غزنوی کے بارے میں اپنی پہلی رائے سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ تمام باتیں اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔ مگر اس کتاب کا موضوع محمود کا حملہ سومنات نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ رومیلا تھاپر نے اسے یوں بیان کیا ہے:

The raid on Somnatha is a fact but what is of greater interest is the question of what is made of this event.(P 45)

چنانچہ کتاب کا موضوع یہ ہے ہندوؤں اور مسلمانوں نے اس حملے کو کس طرح تعبیر کیا ہے۔ مسلمان مورخین کے بیانات میں بہت سے تضادات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً بت کی حقیقت اور ساخت کے بارے میں۔ کیا محمود نے مندر کو گرا دیا تھا یا صرف بت کو توڑا تھا؟ پھر عہد سلاطین میں محمود غزنوی کو ہند میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے والے کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

ہندوؤں کا اس حملے پر کیا رد عمل تھا۔ ہندوؤں کی کتابوں میں اگر اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا تو اس کا ایک سبب تو یہ ہے اس زمانے میں ہندو تاریخ نہیں لکھتے تھے۔ رومیلا تھاپر نے اپنی کتاب میں ایک بھارتی مورخ اے۔ کے۔ موجمدار، جس نے گجرات کے چولوکیہ حکمرانوں کی تاریخ لکھی ہے، کا ایک اقتباس نقل کیا ہے: ”جیسا کہ معلوم عام ہے کہ سلطان محمود کے حملوں کے بارے میں ہندو ذرائع سے کوئی معلومات میسر نہیں آتیں، اس لیے اس کتاب میں جو کچھ پیش کیا جا رہے وہ صرف مسلمان مصنفین کی شہادت پر مبنی ہے۔“

بہت برس پہلے جب میں نے ایشوری پرشاد کی تاریخ ہندوستان پڑھی تو مجھے اس پر کافی ترس آیا تھا کہ وہ محمود غزنوی کو بہت برا بھلا کہنا چاہ رہا تھا پر کہہ نہیں پا رہا تھا کیونکہ اس کے پاس مسلمان مصنفین پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارا نہیں تھا۔

ہمارے دانش ور رومیلا تھاپر کی کتاب پڑھ کر انگریزوں کی تحریر کردہ جس کتاب کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، کاش وہ اس کے عنوان پر غور فرما لیتے۔ History of India as told by its Own Historiansظاہر ہے کہ یہ تمام مورخین مسلمان ہی ہیں جن کی نگارشات کو انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ انگریزوں نے اس زمانے میں زیادہ تر جس کتاب پر انحصار کیا ہے وہ تاریخ فرشتہ کے نام سے مشہور ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔ رومیلا تھاپر کو بھی سنسکرت میں لکھی تاریخ کی کوئی کتاب میسر نہیں آ سکی۔ انہوں نے چند کتبوں اور قانونی دستاویزات تلاش کی ہیں جنہیں بالواسطہ شہادت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  قبائلی سوچ سے انسان دوستی تک

دوسرا سبب یہ ہے کہ مندروں پر حملہ اور ان میں لوٹ مار کرنا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ خود ہندو حکمران بھی ایسا کرتے رہے تھے۔ محمود غزنوی کے بعد گجرات کے سلاطین نے کئی بار سومنات پر حملہ کیا تھا۔ ہندووؤں کے لیے اس میں شرمندگی کا پہلو بھی تھا کہ جو دیوتا حکمران کے اختیار اور تحفظ کی علامت تھا اسے ہی شکست و ریخت کا نشانہ بنا دیا جائے۔ حکمرانوں کے لیے باعث ندامت تھا کہ اتنی دور سے ایک ملیچھ آئے اور ان کے مندر کی بے حرمتی کرکے اور ان کے دیوتا کے صنم کو توڑ کر چلا جائے اور وہ کچھ نہ کر پائیں۔ ہندوؤں کے لیے یہ واقعہ کسی بہت بڑے صدمے کا باعث نہیں تھا ۔ اسے انگریز دور میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ اس نے ہندووؤں اور مسلمانوں میں مستقل نفرت و عداوت کا بیج بو دیا تھا۔

ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد ایک جوہری تبدیلی رونما ہوئی کہ ہندو اور مسلمان نام کی دو قوموں کا ظہور ہوا۔ عام طور پر اسے انگریزوں کی سازش قرار دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ پالیسی ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو “ کے تحت ہندو مسلم تفرقہ پیدا کیا۔ فورٹ ولیم کالج میں ایک ہی زبان کو فارسی اور دیوناگری رسم الخط میں لکھوا کر اردو ہندی تنازعہ پیدا کیا۔ مسلمانوں کو یہ سبق پڑھایا کہ اگر ہم نہ آتے تو یہ ہندو اکثریت تمہیں کھا جاتی اور ہندوؤں کے سامنے مسلمانوں کو حملہ آور اور لٹیرے کے طور پر پیش کیا۔ اب دو متحارب قوموں کے لیے سرکار انگلشیہ رحمت کا باعث تھی جو امن و امان قائم رکھ سکتی تھی۔

ان باتوں سے انکار ممکن نہیں۔ سرکار انگلشیہ نے یقینا ایسا کیا ہو گا کہ اس میں اس کا مفاد مضمر تھا مگر اسے محض سازش سے تعبیر کرنا سادہ لوحی پر مبنی ہو گا۔ انگریز کی آمد سے جو بنیادی تبدیلی رونما ہوئی وہ یہ تھی ہندوستان ازمنہ وسطیٰ سے نکل کر دور جدید میں داخل ہو گیا۔ اب جہاں جدیدیت نے قدم جمائے ہیں وہاں کے معاشروں میں جوہری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ان میں ایک اہم تبدیلی قومیت پرستی کا ظہور ہے۔ مشہور برطانوی فلسفی اور ماہر عمرانیات، ارنسٹ گیل نر، تو اسے جدیدیت کا منطقی نتیجہ قرار دیتا ہے۔

اب جب دو قومیں وجود میں آ جائیں تو ان کو اپنا تاریخی جواز بھی فراہم کرنا پڑتا ہے۔ اس میں تاریخ کو از سر نو تصنیف و مرتب کرنا بھی ہوتا ہے۔ ہیرو تلاش کیے جاتے ہیں اوران پر عقیدت کے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔ ہندوؤں کو شیوا جی کی صورت میں مسلمان حکمرانوں کے باغی کی صورت میں ایک ہیرو ملا تو مسلمانوں نے محمود غزنوی اور اورنگ زیب عالمگیر کو اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ ہندو قوم پرستوں نے سومنات کے مندر کو ایک استعارہ بنا لیا تو مسلمانوں کے لیے محمود کی بت شکنی طرہ امتیاز ٹھہری۔ زیب داستان کے لیے افسانہ طرازی قوم پرستانہ تاریخ نگاری کا لازمی وصف بن جاتی ہے۔

دور جدید سے پہلے کے مسلمان مورخین کو محمود غزنوی کے حملوں کا جواز فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے ، اس لیے مختلف ادوار میں ان کے بیانات بدلتے رہے ہیں۔ اس موضوع کو آئندہ قسط کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “رومیلا تھاپر، سومنات اور محمود غزنوی

  • 18-07-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    محترم، انگریزوں کے دہلی پہنچنے سے پہلے شاہ ولی الله ابدالی کو دہلی بلاتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان خطرے میں ہیں۔ انگریزوں نے جو دیکھا اور اپنے لئے بہتر جانا اسے تقویت پہونچائی۔ ارباب اقتدار اپنی غرض کے لئے سب کچھ کرتے ہیں۔۔ سید احمد سکھون سے جہاد کرنے نکلے تو انگریزوں نے انھیں نہیں روکا اور وہ انگریزی علاقوں میں آزادی سے گھوم گھوم کر سپاہی اور سرمایہ جمع کرتے رہے۔ قوم پرستانہ تاریخ نویسی میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بات کی زمہ داری انگریزوں پر رکھنی چاھیے۔

  • 18-07-2016 at 11:33 pm
    Permalink

    سر آپ کی آخری بات سے مکمل اتفاق ہے۔ جہاں تک پہلا کمنٹ ہے، وہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔

  • 19-07-2016 at 3:16 am
    Permalink

    بہت خوب ۔ اور فاضلانہ جہالت کی اصطلاح کے تو کیا ہی کہنے
    ایک قول یاد آگیا

    The greatest enemy of knowledge is not ignorance, its the illusion of knowledge.

  • 19-07-2016 at 8:40 am
    Permalink

    شکریہ۔ متفق۔

Comments are closed.